تحریر ۔ دانیال رضا

ممتاز قادری جو گورنر پنجاب سلمان تا ثیر کی سیکورٹی پر معمور تھا اسی نے ہی سلمان تاثیر کو بطاہر ناموس رسالت کے تحفظ کے نام پر بڑی بے دردی سے  گولی مار کر قتل کر دیا جس کو چند ہفتے پہلے پھانسی دے دی گئی اس پر پاکستان سنی تحریک اور اس کے ہم خیالوں نے پاکستان بھر میں اس کی پھانسی کے خلاف پر تشدد احتجاج شروع کر دئیے ۔ ممتاز قادری کے چہلم پر اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دیکر حکومت کو اپنے مطالبات پیش کیے جس میں بہت سے ملا جودہشت گردی کی تحت گرفتار ہیں انکی رہائی ، ملک میں اسلامی نظام کا قیام وغیرہ وغیرہ مطالبات شامل تھے جس کو نواز حکومت نے اپنی نااہلیت کی وجہ سے اور اپنی بدعنوان ، مفاد پرست حکومت قائم رکھنے کے لیے منظور کر لیے ۔

ایک ممتاز قادری کی پھانسی سے کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔۔ بلکہ اس سے مزید سماجی انتشار اور خلفشار بڑھے گا اس لیے کہ انسان کی موت سے ان کے بنیاد پرستانہ رجعتی نظریات او ر سوچ کو آپ ختم نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے پس منظر میں ٹھوس سماجی حالات کارفرماں ہوتے ہیں جنکی تبدیلی کے بغیر پھانسیوں کے پھندے کم پڑ جاتے ہیں ۔ قادری ایک سفاک رجعت کا نام ہے۔ جسکو مالیاتی نظام کے بحران اور سماجی ترقی میں ناکام سسٹم نے جنم دیا جو مسلسل ممتاز قادری پیدا کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ اور وہ تمام لوگ بھی جو قادری کے لیے احتجاج کررہے ہیں سب ممتاز قادری ہی تو ہیں اس لیے کہ یہ قادری کے فعل اور اسکی سوچ کو درست قرار دیتے ہیں اس کے قتل اور درندگی کی حمائت کرتے ہیں اور یہ افراد اس سے انکار بھی نہیں کرتے اور حکومت نے انکے مطالبات مان کر اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے ممتاز قادری کی پھانسی سے جو غلطی کی تھی اس کی معافی مانگی ہے جو نہایت شرم ناک اور بھیانک خونی سوچ کی حوصلہ افزائی ہے ۔

ممتاز قادری ، ملا عمر، اسامہ بن لادن، ابوبکر العبدی ، مولوی منور ، ملا فصیل الرحمن ، مولوی اشرفی وغیرہ وغیرہ وغیرہ یہ اور دوسرے مذہبی قائدین کوئی عام اشخاص نہیں ہیں بلکہ درندگی اور بربریت کے نمائندہ ہیں اور انکی تنظیمیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں یہ سب ایک ہی تسبیح کے دانے ہیں جنکے بنیادی نظریات ایک ہی ہیں ان میں صرف طریقہ کار کا فرق ہے ۔ یہ زمانہ بعید کی مسترد شدہ نظریات ، سوچیں اور دور بربریت اور وحشت کے علمبردار ہیں ۔ یہ ماضی کو حال پر مسلط کر کے آج کی جدید انسانیت کو پسماندگی اور جہالت میں دھکیلنا چاہیے ہیں اور آج تک کی انسانی ترقی کی تباہی کے درپے ہیں جو کسی طور پر بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ سماج اور تاریخ کا پہیہ کھبی الٹا نہیں گھومتا اور نہ ہی گھوم سکتا ہے ۔اسی لیے یہ قتل گری اور دہشت گردی کا راستہ اپنانے پر مجبور ہیں۔ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا پرامن متبادل موجود ہی نہیں ہے ۔ آج کی منطقی دنیا میں یہ اس قابل نہیں ہیں کہ اپنے غیر حقیقی نظریات سے ایک جمہوری اور رضاکارانہ ماحول میں کسی ایک فرد کو قائل کر سکیں۔ ان مذہبی افراد اور تنظیموں کی نظریات کی نااہلیت اور خسی پن ان کو تشدد ، جبر ، دہشت گردی اور فسطائیت کی راہ پر دھکیل دیتا ہے۔

آج کسی بھی ترقی یافتہ ، شگفتہ ، شائستہ ، تہذیب وتمدن ،ہمدرد اور انسان دوست معاشرے میں قتل تو بہت دور کی بات ہے جسمانی اور ذہنی ٹارچر بھی ناقابل قبول اور ناقابل معافی جرم ہے ۔

نفسیاتی سائنس کے مطابق لوگ اپنے اعمال اور کردار میں اپنے سماجی حالات کا اظہار کرتے ہیں جو وہ اپنے معاشروں سے سیکھتے ہیں اور اسی کو آگے سماج پر لاگو کرتے ہیں کیونکہ انسان اور معاشرے کا آپسی ایک گہرا جدلیاتی تعلق ہے جیسے سمجھے بغیر کسی فرد یا معاشرے کا سنجیدہ اور درست تجزیہ نہیں کیا جا سکتا ۔

غریب اور پسماندہ ممالک یا سماجوں میں معاشی تنگ دستی اور سماجی حالات کی پسماندگی سے تعمیر ہونے والا شعور محرمیوں سے مارا ، انتشار زدہ ، انتہا پسندانہ ، لاغر اور اپائج ہی ہوگا ۔اسی طرح ممتاز قادری کی تربیت اور پرورش بھی جب انہی بحران زدہ حالات میں ہوئی جہاں والدین پر سماجی ٹوٹ پھوٹ اور مالی دباو کا جبر بچوں پر نکلتا ہے جس کے بچوں پر گہرے منفی ذہنی ، جسمانی اور شعوری اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ایسے افراد کے نزدیک جبر وتشدد ، اور قتل کوئی خاص اہمیت کے حامل نہیں ہوتے اس لیے کہ ان کی تمام زندگی ایک جبر مسلسل کا نام ہوتی ہے ان کو زندگی سے محبت کی بجائے نفرت ہوتی ہے اور زندگی عذاب لگتی ہے اور یہ زندگی کے اس عذاب سے کسی نہ کسی طرح نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ممتاز قادری نے بھی ایسا ہی کیا لیکن مذہب پر دھندہ کرنے والے اس کو اپنے حق میں استعمال کرکے اپنی دوکاندای کو چمکانے لگے ہیں ۔

ممتاز قادریوں کی پرورش میں حکمران کے جرائم بھی کار فرماں ہیں جنکی اندھی لوٹ مار اور طبقاتی استحصال نے جہاں پاکستان کو اقتصادی اور سماجی طور پر برباد کر دیا ہے وہاں عوام کی معاشی کمر بھی توڑ دی ہے اور ایسا تباہ حال معاشرہ یقینی طور پر سقراط پیدا کرنے یا بنانے سے تو رہا اور جب کوئی معاشرے جسمانی اور ذہنی صحت مند افراد نہیں بنا سکتا تو پھر وہاں قادری ہی بنتے ہیں ۔

قادری بننے کی ایک اور وجہ ملک میں سیاسی پارٹیوں کا عوام دشمن کردار ہے ۔ سیاسی پارٹیوں سے جب عوام کی امیدیں اور توقعات ٹوٹتی ہیں تو مایوسی اور رجعت سماج پر حاوی ہو جاتی ہے کسی انقلابی پارٹی کی عدم موجودگی سے لوگ جب نظریات کی بند گلی میں داخل ہوتے ہیں تو پھر وہ سماجی تباہی کا ذمہ دار نظام کی بجائے افراد کو ٹھہراتے ہیں جس سے وہ انفرادی دہشت گردیوں کی طرف چل پڑتے ہیں ۔ یہ حکمران طبقے کے افراد کو قتل کرکے کسی تبدیلی کی امید کر رہے ہوتے ہیں اور اپنی فراسٹیشن دور کرتے ہیں۔ لیکن اس کے سماج اور عوام پر نہایت زہریلے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ در انقلابی قوتیں اسے بھر پور استعمال کرتی ہیں جبکہ تبدیلی یا عوامی انقلاب طبقاتی جدوجہد کا نام ہے ایک سماجی تبدیلی کا نام ہے ۔ اقتدار دولت مند سے عام عوام کے پاس آنے کا نام۔ دنیا بھر کے محنت کشوں کے ایک ہونے کا نام ہے جو آج کے عالمی مالیاتی دور میں سرمایہ داری نظام سے اشتراکی انقلاب کی طرف قدم ہے ۔ جو ہر تعصب اور پسماندگی سے بلند ہو کر ہی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن انفرادی دہشت گردی عوام کے خلاف ظلموں کے حق میں جا گرتی ہے ۔

پاک فوج بھی پاک دہشت گردی کے خلاف جو عوام کے اربوں روپوں سے آپریشن کر رہی ہے قادری کی پھانسی کے بعد اس کے لیے احتجاج اور حکومت کی ان سے مصالحت اس فوجی آپریشن کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے ۔کیونکہ ایک طرف ایک دہشت گرد کو پھانسی دی جاتی ہے پھر اسی کے ماننے والوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے جاتے ہیں ۔اس سے دہشت گردی کے خلاف حکومتی اور فوجی آپریشن کا فراڈ بے نقاب ہو جاتا ہے اسی لیے یہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن اب تک کامیاب نہیں ہوا اورآئندہ بھی نہیں ہو گا کیونکہ یہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن نہیں ہے بلکہ دیکھوا ہے ۔جو چائنہ کی پرزور مطالبے اور بلیک میلنگ کے بعد شروع کیا گیا کہ اگر پاکستان میں دہشت گردی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو چین پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرئے اور اور اپنا تمام سرمایہ واپس لے جائے گا اس لیے یہ آپریشن صرف چائنہ کو دیکھانے اور مال بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے وگرنہ آج حکومت اور فوج میں بے شمار ممتاز قادری موجود ہیں جو کھبی بھی اپنے خلاف کوئی آپریشن نہیں کریں گئے ۔

پاکستانی عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے اور بلوچ تحریک کو دبانے کے لیے آج کل ایک انڈین جاسوس کا تماشا میڈیے پر کیا جا رہاہے ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ انڈین جاسوس ہے یا نہیں ہے سوال یہ ہے کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ کیا پاکستان نے اپنے جاسوس انڈیا یا جموں کشمیر، افغانستان اور دوسرے ممالک  میں نہیں بھجے ہوئے ۔ یہ تو پھر انڈیا ا ور پاکستان ہیں جن کے حکمرانوں نے پاک بھارت عوام کو جو اصل میں ایک ہی قوم ہیں کو الگ الگ رکھنے کے لیے تین جنگیں بھی لڑئیں ہیں اگر ان کے جاسوس ادھر یا ادھر سے مل جائیں تو کوئی عجب اور پریشان کن نہیں ہے ۔ یورپی ممالک اور امریکہ تو دوستی کا دم بھرتے ہیں پھر بھی ماضی میں اور آج بھی ایک دوسرے کی جاسوسی کرتے ہیں۔ یہ سب حکمرانوں کے حکمرانی کے لیے طریقہ کار ہیں جس کا عوام سے کوئی تعلق نہیں لیکن میڈیا نہایت مکاری و عیاری سے اس کو عوامی مسئلہ بنانے کی کوشش کرتا ہے اور کر رہا ہے ۔ جس شخص یا عوام کو ملک میں بنیادی ضرویات زندگی ہی میسر نہ ہوں اور ملک و ریاست ، بھوک، افلاس، محرومی ، ذلت اور آخیر میں خود کشی یا زندگی کو موت سے بدتر بنا دے تو کیا ملک اور کون سا وطن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملک و وطن اس کا ہے جس کے پاس مال اور دھن دولت ہے اور جس کے پاس نہیں ہے اس کا کچھ بھی نہیں ہے ۔اس لیے جاسوں اور چوروں کا ڈر بھی امیروں کو ہوگا جن کا ملک ہے عوام کو نہیں ہے۔

قادری کے مانے والوں سے مصالحت کے بعد حکومت نے جس ایک قادری کو سزا دی تھی اب بہت سے قادری اس کو رہا کرنے پڑیں گئے اور پھر یہ توقع کی جائے گئی کہ پاکستان میں اب امن ہوگا اور دہشت گردی ختم ہوگئی ۔ یونان کی ایک کہاوت ہے خدا جس کو تباہ کرنا چاہتا ہے پہلے اس کی عقل چھین لیتا ہے۔

اور جہا ں تک پاکستان میں اسلامی نظام کا تعلق ہے ،پہلے تمام علما کرام ملکر یہ فیصلہ کر لیں کہ اسلامی نظام ہوتا کیا ہے اور کس جماعت یا فرقے کا اسلام درست ہے ۔ اندیا میں آج بھی بریلوی فرقے کے تین سو افراد نے اہل حدیث کا جنازہ پڑھ لیا اور ملاوں نے نکاح ٹوٹنے کا فتوا جاری کردیا اور آج تمام بزوگ و جوان دوبارہ نکاح کرکے اپنی بیویاں اور بچے حلال کر رہے ہیں۔ سب کا ایمان ہے کہ قرآن پاک ایک ہے لیکن حقیقت میں ہر ایک کا اپنا اپنا قرآن ہے اور اگر کوئی کسی دوسرے کا قرآن پڑھ لے تو مسلمان نہیں رہتا ۔ آج کی جدید عربی میں ایک لفظ کے گیارہ سے بارہ معانی ہیں جبکہ قرآن قدیمی عربی میں ہے جس وجہ سے ہر لفظ کے ماہرین کے مطابق بیس سے بھی زیادہ معنی ہیں ۔ پھر کہتے ہیں قران عربی میں پڑھو اور وہ ہمیں ویسے ہی نہیں آتی کیونکہ دنیا میں کام اور بھی ہیں محبت کے سوا، اور مسلمانوں کی اس کمزور ی کا فائدہ ملا بھر پور طریقے سے اٹھاتا ہے۔ اور اگر کسی کو غلطی سے عربی آجاتی ہے یا سیکھ لیتا ہے تو پھر وہ اپنا ایک الگ فرقہ اور جماعت بنا کر ایک نئی دوکان کھول لیتا ہے ۔اور ہاں کیوں نہ کھولیں آج منڈی کا نظام ہے اور منڈی کے نظام میں دوکانیں ہی ہوتی ہیں وہ اجنانس کی ہوں جسموں کی یا پھر مذاہب کی کیا فرق پڑتا ہے۔

تحریر ۔ دانیال رضا

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh