تحریر: ہنس گرڈاوفنجر (جرمنی )، ترجمہ: انعم خان|

 

جرمنی میں اتوار 24 ستمبر کو ہونے والے وفاقی انتخابات کو سیاسی زلزلہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد تاریخ میں پہلی مرتبہ انتہائی دائیں بازو کی پارٹی پارلیمنٹ میں پہنچی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 2003ء کے بعد سے چانسلر اینجلا مرکل کی سربراہی میں بننے والے مختلف پارٹیوں کے ’’ بڑے اتحاد ‘‘ کو بھی تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ بارہ سالوں سے اقتدا ر میں موجود CDU کی قیادت اور اینجلا مرکل، جوکہ بارہ سالوں سے اقتدار میں ہے اور ممکنہ طور پر آئندہ چار سالوں کے لیے بھی ہمارے سروں پر سوار رہنے والی ہے، کو امید تھی کہ نسبتاً طاقتور جرمن سرمایہ داری، قدرے کم بیروزگاری کے سرکاری اعدادوشمار، ’’بھلا محسوس ہونے والا‘‘ خاتون قائد کا تصور اور اس کی پارٹی CDU کا بویرین CSU سے اتحاد، یہ سب عوامل مل کر چالیس فیصد ووٹ حاصل کرکے ایک اور جیت کو یقینی بنا دیں گے۔

جرمنی کے وفاقی انتخابات 2017ء کے نتائج

CSU\CDU اور SPD کو شدید دھچکا

بہرحال، چیزیں ویسی نہیں تھیں جیسا مرکل نے سوچ رکھا تھا، انہوں نے لاکھوں ووٹ کھوئے ہیں، 8.5فیصد کی کمی کے بعد، اب یہ محض 33فیصد ووٹ ہی حاصل کر پائے ہیں، بعد از جنگ کی تاریخ کے یہ دوسرے بدترین نتائج ہیں۔ تجزیئے کے پہلے مرحلے کے مطابق CDUاورCSU نے اپنے ووٹ بینک کا بڑا حصہ انتہائی دائیں بازو کی پارٹی نام نہاد’’آلٹرنیٹو فار جرمنی (AfD)‘‘ اور لبرل FDP کے ہاتھوں کھویا ہے۔ حکمران طبقے کے لیے روایتی بورژوا پارٹیوں یعنی CDU,CSU اور FDP کا اتحاد زیادہ موزوں رہتا، لیکن آخر میں CDU اور CSU کی حمایت میں بڑے پیمانے کی گراوٹ کی وجہ سے یہ اتحاداکثریت جیتنے میں ناکام رہا۔

سوشل ڈیموکریٹس(SPD) کو بھی تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ڈالے گئے کل ووٹوں میں ان کا حصہ بھی سکڑ کر محض 20.5 فیصد تک آ گیا۔ یہ جنگ کے بعد کی تاریخ میں SPD کی بدترین کارکردگی ہے اور اس نے پارٹی کو1890ء اور 1932ء کے انتخابات کے مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ جب یورپی پارلیمنٹ کے سابقہ صدر مارٹن شولزنے جنوری میں SPD کی قیادت سنبھالی تو اس وقت کچھ لوگوں کو یہ امید تھی کہ یہ پارٹی کو مزیدبائیں بازو کی جانب لے کر جائے گا اور1998ء سے2005ء کے دوران SPD کے سابق چانسلرگرہڈشروڈر کی جانب سے کی گئی لیبر مارکیٹ ’’اصلاحات‘‘ کا خاتمہ کرے گا۔

اُن شروڈر ’’ اصلاحات‘‘ کے یہ نتائج بر آمد ہوئے کہ جرمنی میں بڑے پیمانے پر محنت کشوں کے حقوق سلب کر لیے گئے اور بیروزگا ر و ں پر بھی حملے کئے گئے۔ اب کام کرنے والوں کا ایک چوتھائی حصہ کسی نا کسی طرز کی عارضی نوکری کرتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ اب خطِ غربت کے برابر یا اس سے نیچے کی تنخواہ لیتے ہیں اور گزر بسر کے لیے انہیں ایک سے زیادہ نوکریاں کر نا پڑتی ہیں یا کرایہ ادا کرنے کے لیے اضافی سوشل سیکورٹی پر منحصر کرنا پڑتا ہے۔ یہ جرمنی کے نام نہاد ’’Jobs Miracle‘‘ اور جرمن صنعت کی برآمدات میں بڑھوتری کی بنیادی اور اصولی وضاحت ہے۔

نسبتاً ’’محفوظ‘‘ نوکری کرنے والوں اور عارضی نوکری کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مابین فرق بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جرمن طرز کے مختلف سوپ کچن، جہاں مختلف فلاحی ادارے اور سماجی خدمت گار بے روزگاروں اور غریب مزدوروں کو مفت کھانا کھلاتے ہیں، پورے ملک میں کھمبیوں کی طرح پھیلتے جارہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سماج میں موجود امیر اور غریب کے مابین طبقاتی فرق واضح اور گہری ہوتی جا رہی ہے۔  

گزشتہ فروری میں جب شولز نے کئی مزدوروں میں یہ امیدیں ابھاریں کہ وہ شروڈر کے ’’ایجنڈا 2010ء ‘‘ کے کئی بدترین پہلوؤں کاخاتمہ کرے گا، تو اس کی وجہ سے SPD میں ہزاروں نئے ممبران کا اضافہ ہوا اور رائے شماریوں میں یہ کافی آگے چلی گئی۔ شولز، جو کہ لفظی جگالی تو اچھی کر لیتا ہے لیکن حقیقت میں وہ کبھی بائیں بازو کا سوشل ڈیموکریٹ نہیں رہا، اس نے بڑے کاروباریوں کے دباؤ میں آ کر تمام تر وعدوں پر پانی پھیر دیا۔ اس عمل کے نتیجے میں SPD کی حمایت کو نئے سرے سے بڑی گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا اور عوام کی نظروں میں اس کی قدر ختم ہو گئی، جس کے نتیجے میں اسے اہم علاقائی انتخابات میں شکست کا سامنا کر نا پڑا۔ SPD کے سابقہ مضبوط گڑھ، شمالی رائن ویسٹ فالیہ میں مئی میں ہونے والی اس کی عبرت ناک شکست، در اصل قومی انتخابات میں ہونے والی شکست کا پیش خیمہ تھی۔

SPD کی حزب مخالف کی جانب چھلانگ 

SPD کے قائدین واضح طور آنے والی پارلیمانی مدت میں مرکل کے چھوٹے حلیف کے طور پر چلنے کے لیے تیار تھے لیکن اچانک انہیں اس عمل پر ایمر جنسی بریک لگانا پڑ گئی۔ پولنگ سٹیشنز کے بند ہونے کے آخری لمحات میں انہوں نے ’’بڑے اتحاد‘‘ سے الگ ہوکر حزب مخالف کی اہم پارٹی کا کردار ادا کرنے کا اعلان کر دیا۔ موٹی تنخواہوں والی وزارتوں سے یہ دستبرداری دراصل گھبراہٹ اور خوف کی علامت ہے اور خاص کر اس خوف کی کہ ان کا حال بھی یونان، فرانس، ہالینڈ اور دیگر ممالک کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹیوں جیسا ہی ہونے والا ہے جو کہ اصلاحات مخالف پالیسیاں اپنانے کی پاداش میں برباد ہو گئیں۔ الیکشن ہار نے والوں کے ایک اور ’’ بڑے اتحاد ‘‘ کو پارٹی کے عام کارکنوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا اور اس سے پارٹی ٹوٹ بھی سکتی تھی۔

درحقیقت، انتخابی مہم کے دوران SPD کے کئی پرانے ممبران اور خیر خواہوں نے یہ اعتراف کیا کہ وہ اپنا دوسرا ترجیحی ووٹ بائیں بازو کی پارٹی DIE LINKE کو دینا چاہیں گے۔ کم از کم الفاظ کی حد تک خو د کو لڑاکا حزب مخالف کے طور پر پیش کر کے یہ دائیں بازو کے سوشل ڈیموکریٹ قائدین اپنی ناکامی کی وجوہات پر ایک سیر حاصل بحث سے بچتے ہوئے پارٹی پر اپنے تسلط کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ جیرمی کوربن کی قیادت میں ایک بائیں بازو کے پروگرام پر مبنی برطانوی لیبر پارٹی نے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ابھی تک SPD کے کسی قائد نے بھی کوربن کے مظہر پر بات نہیں کی کیونکہ اس سے خود ان کے اپنے کردار پر سوالیہ نشان اٹھیں گے۔

AfD کا ظہور

دائیں بازو کی رجعتی پارٹی AfD کا پچاس لاکھ نوے ہزار اور 12.6فیصد ووٹ لے کر پارلیمنٹ میں آنا، بائیں بازو اور ٹریڈ یونین کی کئی کارکنان کے لئے ایک شدید جھٹکا ہے۔ AfD کے مضبوط گڑھ، مشرقی حصے میں ہیں، جہاں منصوبہ بند معیشت کے ختم ہونے سے سٹالنسٹ مشرقی جرمنی میں بڑے پیمانے پر صنعتیں بند ہوئیں، جو اپنے پیچھے تباہی کے نشان چھوڑ گئی اور مقامی آبادی میں بے انتہامایوسی کا باعث بنی۔

AfD کے نعرے نسل پرستی، مہاجرین و مسلم پناہ گزینوں کی مخالفت اور شدید لبرل ازم کا ملغوبہ تھے، لیکن یہ بڑی عیاری سے اپنے تاثر کو’’ اسٹیبلشمنٹ مخالف ‘‘ متبادل کے طور پر بنانے میں کامیاب ہوگئی جس نے سماج میں موجود پیٹی بورژوا اور لمپن عناصر کو متاثر کیا۔ اس پارٹی کی بنیاد ایک یورپ مخالف پارٹی کے طور پر برنڈ لوکے جیسے’’نیو لبرل‘‘ پروفیسر حضرات اورسابقہ CDU کے کچھ کارکنان سمیت حکمران طبقے کے اندر سے جرمن انڈسٹریل فیڈریشن BDI کے سابقہ صدر ہنس اولف ہنکل جیسے لوگوں نے رکھی تھی۔

بہر حال، اس کے بعد سے لوکے اور ہنکل نے پارٹی چھوڑ دی ہے اور اب وہ کھلے عام پارٹی کے دائیں جانب کے اس حالیہ جھکاؤ، نسل پرستوں، نیم فاشسٹوں اور فاشسٹوں کے پارٹی کے میں بڑھتے اثرورسوخ کی مخالفت کررہے ہیں۔ اسی لیے یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے کہ انتخابی مہم کے دوران پارٹی کے اہم نمائندے الیگزنڈر گولنڈ نے، حال ہی میں بیان دیا ہے کہ جرمنی کو ’’ دو عالمی جنگوں میں لڑنے والے اپنے فوجی جوانوں پر فخر ہونا چاہیے ‘‘۔

پارٹی کی موجودہ چیئر پرسن فراک پٹری، جس نے انفرادی طور پراپنے سیکسونین حلقے سے 37فیصد ووٹ حاصل کر کے فتح حاصل کی ہے، نے سوموار کے دن (25 ستمبر ) اعلان کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں AfD کے پارلیمانی گروپ کا حصہ نہیں بنے گی، اس سے AfD میں ایک اور پھوٹ ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ایسی افواہیں موجود ہیں کہ وہ اورAfD میں موجود دیگر ’’ معتدل حضرات ‘‘ اور زیادہ ’’لبرل‘‘ عناصر سمیت جو کہ جلد از جلد CDU\CSU کی قیادت میں بننے والی مخلوط حکومت کا حصہ بننا چاہتے ہیں، اگر انہیں نو منتخب AfD ممبر پارلیمان کی درکار حمایت میسر آ گئی تو یہ لوگ ایک نئے پارلیمانی گروپ کی تشکیل کے امکانات کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

پارلیمنٹ کی نئی بنت کے نتیجے میں، مرکل کے پاس اور کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے کہ FDP اور گرینز کو ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے اتحاد بنائے۔ لیکن اس کی پوزیشن کمزور ہو چکی ہے کیونکہ CSU کی قائد اور بوارین وزیر اعظم ہورسٹ سیہوفر نے CDU اور CSU کو الیکشن کی رات واضح طور دائیں بازو کی پوزیشن لینے کا کہہ دیا۔

CSU نے 1950ء سے اب تک ماہرانہ طریقے سے بویریا پر حاکمیت جمائے رکھی لیکن اس بار وہ اپنی وفاقی ریاست میں محض38.8فیصد، پہلے سے نسبتاً کم ووٹ لینے پر حیران ہے۔ مرکل کے لیے اپنی قیادت میں FDP اور گرینز ایک کو آسانی سے ایک دوسرے کے ساتھ چلانامشکل ہوگا، کیونکہ گرینز کو 1980ء تک ایک بائیں بازو کے متبادل کے طور پر دیکھا جاتا تھالیکن اس کے بعد سے یہ ایک علاقائی لبرل پارٹی کے روپ میں ڈھل چکی ہے اور یہ پہلے سے ہی متعدد شہروں اور اہم مغربی ریاستوں باڈن۔ ورٹنگبرگ اور ہیسی میں CDU کے ساتھ اتحادی ہیں۔  

ڈی لنکے کی مغربی علاقوں میں اہم حاصلات

ڈی لنکے (بائیں بازو کی پارٹی) نے قومی سطح پر 9.2فیصد ووٹ حاصل کر کے نسبتاً اور حتمی طورپر بڑھوتری حاصل کی ہے۔ لیکن اتوارکے دن چالیس لاکھ تیس ہزار ووٹ کرنا اس صلاحیت کا محض معمولی سا اظہار ہے جو کہ ایک لڑاکا بائیں بازو کا متبادل حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 2009ء میں ڈی لنکے نے قومی سطح پر پچاس لاکھ ایک ہزار ووٹ حاصل کئے تھے۔

 

 

بہر حال مقامی اور علاقائی نتائج پر قریبی نظر ڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پارٹی نے اپنے سابقہ گڑھ مشرقی حصے میں بری کارکردگی دکھائی ہے، جہاں کی تین ریاستوں میں یہ SPD اور گرینز کے اتحاد ساتھ حکومت میں ہے اور اسی لیے بڑے پیمانے پر اسٹیبلشمنٹ کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ جون کے آغاز پر پارٹی میں شدید غصہ موجود تھا جب ڈی لنکے کے نمائندوں کی رضامندی سے مشرقی ریاستوں کی حکومتوں نے بندسرت(سیکنڈ چیمبر) میں موٹر وے کی نجکاری کی پالیسی کی حمایت کی اور اس کے نتیجے میں پارٹی میں شدید مباحثے اور ملامت نے جنم لیا جس کا اظہار دو ہفتے بعد ہونے والی پارٹی کانفرنس میں بھی ہوا

آخر میں، یہ مشرق میں موجود پارٹی کا دایاں بازو نہیں تھا جو کسی بھی قیمت پر قومی سطح پر SPD اور گرینز سے اتحاد کے حق میں تھا، بلکہ یہ مغرب میں موجود بائیں بازو کے متحرک ڈی لنکے کے حصے تھے جنہوں نے حاصلات کو یقینی بنایا اور قومی سطح پر تھوڑے سے اضافے کا سبب بنے جس سے پارٹی کی عزت اور وقار بچ گیا۔ ڈی لنکے، اہم مغربی شہری علاقوں میں واضح طور پر آگے بڑھی ہے اور ہیمبرگ، بریمن، کولوگن اور فرینکفرٹ جیسے بڑوں شہروں میں دوہرے اعداد میں نتائج حاصل کئے ہیں، جو اس بات کا عندیہ دے ر ہے ہیں کہ معاشرے میں موجود شعوری حصے بائیں جانب متحرک ہو نے کا آغاز کر رہے ہیں۔ حالانکہ پارٹی کے نعرے اور پوسٹرز اپنے اظہار میں کمزور تھے اور یہ سرمایہ داری مخالف متبادل کا واضح اظہار نہیں کر رہے تھے، اس کے باوجود بھی ووٹوں میں اضافہ ہونا اُس صلاحیت اور تلاش کی جانب اشارہ کر رہا ہے جو مزدوروں اور نوجوانوں میں واضح متبادل کے لیے موجود ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ہزاروں، خاص کر نوجوان ملک بھر میں پارٹی کا حصہ بنے۔ AfD کا پارلیمنٹ کا حصے بننے کے خلاف ملک بھر میں پھوٹنے والے خود رو احتجاجوں سے بھی مزید نوجوان آنے والوں دنوں اور ہفتوں میں پارٹی کا حصہ بنیں گے۔

یورپ میں جاری عمل کا تسلسل

مجموعی طورپر الیکشن کے نتائج یہ بتا تے ہیں کہ جرمنی اس عمل سے بچ نہیں سکتا جس نے باقی یورپ کو متاثر کیا ہے۔ یہاں بھی بڑھتی ہوئی پولرائیزیشن اور سیاسی ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے۔ دو اہم روایتی سیاسی بلاک کی روایتی حمایت تیزی سے گھٹ رہی ہے، CDU\CSU اور SPD جو کہ ’’ ماضی کے اچھے دنوں میں‘‘مل کر وفاقی ریپبلک کے ووٹوں کا اسی سے نوے فیصد حاصل کیا کرتی تھیں، اب ان کا مجموعی حصہ سکڑ کر 53فیصد رہ گیا ہے۔

AfD کی بڑھوتری نے کئی سارے لوگوں میں کنفیوژن اور غصے کو جنم دیا ہے جو انتہائی دائیں بازو کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔ یہ کام بہر حال محض کہنے سے نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے AfD کی سماجی بنیادوں کو کمزور کرتے ہوئے طبقاتی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا اور اس دائیں بازو کی پارٹی کا انتہائی رجعتی کردار سب پر واضح کرنا ہوگا۔ ایسا کرنے کے کئی سارے مواقع آئیں گے۔ کام کرنے کی جگہوں پر تنخواہوں، کام کے حالات اور نوکریوں کے حصول کے لیے تحریکیں بنیں گی اور اس کے ساتھ بڑے شہروں میں سستی رہائش کی کمی اور لاکھوں لوگوں کی پنشنز میں شدید کٹوتیوں کے خلاف بھی تحریکیں ابھریں گی۔

اگر ڈی لنکے ان حالات میں اہم کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے بائیں بازو کی پالیسیوں کی جانب مڑتے ہوئے جراتمند سوشلسٹ پروگرام دینا ہوگا جو کہ جرمنی کے مزدوروں اور نوجوانوں میں بڑی حمایت حاصل کرے گا۔ جرمنی کو بدل کر رکھ دینے والی صلاحیت موجود ہے جو کہ لازمی طور پر تمام یورپ اور دنیا کو بدل کر رکھ دے گی۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh