تحریر: ولید خان|

سال 2017ء کا آغاز یورپ کی تاریخ کے سب سے سرد موسم سرما سے ہوا جس کے نتیجے میں 61 اموات واقع ہوئیں۔ ابھی سردی کی اس لہر کی وجوہات کو جاننے کی کوششیں ہی کی جا رہی تھیں کہ فروری میں افغانستان، پاکستان سرحد پر برفانی تودوں کے گرنے سے 100 سے زیادہ اموات ہو گئیں۔ اٹلی کی تاریخ کے سب سے بڑے تودے کے گرنے کی وجہ سے بے شمار لوگ ہلاک ہو گئے۔ اور اب ایسے لگتا ہے جیسے فطرت کے انتقام کی نہ ختم ہونے والی کہانی شروع ہو چکی ہے۔ افریقہ کے بڑے حصے پچھلے کئی سالوں سے نہ ختم ہونے والی خشک سالی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں اموات ہو چکی ہیں اور لاکھوں لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ فروری میں ہی آسٹریلیا کے جنگلات میں شدید خشکی اور گرمی کی وجہ سے آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ جل کر خاکستر ہو گئے جبکہ ہزاروں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ مارچ میں امریکہ، جنوبی امریکہ، افریقہ، چین اور کیریبین جزائر پر طوفانوں اور سیلابوں کی بوچھاڑ ہو گئی جس کے نتیجے میں متعدد اموات واقع ہوئیں۔ تھائی لینڈ میں تیس سالہ تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب آئے۔ سری لنکا اور کینیڈا (کیوبیک) کو سیلابوں نے ڈبو دیا۔ کیلیفورنیا کی تاریخ کی سب سے خوفناک خشک سالی کا اختتام دیو ہیکل سیلابوں سے ہوا۔ اس سال صرف اگست کے مہینے میں پاکستان اور ہندوستان میں دیو ہیکل سیلابوں نے کھربوں روپے کا نقصان کر ڈالا جبکہ سمندری طوفان ہاروی نے ٹیکساس(امریکہ) میں تباہی مچا دی۔ ٹیکساس میں محتاط اندازوں کے مطابق تباہ کاری کا تخمینہ 200 ارب ڈالر لگایا جا رہا ہے۔ چند دنوں بعد ہی، اس وقت تاریخ کا سب سے بڑا سمندری طوفان اِرما کیریبین میں متعدد جزائر کو تہہ و بالا کرتے ہوئے فلوریڈا ریاست کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا حجم فلوریڈا سے بڑا اور رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہے! اور ابھی دو نئے سمندری طوفان ہوزے اور کاتیا جنم لے کر پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ اٹلانٹک سمندر میں دو سمندری طوفان موجود ہیں جن کی ہواؤں کی رفتار240 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہے۔ غرضیکہ دنیا کا کوئی بھی خطہ دیکھا جائے، ہر طرف تاریخ کا سب سے تباہ کن طوفان، تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب، تاریخ کی سب سے زیادہ بارش، تاریخ کی سب سے زیادہ برفباری وغیرہ جیسے الفاظ سننے کو مل رہے ہیں( صرف امریکہ میں 1980ء کی دہائی میں بارشوں، سیلابوں، طوفانوں اور خشک سالی پر مبنی سالانہ 50 کے قریب قدرتی آفات ریکارڈ کی ہوتی تھیں جو 2010ء میں بڑھ کر 250 سے تجاوز کر گئیں ہیں)۔ لیکن ان آفات میں اکیسویں صدی کے آغاز سے بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ کہیں شدید ترین گرمی ہے اور کہیں شدید ترین سردی۔ ماہرین موسمیات کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا اور قدرتی آفات کے ریکارڈ ہیں کہ روزانہ ٹوٹتے چلے جا رہے ہیں۔ ہر رنگ، نسل کا ماہر اور تجزیہ نگار ان مختلف قدرتی مظاہر کی وجوہات پر اپنی ماہرانہ رائے دینے پر تلا ہوا ہے لیکن کوئی بھی سب سے بڑی وجہ کا نام لینے کو تیار نہیں۔ اور وہ ہے سرمایہ داری۔

نسل انسانی کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ اس نے اپنی ترقی کے سفر میں فطری وسائل کو اپنے تصرف میں لاتے ہوئے اپنے لئے آسانیاں پیدا کیں اور اس کے نتیجے میں وہ فطرت پر بھی اثر انداز ہوا۔ لیکن غلام داری اور جاگیرداری کے عہدوں میں انسان تکنیکی اعتبار سے پسماندہ تھا اورمنڈی کیلئے پیداوار کی بجائے ضروریات زندگی کیلئے قدرتی وسائل کو اپنے تصرف میں لاتا تھا۔ منڈی اپنی ابتدائی شکل میں موجود تھی لیکن اس کا طرزِ پیداوار میں کوئی کلیدی مقام ہرگز نہ تھا۔ اس صورتحال میں معیاری جست صنعتی انقلابات(سرمایہ دارانہ انقلابات) نے فراہم کی۔ صنعتی انقلابات کے بعد وہ ذرائع میسر آئے جن کی بنیاد پر پیداواری قوتوں کو بے پناہ مہمیز ملی اور سرمایہ دارانہ انقلابات کے بعد منڈی کی معیشت وجود میں آئی جس میں تمام پیداوار کو منڈی کی کھپت کے لئے ہی کیا جاتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان ، جو پہلے فطرت کے وسائل کو اتنا ہی استعمال کرپاتا تھا کہ اسے اپنے زخم مندمل کرنے کیلئے وافر وقت مل جاتا تھا، صنعتی انقلاب کے بعد بورژوا طبقے نے فطرت کو بے دریغ زخم لگانے شروع کر دئیے جس کے بعد سے اب تک، دو سو سالوں میں فطرت کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دار شرح منافع کے حصول کی اندھی دوڑ میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔ اٹھارہویں صدی کے آغاز میں صنعت اور سرمایہ داری نومولود تھی، تکنیک ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی، سائنس ترقی کے زینے پر اپنے پہلے قدم جما رہی تھی اور سرمایہ دار طبقہ ابھی وہ تکنیکی ذرائع نہیں رکھتا تھا کہ فطرت کو اپنے منافعوں کی ہوس میں ایک خونخوار بھیڑیے کی طرح بھنبھوڑ سکے۔ لیکن آج سائنس اورتکنیک اتنی ترقی کر چکی ہے اور سرمایہ دار طبقہ ایک ایسا خون آشام راکھشس بن چکا ہے کہ وہ نقصان جو فطرت کو صدیوں میں پہنچایا جاتا تھا آج اس کا دورانیہ گھٹ کر دنوں اور گھنٹوں تک رہ گیا ہے۔ اپنی تاریخ کے سب سے خوفناک اور گہرے بحران میں سرمایہ داری دم توڑ رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ نسل انسانی اور اس کے گھر کرۂ ارض کیلئے موت کا پیغام بن چکی ہے۔ 

سماج کی شریانوں میں دوڑتا فوسل فیول

کرۂ ارض کے درجہ حرارت کی بڑھوتری اور ریگولیشن میں گرین ہاؤس گیسوں کا کلیدی کردار ہے۔ فضا میں قدرتی طور پر نائٹروجن 78فیصد، آکسیجن 21فیصد، کاربن ڈائی آکسائڈ 0.038فیصد اور دیگر گیسیں انتہائی کم مقدار میں موجود ہوتی ہیں۔ فطرت میں ان تمام گیسوں کا ایک مخصوص توازن برقرار ہوتا ہے اور اسی لئے کرۂ ارض پر حیات قائم ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں میں صنعتی عمل کے نتیجے میں فضا میں بکھرنے والی سب سے زیادہ گیسیں میتھین اور کاربن ڈائی آکسائڈ ہیں جو فطری نظام میں خلل ڈالتے ہوئے سورج کی گرمی کو کرۂ ہوائی میں قید کر کے درجہ حرارت بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔

صنعتی انقلاب کے آغاز میں بھاپ سے چلنے والے انجن ہوا کرتے تھے جس کے ساتھ کوئی بھی مشین لگا کر اس سے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کام لیا جا سکتا تھا۔ دیو ہیکل انجن کاٹن جننگ فیکٹریوں سے لے کر بحری جہازوں میں استعمال ہوتے تھے۔ لیکن بڑے حجم اور تکنیکی پسماندگی کی وجہ سے ان کا استعمال کارخانوں اور دیگر بڑی مشینوں تک ہی محدود تھا۔ یہ سب کچھ اس وقت تبدیل ہوا جب 1859ء میں انٹرنل کمبسچن انجن کی ایجاد ہوا جس میں تیل بطور ایندھن استعمال ہوتا تھا۔ وہ تیل جسے عرف عام میں ’’کالا سونا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس مائع نے سائنس، تکنیک، سیاست، معیشت اور سماج پر دور رس اثرات ڈالتے ہوئے انسانی تاریخ کا دھارا تبدیل کر دیا۔ ان گنت صنعتیں اس پر انحصار کرتی ہیں اور اس نے ان گنت صنعتوں کو جنم بھی دیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پوری پلاسٹک انڈسٹری، لبریکنٹ انڈسٹری اور ٹرانسپورٹ انڈسٹری تیل کی مرہون منت ہے۔ دنیا کی توانائی کی ضروریات کا 38فیصد تیل پورا کرتا ہے۔ اس کی سالانہ کھپت 30ارب بیرل ہے۔ پوری دنیا میں اس صنعت کو سالانہ 800ارب ڈالر کی سبسڈی دی جاتی ہے۔ آج انسانی سماج کی رگوں میں دوڑتا خون تیل ہے۔ اسی طرح کوئلہ بھی ہزاروں سالوں سے استعمال ہو رہا ہے اور صنعتی انقلاب کے بعد سے اب تک کلیدی کردار کا حامل ہے۔ تیل کی بطور ایندھن بڑے پیمانے پر استعمال کی شروعات کے بعد اس کی حیثیت ثانوی ہو گئی ہے گو کہ دنیا کے متعدد بجلی گھروں اور فیکٹریوں میں اب بھی سب سے زیادہ کوئلہ ہی استعمال ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پوری دنیا میں اس کی سالانہ کھپت 4.32 ارب ٹن ہے۔ قدرتی گیس کا صنعتی سطح پر استعمال پچھلی چند دہائیوں میں شروع ہوا ہے۔ جہاں پر اسے ماحولیات کیلئے تیل اور کوئلے سے بہتر تصور کیا جاتا ہے۔ قدرتی گیس کی سالانہ کھپت63 ارب کیوبک میٹر ہے۔ تیل، کوئلہ اور قدرتی گیس مل کرفوسل فیول کی تثلیث بناتے ہیں۔ لیکن پچھلے تقریباً ڈیڑھ سو سالوں میں فوسل فیول کے بے دریغ استعمال نے ماحولیات پر تباہ کن اثرات ڈالے ہیں۔ 2016-1880ء کے درمیان دنیا کا سطحی درجہ حرارت (زمینی اور سمندری) 0.6-1.02 فیصد بڑھ گیا ہے۔پچھلے بیس سالوں میں سے سولہ سال انسانی تاریخ کے گرم ترین سال گردانے گئے ہیں اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2100ء تک درجہ حرارت مزید 6-2 ڈگری بڑھ جائے گا جس کے بعد دنیا کے بیشتر علاقے، بشمول جنوبی ایشیا، انسانی زندگی کیلئے موزوں نہیں رہیں گے۔ ایک لٹر پیٹرول اور ڈیزل کے جلانے سے تقریباً 2.5 کلو کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا ہوتی ہے۔ 1ٹن کوئلہ جلانے سے 2.86ٹن کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا ہوتی ہے۔ یعنی پوری دنیا میں اگر ہم تمام گاڑیوں، صنعتوں اور بجلی گھروں کی سالانہ اوسطاً کاربن ڈائی آکسائڈ کی پیداوار کا اندازہ لگائیں تو یہ سال 2014ء کے تخمینے کے مطابق 35.9گیگا ٹن (1گیگا ٹن: 10لاکھ کلوگرام)بنتا ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ چین، امریکہ، یورپی یونین، ہندوستان اور روس کا بنتا ہے۔ اگر ان تمام اعدادوشمار کو سمیٹا جائے تو سادہ الفاظ میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی اتنی دیوہیکل پیداوار کو ماحول برداشت نہیں کر سکتا اور فضا میں اس کا حجم بڑھتا جا رہا ہے۔ صنعتی انقلاب سے پہلے یہ فضا میں 280ppm کی مقدار میں تھی جو بڑھ کر 1960ء تک 310ppm ہو گئی اور اس سال اس کی مقدار 407ppm ہو چکی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مقدار 500ppm سے تجاوز کر گئی تو دنیا زندگی کی نشونما کیلئے غیر موزوں ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت کی بڑھوتری کو بھی مد نظر رکھیں تو یہ بات واضح ہے کہ جس مقدار سے فوسل فیول کا استعمال بڑھا ہے، اسی مقدار سے گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھی ہے اور اسی تناسب سے دنیا کا درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے جس کے دنیا کی ہر جاندار شے پر تباہ کن اثرات پڑ رہے ہیں۔

زہر آلود سانسیں

صاف ستھری فضا تمام جانداروں کی نشونما اور انسانی سرگرمیوں کیلئے ضروری ہے۔ لیکن سرمایہ داری کی دیو ہیکل صنعتی سرگرمیوں، بے پناہ ضیاع اور ماحول دشمن منافع کی اندھی ہوس نے آج دنیا کے تقریباً ہر ملک کی فضا برباد کر کے رکھ دی ہے۔ سرمایہ داروں کی بے لگام سرگرمیوں نے فضا کو وہ زہر قاتل بنا دیا ہے جو ہر جاندار اپنے پھیپڑوں میں کھینچنے پر مجبور ہے۔ اس کی وجہ سے پچھلی کئی دہائیوں سے دنیا کے تمام خطوں میں بیماریوں کی شرح مستقل بڑھتی جا رہی ہے جس میں سرطان اور دمہ سر فہرست ہیں۔ اکتوبر 2013ء میں پہلی مرتبہ فضا میں موجود آلودگی (دھاتیں، دھواں، مٹی، کیمیکل وغیرہ) کی بجائے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) نے فضائی آلودگی کومجموعی طور پر ایک کارسینوجن، یعنی کینسر کی وجہ قرار دے دیا ہے۔ اسی طرح ایک ریسرچ کے مطابق سکول جاتے بچوں میں دمے کی شرح پچھلی نسل کے مقابلے میں 30فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ پچھلے سال دی گارڈین اخبار میں چھپی ایک رپورٹ کے مطابق نفسیاتی امراض اور ماحولیاتی آلودگی کا براہ راست تعلق ہے۔ کسی بھی جگہ پر تھوڑی سی مقدار میں آلودگی کے بڑھنے سے نفسیاتی بیماریوں میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی فہرست میں دل کی بیماریاں بھی شامل ہیں۔ 

آج کل انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے صوتی آلودگی روزمرہ کا معمول بن چکی ہے لیکن کبھی اس کے تباہ کن اثرات پر غور نہیں کیا جاتا۔ صوتی آلودگی کو باقاعدہ طور پر ماحولیاتی آلودگی کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ HYENA پراجیکٹ (ائرپورٹوں کے قریب رہنے کی وجہ سے بلڈ پریشر کے مطالعے کا پراجیکٹ) کے نتائج کے مطابق جہازوں کے مستقل بے پناہ شور کی وجہ سے قریب کے مکینوں میں دل کی بیماریوں، فالج سے اموات اور دل کے دوروں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایک اور ریسرچ کے مطابق شور میں 10dB(آواز کا ایک پیمانہ) اضافے کی وجہ سے ان تمام بیماریوں میں 17-7 فیصد تک اضافہ ہوتا ہے۔ پھر صوتی آلودگی کی وجہ سے اعصابی و ذہنی تناؤ، تھکن، سر درد اور دماغی بیماریوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے روز مرہ زندگی پر تباہ کن اثرات پڑتے ہیں۔

ان سب مسائل کی وجہ سرمایہ داری کی منافعوں کی ہوس پر مبنی غیر منصوبہ بند پر انتشار معیشت ہے جس میں نہ تو ماحول کی تباہی اور اس کے انسانوں اور دیگر حیات پر اثرات کو مد نظر رکھا جاتا ہے اور نہ ہی وسائل کی تباہ کاری کا کوئی خیال کیا جاتا ہے۔ آٹو انڈسٹری کے سرمایہ دار کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ گاڑیاں سڑکوں پر آئیں، اس سے قطع نظر کہ سڑکوں کی کیا استطاعت ہے۔ کنسٹرکشن کے سرمایہ دار کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ جنگلوں اور کھیتوں کو صاف کر کے تعمیرات کی جائیں، اس سے قطع نظر کہ دھول اور ایندھن کی وجہ سے عوام کے پھیپڑے برباد ہو رہے ہیں۔ فیکٹریوں کی چمنیاں بغیر صفائی کئے دن رات فضا میں زہریلی گیسیں چھوڑے جا رہی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے بلبوتے پر کرۂ ارض کے قدرتی ماحول کا تحفظ کیا جاسکتا ہے لیکن اس کیلئے جس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے وہ سرمایہ داری میں ممکن نہیں۔ 

جنگلات کا قتل عام

جنگلات کو دنیا کے پھیپھڑے کہا جاتا ہے اور یہ بجا طور درست ہے۔ لیکن اگر ساتھ ہی یہ بھی کہا جائے کہ جنگل نہ صرف دنیا کے پھیپھڑے ہیں بلکہ مٹی کی زرخیزی، پانی کے ذخائر، انواع اقسام کے جانوروں کی نشوونما، سیلابوں کی روک تھام، پھلوں اور پھولوں کا لا متناہی ذخیرہ بھی ہیں تو یہ مبالغہ آرائی نہ ہو گی۔ لیکن پر انتشار منافع کی دوڑ دنیا کے ان پھیپھڑوں کو سرطان کی طرح چمٹ گئی ہے۔ دنیا کے 70 ممالک میں جنگل ختم ہو چکے ہیں۔ صرف امریکہ میں 95فیصد پرانے جنگلات ختم ہو چکے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے برساتی جنگلات ایمازون ہیں جو لاطینی امریکہ میں موجود ہیں، یہ اپنے اصلی حجم سے کم ہو کر 20فیصد رہ گئے ہیں یعنی ہر ایک منٹ میں ایمازون کے 150 ایکڑ جنگل کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ دنیا میں تمام جنگلات کی کٹائی کی شرح اوسطاً ایک ایکڑ فی سیکنڈ ہے۔ ہر روز 150 پودوں، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کی انواع کا صفایا ہورہا ہے۔ دنیا کی 30فیصد زرخیز مٹی تقریباً تباہ ہو چکی ہے۔ لیکن اس خوفناک کٹائی کی وجوہات کیا ہیں؟

اس کی وجہ ٹمبر مافیا، بڑے کاشتکار، بڑے پیمانے کا لائیو سٹاک، پیپر ملوں کے مالکان اور پراپرٹی مافیا کی ہوس وغیرہ ہیں۔ 17 درخت کاٹ کر ایک ٹن پیپر بنتا ہے جبکہ ایک درخت کو اوسطاً 15-10 سال بڑے ہونے میں لگتے ہیں۔ منڈی کیلئے مکئی، سویا بین اور پام آئل کی پیداوار کیلئے کروڑوں ایکڑ صاف کئے جا چکے ہیں۔ صرف پام آئل پیدا کرنے کیلئے 2.6 کروڑ ایکڑ زمین صاف کی جا چکی ہے۔ ایک درخت مٹی کی زرخیزی کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ 57ہزار گیلن سیلابی پانی کو روک سکتا ہے۔ جن زمینی علاقوں اور پہاڑوں میں جنگل صاف کئے گئے ہیں وہاں سیلابوں اور تودوں کے گرنے کی شرح کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ لاکھوں ایکڑ جنگل زرعی زمینوں کیلئے صاف کئے جاتے ہیں کیونکہ پہلے سے موجود زرعی زمین کے اندھا دھند استعمال کی وجہ سے اس کے اوپر کی زرخیز سطح تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ گائے بھینسوں اور بیلوں کے پالنے کیلئے ، جن کا دودھ اور گوشت بکثرت منڈی میں بکثرت بکتا ہے، بے دریغ بڑے بڑے فارم بنائے جا رہے ہیں۔ مٹھی بھر امرا کی عیاشیوں اور متوسط طبقے کی ہوس کیلئے ٹمبر اور پراپرٹی مافیا ہر سال ہزاروں ایکڑ ہڑپ کر جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا کے جنگلات ہر سال 38ٹریلین ڈالر کی مالیت کی گرین ہاؤس گیسوں کو صاف کرتے ہیں۔ لیکن اگر جنگلوں کے قتل عام کا اندازہ کیا جائے تو برساتی جنگلات کے 80ہزار ایکڑ روزانہ ان تمام سرگرمیوں کیلئے صاف کئے جا رہے ہیں جبکہ ہر روز دیگر جنگلات کا 80ہزار ایکڑ رقبہ بھی کسی نہ کسی شکل میں متاثر ہوتا ہے۔ صرف گلہ بانی کیلئے اب تک پوری دنیا میں 136 ملین ایکڑ جنگلات صاف کئے جا چکے ہیں۔91فیصد ایمازون جنگل صرف گلہ بانی اور زراعت کیلئے صاف کیا گیا ہے۔ ان تمام سرگرمیوں کی وجہ سے سالانہ 50ہزار اقسام کے پودے، کیڑے مکوڑے اور جانوروں کی انواع کا صفایا ہورہا ہے۔

یہ سب کچھ آج روکا جا سکتا ہے، زمین کا بلادکار بند کیا جا سکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ جدید سائنس اور تکنیک کی مدد سے نہ صرف موجودہ زرعی زمین کو زرخیز کیا جائے، منڈی کی کھپت کے لئے جانوروں کی اندھا دھند افزائش نسل کو بند کیا جائے بلکہ ساتھ ساتھ منصوبہ بندی کے تحت نئے درخت لگاتے ہوئے جنگلات کو دوبارہ سے آباد کیا جائے۔

قاتل پانی

دنیا کی 75فیصد سطح سمندری پانی ہے جو پینے کے لئے ناقابل استعمال ہے۔ تازہ قابل استعمال پانی کے دنیا میں حجم کے حوالے سے صرف 2.5فیصدذخائر موجود ہیں۔ ہر انسانی سرگرمی کیلئے پانی کا بنیادی اور کلیدی کردار ہے۔ جسم اور صحت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ زراعت، صنعت، صفائی ستھرائی غرضیکہ زندگی کے ہر عمل میں پانی کا دخل ہے۔ ایک سال میں 10ارب ٹن سے زیادہ تازہ پانی استعمال کیا جاتا ہے لیکن پھر بھی 1.4ارب انسانوں کو تازہ صاف پانی میسر نہیں۔ ابتدا میں انسان جب آباد ہونا شروع ہوا تو اس نے دریااور جھیلوں وغیرہ کے قریب مستقل سکونت کا انتخاب کیا تاکہ زراعت، ماہی گیری، مویشیوں کی دیکھ بھال اور ضروریات کے تحت پانی کا استعمال کر کے زندگی کو سہل بنایا جائے۔ ساتھ ہی کوڑا کرکٹ اور فضلہ اس پانی میں بہا دیا جاتا تھا۔ صنعتی انقلاب کے بعد پچھلے ڈیڑھ سو سالوں سے زراعت، گلہ بانی اور اشیا کی پیداوار، سب صنعتی پیمانے پر ہو رہا ہے اور اس کا حجم آئے دن بڑھے جا رہا ہے۔ ٹوینٹے یونیورسٹی (ہالینڈ) کی 2005-1996ء تک کی ریسرچ، جو اب تک کی سب سے مفصل ریسرچ مانی جاتی ہے، کے مطابق 92 فیصد تازہ پانی زراعت میں استعمال ہو رہا ہے جس میں فصلیں، گلہ بانی اور ڈیری تینوں شامل ہیں۔ 27فیصد پانی فصلوں کیلئے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر سب سے زیادہ پانی گندم، چاول اور مکئی کی کاشت میں استعمال ہوتا ہے۔ صنعتی پیمانے پر گلہ بانی میں 22 فیصد پانی استعمال ہو رہا ہے۔ 76-34ٹریلین گیلن پانی سالانہ مویشی استعمال کر رہے ہیں جس میں ایک گائے یا بھینس اوسطاً 40-30گیلن پانی روزانہ استعمال کرتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2500گیلن پانی استعمال کر کے آدھا کلو گوشت حاصل کیا جاتا ہے اور ایک گیلن دودھ حاصل کرنے کیلئے 1000 گیلن سے زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ آدھا کلو انڈوں کیلئے 477گیلن اور آدھا کلو پنیر کیلئے 900 گیلن پانی درکار ہوتا ہے۔صرف5فیصد تازہ پانی لوگ گھروں میں یا اپنے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایک منصوبہ بند معیشت کے تحت یہی ساری پیداوار جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے تازہ پانی کا کہیں کم استعمال کرتے ہوئے حاصل کی جاسکتی ہے لیکن جب تک سرمایہ داری رہے گی تازہ پانی کے وسائل کا ضیاع یونہی جاری رہے گا۔ 

صنعتوں میں بھی تازہ پانی کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ پانی یا تو دریاؤں سے حاصل کیا جاتا ہے یا پھر بڑی بڑی پائپ لائنوں کا جال بچھا کر بڑی مقدار میں زیر زمین پانی ہڑپ کر لیا جاتا ہے، جیسے کہ کان کنی کی صنعت۔ ان فیکٹریوں کا تمام تر کیمیکل زدہ آلودہ پانی بغیر صاف کئے دوبارہ دریاؤں، سمندروں اورجھیلوں میں انڈیل دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے آبی آلودگی میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ پانی کے ذخائر برباد ہو رہے ہیں، زیر زمین پانی کی سطح گرچکی ہے اور آلودہ ہونے کے سبب طرح طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ فریکنگ انڈسٹری پچھلے چند سالوں میں متعارف ہو کر آئل انڈسٹری کے لئے منافع کے حصول کا نیا محبوب ترین ذریعہ بن گئی ہے۔ فریکنگ میں ایک لمحے میں لاکھوں گیلن پانی ہزاروں فٹ پانی زیر زمین بھیجا جاتا ہے جس میں کیمیکل بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ زیر زمین تہہ میں انتہائی باریک لاکھوں، کروڑوں دراڑیں بنا کر تیل اور گیس کے خارج ہونے کا موجب بنتا ہے جنہیں پائپ سے اکٹھا کر کے سطح پر لایا جاتا ہے۔ یہ صنعت 150ارب گیلن پانی سالانہ استعمال کرتی ہے اور یہ سارا پانی واپس بغیر صفائی کے انڈیلنے کی وجہ سے جہاں بھی یہ صنعت لگی ہوئی ہے، صاف پانی کے ذرائع کو برباد کر چکی ہے۔ ساتھ ہی اس عمل کے دوران بننے والی باریک دراڑیں کہیں نہ کہیں کسی زیر زمین پانی کے ذخیرے یا ندی تک پہنچ کر سارے علاقے کے پانی کو زہر آلود کرنے کا موجب بنتی ہیں۔ زہریلے کیمیکلز کی وجہ سے ان کو پینے والوں کی جینیاتی ہئیت تبدیل ہو رہی ہے جس کی وجہ سے بچوں میں جینیاتی بیماریوں اور اموات کی شرح پہلے کبھی نہ دیکھی گئی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ گندے پانی کی وجہ سے مختلف بیماریاں مثلاً حیضہ،یرقان، ہیپاٹائٹس وغیرہ کی شرح بے لگام ہو چکی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا کی تمام صنعتیں 310کلو گرام فی سیکنڈ کے حساب سے کیمیکل اور گندا پانی دریاؤں، سمندروں اور فضا میں انڈیلتے ہیں جس میں سے 65کلو، سرطان کے موجب کیمیکل ہیں۔ صرف کان کنی کی انڈسٹری 180ملین ٹن کیمیکل سالانہ پانیوں میں چھوڑ دیتی ہے۔ پھر پاکستان جیسے غریب نام نہاد تیسری دنیا کے ممالک معاشی طور پر اتنے کمزور ہیں کہ ان کا پرانا انفراسٹرکچر گل سڑ کر تباہ و برباد ہو چکا ہے جس کی وجہ سے زیر زمین صاف پانی اور گٹر کا پانی آپس میں مل چکے ہیں اور کسی بھی جاندار کیلئے زہر قاتل بن چکے ہیں۔ WHO کی ایک رپورٹ کے مطابق، ترقی پذیر ممالک میں 80فیصدبیماریاں گندے پانی کی وجہ سے ہیں۔ UNO کے مطابق سال 2025ء تک دنیا کی 30فیصد آبادی، جو 50ممالک میں رہتی ہے، پانی کی قلت کا شکار ہو جائے گی۔ پانی میں تمام بھاری دھاتیں مثلاً آرسینک، تانبا، سیسہ، پارہ، مصنوعی رنگ و روغن اور ایسے کیمیکل جن کا قدرت میں وجود نہیں، زراعت میں استعمال ہونے والی کیڑے مار اور گھاس پھوس مار زہریلی دوائیاں، سب کچھ بہہ کر سمندر میں جا گرتے ہیں جہاں وہ سمندر کو آلودہ، کورل ریف کو برباد اور سمندری جانوروں کا صفایا کر رہے ہیں۔

اگر کیمیکل اور پانی صاف کر دئیے جائیں اور ماحول کا خیال رکھا جائے تو پھر اس کی سرمایہ دار کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی جس سے اس کی شرح منافع کم ہوجائے گی اور اس کیلئے وہ کسی طور بھی تیار نہیں۔ پہلے بھی سرمایہ دار اپنے صاف ستھرے پر تعیش گھر میں بیٹھا اپنامنافع گنتا تھا اور اب اس بحرانی عہد میں وہ نہ صرف منافع گن رہا ہے بلکہ ہر اصول، قانون اور ضابطۂ اخلاق کو توڑتے ہوئے انسان ہوں یا حیوان، سب کا قاتل بن چکاہے۔ 

سمندر

انسانی نظروں سے جو چیز دور ہو، عام طور پر اس کا خیال شاذونادر ہی آتا ہے اور بدقسمتی سے زیادہ تر شہری آبادیوں کیلئے (ساحل سمندر کے علاوہ) سمندر ایک دور افتادہ انجانی چیز ہے جو صرف تیل نکالنے، تجارتی سامان کی ترسیل اور ماہی گیری کیلئے مخصوص ہے۔ لیکن سمندروں کا کرۂ ارض کے ماحول کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے، موسموں کی تبدیلی اور پانی کے سائیکل کو ریگولیٹ کرنے میں جتنا کلیدی کردار ہے، شاید ہی کسی اور قدرتی عنصر کا ہو۔ صرف یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 11-2002ء تک پوری دنیا میں پیدا کیا جانے والا 28فیصد کاربن، سمندروں نے اپنے اندر جذب کر کے فضا سے ختم کیا۔ یہ سالانہ تقریباً 30ملین ٹن بنتا ہے۔ لیکن سرمایہ داری کی اندھی ہوس نے سمندروں کو گندے جوہڑ میں تبدیل کر دیا ہے۔

اس وقت پوری دنیا کے سمندروں میں 1 کروڑ 18لاکھ تیل کے کنوے ہیں جن میں سے 35 فیصد میں سے تیل رس کر سمندری پانی کو آلودہ کررہا ہے۔ لاکھوں تیل کے کنویں ترک کر دئیے گئے ہیں جن کا دہائیوں سے اندازہ نہیں کہ وہ کس حالت میں ہیں۔ صرف خلیج میکسیکو میں 50ہزارکنویں ترک کئے جا چکے ہیں جن میں سے سب سے پرانے 1940ء کی دہائی میں سیل کر دئیے گئے تھے۔ کسی حکومت اور کسی ایجنسی کو کچھ پتہ نہیں کہ ان کی کیا حالت ہے۔ کیلیفورنیا کے سمندری شیلف میں 21ہزار کنویں ترک پڑے ہیں۔ ترک کئے گئے کنوں کی کوئی مانیٹرنگ یا مرمت نہیں کی جاتی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئے دن پوری دنیا میں آئل رِگز میں حادثات ہوتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں بیرل تیل چند گھنٹوں میں سمندر میں پھیل جاتا ہے۔ اس حوالے سے صرف ایک واقعہ معاملے کی سنجیدگی کے ادراک کیلئے کافی ہے۔ 2010ء میں برٹش پٹرولیم(BP) کمپنی کی لیز کردہ خلیج میکسیکو میں موجود سب سے بڑی رگ Deep Horizon تھی۔ اسے تاریخ کا سب سے گہرا تیل کا کنواں( 35ہزارفٹ) کھودنے کا اعزاز حاصل تھا۔ چند ماہ بعد ایک اور کنویں کی کھدائی کے بعد کنویں کو سیل کرنے کا آپریشن ناکام ہو ا جس کے بعد تیل ہزاروں گیلن فی سیکنڈ کی رفتار سے رسنا ہونا شروع ہو گیا، رگ میں آگ لگ گئی اور 11 لوگ موقع پر ہلاک ہو گئے۔ آگ 40 میل دور سے دیکھی جا سکتی تھی۔ 87 دنوں میں 210 ملین بیرل تیل سمندر میں بہہ گیا اور امریکہ کا تقریباً26ہزارکلومیٹر ساحل سمندر تباہ و برباد ہو گیا ۔ BP کمپنی نے تیل کی صفائی کیلئے جو کیمیکل استعمال کیا اس سے تیل صرف سطح سمندر سے نیچے گیا ہے لیکن گہرائی میں ابھی بھی وہ ایک دیو کی طرح موجود ہے۔ کنویں کو بند کرنے کی متعدد کوششیں ناکام ہوئیں لیکن 2012ء میں سیل کرنے کے کام کو کامیاب قرار دے کر معاملہ ٹھپ کر دیا گیا حالانکہ آج بھی باقاعدگی کے ساتھ تیل ساحل سمندر پہنچ کر بربادی پھیلا رہا ہے۔ یہ آج کے جدید دور کی صرف ایک مثال ہے۔ قاری کو اس صنعت کے پچھلے ڈیڑھ سو سالوں کو ذہن میں رکھ کر یہ سوال سوچنا ہے کہ اس تمام عرصے میں زمینوں اور سمندروں میں کیا، کیا نہیں ہوا ہو گا۔ 

دوسری عالمی جنگ کے بعد تیل کی صنعت میں سے ایک نئی صنعت ابھر کر سامنے آئی؛ پلاسٹکس کی صنعت۔ راتوں رات ہر شے کے اندر پلاسٹک استعمال ہونے لگ گیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اس کا سستا ہونا اور ڈسپوز ایبل ہونا تھا۔ جہاں دنیا پہلے کفایت شعاری کو اپنی اخلاقیات سمجھتی تھی، اب ہر چیز استعمال کر کے پھینکی جانے لگی۔ 1950ء سے لے کر اب تک 9.1ارب ٹن پلاسٹک بنایا جا چکا ہے جس میں سے 7ارب ٹن اب زیر استعمال نہیں۔ صرف 9فیصد کو ری سائیکل کیا گیا ہے، 12فیصد کو جلایا جا چکا ہے اور بقایا 5.5ارب ٹن یا تو زمین میں دبا ہوا ہے یا سمندر میں بہہ رہا ہے۔ لیکن پلاسٹک کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے تحلیل ہونے میں ہے، یعنی اس کو قدرتی طور پر ختم ہونے میں 450 سے 1000 سال لگتے ہیں۔ دنیا کے سمندروں میں پانچ ’جائر‘ موجود ہیں(gyre: سمندری روؤں کا نظام جو کہ ہوا اور زمین کی حرکت سے وجود میں آتا ہے)۔ ان پانچوں جائروں میں پلاسٹک اور کوڑا کرکٹ موجود ہے۔ اندازہ ہے تمام سمندروں میں 100ملین ٹن سے زیادہ پلاسٹک اور کچرا موجود ہے جو کہ 2کروڑ مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقہ بنتا ہے۔ اس وقت البٹروس (لمبے پنکھوں والا سمندری پرندہ)کی 100فیصد اموات پلاسٹک کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ صرف اس سال میں ابھی تک 34ٹریلین پلاسٹک کے تھیلے بنائے جا چکے ہیں۔

اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کوڑا کرکٹ اور پلاسٹک کو ٹھکانے لگانے کا ہے۔ پوری دنیا سالانہ1.12 ٹریلین ٹن کوڑا پیدا کرتی ہے جس میں گھروں اور صنعتوں کاتمام کچرا شامل ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اشیا کے ایک ٹرک کی پیداوار کے ساتھ 32 ٹرک کوڑا کرکٹ اور زہریلے کیمیکلز کے پیدا ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ کچرا OECD ممالک پیدا کرتے ہیں(44فیصد)، دوسرے نمبر پر مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے کنارے واقع ممالک (21فیصد) اور تیسرے نمبر پر لاطینی امریکہ اور کیریبین ممالک (12فیصد)۔ کوڑے کرکٹ کے گھمبیر معاملے کو سمجھنے کیلئے ہم یہاں دنیا کے امیر ترین ملک امریکہ کی مثال لیتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ کوڑا امریکہ پیدا کرتا ہے، تقریباً 500ملین ٹن سالانہ۔ صرف نیویارک 50ہزار ٹن ہفتہ وار کوڑا پیدا کر رہا ہے۔ اس کوڑے کرکٹ کو پورے ملک میں 10ہزار لینڈ فلز (زیر زمین کوڑا دبانے کی جگہیں) میں دبایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے میتھین گیس بنتی ہے جو یا تو فضا میں خارج ہوتی رہتی ہے یا جلا دی جاتی ہے اور آلودگی کا باعث بنتی ہے۔ کوڑے کرکٹ سے رسنے والا آلودہ مائع زیر زمین پانی میں شامل ہو کر پہلے صاف پانی کے ذخائر برباد کرتا ہے اور پھر آخر میں سمندر میں جاگر تا ہے۔ اس کے سمندر میں کیا اثرات پڑتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آرکٹک سرکل کے علاقوں گرین لینڈ، کینیڈا اور الاسکا (امریکہ) میں رہنے والی انوئٹ(اسکیمو) ماؤں کا دودھ اپنے بچوں کیلئے دنیا میں سب سے زیادہ زہریلا ہو چکا ہے کیونکہ ان کی خوراک سمندری مچھلیاں اور جانور ہیں اور وہ تمام زہر آلودہ ہو چکے ہیں۔

سمندری حیات کی اگر بات کی جائے تو ان کی حالت زمینی حیات سے مختلف نہیں۔ صنعتی بنیادوں پر ماہی گیری اور آلودگی نے سمندری جانوروں اور کورل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ کورل، جزائر اور بر اعظموں کے ساتھ لگے سمندر کے ’’زیر آب جنگلات‘‘ ہیں جن میں خشکی پر موجود انواع سے زیادہ انواع موجود ہیں۔ یہ سمندروں کا صرف 0.2فیصدبناتے ہیں لیکن دنیا کے جی ڈی پی میں سالانہ375ارب ڈالر کا حصہ بناتے ہیں جس کی وجہ سے 94ممالک میں 50کروڑ سے زیادہ لوگوں کو کھانا اور وسائل میسر آتے ہیں۔ 2008ء کی ایک عالمی ریسرچ کے مطابق 19 کورلز تباہ ہو چکے ہیں، اگلے دس سے بیس سالوں میں 17فیصد مزید برباد ہو جائیں گے، صرف 46فیصد کی حالت ٹھیک ہے اور تقریباً 60فیصد انسانی سرگرمی کی وجہ سے انتہائی رسک پر ہیں۔ 2050ء تک تمام کورل ریف خطرے میں ہوں گے۔ اس تمام تر تباہی کی وجہ سمندری آلودگی، دھماکہ خیز مواد اور زہر کے ساتھ ماہی گیری کرنا ہے۔ تمام سمندروں کی تقریباً 3/4 مچھلی یا تو پوری طرح استعمال کی جا چکی ہے یا استعمال کی جا رہی ہے۔ 2.7ٹریلین سمندری حیات کا سالانہ شکار کیا جا رہا ہے جو کہ 100-90 ملین ٹن بنتا ہے۔ اس میں سے 40فیصد کو موقع پر ہی ضائع کر دیا جاتا ہے کیونکہ اسے قابل استعمال نہیں سمجھا جاتایا مارکیٹ میں اس کی کوئی ڈیمانڈ نہیں ہوتی۔ بڑے ماہی گیر ٹرالروں اور بحری جہاز وں کی زد میں آنے سے تقریباً ساڑھے چھ لاکھ وہیل مچھلیاں، ڈولفن اور سیلز مرجاتی ہیں۔ سمندروں کے قدرتی شکاری، شارکس سالانہ 50-40ملین کی تعداد میں خود انسانوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ صنعتی ماہی گیری نے ایک نئی چیز متعارف کرائی ہے ، سیریل ماہی گیری، یعنی پہلے مچھلیوں کی ایک قسم کو ختم کیا جاتا ہے اور پھر اس کی بعد دوسری نسل کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور یہ سلسلہ دہائیوں سے چلا آ رہا ہے۔ مچھلیوں اور سمندری حیات کو اتنا وقت ہی نہیں دیا جاتا کہ وہ افزائش نسل کر کے اپنی تعدادبرقرار رکھ سکیں۔ رہی سہی کسر سمندری آلودگی پوری کر رہی ہے۔

پوری دنیا میں سمندروں کے کناروں پر، ساحلوں پر 500 سے زائد نائٹروجن زون موجود ہیں جنہیں ڈیڈ زون کہا جاتا ہے۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں پر کوئی سمندری کورل، مچھلی یا جانور نہ زندہ ہے اور نہ زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ ساحلوں کے ساتھ کا علاقہ تقریباً 155ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ بنتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ مویشیوں کا صنعتی سطح پر پالنا ہے جن کا فضلہ دریاؤں، ندیوں اور گٹر کے پانی میں بہتا ہوا سمندروں تک جا پہنچتا ہے۔ یہ کتنا بنتا ہے؟ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف امریکہ میں 52.6ہزار کلو فضلہ فی سیکنڈ پیدا ہو رہا ہے! 

ان تمام وجوہات کی بنا پر سمندر کی تیزابیت مسلسل بڑھ رہی ہے، پانی گرم ہو رہا ہے اور اس وجہ سے سمندری حیات میں جینیاتی تبدیلیوں کی شرح بڑھ رہی ہے۔ ساتھ ہی موسمی تبدیلیاں اور پانی کے سائیکل میں بھی نمایاں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ سمندروں کا ایک اپنا اندرونی سائیکل ہوتا ہے جس کی وجہ سے سطحی پانی گہرے پانیوں میں چلا جاتا ہے اور گہرا پانی سطح پر آ جاتا ہے۔ اس عمل کیلئے درجہ حرارت اور نمکیات کا ایک مخصوص توازن ضروری ہوتا ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق یہ عمل سست روی کا شکار ہو رہا ہے جس کی وجہ سمندری آلودگی، فضائی آلودگی، سمندری پانی اور ماحول کے درجہ حرارت میں عدم توازن اور سمندری تیزابیت کا بڑھنا ہے۔

زراعت: فصلیں اور گلہ بانی

خشکی کی سطح کا تقریباً40فیصد زراعت کیلئے استعمال ہوتا ہے جس میں سے 11فیصد فصلوں کیلئے استعمال ہوتا ہے اور باقی 29فیصد گلہ بانی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پہلے زراعت ضروریات زندگی کے تحت کی جاتی تھی کیونکہ اجناس کو طویل عرصے کیلئے محفوظ کرنے کے ذرائع موجود نہیں تھے اور نہ ہی پیداوار کا مقصد منڈی میں بیچنا ہوتا تھا۔ جبکہ اِس وقت زراعت میں بے پناہ ضیاع موجود ہے۔ فصلیں منڈی کیلئے اگائی جاتی ہیں۔ ان میں مکئی، گندم، سویا بین، پام آئل، کپاس، گنا وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن فصلوں کی کاشت اور گلہ بانی نے آپس میں خوفناک تضاد پیدا کر دیا ہے جس کے ماحول پر تباہ کن اثرات پڑ رہے ہیں۔ 

لائیو سٹاک فارمز دنیا کے میٹھے پانی کا 1/3 حصہ استعمال کر رہے ہیں۔ دنیا کی 1/3 زمین کو مویشی پالنے کیلئے صاف کر دیا گیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 91فیصد ایمازون جنگل کی صفائی مویشی پالنے کیلئے ہوئی ہے۔ پوری دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کا51فیصد لائیو سٹاک اور اس کے بائی پراڈکٹس کی وجہ سے ہے۔ لائیو سٹاک کی وجہ سے 65فیصد نائٹرس آکسائڈ پیدا ہوتی ہے۔ پیسہ بچانے کیلئے انہیں بے پناہ مکئی کھلائی جاتی ہے جو ان سے ہضم نہیں ہوتی اور اس کے نتیجے میں وہ 150ارب گیلن میتھین روزانہ پیدا کرتے ہیں۔ میتھین کاربن ڈائی آکسائڈ سے 100-25گنا زیادہ تباہ کن اور دنیا کو گرم رکھنے کی 86گنا زیادہ طاقت رکھتی ہے۔ جتنی بھی کاشتکاری کی جا رہی ہے اس میں سے 50فیصد اجناس مویشیوں کے چارے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ ایک گائے کیلئے 5-2ایکڑ زمین کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا کے 82فیصد بھوکے بچے ان ممالک میں رہتے ہیں جہاں کی آدھی فصل پر مویشی پلتے ہیں اور امیر مغربی ممالک میں ان کا گوشت فروخت کر دیا جاتا ہے۔ 2500 بھینسوں کا ایک ڈیری فارم سالانہ اتنا فضلہ پیدا کرتا ہے جتنا 4لاکھ لوگوں کا ایک چھوٹا شہر۔ پھر جو علاقے اور جنگلات ان مویشیوں کو پالنے کیلئے صاف کئے جاتے ہیں وہاں پر رہنے والے جنگلی حیات کو بھی ختم کر دیا جاتا ہے۔ آج سے دس ہزار سال پہلے، جنگلی حیات خشکی پر موجود جانوروں کا 99فیصد بناتے تھے جبکہ انسان 1فیصدبنتا تھا۔ آج انسان اور وہ جانور جنہیں پالا جاتا ہے، خشکی پر موجود کل جانوروں کا 98فیصد بناتے ہیں جبکہ جنگلی جانور صرف 2فیصد رہ گئے ہیں۔ ہر سال 70 ارب مویشی پالے جاتے ہیں جبکہ 60 لاکھ سے زائد ہر گھنٹے کھانے کیلئے ذبح ہوتے ہیں۔ دنیا کے تمام انسانوں کی ضرورت5.2ارب گیلن پانی اور9.5 ارب کلو خوراک روزانہ ہے جبکہ پوری دنیا میں گائے بھینسیں 45ارب گیلن پانی اور 61ارب کلو خوراک روزانہ کھا جاتی ہیں۔

اس وقت زراعت کے ذریعے ہم اتنی خوراک حاصل کرتے ہیں جو 10 ارب لوگوں کیلئے کافی ہے۔ لیکن اس میں کیلوری کے حوالے سے 25فیصد اور وزن کے حوالے سے 50فیصد مارکیٹ میں آنے سے پہلے یا مارکیٹ میں پہنچنے کے بعد ضائع ہو جاتی ہے۔ یعنی سالانہ 145ارب گیلن پانی اس فصل کو اگانے میں ضائع ہو جاتا ہے جو کبھی مارکیٹ پہنچتی ہی نہیں۔ لاکھوں ، کروڑوں ٹن اشیائے خورد و نوش اس لئے ضائع کر دی جاتی ہیں کہ مارکیٹ میں ان کی قیمت برقرار رکھی جا سکے۔ پچھلے سال صرف امریکہ میں 43 ملین گیلن دودھ بہا دیا گیا اور لاکھوں ٹن گندم کو سمندر برد کر دیا گیا۔ پچھلے سال یورپی یونین میں 63ہزار ٹن خشک دودھ اور93ہزار ٹن مکھن گوداموں کی زینت بنا رہا۔اور اسی طرح کی بے شمار مثالیں گوشت، شراب، مصالحوں غرض ہر چیز کے حوالے سے دی جا سکتی ہیں۔ سرمایہ داری میں زائد پیداوار کا بحران صرف فیکٹریوں میں بنتی اشیا کا ہی نہیں بلکہ زراعت میں اگتی پلتی اشیائے خوردونوش کا بھی ہے۔ 

غائب ہوتی برف

جیمز بالوگ ایک ایوارڈ یافتہ فوٹوگرافر ہیں جو 1980ء کی دہائی سے معاشی وسماجی نظام کے ماحولیات پر اثرات کی منظر کشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے 2007ء میں ایکسٹریم آئس سروے (EIS) پراجیکٹ شروع کیا جس کا مقصد تصویروں کے ذریعے دنیا کے بڑھتے درجہ حرارت کا مختلف خطوں میں موجود گلیشیئرز پر اثرات کی منظر کشی کرنا تھا۔ 43 کیمرے گرین لینڈ، آئس لینڈ، الاسکا، یورپی الپس، انٹارکٹکا، کینیڈا اور امریکی روکی پہاڑوں کے 24 گلیشیئرز پر نصب کئے گئے۔ کیمرے سارا سال تصویریں کھینچتے رہتے ہیں جن سے گلیشیئرز کے بڑھنے گھٹنے کا عمل ایک فلم کی طرح سامنے آ جاتا ہے۔

گلیشیئرز برف کے دیو ہیکل تودے ہیں جو دنیا کے مختلف خطوں اورممالک میں پائے جاتے ہیں۔ یہ دنیا کی سطح کا 10فیصد بناتے ہیں اور اپنے اندر دنیا کا 75فیصد میٹھا پانی سموئے ہوئے ہیں۔ صرف انٹارکٹکا میں دنیا کا 70فیصد میٹھا پانی موجود ہے۔ گلیشیئرز کروڑوں سال پہلے برف باری کے ذریعے بننے شروع ہوئے اور تہہ در تہہ گرتی برف کے جمنے اور سخت ہونے کے عمل میں وجود میں آئے۔ یعنی گلیشیئرز اپنے اندر کرۂ ارض کا کروڑوں سالوں کا ریکارڈ محفوظ کئے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق پچھلے 8لاکھ سالوں میں کاربن کبھی بھی 280ppm سے زیادہ نہیں رہا جبکہ آج یہ 407ppm پر کھڑا ہے۔ انٹارکٹکا کا 8.6 ملین مربع کلومیٹر تقریباً سارا برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ گرین لینڈ کا 10 لاکھ مربع کلومیٹر گلیشیئر میں ڈھکا ہوا ہے۔ گلیشیئر آرکٹک، الاسکا، کینیڈا، آئس لینڈ، ہمالیہ، قراقرم، روس، سکینڈے نیوین ممالک، یورپی الپس وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔ گرمیوں میں ان کے پگھلنے سے دریاؤں اور ندیوں میں میٹھا پانی بہتا ہے جو کہ انسانی ضروریات کیلئے استعمال ہوتا ہے جبکہ آرکٹک اور انٹارکٹکا کے گلیشیئر دیگر چھوٹے گلیشیئرز کے ساتھ مل کر سمندری پانی کے لیول اور تیزابیت کو کنٹرول کرتے ہیں جس کے نتیجے میں سمندری جانور زندہ رہتے ہیں اور دنیا کا پانی کا سائیکل چلتا رہتا ہے۔

پچھلے گیارہ سالوں میں لاکھوں تصویروں کے ذریعے جیمز بالوگ نے یہ ثابت کیا ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر دنیا کے تمام گلیشیئرز تیزی کے ساتھ پگھل رہے ہیں۔ پچھلے دس سالوں میں گلیشیئرز اتنا پگھل چکے ہیں جتنا پچھلے سو سالوں میں پگھلے تھے۔ صرف کینیڈا میں 45گلیشیئرز ہمیشہ کیلئے ختم اور باقی تیزی کے ساتھ گھٹ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے مختلف علاقوں میں گلیشیئرز کا ٹوٹ کر سمندر میں گرنے کا عمل بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے جس میں شہروں کے حجم کے برابر برف کے تودے ٹوٹتے ہوئے ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ یہ تمام حقائق دنیا کے بڑھتے درجہ حرارت اور اس کے تباہ کن اثرات کو عیاں کرنے کیلئے کافی ہیں۔ اس کی وجہ سے جہاں انسانیت کے میٹھے پانی کے سب سے بڑے ذخائر تیزی سے ضائع ہو رہے ہیں وہیں پر سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر دنیا کے تمام گلیشیئرز پگھل جائیں تو جہاں سمندروں کی ماہیت تبدیل ہو جائے گی، جس کی وجہ سے کوئی سمندری حیات زندہ نہیں رہ سکتی، وہیں پر سمندر کی سطح 200 فٹ تک بلند ہو سکتی ہے جو ساحل سمندر پر موجود تمام شہروں کو ڈبونے، بر اعظموں پر کئی سو کلومیٹر اندر تک زمین ڈبونے اور اربوں انسانوں کو تباہ و برباد کرنے کا باعث بنیں گے۔ یعنی وہ ماحول اور زندگی جسے انسان جانتے ہیں، اس کا کوئی وجود نہیں رہے گا۔

سرمایہ داروں کی خونی ہوس کا یہ عالم ہے کہ وہ بے صبری سے آرکٹک کی برف پگھلنے کا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ محتاط اندازوں کے مطابق کئی سو ارب ڈالر کا تیل اور معدنیات برف کے نیچے چھپے ہوئے ہیں، اس سے قطع نظر کہ ماحولیات اور انسانوں پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے۔

کیا کیا جا سکتا ہے؟

بہت کچھ۔ اگر ہم دنیا کی تاریخ، جو کہ تقریباً 4 ارب سال پرانی ہے، کو کسی سال کے ایک کیلنڈر کے طور پر دیکھیں تو انسان دنیا میں 31 دسمبر کو نمودار ہوئے، آدھی رات سے محض 15 منٹ پہلے۔ 10ہزار سالہ انسانی تاریخ صرف آخری 60 سیکنڈ بنتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنی تمام تر ترقی، تکنیک اور سائنسی ایجادات کے باوجود انسان کتنا نومولود ہے۔ ابھی بھی کائنات اور اپنی دنیاکے حوالے سے انسان کی سمجھ بوجھ نامکمل ہے۔ وقت کے دھارے اور تاریخی جبر نے انسان کو قدرت کے ساتھ ہم آہنگی سے دور کر دیا ہے لیکن سائنس اور تکنیک اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ان تمام مسائل پر آج ہی سے قابو پایا جا سکتا ہے بشرطیکہ ماحول کو تباہ کرنے والے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کر کے عالمی سطح پر ایک منصوبہ بند معیشت پر مبنی معاشرہ قائم کیا جائے۔

فوسل فیول کی جگہ متبادل طریقہ کار سے تمام توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ بجلی گھروں، فیکٹریوں اور گھریلو ضروریات کیلئے ہوا کی توانائی، جیو تھرمل، ہائیڈرو الیکٹرک، سمندری لہروں سے توانائی اور شمسی توانائی کو استعمال کر کے ماحولیات کو صاف ستھرا رکھتے ہوئے توانائی کی تمام ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جب تک مندرجہ بالا متبادل توانائی کے ذرائع کی تکنیک اتنی ترقی نہیں کر جاتی کہ وہ پورے کرۂ ارض کی توانائی کی ضروریات بخوبی پوری کر سکے، اس وقت تک جوہری توانائی کو بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے جو کہ فوسل فیول کے مقابلے میں ماحول کو کہیں کم نقصان پہنچاتی ہے۔ فوکوشیما، سیون مائل جزیرے اور چرنوبل کے حادثات کے باوجود جوہری توانائی فوسل فیول کے مقابلے میں ماحول دوست ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تکنیک اور زیادہ بہتر اور محفوظ کی جاسکتی ہے۔

فوسل فیول کے متبادل کے استعمال کے ساتھ جہاں فضائی آلودگی میں نمایاں کمی آئے گی وہیں پر تمام ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک پر لانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک میں کامیابی کے ساتھ الیکٹرک ٹرینوں، بسوں اور گاڑیوں کے کامیاب تجربے ہو رہے ہیں بلکہ الیکٹرک گاڑیوں اور ٹرینوں کا استعمال بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن فوسل فیول کی بجائے الیکٹرک وہیکلز کے استعمال میں اضافے کی شرح ابھی بھی بہت سست ہے جس کی بنیادی وجہ بڑی بڑی تیل اور آٹو انڈسٹری کی اجارہ داریاں ہیں۔ ٹرانسپورٹ، فضائی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسز میں 13 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی گاڑیوں کی بجائے ماس ٹرانز ٹ سسٹم کو بڑے پیمانے پر متعارف کروانے کی ضرورت ہے مگر اس کے رستے میں آٹو انڈسٹری کے منافع جات حائل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بے پناہ صوتی آلودگی کا الگ مسئلہ ہے۔ تمام ٹرانسپورٹ کی الیکٹرک انرجی پر منتقلی اور ماس ٹرانزٹ کے استعمال سے جہاں فضائی آلودگی ختم ہو گی وہیں پر انسان 150 سال بعد بغیر شور شرابے کے شہروں میں زندگی گزارنے کے قابل بھی ہو جائے گا۔

ہمیں اپنے جنگلات کی از سر نو بحالی کی اشد ضرورت ہے۔ اس کیلئے موجودہ تمام جنگلات کی فوری حفاظت اور نئے جنگلات لگانے کی ضرورت ہے۔ پیپر انڈسٹری کو از سر نو تشکیل دے کر زیادہ بہتر ری سائیکلنگ کی طرف جانے کی ضرورت ہے گو کہ یہ ابھی بہت محدود پیمانے پر ہو رہی ہے۔ اس کے اثرات کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ میں تقریباً 6 ملین ٹن کوڑا کرکٹ کی ری سائیکلنگ سے حاصل ہونے والے پیپر کے نتیجے میں 41 ملین درخت بچائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اب ہمیں پیپر کے استعمال سے آگے بھی سوچنا ہو گا۔ زراعت کے شعبے کو مزید بہتر کرتے ہوئے موجودہ زمینوں کو احسن طریقے سے استعمال میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ جنگلات بے جا نہ کاٹے جائیں۔ اس میں کاشتکاری اور لائیو سٹاک دونوں میں انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔ تعمیراتی کاموں میں لکڑی کے متبادل موجود ہیں اور انہیں مزید بہتر بناتے ہوئے لکڑی کے ا ستعمال کو مکمل طور پر ممنوعہ قرار دیا جانا چاہیے۔ دیو ہیکل ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کے پھیلاؤ کی بجائے تعمیرات کو عمودی سمت میں لے جانے کی ضرورت ہے تاکہ زمین اور پانی کے بے پناہ ضیاع سے بچا جائے۔ تمام جنگلی جانوروں کے شکار پر سخت پابندی ہونی چاہیے اور ان کی افزائش کیلئے بہتر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

تمام فیکٹریوں، کارخانوں اور صنعتوں میں استعمال شدہ آلودہ پانی کی صفائی اور کیمیکل کو غیر مضر بنانے کیلئے ٹریٹمنٹ پلانٹ ہونے چاہئیں۔ گندا پانی ندیوں، دریاؤں اور سمندروں میں پھینکنے کی سخت ممانعت ہونی چاہیے اور آبی ذخائر بناتے ہوئے زیر زمین پانی کے استعمال کو کم سے کم کرنا چاہیے۔ پانی کے نکاس اور سیوریج کا بہترین انتظام ہونا چاہیے۔ فریکنگ پر کچھ ممالک نے عارضی پابندی لگائی ہے لیکن اس کو مستقل کر کے فریکنگ کو ختم کر دینا چاہیے۔ حیاتیاتی فضلے کو بائیو ماس بجلی گھروں میں اور فرٹیلائزر کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

سمندروں میں کسی بھی کسی قسم کے کیمیکل، کوڑا کرکٹ اور سیوریج ڈالنے میں پابندی ہونی چاہیے۔ بے لگام صنعتی ماہی گیری کو کنٹرول کرتے ہوئے منصوبہ بندی کے ساتھ سمندری وسائل کا استعمال یقینی بنانا چاہیے۔ متبادل توانائی کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ سمندروں سے تیل کے نکالنے پر بدتریج پابندی لگائی جانی چاہیے۔

زراعت انتہائی اہم شعبہ ہے لیکن پر انتشار عدم منصوبہ بندی نے اس شعبے کو وبال جان بنا دیا ہے۔ کاشتکاری میں پانی کے بے پناہ ضیاع کی روک تھام کرتے ہوئے ڈرپ اریگریشن اور ہائیڈرو پونک ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ زراعت میں سب سے بڑا مسئلہ لائیو سٹاک کا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں گوشت کا بکثرت استعمال ہوتا ہے جو ایک انسان کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سرمایہ دارانہ سماج کے دباؤ کا شکار طرز زندگی کی وجہ سے مضر صحت فاسٹ فوڈ کا بے پناہ استعمال ہے جس سے فاسٹ فوڈ چینز اربوں ڈالر کا منافع کماتی ہیں۔ فاسٹ فوڈ میں استعمال ہونے والے گوشت کی مقدار انسانی صحت کے لئے مضر ہے۔ اس کے علاوہ اس کا نقصان یہ ہے کہ اگر پیداوار کا تناسب دیکھا جائے تو ایک سال میں ڈیڑھ ایکڑ زمین 16782 کلوگرام سبزیاں، اناج اور پھل پیدا کرتی ہے جبکہ اتنی ہی زمین 170 کلو گرام گوشت پیدا کرتی ہے۔ جودودھ گائے بھینسوں سے حاصل کیا جاتا ہے وہ یا تو بچھڑا پیدا کر کے کیا جاتا ہے یا ہارمونز کے ٹیکے لگا کر۔ اس کے انسانی جسم اور صحت پر تباہ کن اثرات پڑتے ہیں کیونکہ انسانی ضرورت کا دودھ اس کی پیدائش پر اس کی ماں پیدا کرتی ہے جس کی نومولودگی کے بعد کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ گوشت بلاشبہ انسانی خوراک کا ایک اہم حصہ ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ امیر ممالک میں قوت خرید رکھنے والے درمیانے طبقے کے افراد مضر صحت حد تک گوشت کا استعمال کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف انسانوں کی ایک وسیع اکثریت اس سے سرے سے ہی محروم ہے۔اگر متوازن غذا کے اصولوں کے تحت ہر انسان کو انسانی جسم کیلئے درکار گوشت کی مناسب مقدار مہیا کی جائے تو کرۂ ارض کی آبادی کی گوشت کی ضروریات موجودہ لائیو سٹاک سے کہیں کم میں پوری کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ باقی تمام ضروری اجزا سبزیوں، اناج اور پھلوں سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

سرمایہ داری: انسانیت اور ماحول کی تباہی

سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کرے گا کون؟ ان تمام ضروری اقدامات پر عملدرآمد کے درمیان اس نظام کی تین بڑی زنجیریں حائل ہیں۔ نجی ملکیت، منڈی کی معیشت اور قومی ریاستیں۔ ہر شعبے میں بیٹھے چند مٹھی بھر سرمایہ دار دن رات لوٹ کھسوٹ کر رہے ہیں اور اجتماعی طور پر پوری دنیا اور انسانیت کا قتل عام کر رہے ہیں۔ جان بوجھ کر’’Planned Obsolescence‘‘ کے تحت ناپائیدار اشیا کی پیداوار کی جاتی ہے تاکہ خریدوفروخت کا گھن چکر نہ رک پائے۔ ہر دوسرے دن کوئی نیا فیشن، کوئی نیا شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خریداری ہو سکے۔ اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پوری دنیا میں صرف الیکٹرانک انڈسٹری 93.5ملین ٹن کوڑا کرکٹ پیدا کرتی ہے۔ اس میں استعمال ہونے والی نایاب معدنیات نکل، کیڈمیم، گیڈولینیم، سمیریم وغیرہ ضائع کر دی جاتی ہیں حالانکہ ان کو دوبارہ سے ری سائیکل کر کے باآسانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پیداواری قوتیں، آٹومیشن اور تکنیک اس نہج پر پہنچ چکی ہیں کہ تمام دنیا سے بھوک، ننگ، افلاس، بیماری، جہالت اورتباہی و بربادی کا خاتمہ کر کے فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں ایک خوبصورت زندگی اور دنیا تشکیل دی جا سکتی ہے۔ منصوبہ بند معیشت کے ذریعے بے پناہ ضیاع کی روک تھام کر کے، وسائل کو بہترین طریقے سے بروئے کار لاتے ہوئے ضروریات زندگی اور ترقی کو خوابوں سے زیادہ بڑھ کر مہمیز دی جا سکتی ہے۔ لیکن سرمایہ دارنہ نظام میں صورتحال یہ ہے کہ 2 اگست 2017ء ارتھ اوورشوٹ ڈے تھا (ایک سال میں دنیا کی اپنے وسائل کو دوبارہ پیدا کرنے کی صلاحیت کا پیمانہ ) یعنی وہ وسائل جو فطرت ایک سال میں پیدا کرتی ہے ، ان کو سرمایہ دارانہ نظام اب سات مہینوں میں استعمال کر لیتا ہے۔۔ سرمایہ داری کی منافع خوری کے تحت دنیا 1970ء کی دہائی سے اپنے وسائل سے تجاوز کر رہی ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس وقت جتنے وسائل استعمال ہو رہے ہیں وہ فطرت کے نئے وسائل پیدا کرنے کی صلاحیت سے تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ ہیں۔ 

آج کل ماحولیات کے حوالے سے پریشانی کا اظہار کرنا، اس مقصد کیلئے کوئی این جی او بنانا اور ہلکی پھلکی سرگرمی کرتے رہنا ایک فیشن بن چکا ہے۔ بڑے بڑے نامور فنکار، سیاست دان اور سرمایہ دار فطرت کی تباہی کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ماحولیات کے مختلف پہلو، جن میں فضائی آلودگی سے لے کر سمندروں کی حفاظت، جنگلوں کی بقا سے لے کر خطرے سے دوچار جانوروں کے تحفظ تک، غرضیکہ ہر رنگ نسل کی این جی اوز اور تنظیموں کی کل تعداد 2 کروڑ کے لگ بھگ ہے ۔ اسی طرح ہر ملک اور مختلف عالمی اداروں کے ماحولیاتی ادارے بھی موجود ہیں۔ لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ حتمی تجزیئے میں ہم سرمایہ دارانہ نظام میں جی رہے ہیں جس میں سرمایہ دارانہ ریاست سرمایہ داری اور سرمایہ داروں کا تحفظ کرتی ہے۔ جو نام نہاد بڑی شخصیات ان ’’مشغلوں‘‘ میں مصروف ہیں وہ خود فطرت کو تباہ کرنے میں سب سے آگے ہیں۔ بڑے گھر، ذاتی جہاز، دھواں اگلتی لگژری گاڑیاں، فیکٹریاں، صنعتیں وغیرہ یہ سب انہی کی ہیں جن کے سینوں میں آج کل سب سے زیادہ فطرت کا ’’درد‘‘ جاگا ہوا ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں کی ان گنت تحقیقات بار ہا یہ ثابت کر چکی ہیں کہ ماحول کی سب سے زیادہ آلودگی کا سب سے بڑا ذمہ دار حکمران اور درمیانہ طبقہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شروع شروع میں مختلف نجی اور ریاستی تنظیموں نے کوشش کی کہ ماحول کا تحفظ کرتے ہوئے، اس کے ساتھ ہم آہنگی میں سرمایہ دارنہ نظام کو چلایا جا سکے۔ یہ سب عوامی دباؤ اور تحرک کا نتیجہ تھا۔ لیکن ایسا ہونا ناممکن ہے اور یہ حقیقت اب عملی طور پر بھی ثابت ہو چکی ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں میں سرمایہ داری کے اپنے تاریخی ارتقا اور متروکیت نے ان تمام تنظیموں کو بانجھ کر کے رکھ دیا ہے اور ان کا مقصد چند تصویریں کھنچوا کر عیاشی کیلئے چندہ اکٹھا کرنا رہ گیا ہے۔ ان تمام سرگرمیوں کے نتیجے میں بے پناہ ٹیکس چھوٹ کی سہولت اس سب کے علاوہ ہے۔ آج انسانیت کو درپیش ہر سوال کی طرح ماحولیات کا سوال بھی ایک طبقاتی سوال بن کر رہ گیا ہے۔

سرمایہ داری نے اپنے ترقی پسندانہ عہد میں انسانیت کو بے پناہ ترقی اور مہمیز عطا کی جو پہلے انسانی تاریخ میں کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔ سائنس، آرٹ، کلچر، انفراسٹرکچر، سوشل سائنس وغیرہ میں بے پناہ ترقی ہوئی۔ ماحول کے تحفظ کیلئے قوانین بنائے گئے، نیشنل پارک بنائے گئے، جانوروں کے تحفظ کے اقدامات کئے گئے۔ لیکن اب سرمایہ داری تاریخی متروکیت کا شکار ہو کر اس نہج پر آ کھڑی ہوئی ہے جس کے بارے میں اینگلز نے کہا تھا کہ انسانیت کے سامنے دو ہی راستے ہوں گے: سوشلزم یا بربریت۔ لیکن اس وقت سرمایہ داری ہمیں بربریت سے بھی آگے لے گئی ہے۔ اس میں نہ صرف انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے بلکہ کرۂ ارض کا فطری ماحول بھی شدید تباہی سے دوچار ہے۔ انسانی تاریخ انقلابات کی تاریخ ہے۔ انقلابات نے ہر مرحلے پر انسانیت کو آگے لے جانے اور پرانے طور طریقوں، روایات اور روشوں کو توڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ آج انسانیت اور ماحول، برباد ہوتی سرمایہ داری میں گھٹ کر اذیت میں مبتلا ہیں۔ صرف ایک مزدور انقلاب ہی اس بوسیدہ اور فرسودہ نظام کو اکھاڑ کر ایک ایسے سوشلسٹ نظام کو تشکیل دے سکتا ہے جو انسانیت کے ساتھ ساتھ فطرت کے زخموں پر بھی مرہم رکھے۔ آج ہمیں اچھا لگے یا برا، لیکن تاریخ نے ہماری نسل کے سامنے سب سے اہم سوال کھڑا کر دیا ہے: انسانیت اور کرۂ ارض کی بقا یا سرمایہ داری کی بقا؟

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh