|تحریر: دیجان کوکک‘ حمید علی زادے، ترجمہ: ولید خان|
12 جولائی 2017ء

پچھلے ایک مہینے سے سعودی عرب، عرب امارات اور بحرین نے قطر کی مکمل ناکہ بندی کی ہوئی ہے جبکہ مصر نے تمام سفارتی تعلقات منقطع کر دئیے ہیں۔ ان واقعات نے مشرق وسطیٰ میں ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے جس کے حوالے سے دنیا کی بڑی سامراجی طاقتیں کافی پریشان ہیں۔ 

قطر ایک تہائی سے زیادہ اشیائے خوردونوش اور دیگر بنیادی اشیاء ضرورت سعودی عرب اور عرب امارات سے درآمد کرتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ قطر میں بہت سارے ترقیاتی منصوبوں میں ان ممالک کے بیشتر سرمایہ کاروں کا سرمایہ لگا ہوا ہے۔ ان پابندیوں کا قطر پر خاطر خواہ اثر پڑا ہے جس کی سٹاک مارکیٹ جون کے ابتدا میں اپنی کل مالیت کا 8فیصد کھو چکی ہے جس کی وجہ سے معیشت کو 13 ارب ڈالر کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ شہری ہر جگہ اشیائے خوردونوش اور گھریلو ضروریات کی اشیاء کی ہیجانی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ناکہ بندی کے ممکنہ جاری رہنے کے نتیجے میں ضروری اشیا کی طویل المیعاد قلت ہو سکتی ہے۔ عوام کی اکثریت 20 لاکھ غیر ملکی مزدور ہیں (جن کی بھاری اکثریت نیم غلامی کی زندگی گزار رہے) جو اس بحران کی وجہ سے ملک میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

موجودہ بحران کی وجہ مئی میں قطر نیوز ایجنسی کی ویب سائیٹ پر آنے والی وہ رپورٹ بتائی جا رہی ہے جس کے مطابق قطر کے امیر، تمیم بن حماد الثانی کا کہنا ہے کہ، ’’ایران کے حوالے سے جارحانہ عزائم رکھنا کوئی دانشمندی نہیں‘‘۔ قطر نے وہ ویب سائیٹ بند کر دی ہے اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ رپورٹ ویب سائیٹ ہیک کر کے لگائی گئی تھی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکی ریاستی نمائندوں نے بھی روایتی الزام ’’یہ کام روسی ہیکرز کا ہے‘‘ دہرا کر اپنا دو کوڑی حصہ ڈالا۔ لیکن یہ تمام تر صورتحال بڑی مشکوک ہے کیونکہ یہ واقعہ آدھی رات کو پیش آیا جبکہ اس کے فوری بعد ہی سعودی ذرائع ابلاغ میں تیزی کے ساتھ درجنوں مضامین اور رپورٹوں کی بھرمار ہو گئی۔ ان تمام تحریروں کا موقف یہ تھا کہ الثانی نے ثابت کر دیا کہ سب کو دھوکہ دے کر اس نے ایران اور ’’دہشت گردی‘‘ کے ساتھ ساز باز کر رکھی ہے۔ ۔ سخت ترین اقدامات کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔  

ناکہ بندی ختم کرنے کیلئے 23 جون کو سعودی عرب نے 13 نکات پر مشتمل مطالبات جاری کئے جن پر عمل درآمد کرنے کے لئے قطر کو دس دن دئیے گئے۔ ان میں ایران سے قطع تعلقی، اخوان المسلمین اور حزب اللہ سے قطع تعلقی (بشمول داعش اور القاعدہ)، الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کی مکمل بندش اور سیاسی مخالفین کی متعلقہ ممالک کو واپسی کی شرائط شامل ہیں۔ قطر پر واضح طور پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ریاستی مفادات کو اپنے زیادہ طاقتور ہمسائے کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔ بہرحال یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ شرائط مسترد ہونے پر دباؤ کو مزید کیسے بڑھایا جائے گا۔

سعودی عرب کی شرائط

1۔ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات فوری طور پر منقطع کئے جائیں اور تمام سفارت خانے بند کر دئیے جائیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ممبران کو ملک بدر کیا جائے اور ایران کے ساتھ تمام عسکری تعاون ختم کیا جائے۔ ایران کے ساتھ صرف اسی تجارت اور بیوپار کی اجازت ہو گی جو امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کے تابع ہو گی۔

2۔ ’’دہشت گرد تنظیموں‘‘، خاص طور پر اخوان المسلمین، داعش، القاعدہ اور لبنان کی حزب اللہ سے تمام تعلقات منقطع کر دئیے جائیں۔

3۔ الجزیرہ اور اس سے منسلک تمام ادارے بند کئے جائیں۔

4۔ تمام ذرائع ابلاغ، بشمول عربی 21، رسد، العربی الجدید اور مڈل ایسٹ آئی، کی فنڈنگ بند کی جائے۔

5۔ فوری طور پر قطر میں موجود ترک فوج کو ملک سے بے دخل کیا جائے اور اندرون ملک ترکی کے ساتھ ہر قسم کے عسکری تعاون کو ختم کیا جائے۔

6۔ ان تمام افراد، گروہوں اور تنظیموں کی ہر طرح کی فنڈنگ بند کی جائے جنہیں سعودی عرب، عرب امارات، مصر، بحرین، امریکہ اور دیگر ممالک نے دہشت گرد قرار دیا ہے۔

7۔ ’’دہشت گرد افراد‘‘ کو ان کے ممالک سعودی عرب، عرب امارات، مصر اور بحرین کے حوالے کیا جائے۔ ان کے تمام اثاثے منجمد کئے جائیں اور ان کی رہائش، حرکات و سکنات اور معاشی تفصیلات کی معلومات دی جائے۔

8۔ آزاد ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت ختم کی جائے۔ سعودی عرب، عرب امارات، مصر اور بحرین کے وہ شہری جو ان ممالک کو مطلوب ہیں، ان کو شہریت دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ مطلوب شہری، جنہیں پہلے قطری شہریت دی جا چکی ہے، انہیں فوراً ختم کیا جائے۔

9۔ سعودی عرب، ارب امارات، مصر اور بحرین میں موجود حزب اختلاف سے تمام تعلقات منقطع کئے جائیں۔ حزب اختلاف کے گروہوں سے تعلقات کے متعلق معلومات کی تفصیلات دی جائیں۔  

10۔ حالیہ سالوں میں قطر کی پالیسیوں کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔ رقم کا تعین قطر کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔

11۔ مطالبات کو ماننے کے بعد پہلے ایک سال ماہانہ آڈٹ کروایا جائے اور دوسرے سال سے سہ ماہی آڈٹ کروایا جائے۔ اگلے دس سال، مطالبات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے سالانہ آڈٹ کروایا جائے۔

12۔ دیگر مشرق وسطی اور عرب ممالک کے ساتھ عسکری، سیاسی، سماجی اور معاشی حوالوں سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کیا جائے، خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے 2014ء کے معاہدے کی رو سے معاشی پاسداری کی جائے۔

13۔ مطالبات کی پیشی کے بعد دس دنوں میں عملدرآمد لازم ہے ورنہ مطالبات کالعدم قرار دے دئیے جائیں گے۔ (دی گارڈین اخبار)

فی الحال قطر ٹس سے مس نہیں ہواہے۔ وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کرنے والے ممالک کی ممکنہ عسکری جارحیت سے قطر کو کوئی خوف نہیں۔ قطری حکومت کا کہنا ہے کہ جو مطالبات پیش کئے گئے انہیں دانستہ طور پر ناقابل قبول بنا کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے دس دن کے مقررہ وقت کو بھی نہیں مانا جس کے بعد عمل درآمد کیلئے مزید48 گھنٹے دئیے گئے۔ اس آخری چتاونی کے بے اثر ہو جانے کے بعد آخر کار سعودیوں نے مطالبات کو ہی ختم کر دیا۔  

جرمن وزیر خارجہ نے اس مسئلے میں الجھے ممالک کے ساتھ حالات معمول پر لانے کیلئے مذاکرات کئے ہیں اور اس نے اپنے اور حکمران طبقے کے تجزیہ نگاروں کی گھبراہٹ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ، ’’خطرہ ہے کہ اس جھگڑے کے نتیجے میں جنگ ہو سکتی ہے‘‘۔ یہ اخذ کردہ نتیجہ کچھ زیادہ ہی گھمبیر ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور دوسری سامراجی قوتیں ان واقعات کو سنجیدگی اور فکر مندی سے دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر امریکہ جس کا مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ، العدید ہوائی اڈہ، قطر میں واقع ہے۔

اس بحران کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ہمارے علم میں ہونا چاہیے کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ مختلف بورژوا ذرائع ابلاغ میں پھیلائی جانے والی غلط خبروں کا بھی تنقیدی جائزہ لیا جائے کیونکہ یہ ذرائع اور امریکی صدر ٹرمپ آج کل سعودی عرب کی اچانک دہشت گردی کے خلاف مستعدی کے رومان میں ڈوبے نظر آ رہے ہیں۔  

سعودی عرب اور ’’انسداد دہشت گردی‘‘

سعودی عرب پوری دنیا میں اسلامی دہشت گردی کا سب سے بڑا معاون اور ذریعہ ہے۔ اپنے جنم سے سعودی بادشاہت نے کھلم کھلا وہابی انتہا پسندبنیاد پرستی کے مشرق وسطیٰ میں پھیلاؤ میں مدد اور معاونت کی ہے۔ سعودی شاہی خاندان کا ہمیشہ یہ خوف رہا ہے کہ ان کی بادشاہت کی نظریاتی بنیادیں بنانے کے باوجود انہیں سب سے بڑا خطرہ انتہا پسند سنی بنیاد پرستی سے ہے جو بہرحال بادشاہت کے بجائے خلافت کو ترجیح دیتی ہے۔ ایک تیر سے دو شکار کرنے کے چکروں میں سعودی بادشاہت نے اپنے آپ کو سنی مسلک کے سب سے انتہا پسند رجحان کے ساتھ منسلک کیا ہے تاکہ اندرون ملک اور مشرق وسطیٰ میں انقلابی تحریکوں، اندرون ملک شیعہ اقلیت اور دوسرے گروہوں کو شدت سے کچلا جا سکے، جنہیں دشمن خیال کیا جاتا ہے۔  

اس حوالے سے سعودی بادشاہت نے 100 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ وہابی ملاؤں اور منتظمین کی تجوریوں میں انڈیلا ہے جو یورپ سے انڈونیشیا تک ہر جگہ دہشت گردی کرتے پھر رہے ہیں۔ 9/11 دہشت گردی کے واقعے کے ایک منصوبہ کار زکریا موسوی نے امریکی متعلقہ اداروں کے سامنے اعتراف کیا کہ سعودی شاہی خاندان حملے سے پہلے القاعدہ کو پیسے دے رہا تھا۔ حال ہی میں سعودی عرب شام میں جبہت النصرہ کی مالی امداد کرتا رہا ہے، جو القاعدہ کی شامی شاخ ہے۔ خود القاعدہ داعش کی مالی امداد اور ہتھیاروں کی سپلائی کرتی رہی ہے۔  

یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ سعودی اب ایک دوسرے ملک کو کہہ رہے ہیں کہ وہ ’’دہشت گرد تنظیموں سے تمام رابطے منقطع کر دیں‘‘۔ پھر صدر ٹرمپ کا اس سارے معاملے کی حمایت کرنا خود ٹرمپ کو دنیا کی سب سے رجعتی اور خون آشام ریاست کے حامی ہونے کا مجرم ٹھہراتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ قطر دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ نہیں کر رہا اور اس کے یہ اقدامات قابل نفرت نہیں۔ اپنے باشندوں کو قدیم یونان یا روم کی بربریت زدہ کیفیت میں رکھنے کے علاوہ قطر بخوشی عالمی دہشت گرد تنظیموں اور رجعتی گروہوں کو اپنے مفادات کیلئے فنڈنگ کرتا ہے۔ لیکن سعودی عرب کے موقف کو حقیقت مانتے ہوئے، کہ قطر کی موجودہ ناکہ بندی کا ’’انسداد دہشت گردی‘‘ سے کوئی تعلق ہے، اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے۔

یہ درست ہے کہ قطر نے ان کلیدی تنظیموں کی حمایت کی ہے جن کی باقی مشرق وسطیٰ کے ممالک مخالفت کرتے ہیں۔ بہت سارے مبصرین مصر کی ناکہ بندی میں شمولیت کو اخوان المسلمین کے ساتھ تعلق کو اہم وجہ قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ تاریخی طور پر سعودی عرب اخوان المسلمین کے حوالے سے مشکوک ہی رہا ہے لیکن اس تنظیم یا حماس یا حزب اللہ سے فی الحال سعودی، اماراتی، بحرینی یا خطے میں متعلقہ حامیوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔  

جب اخوان المسلمین واقعی ایک خطرہ تھی۔ ۔ مصر میں حکومت بنانے کے بعد۔ ۔ اس وقت سعودی عرب، قطر کی حمایت پر خاموش تھا۔ اور جب اخوان المسلمین کا تختہ الٹ دیا گیا اور السیسی اقتدار میں آیا تو قطر نے اس کی حمایت کی جس کا مطلب یہ ہے کہ باقی دنیا کی طرح مشرق وسطیٰ میں بھی کوئی مستقل اتحادی نہیں بلکہ صرف مستقل مفادات موجود ہیں۔ اس بحران میں مصر کا کردار محض سعودی عرب کے بغل بچے کا ہے کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کا سعودی مالی امداد پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔

اصل وجوہات

موجودہ قطری بحران کی اصل وجوہات کو جاننے کیلئے سعودی مطالبات کے صرف پہلے اور بارہویں مطالبے کو بغور دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب کی نظروں میں قطر اپنی اوقات سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی حاوی قوت کے مقابلے میں قطر ایک بہت چھوٹی ریاست ہے جس کی انتہائی قلیل فوج ہے، اس حوالے سے لگتا ہے کہ اس کا کوئی خاص سیاسی وزن نہیں۔ لیکن قدرتی گیس کے دیو ہیکل ذخائر ہونے کی وجہ سے قطر نے پچھلی چند دہائیوں میں عالمی سرمایہ کاری کا ایسا ریکارڈ بنایا ہے جو اپنے سے بڑے حجم کے ہمسائیوں کا مقابلہ کرتا ہے۔

قطر روایتی طور پر مغربی سامراج کیلئے مشرق وسطیٰ میں فوجی چوکی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، پہلے برطانیہ اور پھر امریکہ نے قطر کو اپنی عسکری مہم جوئیوں کیلئے استعمال کیا ہے۔ بلکہ عثمانی سلطنت کے وقت سے قطر کو کبھی ایک اور کبھی دوسری سامراجی قوت نے جزیرہ نما عرب میں دوسرے قبائل کے خلاف استعمال کیا ہے۔

پہلی خلیجی جنگ میں امریکی اتحاد میں مشترکہ جنگی معاونت کے بعد قطر نے ایک ارب ڈالر کی لاگت سے العدید عسکری اڈہ امریکہ کیلئے تیار کیا۔ جب امریکہ نے عراق پر فوجی چڑھائی کی تو سعودی عرب سے اپنے فضائی آپریشنوں کو قطر منتقل کر دیا اور شام میں مداخلت کے دوران بھی اسی اڈے کا استعمال جاری ہے۔ اپنے ہمسائیوں سے منسلک ہونے کے باوجود قطر کے بے پناہ منافعوں اور امریکہ کے ساتھ مشترکہ علاقائی مفادات میں کی وجہ سے قطر اپنا سیاسی وزن آزادانہ طور پر استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب سے علیحدہ خارجہ پالیسی پر گامزن ہے۔

اس صورتحال کو سعودی عرب اس وقت تک برداشت کرتا رہا جب تک مشرق وسطیٰ میں اس کی علاقائی اجارہ داری تھی اور عالمی معیشت مستحکم تھی۔ لیکن عراق جنگ اور 2011ء کے عرب انقلابات کے بعد سعودی عرب اندرونی اور بیرونی طور پر کمزور ہو گیا ہے جبکہ خطے میں ایران کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے۔ قطر کا خطے میں آزادانہ کردار سعودی مفادات کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ہے، جس طرح مصر کے معاملے میں انقلاب کے بعد قطر نے مرسی کی حکومت کی حمایت کی، جبکہ سعودی عرب نے اس کی شدید مخالفت کی۔ جیسے جیسے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے ویسے ویسے قطر اپنی آزادانہ حکمت عملی مستحکم کرتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے سعودی بادشاہت کیلئے خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ مثلاً الجزیرہ نیوز نیٹ ورک اور مڈل ایسٹ آئی ویب سائیٹس پورے خطے میں پروپیگنڈہ کے انتہائی اہم ہتھیار بن چکے ہیں جن کی وجہ سے سعودی بادشاہت کو شدید خطرے لاحق ہو رہے ہیں۔

اس بحران کی بنیادی وجہ قطر کی سعودی مفادات سے دوری اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ خلیج فارس میں دنیا میں گیس کے سب سے بڑے ذخائر جنوبی پارس/شمالی فیلڈ پر ایران اور قطر کا مشترکہ کنٹرول ہے۔ اس سال کے آغاز پر ایران اور قطر نے الگ الگ اس گیس فیلڈ سے بھاری مقدار میں گیس نکالنے کی کوششوں کا آغاز کیا۔ قطر نے 2005ء کے بعد یہ اقدام پہلی دفعہ اٹھایا۔

جب یہ پوچھا گیا کہ یہ اقدام دونوں کی معاونت سے ہو رہا ہے تو قطر کے پٹرولیم کے سربراہ سعد الکابی نے کہا، ’’آج جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ بالکل نیا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا کریں گے۔ ۔ ۔ اور ایران سے معلومات کا تبادلہ کریں گے‘‘۔ تین سال قبل قطر نے ایران کو گیس نکالنے میں بہتری کے لیے مدد کی پیشکش کی تھی جب ایک قطری نمائندے نے کہا، ’’ہمارے پاس اس فیلڈ پر بہت سی تحقیق موجود ہے جو یقیناًایران کو فائدہ پہنچائے گی‘‘۔ ان فائدوں کے عوض قطر اس فیلڈ میں ایران سے بڑا حصہ لینا چاہتا ہے۔

لیکن ایک ایسے وقت میں جب سعودی عرب خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پریشان ہے اس وقت قطر کے اس مخالف طاقت کے ساتھ قریبی تعلقات خلیجی ریاستوں کے ساتھ تناؤ کا باعث بنے ہیں۔

پورے خطے میں تبدیلی کی بڑی وجہ ایران کے مقدر میں تبدیلی ہے۔ شام کی خانہ جنگی سے ایران عسکری طور پر مضبوط ہو کر ابھرا ہے اور خطے میں اس کی اتھارٹی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مغرب سے تجارت کی نئی راہیں بھی کھلی ہیں۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے شام میں سعودی عرب اور قطر کے حمایت یافتہ گروہوں جبہۃ النصرہ، جو القاعدہ کی ایک شاخ ہے اور داعش کو کچلنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے بشار الاسد کے اقتدار کو مضبوط کیا ہے۔ شام میں کامیابی سے ایران کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے اور یہ واضح ہے کہ قطر، ایران اور ترکی سے مذاکرات کر رہا ہے کہ اسے شام کی تعمیر نو میں حصہ اور سرمایہ کاری کا موقع دیا جائے۔ ایسا کوئی معاہدہ سعودی کے لیے مالیاتی، سیاسی اور تزویراتی حوالے سے بہت بڑے نقصان کا باعث ہو گا۔

ایران کا ابھار سعودی عرب کے لیے جان لیوا خطرہ ہے۔ نہ صرف خطے میں اس کے سامراجی عزائم کو بلکہ عسکری طور پر بھی۔ داخلی حوالے سے سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں شیعہ تحریک کی ایران کی جانب سے سرپرستی بھی بادشاہت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے سعودی عرب نے یمن میں جنگ کا آغاز کر دیا جو ان کے اپنے معیار سے بھی انتہائی بیوقوفانہ اور غیر ذمہ دارانہ ثابت ہوئی ہے۔ اسی طرح انہوں نے پیسے دے کر مصر سے بحیرہ احمر میں دو جزیرے حاصل کیے، امریکہ سے تاریخ کاسب سے بڑا اسلحے کی خریداری کا سودا کیا اور اب قطر پر پابندیاں لگا دیں اور انہیں الٹی میٹم دے دیا۔

سعودی عرب کو قطرسے پریشانی کا دوسرا موجب اس کے ترکی کے ساتھ تعلقات ہیں۔ کچھ عرصے سے دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ دسمبر 2015ء میں اردگان نے قطر میں ترک فوجی اڈے کے قیام کا اعلان کیا اور دونوں ممالک کی افواج کی مشترکہ مشقوں کا بھی آغاز کیا۔ جہاں سعودی عرب ایک زوال پذیر طاقت ہے وہاں ترکی مشرقِ وسطیٰ کی سب سے مضبوط معاشی و عسکری قوت ہونے کے باعث ابھر رہا ہے۔ اردگان کے اناطولی حمایتیوں کے ہمیشہ سے سلطنت عثمانیہ کے احیا کے سامراجی عزائم تھے اور اور عرب خطے پر تسلط، جو مکہ اور مدینہ کے مقدس علاقوں کی سرزمین ہے، ان کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اردگان انتہائی پر عزم ہے کہ وہ سعودی عرب سے ’’اسلامی دنیا کی قیادت‘‘ چھین لے گا۔ قطر کے ساتھ تعلقات کی استواری اور وہاں فوجی اڈے کے قیام سے ترکی کو عرب سرزمین پر سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد پہلی دفعہ پیر رکھنے کا موقع ملا ہے۔

اوباما کی حکومت سعودی عرب کی کمزوری کو پہچان گئی تھی اس لیے انہوں نے ایران کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ 2015ء میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ساتھ ہونے والا جوہری معاہدہ درحقیقت ایران کی نئی مضبوط پوزیشن کے باعث ہوا تھا جس کے بعد ایران پر پابندیوں کا خاتمہ ہوا تھا، جس کی وجہ سے وہ کئی دہائیوں سے کمزور پوزیشن میں تھے۔ اسی باعث ایران سعودی عرب کے مقابلے میں مضبوط ہوا تھا۔

لیکن ٹرمپ جس کے پیچھے امریکی ریاستی بیوروکریسی اور وزیر فاع جیمز میٹس جیسے لوگوں کے ایران مخالف مذہبی جذبات ہیں، وہ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو پیچھے دھکیلنا چاہتا ہے۔ اپریل اور مئی میں ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے دورے کے یہی محرکات تھے جہاں اس نے سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ 350ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے اور ایران کے خلاف بننے والی ’’عرب نیٹو‘‘کے قیام کی حمایت کی۔ امریکہ کی مکمل حمایت کے ساتھ، ال سعود شاہی خاندان نے خطے میں اپنے کھوئے ہوئے طاقت کے توازن کو دوبارہ حاصل کرنے کا آغاز کیا۔

سب سے پہلے بادشاہ کے بیٹے محمد بن سلمان نے انتہائی ہوشیاری سے صورتحال کو داخلی طور پر اپنے کنٹرول میں لیا۔ زوال پذیر شاہی خاندان میں مخالف دھڑوں کو کچل کر خود ولی عہد نامزد ہو گیا۔ اپنے والد کے بادشاہ بننے سے محمد بن سلمان وزیر دفاع کے طور پر کام کر رہا ہے اور یمن کی جنگ اور امریکہ سے ہونے والے اسلحہ کے معاہدے اس کے منصوبوں کا حصہ ہے۔ محمد بن سلمان دو کھرب ڈالر مالیت کا ایک سرکاری فنڈ بھی قائم کر رہا ہے جس میں تیل کی سب سے بڑی سرکاری کمپنی آرامکو کی نجکاری کے بعد حصص کی فروخت اور دوسرے ذرائع سے سعودی سرمائے کو برآمد کیا جائے گا۔ اب محمد بن سلمان ہی سعودی عرب کا اصل حکمران ہے اور اس نے تمام طاقت اپنے ہاتھوں میں مرتکز کر لی ہے۔ یہ زوال پذیر ریاست جس بحران کی جانب بڑھ رہی ہے اس کا اظہار اس بگڑے ہوئے شہزادے کی شخصیت سے ہوتا ہے۔

بحران کیسے ختم ہو گا؟

ٹرمپ انتظامیہ کی جعلی حمایت کے نشے میں محمد بن سلمان کا خیال تھا کہ وہ ریت میں یہ کہتے ہوئے لکیر کھینچ سکتا ہے، ’’یا تم ہمارے ساتھ ہو یا مخالف‘‘۔ اس کے ساتھ ہی عرب اتحاد اور ’’عرب نیٹو‘‘کا خواب ریزہ ریزہ ہو گیا۔

اس وقت سے ٹرمپ انتظامیہ پاگلوں کی طرح اپنے دونوں اتحادیوں کو ٹکراؤ سے بچانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ جبکہ اس سے پہلے وہ اوباما انتظامیہ کو نئے اسلحے کے سودوں سے نیچا دکھا رہے تھے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن دن رات مذاکرات کر رہا ہے تا کہ دونوں ممالک میں صلح کروائی جا سکے اور نقصان کو کم سے کم کیا جائے۔ امریکی اس بحران سے شدید پریشان ہیں اور ان کے دونوں جانب بڑے مالیاتی اور عسکری مفادات ہیں۔ اس سارے عمل کامقصد ایران کو خطے میں تنہا کرنا تھا لیکن اب ایران کے قطر کے ساتھ تعلقات مضبوط ہو گئے ہیں اور ترکی کو عرب خطے میں پاؤں جمانے کا موقع ملا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اگر قطر ان مطالبات کو تسلیم نہیں کرتا تو پھر موجودہ پابندیوں کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھا جائے گا۔ لیکن ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود قطر ان پابندیوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ ان پابندیوں کے وہ اثرات مرتب نہیں ہوئے جو سعودی عرب کی خواہش تھی۔ جتنا یہ تنازعہ طوالت اختیار کرے گا اتنے ہی ان معاملات میں شدت آئے گی۔

مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب اپنی شرائط کو مسلط کیسے کرے گا۔ یہ سوال مسئلے کی بنیاد سے جڑا ہے۔ سعودی عرب نے قطر میں عسکری جارحیت کا بھی اشارہ دیا ہے۔ لیکن یہ ایک خواب ہے۔ اس میں پہلی رکاوٹ قطر کی العدید ائیر بیس ہے جہاں امریکی فوجیں موجود ہیں۔ سعودی عرب کسی ایسے ملک پر امریکی حمایت کے بغیر جارحیت نہیں کر سکتا جہاں امریکی فوجی اڈہ موجود ہو اور امریکہ مشرقِ وسطیٰ کے کسی ملک میں جارحیت کا خواہشمند نہیں۔ دوسرا سعودی عرب کو وہاں ترک فوج کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس جارحیت کو پسند نہیں کرے گی اور ممکنہ طور پر ایرانی فوج کا بھی۔

اس بحران نے قطر کو ایران کی گود میں دھکیل دیا ہے جس نے ان پابندیوں کی سخت مذمت کی ہے۔ ایران روزانہ گیارہ سو ٹن پھل اور سبزیاں اور ساٹھ ٹن گوشت قطر بھیج رہا ہے تا کہ خوارک کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔ ترکی نے بھی ان پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور بحران کے آغاز کے بعد سے فوج کی مزید دو ڈویژن قطر بھجوا دی ہیں۔ یہ بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب 2010ء سے قطر ی فوج کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، جب پاسداران کے ایک افسر نے کہا تھا، ’’پاسداران اور قطر کی بحریہ کے درمیان انٹیلی جنس، سکیورٹی اور تربیت کے میدانوں میں قریبی تعاون ہو سکتا ہے‘‘۔ اس وقت قطر کے وزیر دفاع نے کہا تھا کہ قطر ایران کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کے لیے تیار ہے۔

سعودی فوج ان طاقتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ درحقیقت سعودی فوج نے کبھی کوئی جنگ نہیں لڑی۔ یمن میں بھی انہیں اپنی فوج کی بجائے امارات کے منظم کردہ کرائے کے قاتلوں اور مقامی رجعتی قبائل پر اکتفا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ سعودی عرب کی بطور ریاست تاریخی کمزوری ہے۔ یہ ریاست بادشاہت کے دشمن وہابی انتہا پسندوں، مظلوم شیعوں، جمہوریت پسند نوجوانوں، نیم غلام تارکین وطن مزدوروں اور قبائلی آبادی پر حکمرانی کر رہی ہے جو اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر ریاست کے مخالف ہیں۔ ان بنیادی کمزوریوں کے باعث سرمایہ داری کا بحران آل سعود کے لیے جان لیوا خطرہ بن چکا ہے۔ قطر کیخلاف سعودی جنگ کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ اس ساری صورتحال سے یہ مزید واضح ہو جائے گا اور سعودی بحران میں اضافے کا باعث بنے گا۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ قطر لچک نہیں دکھائے گا۔ قطر کی تمام معیشت خلیجی ممالک سے معاہدوں پر انحصار کرتی ہے، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے۔ سب سے زیاہ امکان یہ ہے کہ ایک معاہدہ ہو جائے گا اور وقت کے ساتھ ساتھ تعلقات میں بہتری آجا ئے گی۔ شاید قطر کچھ چھوٹے موٹے احکامات کو مان لے لیکن اصل شکست سعودی عرب کو ہو گی جس کی کمزور عیاں ہو جائے گی۔ لیکن ایسا کوئی معاہدہ صرف اس تناؤ کو سطح پر لانے میں کچھ تاخیر کا باعث ہی بن سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب سعودی عرب اور ایران شدید تناؤ کی کیفیت میں ہیں۔

قطر کے ایران اور ترکی سے تعلقات حقیقی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں جہاں سعودی عرب زوال پذیر ہے اور ایران اور ترکی خطے میں بڑی قوت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ طاقتوں کا یہ توازن خطے میں حقیقی معاشی اور عسکری طاقت کی بنیاد پر ہے۔ ایران اور ترکی (مصر کے ساتھ) مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی قومی ریاستیں ہیں جبکہ سعودی عرب ایک مصنوعی ریاست ہے جو مخصوص حالات کے باعث زندہ رہی۔ جس میں اہم وجہ یہ تھی کہ یہ امریکہ کو تیل فراہم کرتی تھی۔ لیکن آج یہ ریاست اندر سے تعفن زدہ ہو چکی ہے جو اس کے حکمران کی تنگ نظری سے واضح ہے۔ جبکہ عالمی سطح پر اس کی کمزور ی کی اہم وجہ امریکہ کی تیل پر خود انحصاری ہے۔

اس دوران ایران اور ترکی اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہے ہیں اور عالمی طاقتوں کے لیے ان سے تعلقات بنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے آنے والا خیال کے ایرانی اثرو رسوخ کو پیچھے دھکیلا جائے یہاں اس اثر و رسوخ کو بڑھانے کا باعث بنا ہے۔

معاشی بحران، عرب انقلاب اور امریکی سامراج کے بحران، جو سرمایہ داری کے بحران کا نتیجہ ہے، کے باعث آل سعود اپنی بقا کی پر تشدد جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایک زخمی درندے کی طرح یہ ہر جانب حملے کر رہا ہے۔ قطر کے بحران سے یہ لڑائی صرف اس ریاست کے دل کے قریب پہنچ گئی ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh