تحریر ۔ دانیال رضا

جرمنی کی قومی پارلیمنٹ ،، بنڈس ٹاگ ،، کے لیے الیکشن 24ستمبر  بروز اتوار 2017ہو رہے ہیں جس میں 631قومی اسمبلی یا بنڈس ٹاگ کے ممبران منتخب ہوں گئے۔ جن میں 61.5ملین  جرمن

افراد  اس بار ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہیں ۔  ان عام الیکشن  میں 8 پارٹیاں  حصہ لے رہی ہیں ۔جن میں ایس پی ڈی ، سی ڈی یو ، سی ایس یو ، ڈی لنکے ، ڈی گرین ، اے ایف ڈی ، ایف ڈی پی ، پیراٹن ، یہ پارٹیاں  اس بار  بنڈس ٹاگ کے الیکشن لڑ  یں گئیں ۔پچھلے چار سال کے دوران  ایس پی ڈی اور سی ڈی یو کی مشترکہ حکومت تھی جس  کی کانسلر سی ڈی یو سے اینگلا مارئیخل تھیں ۔ جرمنی میں  ایک قومی حکومت  کی مدت چار سال ہے جو پاکستان میں پانچ سال ہے۔

سی ڈی یو اور سی ایس یو  ،جرمنی کے سرمایہ داروں  ،صنعت کاروں اور دولت مندوں  کی ایک قدامت پرست جماعت ہے ۔ ایس پی ڈی  جو کھبی عوامی اور جرمنی کے محنت کشوں کی پارٹی تھی جو  اپنے آپ کو سوشل ڈیموکریٹ کہلاتے ہیں آج  مکمل  طور پر دائیں بازو کی پارٹی بن چکی ہے آج ایس پی ڈی اور سی ڈی یو کے  نظرایات  اور انتخابی   ایجنڈے  میں کوئی بنیادی  فرق  بھی نہیں  رہا ۔   اب تک انہیں دو پارٹیوں کی مشترکہ  قومی حکومت بڑی جوڑت سے قائم رہی جو محنت کشوں  پر مسلسل سماجی  بہبود  میں کمی اور عوامی رعائتوں میں کٹوتیوں سے انتہائی  گرئے  جرمن عوامی معیار زندگی کی مجرم ہیں کیونکہ 40 فیصد جرمن لوگوں کا معیار زندگی 1990 سے بڑھا نہیں ہے اور جرمنی میں اس وقت1.6 ملین بچے غربت میں زندہ ہیں جرمنی کی سماجی اور معاشی حقیقتیں آج بہت تلخ ہو چکی ہیں اور متبادل کی عدم موجودگی میں مایوسی گہری ہے ۔ایف ڈی پی لبرل  ازم یعنی آزاد منڈی کی نمائندہ جماعت ہے جو رہتی سہتی عوامی سہولتوں  یا ویلفر ریاست   کو بھی ختم کرنا چاہتی ہے اور سرمایہ داروں  کومکمل چھوٹ دینے کی طرف دار ہے ۔ یہ  پچھلے قومی پارلیمنٹ کے الیکشن میں بری طرح شکست پذیر ہوئی تھی اور اس کا کوئی  ایک نمائندہ بھی  بنڈس ٹاگ تک نہیں پہنچا تھا ۔گرین پارٹی ماحولیاتی پارٹی ہے جو زمینی  کرہ ارض  کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک کرنا چاہتی ہے جو  سماجی آلودگی کے بغیر ممکن  نہیں ہے اس لیے اسے ایک خسی پارٹی بھی کہا جاتا ہے  ۔یہ جنگوں کے خلاف نہیں لیکن جنگوں کے دوران وقفوں کی قائل ہے تاکہ ان وقفوں کے دوران مرتے عوام کو کھانا پینا مہیا کیا جاسکے تاکہ لوگ بھوکے نہ مریں ۔  بلکہ بھرے پیٹ  مریں ۔ افغانستان اور شام کی جنگوں پر ان کا یہی نقطہ نظر تھا ۔ اس سے یقینا امدادی تنظیموں کی دوکانداری خوب چمکتی ہے ۔پیراٹن ایک نئی پارٹی ہے جو پہلی بار قومی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لے رہی ہے ۔جو ملٹی کلچر اور انسانی ہمدردی    کے نام پر پارٹی ہے جو بائیں بازو کے پاپولر ازم کی نمائندہ جماعت ہے  جس کا عوامی انسانی  پروگرام  تو ہے لیکن   جامع لائحہ عمل اور تناظر کے بغیر ہے جس نے اس پارٹی کو سیاست کی خلا میں  الٹا  لٹکا دیا ہے۔ اے ایف  ڈی  ایک انتہائی  کٹر دائیں بازو کی  پارٹی ہے ۔جو اسلام ،مہاجرین ، مساجد  اور عورتوں کے پردے  کے خلاف ایک جرمن نسل پرست پارٹی ہے  جو نیو فاشزم کی علمبردار ہے ۔یہ ایک نئی جماعت ہونے کے باوجود کئی صوبائی  اسمبلیوں تک پہنچ چکی ہے ۔ اور پہلی بار بنڈس ٹاگ کی امیدوار جماعت ہے  یہ دراصل جرمنی میں سی ڈی یو ، سی ایس یو ، اور ایس پی ڈی کی  دائیں بازو حکومت  کی  مسلسل سرمایہ دارانہ  اور عوام دشمن پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس نے  جرمن معاشرے میں اے ایف ڈی  کے لیے سماجی خلا  اور اسکے  جواز کو پیدا کیا ۔

ڈی لنکے پارٹی  ایس پی ڈی کی  مزدور  دشمنی   اور شروڈر کے دور حکومت میں   ہارٹس فور  کی عوام دشمن پالیسی کے خلاف  بنائی گئی  جس نے بہت جلد  جرمن عوام میں بہت زیادہ شہرت حاصل کر لی کیونکہ اس پارٹی کے زریعے جرمن عوام کو  بہت عرصہ بعد   سرمایہ داروں اور استحصالیوں کے خلاف  ایک بار پھر لڑنے کا موقع ملا۔  ڈی لنکے ایک حقیقی  مارکسسٹ ،  لینن ایسٹ ، انقلابی  پارٹی نہیں ہے بلکہ بائیں بازو کی ایک اصلاحاتی پارٹی( لنکس  ریفارمسٹ پارٹی) ہے ۔ یہ جرمنی کے تمام بائیں بازو کی تنظیموں اور گروپوں  کا اکٹھ ہے ۔ جس کے شروع میں مرکزی  قیادت لافینٹھین اور گیرزی نے کی  اور اب مسز سائرہ  واگن کھنشٹ  سربراہ  ہیں ۔ یہ جرمنی کی واحد پارٹی ہے جس کا پروگرام اور نظریہ تمام روائتی سیاسی پارٹیوں  سے زیادہ عوامی  اور ریڈیکل ہے ۔ جو ہر جنگ اور اسلحے کے مکمل خلاف ہے ۔ موجودہ دہشت گردی کو جنگوں کا عرق  قرار دیتے ہیں ۔ جو ہر نسلی ، قومی ، مذہبی، علاقائی  غرص ہر تعصب  اور شاوئزم  کے خلاف اٹل ہے ۔یہ پارٹی  امیروں پر زیادہ ٹیکس اور عوامی سہولتوں  میں  بہتری اور ترقی  کے لیے لڑ رہی ہے ۔طبقاتی جدوجہد اور سوشلسٹ یورپ  پر بھی  ایک خاص  نقطہ نظر  رکھتی ہے۔ لافونٹھین کے مطابق جمہوری سوشلسٹ یورپ ہی موجودہ   یورپ کی حقیقی آزادی، خوشحالی اور مستقل حل ہے۔    اور اسی لیے جرمنی کے تمام سرمایہ دار ، اجارادار  اور روائتی سیاستدان ڈی لنکے کے سخت خلاف ہیں اور انہیں  ہر جگہ روکنے اور شکست دینے  کی مکمل کوشیشیش کرتے ہیں  لیکن اب تک اس پارٹی کوجرمنی کے   عام مزدوروں  جس میں غیر ملکی بھی شامل ہیں نے عوامی تبدیلی کے لیے اپنا ہتھیار بنایا ہوا ہے۔  ڈی لنکے کے مزید مضبوط ہونے کا مطلب عوام کی طاقت  کی  مزید بڑھوتری  اور جوڑت  ہے۔ یقینا ڈی لنکے کو صرف  ترقی پسند مزدور اور عام محنت کش  ہی ووٹ دیں گئے۔ جو اسکی  اصل قوت ہیں۔ ہمیں  24 ستمبر2017 کو  اپنا طبقاتی کردار ثابت کرنا ہے ۔ بے شک انتخابات انقلاب نہیں ہوتے اور نہ ہی ان سے کھبی انقلابات برپا ہوئے نہ ہو سکتے ہیں کیونکہ موجودہ انتخابات   مالیاتی نظام کے سیاسی جبر کا ایک طریق کار ہی  ہیں جس میں بے کس عوام کو اپنے اوپر آئندہ  استحصال کرنے والوں کے انتخاب کا حق دیا جاتا ہے ۔ لیکن ڈی لنکے کو ووٹ دیکر ہم اپنی انقلابی خواہش  ، طاقت اور رحجان کا بہترین اظہار  ضرورکر سکتے ہیں ۔اور  اس موقعہ کو ہمیں ضائع نہیں کرنا چاہیے  بلکہ اپنی قوتوں میں اضافے اور سوچ کو آگے بڑھنے کے لیے  مکمل استعمال کرنا ہے ۔ہم آئیڈیل لسٹ اور یو ٹوپیائی نہیں ہیں جو سماج میں متحرک واقعات سے اپنے آپ کو الگ تھلگ کرکے سماجی زندہ قوتوں   اور انکے عوامل کو مسترد کر کے ماضی کے قبرستانوں میں دفن ہو جائیں ۔ روائتی انتخابات  سے انقلاب کی امید کرنا  اتنا ہی خطرناک ہے جیتا  ان انتخابات  کی اہمیت سے مکمل انکاری ہے ۔  اور ہمیں دو  اطراف کی انتہا پسندیوں  سے بچنا ہے جن میں سے ایک مفاد پرستی ہے ۔ ہم آسمانوں یا زمینوں کی تہوں میں سماجی تبدیلی برپا کرنے کے خواہاں نہیں ہیں  بلکہ اس انسانی کرہ ارض پر   انقلاب  چاہتے ہیں جس پر  منڈی   کے نظام کی حکمرانی  نے انسانوں کی زند گیوں کو عذاب بنا ڈالا ہے ۔ہم  عوام  کی وقتی ضرورتوں اور ذہنی شعور  کی سطح   کو پس پشت ڈال  کر   کسی بھی انقلابی جدوجہد کی خدمت نہیں کر سکتے ۔  اور نہ ہی  ہم  ہر عوامی  سیاسی جدوجہد میں شامل ہوئے بغیر  کوئی  بڑی اور مستقل سماجی تبدیلی کر سکتے  ۔ ہمیں عوامی سوچ اور شعور سے نہ بہت آگے نکلنا ہے اور نہ ہی بہت پیچھے رہنا ہے ۔آئیں ہمارے ساتھ اور ووٹ دیں ڈی لنکے کو ، جو ہماری انقلابی  جدوجہدکی موجودہ سماجی  شعوری سطح  کی ضرورت ہے آخیری اور مکمل  فتح یقینا مزدور کی ہی ہے۔

خاص طور پر جرمنی میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کو اپنے سیاسی اور سماجی شعور کا بلند مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو جرمن معاشرے کا حصہ سمجھتے ہوئے آگے آنا چاہیے اور  

24ستمبر کو ڈی لنکے کوووٹ دینا چاہیے

 کتابیں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

0
0
0
s2smodern

Comments   

0 #2 محمد اکمل سعودی عرب 2017-09-20 12:44
دانیال صاحب آپ دنیا بھر میں پاکستانی لوگوں کو جاگنے کے لیے جو جدوجہد کر رہے ہیں قابل تعریف ہے اور آپکے مضامین بے شک سچائی اور حقیقت پر مبنی ہیں۔ ہماری طرف سے آپ کو سرخ سلام۔
محمد اکمل اور دوست، ریاض سعودی عرب
Quote
0 #1 Shahid Jawed...USA 2017-09-20 12:39
fantastic Article
Shahid Jawed
New York. USA
Quote

Add comment


Security code
Refresh