امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے بیرون ملک دورے کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں بڑا چرچا کیا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور یورپ کے دورے کے دوران جہاں ٹرمپ کی تضحیک آمیز حرکتوں اور بدمعاشیوں پر تبصرے ہوتے رہے وہیں پر خاص طور پر سعودی عرب میں اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس، اس میں ٹرمپ کی شمولیت اور ایران کے بڑھتے ہوئے سامراجی کردار کے حوالے سے گفتگو پرتجزیہ نگار بھانت بھانت کی بولی بولتے کافی مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا کہ سعودی عرب کی ایک نام نہاد بین الاسلامی فوج بنانے کی کوشش، شام اور عراق میں ہر لمحہ بدلتے طاقتوں کے توازن اور صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کو امن کیلئے خطرہ قرار دینے کے پس منظر میں اس دورے کا انعقاد کیا گیا۔ سب سے بڑی خبر جس کا چرچا کئی دن رہا وہ سعودی عرب کے ساتھ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا روایتی ہتھیاروں کا معاہدہ تھا جس کی داغ بیل سابق صدر باراک حسین اوباما کے دور اقتدار میں ڈالی گئی۔ منافرتوں، کدورتوں اور ریاکاری سے بھری اس بین الاسلامی اور امریکی ملاقات میں جہاں آپسی کشمکش پر پردہ ڈالتے ہوئے امریکی چاپلوسی کی نئی مثالیں دیکھنے کو ملیں، وہیں پر ذاتی مفادات کیلئے ایک دوسرے کی خریدو فروخت کا نیا عالمی بازار بھی دیکھنے کو ملا۔ اس حوالے سے آنے والے مہینے اور سال مشرق وسطیٰ کے مستقبل کیلئے انتہائی اہم اور فیصلہ کن ثابت ہوں گے ۔

معاشی مشکلات
1936ء میں تیل کی دریافت کے بعد سے اب تک سعودی عرب کی معیشت کا تیل پر مکمل انحصار ہے۔ امریکی صدر روزویلٹ اور سعودی فرمانروا عبدلعزیز کے درمیان معاہدے کے بعد تیل کے بدلے اپنی اندرونی اور بیرونی سیکورٹی کیلئے سعودی عرب ہمیشہ امریکہ پر انحصار کرتا رہا ہے۔ تیل کی ترسیل کے نتیجے میں حاصل ہونے والی بے پناہ دولت کو استعمال کرتے ہوئے شاہی خاندان نے آبادی کے ایک بڑے حصے کو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی سہولتوں سے نوازا اور اپنے اقتدار کو دوام بخشا۔ اس کے بدلے میں ملک میں امریکی پشت پناہی سے بد ترین ظالمانہ بادشاہت کے نظام کو قائم کیا گیا جس میں تمام بنیادی انسانی حقوق کو سلب کر لیا گیا۔ اسی دولت کو خطے میں مزدور دشمن نظریات مسلط کرنے کے لیے استعمال بھی کیا گیا۔

لیکن 2011ء کے عرب انقلابات اور 2014ء میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے اس سماجی ڈھانچے کو یکسر تبدیل کر دیا۔ عرب انقلابات کے دیو ہیکل اثرات کی وجہ سے سعودی نوجوانوں میں سیاسی تنقید اور مداخلت کی ہمت پیدا ہوئی۔ بیروزگاری، سماجی گھٹن، سیاست میں حصے داری، شاہی خاندان کی عیاشیوں اور سامراجی عزائم پر تنقید ہونا شرو ع ہو گئی۔ اس صورتحال سے خوفزدہ ہو کر شاہی خاندان نے 130 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کر کے دیو ہیکل انفراسٹرکچر پراجیکٹ شروع کئے تاکہ ایک طرف تو پرانے سماجی ڈھانچے کو برقرار رکھا جا سکے تو دوسری طرف نوجوانوں کو کچھ روزگار دے کر اپنے لرزتے تخت کو بچایاجا سکے۔ چند سال تو ایسے گزرگئے اور بظاہر ایسا ہی لگتا تھا کہ 2008ء کے معاشی بحران اور عرب انقلابات کے طوفانی تھپیڑوں سے سعودی عرب بچ نکلا ہے۔ لیکن سرمایہ داری ایک عالمی نظام ہے اور اس میں منسلک معیشتیں زیادہ دیر عالمی بحران سے بچ نہیں سکتیں۔ 2014ء سعودی عرب کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہوا جب عالمی منڈی میں بہتات، امریکہ اور یورپ میں فریکنگ اور کھپت میں کمی کے باعث تیل کی قیمتیں گرنا شروع ہو گئیں۔ جولائی 2008ء میں 147 ڈالر فی بیرل سے قیمت گر کر آج 51 ڈالر کے لگ بھگ کھڑی ہے۔ معیشت، جس کا دارومدار ہی تیل پر تھا شدید بحرانی کیفیت میں داخل ہونا شروع ہو گئی۔ اس وجہ سے عوامی سہولیات میں کٹوتیوں کا عمل شروع کیا گیا، سماجی سہولیات ختم ہونا شروع ہو گئیں اور پراجیکٹس کے تعطل کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ ان اثرات کی وجہ سے ملک کے مختلف شہروں، خاص طور پر ملک کے مشرقی علاقوں میں محروم شیعہ آبادیوں میں حکمرانوں کیخلاف احتجاجی تحریک کا آغاز ہو گیا۔ ایران کی سامراجی مداخلت کے باعث ان عوامی تحریکوں کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا گیا جس کو خون میں ڈبونے کے لیے پوری شدت سے سعودی ریاست سرگرم عمل ہے۔

دیو ہیکل بجٹ خساروں کو پورا کرنے کیلئے بندتجوریاں کو بھی کھولنا پڑا جس کی وجہ سے بچت کے پیسوں میں کمی آنا شروع ہو گئی۔ سعودی خود مختار فنڈ 685 ارب ڈالر سے کم ہو کر آخری اطلاعات کے مطابق 582ارب ڈالر پر آ گیا ہے اور IMF کے مطابق جس تیزی سے اخراجات ہو رہے ہیں، ملک 2020ء تک دیوالیہ ہو جائے گا۔ 2015ء میں بجٹ خسارہ 98 ارب اور 2016ء میں 79 ارب ڈالر تھا۔ خسارے میں کمی کی وجوہات واضح ہیں کہ اس کی قیمت عام شہریوں نے ہی ادا کی ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو مستحکم کرنے یا انہیں بڑھاوا دینے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے کیونکہ قیمتیں جیسے ہی 60ڈالر فی بیرل تک پہنچتی ہیں تو ساتھ ہی امریکہ میں فریکنگ کے ذریعے تیل کی منافع بخش رسد شروع ہو جاتی ہے۔ ان تمام تر معاشی مصیبتوں کا اثر براہ راست عوام اور غیر ملکی مزدوروں پر پڑا ہے جبکہ شاہی خاندان کی عیاشیوں میں رتی برابر کمی واقع نہیں ہوئی۔ جہاں پر اپنی ذاتی عیاشی کیلئے کئی سو ملین ڈالروں کے بحری جہاز خرید ے جا رہے ہیں وہیں پر یمن کی جنگ پر ماہانہ کم از کم 6 ارب ڈالر کا خرچہ آ رہا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں کئی سالوں کی مہم جوئیوں اور مزدور دشمن قوتوں کے پالنے پراربوں ڈالر پانی کی طرح بہائے جا چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک میں بیروزگاری کی شرح 12فیصد جبکہ کچھ اندازوں کے مطابق اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ کم از کم بھی دو لاکھ پچاس ہزار نوجوان ہر سال محنت کی منڈی میں داخل ہو رہے ہیں جن کیلئے روزگار موجود نہیں جبکہ 35-45فیصد خاندان غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف غیر ملکی مزدوروں کو کئی کئی مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں، کمپنیاں دیوالیہ ہو رہی ہیں اور اس کی وجہ سے چند ایک بڑی کمپنیوں میں بڑے بڑے احتجاج بھی دیکھنے میں آئے ہیں جن میں گزشتہ سال بن لادن کمپنی کی سات بسوں کو نذرِ آتش کیا گیا اور ابھی چند دن پہلے ABV نامی کنسٹرکشن کمپنی کے ملازموں نے ہڑتال بھی کی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے شاہی خاندان نے چند سال پہلے غیر ملکی مزدوروں کو نوکریوں سے نکالنے کا عمل شروع کیا جس کے نتیجے میں مختلف ممالک کے لاکھوں مزدوروں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ لیکن نجی کمپنیوں میں کم تنخواہ اور سہولتوں کی کمی کی وجہ سے سعودی شہری کام کرنے کو تیار نہیں جبکہ اخراجات میں کمی کیلئے سرکاری ملازمتیں پہلے ہی ختم کی جا رہی ہیں۔ یہ بھی ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ بن لادن کمپنی سے نکالے گئے لوگوں میں ایک قابل ذکر تعداد سعودیوں کی تھی۔ چند ماہ قبل حکومتی اور شاہی دربار کے اہلکاروں کی تنخواہوں اور سہولیات میں 15-20فیصد کٹوتیاں لگائی گئیں جنہیں چند دن پہلے وقتی طور پر بحال تو کر دیا گیا ہے لیکن یہ کٹوتیوں کا سلسلہ اب تھمنے والا نہیں۔ گزشتہ سال سعودی عرب نے 17.5ارب ڈالر کے بانڈ جاری کئے جبکہ اس سال 9ارب ڈالر کے اسلامی سود والے بانڈ بھی جاری کئے گئے۔ غیر ملکیوں کے احتجاجوں، مختلف ممالک میں آئے دن تحریکوں اور عوام میں عدم اطمینان کا خاطر خواہ اثر پڑ رہا ہے جس کا نتیجہ آئے دن شاہی خاندان کی طرف سے جاری کردہ بھونڈے اور فرسودہ معاشی پروگراموں سے ہو رہا ہے۔ 

شاہی خاندان میں دراڑیں

عبدالعزیز قرون وسطیٰ کے شاہی فرمانرواؤں کی طرح اس لائحہ عمل پر کاربند تھا کہ جو کام شادی کر کے کیا جا سکتا ہے اس کیلئے جنگ کیوں کی جائے۔ اس حوالے سے سعودی عرب کے مختلف قبائل کو برطانوی و امریکی سامراج کی چھتری تلے سیاسی طور پر یکجا کرنے کیلئے اس نے بے شمار شادیاں کیں۔ درجنوں شہزادوں اور شہزادیوں کے والد نے شاہی تخت پر براجمانی کا یہ طریقہ کار بنایا کہ پہلے سب سے بڑے بیٹے اور اس کے بعد باقی بیٹے شاہ بنیں گے، پھر سب سے بڑے بیٹے کا سب سے بڑا بیٹا اور اس کے بعد کے بیٹے کا بیٹا اور پھر اس کے بعد۔۔۔ غرض اس طرح سے خاندان بھی یکجا رہے گا اور امور ریاست بھی بٹے رہیں گے۔ خاندان کی جو شاخ جس عہدے پر براجمان ہو گی اسی کو لوٹ کھسوٹ کر اپنی عیاشیاوں کا سامان بھی کرتی رہے گی۔ یہ بات شاید 90سال پہلے تو قابل عمل تھی لیکن آج بالکل بھی نہیں ہے۔ اس حوالے سے جہاں پچھلی کئی دہائیاں شاہی خاندان حکومت کرتا رہا وہیں پر تخت کا انتظار کرتے کرتے بیشتر شہزادے جہان فانی سے کوچ کر گئے لیکن اپنے پیچھے ا پنے سے زیادہ ہوس پرست اولادیں چھوڑ گئے۔ پھر دوسرا مسئلہ یہ ہوا کہ اقتدار اور اس کے ساتھ منسلک بے پناہ مال و دولت پر کیا باپ کیا بیٹا سب کی نظریں جم گئیں۔ اس حوالے سے پرانے شاہی پروٹوکول کو توڑتے ہوئے اپنے جاذب نظر بیٹوں اور بھائیوں کو کلیدی حکومتی عہدے دے کر طاقت کو مستحکم کرنے کا سب سے ننگا استعمال شاہ عبداللہ نے شروع کیا جب وہ اپنے بھائی فہد کے مرنے پر2005ء میں تخت پر براجمان ہوا۔ لیکن اس روایتی انحراف کو کمال عروج پر 2015ء میں شاہ سلمان نے تخت نشین ہونے کے بعد پہنچایا جب اس نے اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو بادشاہ بنانے کیلئے شاہی خاندان کی مختلف شاخوں کو طاقت ور ترین عہدوں سے ہٹا کر من پسند حواریوں کو لگا دیا۔ اس وقت محمد بن سلمان سعودی دنیا کا سب سے کم عمر وزیر دفاع، معاشیات کونسل کا سربراہ، شاہی دربار کا سربراہ اور ڈپٹی ولی عہد ہے۔ ولی عہد محمد بن نائف ہے جسے مقرن بن سعود کی جگہ اس عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔ لیکن ان تمام تر محلاتی سازشوں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ شاہی خاندان اس وقت جتنا انتشار اور عدم استحکام کا شکار ہے، اتنا پہلے کبھی بھی نہیں تھا۔ بوڑھے شہزادے خفا ہیں اور نوجوان شہزادے طاقت کے بھوکے۔ واضح دھڑے بندیاں ہوتی نظر آ رہی ہیں جن میں ایک طرف محمد بن سلمان کی ذات کے ارد گرد شہزادے جمع ہیں تو دوسری طرف کچھ شہزادے محمد بن نائف کے حواری ہیں۔

پھر حتمی تجزئیے میں گرتی معیشت، عوامی تحریک کے خوف، گھٹتی طاقت اور عالمی مقام میں روز بروز کمی کے نتیجے میں شاہی خاندان آپس میں دست و پا ہے اور اس ساری صورتحال میں محمد بن سلمان نے اپنا لوہا منوانے کیلئے دو داؤ کھیلے۔ معاشی بحران کے حل کیلئے اصلاحات کا ایک وسیع و عریض پروگرام تشکیل دیا گیا جس کا نام ویژن2020ء رکھا گیا تاکہ تیل پر انحصار کم کر کے دوسرے طریقوں سے معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ سرسری طور پر بھی اس پروگرام کا تجزیہ کرنے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔ دوسرا اس نے 2015ء میں عوام میں اپنے آپ کو ایک شیر دل ولی عہد کے حوالے سے متعارف کروانے کیلئے اور عوام کی توجہ معاشی بحران سے ہٹانے کیلئے یمن میں جنگ شروع کر دی۔ پہلے ہی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی مہم جوئیوں میں اربوں ڈالر کا نقصان اور عالمی سبکی ہو چکی ہے اور اب ان دونوں اقدامات نے جہاں ایک طرف محمد بن سلمان کو طنز و تشنع کا نشانہ بنایا ہے وہیں پر جنگی اخراجات میں اضافوں، غیر مقبولیت اور دو سال بعد بھی خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہونے پر شاہی خاندان میں لڑائیاں مزید شدت اختیار کر گئی ہیں۔ سلمان بن سعود ضعف اور بیماری کی وجہ سے قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے اور اس کی موت داخلی خلفشار کو مزید بھڑکانے کی طرف جائے گی۔

سامراجی عزائم میں ناکامی

وان کلازویٹز نے کہا تھا کہ بیرونی جنگیں درحقیقت داخلی سیاست کا ہی تسلسل ہوتی ہیں۔ اپنی عوام کی توجہ معاشی مشکلات سے ہٹانے، اپنے آپ کو ایک عسکری کمانڈر ثابت کرنے اور کسی ایک جگہ ایران کو شکست دے کر سعودی شاہی خاندان کی فتح کا جھنڈا گاڑنے کی غرض سے محمد بن سلمان نے 2015ء میں یمن پر عسکری چڑھائی کر دی۔ سردست صورتحال یہ ہے کہ امریکی اور برطانوی حمایت کے ساتھ بے پناہ بمباری کرنے کے باوجود سعودی عرب یمن میں حوثی بغاوت کو کچلنے میں ناکام رہا ہے۔ سابق یمنی صدر الصالح حوثیوں کے ساتھ ہے جبکہ سعودی و متحدہ امارات حمایت یافتہ سابق صدر الہادی، صدارت کا متمنی بنا عدن میں بیٹھا ہوا ہے۔ لیکن الہادی اور عرب امارات کے اختلافات کے نتیجے میں اب الہادی کی قانونی حیثیت مجروح ہو چکی ہے جبکہ سعودی عرب کو سیاسی و سفارتی محاذپر شکست ہو ئی ہے۔

اس ساری صورتحال میں دو سال قبل سعودی عرب نے ایک بین الاسلامی فوج تشکیل دینے کا سامراجی عزم ظاہر کیا جو خطے میں ایران کے سامراجی اثرو رسوخ کا سدباب کر تے ہوئے سعودی عرب کے سامراجی عزائم کا تحفظ کر سکے۔ اس کیلئے خاص طور پر پاکستان کے کاسہ لیس حکمرانوں سے بھی امداد مانگی گئی۔ اصل وجہ یہ تھی کہ سعودی عرب کو بہت جلد واضح ہو گیا تھا کہ جنگ لڑنا ان کے بس میں نہیں۔ ایک تو یہ کہ سعودی عرب کی اپنی کوئی مضبوط فوج موجود نہیں، دوسرا یہ کہ شاہی خاندان کو اپنی فوج، جو کہ روایتی کے بجائے جدید ہتھیاروں سے لیس قبائلی فوج ہے، پر بالکل بھی اعتماد نہیں جس کا اظہار آئے دن سپاہیوں کی فراری میں بھی ہوتا ہے۔ تیسرا یہ کہ عوامی تحریک کے دباؤ اور شاہی خاندان کے داخلی انتشار کے باعث حاوی دھڑے کو اپنی حفاظت کیلئے پیشہ ورانہ فوج درکار ہے۔ حلیف ممالک کے باہمی تضادات، عوامی دباؤ، خود قومی فوجوں کے سپاہیوں کا کسی دوسرے سامراج کی جنگ میں موت کا خیال، اندرون ملک شیعہ سنی اشتعال میں اضافہ اور عالمی معیشت کے سنگین تر ہوتے بحران کی وجہ سے اس ضمن میں پیشرفت آغاز میں سست تھی لیکن ٹرمپ کے دورے اور نیٹو کی طرز پر تشکیل دیے جانے والے اس اتحاد کے لیے امریکی آشیر بادکے بعد اس میں تیزی آئی ہے۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف راحیل شریف کی اس اتحادی فوج کے بطور سربراہ تعیناتی اور اب ممکنہ رخصتی بھی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سامراجی اتحاد کا خمیازہ مشرق وسطیٰ کے محنت کش عوام بھگتیں گے جو پہلے ہی آگ اور خون کی لپیٹ میں ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں ان تمام تر مہم جوئیوں کی قیمت عراق اور شام کی عوام نے چکائی ہے جن میں لاکھوں بے گناہ مارے جا چکے ہیں، کروڑوں بے گھر ہیں اور نظام زندگی تباہ برباد ہو چکا ہے۔ ہر طرف قحط سالی ہے، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر سب کچھ ملیا میٹ ہو چکا ہے اورہزاروں خواتین مشرق وسطیٰ کے مختلف پناہ گزین کیمپوں میں بے سر و سامانی کے عالم میں عصمت فروشی پر مجبور ہیں۔ یمن میں چالیس لاکھ کے قریب بچے اور خواتین غذائی قلت کا شکار ہیں ۔ یہاں اس وقت بچوں کا سب سے بڑا قاتل ہیضہ بن چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار غیر مستند اور محتاط ہیں کیونکہ جنگی حالات میں ان کا درستگی کے ساتھ تعین کرنا ممکن نہیں۔ درحقیقت تعداد کہیں زیادہ ہے جبکہ ان علاقوں میں امداد کے منتظر لوگوں کی تعداد کا درست اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ جدید انسانی تاریخ میں ایسی ہولناکی، انسانی اذیت اور چند سامراجیوں کی تشنگی کیلئے تباہی و بربادی کی ایسی مثال ملنا محال ہے۔

بربریت یا سوشلزم!

اگر تمام تر بحث کو سمیٹا جائے تو یہ واضح ہے کہ سعودی شاہی خاندان کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں اور ملک عوامی تحریکوں کے آغاز کی طرف بڑھ رہا ہے۔ عوام کو دینے کیلئے ریاست کے پاس کچھ نہیں۔ آئے دن سامراج کی تباہی و بربادی سے عام لوگوں کے اعصاب شل ہو رہے ہیں اور ریاست سے نفرت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ خود عام عوام اور غیر ملکی مزدوروں کی حالت بد سے بد تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ملک کا مستقبل کٹوتیاں اور معیار زندگی میں مزیدگراوٹ ہے۔ ایسے میں مشرق وسطیٰ میں بھڑکتی جنگوں کی آگ سے اپنا چمن محفوظ ر کھنا سعودی حکمرانوں کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ دہشت گردی میں اضافے کے ساتھ ساتھ عوامی تحریکوں کا آغاز ایک تباہ کن مرکب ثابت ہو گا۔ جن ممالک کو برباد کیا جا چکا ہے وہ عہد بربریت کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔

لیکن اس خطے کی شاندار انقلابی روایات ہیں جن کا اظہار ہمیں حالیہ سالوں میں عراق، شام، یمن اور دیگر ممالک کی عوامی تحریکوں میں نظر آیا ہے۔ تاریخ ان انقلابات سے بھری پڑی جن کا جنم جنگ کی کوکھ سے ہوا۔ خود روسی انقلاب کا جنم پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے ہوا تھا۔ غیر ملکی مزدور نئی شاندار روایات بنانے کی طرف جا رہے ہیں اور عالمی تحریکوں سے روزانہ ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ سے منسلک عوام کٹی ہوئی نہیں رہ سکتی۔ انہیں خود اپنے حالات آگے بڑھ کر اپنی تقدیر کے فیصلے کرنے پر مجبور کریں گے۔ ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ کسی بھی عوامی تحریک کا تعین جہاں قومی حالات کرتے ہیں وہیں پر عالمی مزدور تحریک بھی ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مصر، ایران اور ترکی سمیت کسی ایک بھی ملک میں حکمران طبقے کے خلاف انقلابی تحریک کے شعلے سعودی عرب کے بحران میں شدت لائیں گے اور شاہی خاندان کا معصوموں کے خون سے لتھڑا تخت گرنے کی جانب بڑھے گا۔ سعودی عرب اور اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ ملکی اور غیر ملکی مزدوروں کے ہاتھوں میں ہے۔وہ آگے بڑھیں تو دنیا بھر کے محنت کش ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے۔ ان کے پاس کھونے کو صرف زنجیریں ہیں اور پانے کو پورا جہان ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh