تحریر  ۔ دانیال رضا

جہلم میں مذہب احمدیت سے تعلق رکھنے کی پاداش میں جماعت اہل سنت کے بنیاد پرستوں نے ایک فیکٹری اور مسجد کو آگ لگا دی اور یہ کوئی نیا واقعہ اور شاید اب زیادہ حیران کن بھی نہیں ہے کیونکہ یہ ایسے انسانیت سوز مسلسل واقعات کا نہ ختم ہونے والا  ایک تسلسل ہے ۔ اس سے پہلے لاہور میں بھی ایسا ہی ایک خون خوار المیہ ہو چکا ہے ۔ پاکستان میں احمدی ، عیسائی ، ہندو اور دوسری مظلوم اقلیتوں پر طبقاتی ظلم و جبر کے ساتھ ساتھ جسمانی اور ذہنی ٹارچر بھی بڑھتا جا رہا ہے ۔ بادامی باغ لاہور میں عیسائیوں کی پوری بستی کو آگ میں راکھ کر کے اسلام کی عظمت کا جھنڈا بلند کیا گیا کوٹ راداکش میں ایک عیسائی جوڑ کو زندہ جلا کر اسلام کی فتح کا جشن منایا گیا ۔تھر اور اندرون سندھ میں ہندو وں کی ماوں ، بہنوں ، بیٹیوں اور بیویوں سے آئے دن کھلے عام زادتیاں کرکے ان کی عبادت گاہوں کو مسمارکر کے ان سے اچھوتوں سے بدتر سلوک کر کے اسلام کی کل وعالم کے لیے رحمت اور سلامتی کی تبلیغ کی جاتی ہے ۔

مذہبی اقلیتوں کے علاوہ مظلوم قومیتں بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس قہر سے محفوظ نہیں ہیں بلوچ ، پختون ، سندھی ، کشمیری اور دوسری پسی قومیں بھی پاکستان میں دوہرے تہرے اور درجاتی استحصال کا شکا ر ہیں ۔جبکہ پنجاب کے محنت کش طبقے کی حالت بھی ان سے قطعی مختلف نہیں ہے ۔ طبقاتی استحصال کے ساتھ قومی ، علاقائی ، نسلی ، مذہبی، جنسی غرض ہر قسم کا استحصال عروج پر ہے جس نے پاکستان کو ایک اذیت خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقے نے پاکستان کے عوام کی معاشی اور سماجی زندگیوں کو زندگی کے لیے بھیانک عبرت ناک بنا دیا ہے جب کہ مذہبی جنونیت جو انہی کی پیداوار ہے نے اس کو آگ اور خون میں ڈبو دیا ہے ۔

پاکستان میں مذہبی اقلیتوں اور مظلوم قومیتوں پر مسلسل جبر اور استحصال کی وجہ جہاں پاکستان کا حکمران طبقہ اور انکی بنائی ہوئی ریاست ہے جس میں اب مذہبی جماعتوں کے درندہ صفت ملا بھی شامل ہیں ۔ وہاں ان اقلیتوں اور قومیتوں کے مذہبی پیشوا اور سیاسی رہنمابھی برابر کے شریک جرم ہیں جو اس مظلومیت اور نا انصافی پر اپنی دوکانداری چلاتے ہیں ۔ کیونکہ جس طرح ہر قوم کے اندار دو قوموں ہوتی ہیں اسی طرح ہر مذہب کے اندر دو مذہب ہوتے ہیں ایک حاکم اور دوسرا مظلوم ہوتا ہے ۔ ایک اقلیت حکومت اور کمائی کرتی ہے جبکہ اکثریت ہر حکم بجا لاتی ہے اور چندہ ادا کرتی ہے اور حکم عدولی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اس لیے مذہبی یا فرقہ وارانہ ، قومی یا علاقائی تعصب کی بنیاد پر قائم جماعتوں میں فسطائی یا فاشسٹ رجحانات کا عود آنا کوئی عجب نہیں ہے حقیقت میں تعصب فسطائی سوچ کی ہی اعکاسی ہے اور کسی بھی تعصب پر قائم کوئی ایک گروہ یا جماعت یا پھر تنظیم فاشسٹ رجحان کی ہی نمائندہ ہوتی ہے یہ رجحان کمزور بھی ہوسکتا ہے اور طاقت ور بھی جس کا انحصار کسی علاقے کی سماجی کیفیت پر ہوتا ہے ۔ جرمنی میں بڑی مڈل کلاس اور لمپن پرولتاریہ نازی ازم کی ترقی کی وجہ بنی۔ جس کی نمائندگی ہٹلر نے کی اور جرمن نسل کے تعصب پر دنیا کو عالمی جنگ میں دھکیل دیا ۔ پاکستان میں مہاجر قومیت کے تعصب کے نام پر ایم کیو ایم نے سندھ کے شہری علاقوں کا امن و سکون تباہ کر دیا ۔ اور آج کے عالمی منظر نامہ پر اسلامی ریاست یا اسلامک سٹیٹ آئی ایس نے دیو بند فرقے کی بنیاد پر مڈل ایسٹ اور اب یورپ میں آگ اور خون کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ ٹراٹسکی لکھتا ہے ۔ یہ فاشسٹ حکمرانوں کے ہی شکاری کتے ہوتے ہیں جو ہر وقت عوام کو چیرنے پھاڑنے پر تیار رہتے ہیں ۔ 

پاکستان میں جہاں اقلیتوں کے مذہبی اور سیاسی حکمران اقلیتی استحصال اور سماجی درجہ بندی پر اپنے دھندے کرتے ہیں وہاں یہ پاکستان کے تمام محنت کش طبقے کی اجتماعی طاقت کے دشمن اور قاتل بھی ہیں کیونکہ پاکستان میں آج اقلیتی اور مظلوم قومیتی ظلم وجبر، طبقاتی استحصال کا ایک بھیانک اور ناگزیر حصہ ہے جو صر ف اور صرف پاکستان کے محنت کش طبقے کی تقسیم پر ہی قائم رہ سکتا ہے اور قائم ہے ۔ اس لیے جب تک پاکستان کے عوام تمام تعصبات سے بلند ہو کر طبقاتی جدوجہد کی صف میں منظم ہو کر ایک طاقت نہیں بنتے ۔

غریب کی جنگ امیر کے خلاف، ایک کسان کی جاگیردار کے خلاف ایک مزدور کی سرمایہ دار کے خلاف اور فوجی کی جرنیل کے خلاف ایک غیر ملکتی کی نجی ملکیت کے خلاف جنگ شروع نہیں کرتے اور ایک اشتراکی اور اجتماعی رضاکارانہ سماج تعمیر نہیں کرتے، نہ تو اقلیت نام کا ذلت آمیز لفظ ختم ہو گا اور نہ ہی ملک وقوم کی حالت بدلے گئی۔جب تک ہم اپنے محنت کش طبقے سے اٹوٹ محبت اور جوڑت قائم نہیں کرتے، ظلموں ، جابروں اور استحصالیوں سے ناقابل مصالحت نفرت اور لڑائی نہیں کرتے تب تک دوتکار اور ذلت ہمارا مقدر رہے گئی اور اپنے مقدر کو بدلنے کے لیے ہمیں حکمرانوں اور انکے گماشتوں کے چنگل سے باہر آنا ہوگا محبت سب کے لیے اور نفرت کسی کے لیے نہیں کے عوام دشمن نعرہ کو مسترد کرنا ہوگا ۔  عالمی محنت کش اتحاد زندہ باد ۔دنیا بھر کے محنت کشو اک ہو جاو ۔ سرمایہ داری ، جاگیر داری مردہ باد۔

پاکستان میں مذہبی منافرت کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے 

پاکستان کی تمام مذہبی جماعتوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے انکی تمام جائیدایں ،دفاتر اور اکاونٹ کا سرکاری تحویل میں لیا جائے۔

پاکستان کے آئین اور ڈکشنری سے اقلیت کا لفظ ختم کیا جائے ۔

مذہبی بنیاد پر منافرت پھیلانے والوں کو کم از کم دس سال قید و بامشقت سزا دی جائے ۔

تمام مذہبی مدرسوں کو سرکاری سکولوں میں تبدیل کیا جائے ۔

بے روزگار نوجوان جو بے روز گاری اور غربت سے تنگ آکر مذہبی جنونیت کا ایندھن بنتے ہیں انکے روزگارکا انتظام کیا جائے اور بے روزگاری کی صورت میں ایک معقول افراط زر سے منسلک الاونس دیا جائے ۔

مزدروں کی تنخواہ کم از کم ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے تاکہ انہی بھی انسانی معیار پر زندہ رہنے کا حق ہو۔

تمام بینکوں اور مالیاتی کمپنیوں کو سرکاری تحویل میں لے کرانفرسٹکچر کی تعمیر اور صنعت کاری کی جائے اور بڑی بڑی صنعتوں کو بھی قومی تحویل میں لے کر مزدوروں کے کنٹرول میں چلایا جائے تاکہ نہ صرف بے روزگاری ختم ہو بلکہ وافر مقدار میں پیداوار کرکے عوام کی ضروریات زندگی کو جلد پورا کیا جائے ۔

تعلیم تمام سطحوں تک مفت اور عام کیا جائے ۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو یونین سازی کا حق دیا جائے ۔

یہ وہ چند اور بنیادی اصلاحات اور پالیسیاں ہیں جنکے بغیر بیناد پرستی کی جنونیت کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh