تحریر: ایلن ووڈز،  ترجمہ: ولید خان|

19 ستمبر 2017ء کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنا پہلا خطاب کیا جس میں اس نے دنیا، کائنات اور عمومی زندگی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مسٹر ٹرمپ کی کاروباری تنظیم اس کی شخصیت کے حوالے سے سچائی اور غیر جانبداری پر مبنی بیان دیتی ہے کہ وہ ’’امریکی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے، وہ مستقل بہترین کارکردگی کے نئے معیار کو جنم دیتے ہوئے جائیداد، کھیل کی دنیا اور انٹرٹینمنٹ میں اپنی دلچسپی بڑھاتا رہتا ہے۔ وہ ایک اولین کاروباری شخصیت ہے۔ ۔ ایک ایسا بیوپاری جس کا کوئی ثانی موجود نہیں‘‘۔

اس قدر عالی مرتبت صفات کے باوجودجنرل اسمبلی، جو کہ عام انسانوں پر مشتمل ہے، کیونکر ٹرمپ کے دنیا کو دئیے جانے والے اس پیغام سے متاثر نہ ہوئی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ متاثر تو ہوئے لیکن شاید اس طرح سے نہیں جس طرح سے مقررکی خواہش تھی۔

مسٹر ٹرمپ نے اپنے خیالات کو اتنا سادہ بنانے کیلئے کہ جنرل اسمبلی میں موجود اس کے سامعین بھی انہیں سمجھ سکیں، دانائی کی اعلی مثال قائم کرتے ہوئے ایک الف لیلیٰ تخلیق کی۔ دنیا کو دیکھنے کے اس ٹرمپ زاویے میں ہر چیز بڑی صفائی سے ’’اچھی‘‘ اور ’’بہت اچھی ‘‘ ہے (بعد الذکر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں پھلتا پھولتا اور تخلیقی دولت سے مالا مال امریکہ ہے) یا پھر ’’بری‘‘ اور ’’بہت، بہت بری‘‘۔

الف لیلیٰ کی ہر اچھی کہانی کی طرح ’’خیر کی قوتیں‘‘ ہر لمحہ ’’شر کی قوتوں‘‘ کے ساتھ مانوی جدوجہد میں برسر پیکار ہیں۔ یہ بدی کی طاقتیں جو امن، جمہوریت اور کثرت کی دولت سے مالا مال دنیا پر جوہری بادل کی طرح ایک کینہ پرورمنحوس سایہ ڈالے ہوئے ہیں، ان کاگناہ گار قائد (اورہمیشہ سے پاگل ) شمالی کوریا کی تاریک دنیا راج دھانی کا آمر کم جونگ ان ہے لیکن ہمیں اب یہ پتا چلا ہے کہ اس کا اصل نام ’’راکٹ مین‘‘ ہے۔

’’بدی کی قوتوں‘‘ کی فہرست (انہیں بدمعاش ریاستیں بھی کہا جاتا ہے)میں دوسرے نمبر پر ’’بری سلطنت فارس‘‘ جسے کبھی کبھی غلطی سے ایران بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ’’بری سلطنت‘‘، ’’مغربی مسیح تہذیب‘‘ کیلئے اس کی پیدائش سے پہلے ہی سب سے بڑا خطرہ بن چکی تھی۔ گناہ گار فرمانروا دارا اور سائرس نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح سے یونانی تہذیب کو نیست و نابود کر دیا جائے۔ وہ اپنے اس گھناؤنے مقصد میں کامیاب تو نہیں ہو سکے لیکن کئی سالوں بعد یہ مقصد کامیابی سے اینگلا مرکل نے پورا کر دیا ہے۔

ویسے اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ اصطلاح مانوی ہوتا کیا ہے تو اس کی تفصیل یہ کہ یہ لفظ قدیم فارسی مذہب سے لیا گیا ہے جس کے مطابق دنیا کی ہر شے ’’اندھیرے‘‘ اور ’’اجالے‘‘، ’’اچھائی‘‘ اور’’برائی‘‘ میں بٹی ہوئی تھی۔ یعنی ڈونلڈ ٹرمپ اور قدیم فارسیوں میں یہ قدر تو مشترک ہے۔ ۔ لیکن بدقسمتی سے اور کچھ نہیں، کیونکہ حقیقت میں وہ کافی مہذب لوگ تھے۔

بدمعاش ریاستیں اور ان سے نمٹنے کا طریقہ کار

شاید صدر کی طرف سے کچھ غیر اخلاقی حرکت تھی کہ اس نے جنرل اسمبلی میں آ کر اقوام متحدہ کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کئے جبکہ اسی ادارے نے شمالی کوریا کے خلاف اس کی حالیہ نئی پابندیوں کی توسیع بھی کی تھی۔ مسٹر ٹرمپ کو شکر گزاری کا اظہارکرنا چاہیے تھا کیونکہ شمالی کوریا کو تباہ و برباد کرنے کی اس کی تمام دھمکیوں کا عملی طور پر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اور پھر اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ اسے بہت جلد اقوام متحدہ کی معاونت کی ضرورت پڑے گی، اپنے آپ کو اس کھائی سے نکالنے کیلئے جس میں اس نے بڑی استادی سے اپنے آپ کود ھکیلدیا ہے۔

لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کو کوئی خوف نہیں۔ ۔ اور نہ ہی وہ شکر گزار ہے۔ وائٹ ہاؤس کے رہائشی نے زبان کو لگام دینے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس نے اپنے حیرانگی میں ڈوبے (اور شاید خوف کے شکار) سامعین کویہ اعلان سنایا کہ ’’پیانگ یانگ کا راکٹ مین‘‘ (جی ہاں، یہ لقب کسی تھرڈ کلاس فلم کا ٹائٹل لگتا ہے) ’’خود کش مشن‘‘ پر گامزن ہے۔ اور پھر اس نے ساتھ ہی گھمبیرلہجے میں یہ بھی کہہ دیا کہ اگر امریکہ کو اپنی (یا اپنے اتحادیوں)کی حفاظت کرنے پڑی: ’’ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہو گا، سوائے اس کے کہ شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا جائے‘‘۔

یہاں پر ہمیں کلاسیکل ٹرمپ کی واہیات بکنے کا مظاہرہ ملتا ہے۔ یہ واشنگٹن سفارتکاری کا نیا طریقہ کار ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں امن، ہر پانچ منٹ بعد اپنے جوہری ہتھیاروں کی نمائش کر کے قائم کیا جائے۔ مسٹر ٹرمپ نے شمالی کوریا کی قیادت کو ’’مجرموں کا ٹولہ‘‘ گردانا ہے جو جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل کے حصول کے چکروں میں پوری دنیا تباہ کرنے کے درپے ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امریکہ کے پاس باقی ساری دنیا کے کل جوہری ہتھیاروں کے برابر ہتھیار موجود ہیں لیکن ان کے مطابق، یہ کسی کیلئے خطرہ نہیں ہیں بلکہ انہیں امریکی سامراج کی امن پسندی کے اظہار کے طور پر دیکھنا چاہیے!

مسٹر ٹرمپ کی طرح ہم بھی کم جونگ ان یا اس کی سٹالنسٹ آمریت کے پرستار نہیں ہیں۔ لیکن یہاں پر یہ فرق واضح کرنا ضروری ہے کہ شمالی کوریا ایشیا کا ایک غریب ملک ہے جبکہ امریکہ دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی قوت ہے۔ ایک دیو کا، ایک بونے کو ایسے للکارنا جیسے وہ دونوں برابر ہوں ایسی حیران کن بات ہے کہ لگتا ہے کہ حقیقت کے بجائے کوئی خواب ہو۔

شمالی کوریا کے ساتھ لڑائی جھگڑے نے امریکی سامراج کی کمزوریوں اور حدود کو کھل کر دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ہے۔ ٹرمپ پوری قوت کے ساتھ چنگھاڑ رہا ہے لیکن اس کا اثر صرف اتنا ہوا ہے کہ ایک طرف تو شوروغوغے میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے تو دوسری طرف جوہری تجربوں اور جاپان کے اوپر سے بیلسٹک میزائل کے گزرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

عام طور پر یہ بات کی جاتی ہے کہ کم جونگ ان پاگل ہے اور اسکے عزائم کو سمجھنا ناممکن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کام بالکل بھی ناممکن نہیں۔ حال ہی میں پیانگ یانگ کی حکومت نے اپنے عزائم واضح کر دیے جنہیں سمجھنا کوئی خاص مشکل نہیں: ان کا مقصد ہے کہ وہ امریکہ کے برابر جوہری قوت حاصل کر لیں۔ بے شک ان الفاظ کو من و عن لینا ضروری نہیں۔ شمالی کوریا کیلئے ناممکن ہے کہ وہ امریکہ کے برابر جوہری ہتھیار بنا لے یا اس کے قریب قریب بھی پہنچ جائے۔ وہ یہ چاہتا ہے (اور ایسا لگتا ہے کہ اس مقصد سے اسے کوئی نہیں روک سکتا) کہ اس کے پاس اتنی جدید ٹیکنالوجی آ جائے کہ وہ امریکہ کی حدود پر حملہ کرنے کے قابل ہو کر امریکہ کو دھمکیاں لگا سکے۔

اس کے پیچھے بڑے سادہ سے مقاصد ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ نے صدام حسین پر الزام لگایا تھا کہ اس کے پاس عالمی تباہی کیلئے ہتھیار موجود ہیں۔ لیکن صدام حسین کے پاس ایسے کوئی ہتھیار موجود نہیں تھے۔ اسی وجہ سے امریکہ نے صدام حسین کا تختہ الٹ کر اس کو قتل کر دیا۔ نتیجہ: شمالی کوریا، امریکہ سے خطرہ محسوس کرتا ہے (امریکہ کہتا ہے کہ شمالی کوریا ایک بدمعاش ریاست ہے جس کے قائدین پاگل ڈاکو ہیں)اور اسی وجہ سے اسے جتنی جلدی ہو سکے جوہری ہتھیار حاصل کرنے ہیں۔

یہ نتیجہ شاید قابل قبول نہ ہو۔ لیکن اس کے پیچھے منطق ٹھوس اور اٹل ہے۔ اور واشنگٹن کی طرف ہر قسم کا ڈھکوسلا یا دھمکیاں اور امریکی صدر کی طرف سے اقوام متحدہ میں پیش کی گئی کہانی اس حقیقت میں رتی برابر تبدیلی نہیں لا سکتی۔

ایران: معاہدہ ہے یا نہیں؟

شمالی کوریا پر اپنا غصہ نکالنے کے بعد ٹرمپ کی توجہ دوسری مشہور بدمعاش ریاست اور شر کی طاقت پر مرکوز ہو گئی: ایران۔ اس نے جیسے امریکہ ایران معاہدے پر کچرے کا ڈھیر پھینک دیا۔ وہ معاہدہ، جس پر اس کے پیش رو صدر اوباما اور دیگر عالمی قوتوں نے بارہ سال سخت اور کٹھن مذاکرات کے بعد ایران کے ساتھ دستخط کئے۔

معاہدے کا مقصد یہ تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو منجمند کرنے کے نتیجے میں لگائی گئی عالمی پابندیوں میں نرمی لائی جائے گی۔ اس میں ایران کی موجودہ ملا آمریت یا خارجہ پالیسی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اور اس ذکر کانہ ہونا کوئی حادثہ نہیں کیونکہ اس کی وجہ سے بنیادی مسئلے۔ ۔ ایرانی جوہری پروگرام۔ ۔ پر متفق ہونا ناممکن ہو جاتا۔ کئی سالوں کی ان تھک محنت اور متشدد مذاکرات کے بعد بالآخر معاہدہ ہو ہی گیا۔ تہران کی سڑکوں پر خوشیاں منائی گئیں، سعودی عرب میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی، اسرائیل غصے سے بپھر اٹھا اور امریکی ریپبلیکن پارٹی دانت پیستی رہ گئی۔  

دائیں بازو امریکی سیاسی حلقوں میں پچھلے کچھ عرصے میں ایران پر متشدد حملے بڑھ گئے ہیں۔ یہ صرف گھبراہٹ کا رد عمل ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں اپنی طاقت اور اثرورسوخ کو بے پناہ بڑھا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی اس تیز تر ایرانی وسعت کا الزام صرف اپنے آپ کو ہی دے سکتے ہیں۔ یہ اوباما اور اس کی طرف سے کئے گئے معاہدے کا قصور نہیں بلکہ اس کے پیش رو، ریپبلیکن صدر جارج بش کی حماقتوں کا نتیجہ ہے۔

جاہل اور نااہل امریکی سامراجیوں نے عراق پر فوج کشی کر کے پورے ملک کا شیرازہ بکھیر دیا، افواج کو تباہ وبرباد کر دیا اور پورے مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام میں مبتلا کر دیا۔ بعد میں ہونے والے تما م جرائم اور بربریت کی وجہ سامراج کا یہ سب سے سنگین جرم ہے۔ عراقی افواج کو تباہ کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایران کے مقابل کوئی دوسری قوت موجود نہیں رہی جس کی وجہ سے ایران اب خطے میں ایک طاقتور قوت بن گیا ہے۔

شدید گرج برس کے ساتھ ایران کی ’’دہشت گرد گروہوں‘‘ کی بیرون ملک حمایت اور اندرون ملک سیاسی جبر کی مذمت کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ دنیا تہران کی ’’ خونی‘‘ آمریت کا سامنا کرے۔ اس نے ڈرامائی انداز میں اعلان کیا کہ جوہری معاہدہ ’’امریکہ کیلئے باعث پشیمانی ہے‘‘ اور دنیا اس مسئلے کو ’’ آخری مرتبہ نہیں سن رہی‘‘۔ اس سارے ڈرامے کے دوران ایرانی نمائندہ پر سکون مسکراہٹ کے ساتھ اپنے موبائل فون پر گیم کھیلتا رہا۔ 

اقوام متحدہ میں موجود اپنے ایرانی ساتھی کے برعکس، بی بی نتن یاہواپنی کرسی سے اچھل اچھل کر ڈونلڈ ٹرمپ کی تائید کرتا رہا۔ یہ عام طورپر بھلا دیا جاتا ہے (کیونکہ شرفا کی محفل میں اس کا کبھی ذکر نہیں ہوتا) کہ اسرائیل بذات خود جوہری ہتھیاروں کا مالک ہے۔ اسرائیل 1950ء کی دہائی سے جوہری راز چراتا رہا ہے اور جوہری ہتھیار بناتا رہا ہے۔ اور مغربی حکومتوں، خاص طور پر امریکہ، نے اس معاملے میں چپ سادھے رکھی ہے۔ اسرائیل کے پاس زیر زمین جوہری ہتھیاروں کا ایک پورا ذخیرہ موجود ہے، مختلف اندازوں کے مطابق80 وار ہیڈ، جو کہ پاکستان اور انڈیا کے برابر ذخیرہ ہے۔ یہاں تک کہ نصف صدی پہلے اسرائیل نے جوہری ہتھیار کا ایک کامیاب تجربہ بھی کیا جس پر دنیا میں کہیں بھی شور نہیں مچایا گیا، جنرل اسمبلی میں اس کے خلاف کوئی قرار داد پیش نہیں کی گئی، کوئی پابندیاں نہیں لگائی گئیں اور کسی نے بھی حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ نہیں کیا۔

مشرق وسطیٰ کے لوگوں کو اس معصوم سے سوال پر معاف کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کو کیوں ہتھیار رکھنے کی اجازت ہے جبکہ اگر یہی کام ایران کرے تو اسے دنیا کیلئے خطرہ گردانا جاتا ہے؟ ویسے اگر سوچا جائے، تو شمالی کوریا کے بالکل ابتدائی جوہری پروگرام کو ساری دنیا کیلئے کیوں خطرہ خیال کیا جاتا ہے جبکہ دیو ہیکل امریکی ذخیرے کو کوئی پوچھتا بھی نہیں؟ ان غیر معقول سوالوں کا جواب تمام معقول لوگوں کیلئے واضح ہے۔ اس سب کی تفصیل ٹرمپ کی الف لیلیٰ میں موجود ہے یا پھر سادہ الفاظ میں: وہ برے لوگ ہیں اور ہم اچھے لوگ ہیں۔

بدقسمتی سے حقیقی دنیا اور الف لیلیٰ کی کہانیوں میں کچھ اہم تضادات موجود ہیں اور وہ یہ کہ کبھی کبھی یہ جاننا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ اچھے لوگ کون ہیں اور برے کون۔ شام اس الجھن کی شاندار مثال ہے۔ شام میں امریکہ اور اس کے سعودی اور اسرائیلی دوست پچھلے کئی سالوں سے خوفناک اور رجعتی ترین اسلامی دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ وکی لیکس نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کو پتہ تھا کہ سعودی عرب داعش کی مالی امداد اوراسلحہ فراہم کر رہا ہے جبکہ اسی اثنا میں امریکہ اور اسرائیل القاعدہ سے جڑے بدمعاشوں کی پشت پناہی کر رہے تھے۔

ان کا مقصد یہ تھا کہ اسد آمریت کا تختہ الٹ دیا جائے (اور اس سے بھی زیادہ خوفناک متبادل کو اقتدار دے دیا جائے) لیکن ان کو، ان کے عزائم سمیت بری طرح سے کچل دیا گیا ہے۔ ان کی شکست کی ایک بہت بڑی وجہ ایران اور اس کے شیعہ عسکری حامیوں، خاص طور پر حزب اللہ کی شامی جنگ میں مداخلت ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس وقت ایرانی عراق اور شام کے بڑے حصوں اور لبنان میں حزب اللہ (جو اب ایک مضبوط عسکری قوت بن چکی ہے)کے ذریعے قابض ہیں۔

ٹرمپ کہتا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ خاص طور پر بہت غلط تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاہدے کی تمام شقوں پر ایران عمل کر رہا ہے، امریکہ نہیں۔ امریکی اور برطانوی خفیہ ایجنسیاں سمجھتی ہیں کہ تہران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا اور ایران کے جوہری منصوبوں کی مستقل عالمی نگرانی ہو رہی ہے۔ لیکن پہلے ہی اوباما کی حکومت نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں تھیں جو معاہدے کی روح کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔  

اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ ’’لاثانی بیوپاری‘‘ ایران کے ساتھ معاہدہ ہی منسوخ کر دے گا، حالانکہ اس کی اپنی حکومت کے زیادہ سمجھدار لوگ اسے ایسا کرنے سے منع کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر وہ واقعی ایسا کرتا ہے، تو پھر نتیجہ کیا نکلے گا؟ تہران، شمالی کوریا کے نقش قدم پر چل پڑے گا، اپنے جوہری پروگرام کو تیز تر کر دے گا اور شمالی کوریا کی طرح امریکی یہاں بھی کچھ نہیں کر سکیں گے۔

اسرائیلیوں کو شاید کچھ کرنے کا شوق چڑھے۔ لیکن کسی بھی عسکری کاروائی کیلئے ان کے پاس محدود اختیارات ہیں اور وہ بھی صرف فضائی بمباری کی حد تک موجود ہیں۔ یہ کوشش رائیگاں جائے گی کیونکہ ایرانی ان تمام کاروائیوں کیلئے تیار ہیں اور ان کی جوہری تنصیبات مضبوط کنکریٹ کے زیر زمین بنکروں میں محفوظ ہیں جہاں صرف انتہائی طاقتور بارود کے ساتھ براہ راست نشانہ بازی ہی کوئی کام دکھا سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ اس طرح کی کسی بھی بمباری سے ایرانی جوہری پروگرام کچھ عرصے کیلئے ملتوی ہو جائے گا لیکن اسے کامیاب ہونے سے روکا نہیں جا سکتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ عوام حکومت کے پیچھے متحد ہو جائے گی اور ایران جوہری قوت بننے کے راستے پر گامزن رہے گا۔

ٹرمپ کی پسند اور ناپسند

شیکسپیئر کے ڈرامے Midsummer Night’s Dream کے کردار بوٹم(Bottom) کی طرح مسٹر ٹرمپ ’’کوئل کی میٹھی آواز‘‘ میں ہی چنگھاڑ سکتا ہے۔ خواتین کو پریشانی سے بچانے کیلئے وہ ’’کسی نوزائیدہ فاختہ کی طرح نرمی‘‘ سے چنگھاڑے گا۔ لیکن اگلے دن تمام اخباروں کی سرخیاں ان شر کی طاقتوں کے خلاف دھمکیوں سے بھری پڑی تھیں جنہیں امریکہ کو دھمکانے یا اس کی شہریوں کی میٹھی نیند خراب کرنے کی ہمت ہوئی۔ اس کی شعلے اگلتی قوم پرستی کو انتہائی مکاری سے سفارتی لفاظی کے نقاب میں لپیٹا گیا کہ تمام ’’ذمہ دار اور پروقار آزاد ممالک‘‘ متحد ہو کر ہم آہنگی کے ساتھ ’’بدمعاش آمریتوں‘‘ (شمالی کوریا اور ایران) کو تنہا کر دیں گے تاکہ عالمی امن اور اپنے دفاع کے مقدس مقاصد کو نبھایا جا سکے۔ اس کا بنیادی پیغام سب کیلئے بلند و بانگ اور واضح تھا: سب سے پہلے امریکہ۔

مسٹر ٹرمپ نے قوم پرستی(جسے وہ حب الوطنی کہنا پسند کرتا ہے) اور آزاد منڈی (یعنی سرمایہ داری) کے حق میں بڑا ہی جذباتی (لیکن ضرورت سے زیادہ)راگ الاپا۔ اس نے دوسرے ممالک کو تاکید کی کہ وہ اس کی شاندار مثال کی تقلید کریں، تمام پل جلا ڈالیں اور اپنی اپنی مضبوط قومی معیشتیں بنائیں۔ اس نے ان محرکات کیلئے غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا جنہوں نے امریکہ کو زبردست بنایا ہے: ذاتی پہل، آزاد کاروبار، مذہب اور خاندان؛ جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہ کسی بھی صحت مند سماج کی بنیادیں ہیں۔ (کسی وجہ سے وہ مادریت اور سیب کی کچوری کا ذکر کرنا بھول گیا )۔

یہ سب بنیادی طور پر دنیا کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسفیانہ سمجھ بوجھ ہے۔ یہ تمام اس کی ا قدار ہیں۔ لیکن پھر وہ کس چیز کا مخالف ہے؟ اس نے انہیں گرداننے میں کوئی وقت ضائع نہیں کیا: سب سے پہلے، سوشلزم، جس کے بارے میں سوچتے ہی صدر صاحب کو غصے کے ایسے شدید دورے پڑتے ہیں کہ ان کا بلڈ پریشر بے قابو ہو جاتا ہے۔ اس کی دوسری سب سے بڑی ناپسندیدگی، عالمی افسر شاہی۔

لیکن ٹرمپ جیسا شاندار غیر معمولی دماغ اس حقیقت سے تو بے خبر نہیں ہو سکتا کہ اقوام متحدہ بذات خود عالمی افسر شاہی کی سب سے شاندار مثال ہے۔ لیکن اس حقیقت کا ذکر نہ کرنا بھول پن کا نتیجہ نہیں۔ ٹرمپ اور یورپ کے بوربن بادشاہوں میں کئی مماثلتیں ہیں اور ان کی طرح ٹرمپ نہ تو کچھ سیکھتا ہے اور نہ ہی کچھ بھولتا ہے۔ اس کی دیوانہ وار قوم پرستی، جس کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ ساری دنیا کو امریکی سامراج کے بوٹ تلے دبا دیا جائے، سکے کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ یہ ہے کہ ان اتحادیوں پر شدید بداعتمادی ہے جو وافر گرمجوشی کے ساتھ اس بوٹ کو نہیں چاٹتے۔ ۔ اور اقوام متحدہ جیسی تنظیموں کیلئے شدید نفرت اور کراہت۔

اقوام متحدہ کی بنیاد دوسری عالمی جنگ کے بعد رکھی گئی جس کا نام نہاد مقصد یہ تھا کہ مستقبل کی جنگوں اور جھگڑوں سے بچا جائے۔ یہی مقاصد لیگ آف نیشنز کے تھے جس کی بنیاد پہلی عالمی جنگ کے بعد رکھی گئی۔ لینن لیگ آف نیشنز کے بارے میں کہتا تھا کہ یہ ’’چوروں کا باورچی خانہ‘‘ ہے۔ یہ بیان اس کے جانشین پر بالکل صادق آتا ہے۔ جنگوں اور جھگڑوں کو روکنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کا ریکارڈ بالکل اپنے پیش رو جیسا ہے۔ اقوام متحدہ نے کبھی کسی جنگ کو وقوع پذیر ہونے سے نہیں روکا، بلکہ کئی ایک میں تو براہ راست خود بھی شامل رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے بانی حقیقی طور پر یہ سمجھتے تھے کہ یہ تنظیم آگے چل کر عالمی حکومت کی بنیاد بن سکتی ہے۔ لیکن سرمایہ داری میں عالمی حکومت کا مقصد خود تضاد ات سے بھرا ہوا ہے۔ سرمایہ داری کی بنیاد قومی ریاست ہے اور تنظیم کا منشور ہر ممبر ریاست کی آزادی کے تحفظ پر بھرپور زور دیتا ہے۔ یہی منشور تمام ممبران ریاستوں کو تائید کرتا ہے کہ وہ ’’آفاقی انسانی حقوق اور اقداروں‘‘ کی پاسداری کریں اور انہیں فروغ دیں۔ سعودی عرب جیسی آمریتیں اس اعلامیے پر اپنا نام لکھتے وقت ہنس ہنس کیوں کر بدحال نہیں ہوتیں، یہ سمجھ سے باہر ہے۔

ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی طرف چھوٹا سا اشارہ بھی کئے بغیر کہا کہ ’’ہم قوموں کی عظیم بیداری کا عزم کرتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا کہ امریکہ یہ توقع نہیں کرتا کہ ’’مختلف ممالک اسی (امریکی) ثقافت، روایات یہاں تک کہ طرز حکومت کی تقلید کریں گے‘‘۔ لیکن اس نے ان ’’ذمہ دار‘‘ ممالک کی تعریف کی جو دہشت گردی اور دیگر ہولناکیوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ اور اس نے کس ’’ذمہ دار‘‘ ملک کا حوالہ دیا؟ کوئی اور نہیں بلکہ سعودی عرب۔

سعودی عرب

ٹرمپ کا یہ الزام کہ ایران دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کرتا ہے اور سعودی عرب جیسے امن پسند ممالک کیلئے خطرہ ہے، سعودی وزیر خارجہ عادل ال جبیر کے کانوں کیلئے میٹھا رس تھا، جس کی شکل و صورت کی ہیئت کچھ کچھ نامور ایکٹر ونسنٹ پرائس کے شاہکار کردار ڈریکولا سے ملتی جلتی ہے۔ اس قدر تعریف کا سامنا کرتے ہوئے مسٹر ال جبیر کے گالوں پر شرمیلی لالی بس چڑھ ہی گئی تھی۔ لیکن، ڈریکولا کی طرح وہ کبھی بھی شرمیلے پن کا اظہار نہیں کر سکتا۔

بدقسمتی سے ٹرمپ کی الف لیلیٰ کا حقیقت سے دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ اگر ہم وہ تمام تانے بانے تلاش کریں جو تمام جہادی تنظیموں کو اپنے آقا سے جوڑتے ہیں تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر تمام نہیں تو بیشتر کے سرے تہران نہیں، ریاض میں جا ملتے ہیں۔ 9/11 کے حملے میں جس ملک کے سب سے زیادہ شہری ملوث تھے وہ سعودی عرب تھا۔ کچھ اردنی شہری بھی تھے لیکن کوئی عراقی موجود نہیں تھا۔ لیکن یہ عراق تھا، سعودی عرب یا اردن نہیں، جس پر فوج کشی کی گئی۔ 9/11 کے واقعے کے اگلے دن صدر بش نے امریکہ میں تمام ہوائی جہازوں کی پرواز پر پابندی لگا دی سوائے ایک کے: وہ جہاز جو سعودی شہریوں کو امریکہ سے باہر لے کر جا رہے تھے۔ ۔ جن میں اوسامہ بن لادن کے رشتے دار بھی شامل تھے۔

یہ کھلاراز ہے کہ اس وقت مشرق وسطیٰ میں رد انقلاب کا گڑھ سعودی عرب اور اسرائیل ہیں۔ ریاض کا رجعتی ٹولہ، جو تیل کے علاوہ زہریلا وہابی پاگل پن بھی برآمد کرتا ہے، کے تمام مغربی سامراجیوں اور اسرائیل کے ساتھ شاندار تعلقات ہیں(اب تو اسرائیل کے ساتھ فضائی تعلق بھی بن گیا ہے )۔ اپنی بے پناہ دولت کے ساتھ وہ ایجنٹوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو ہزاروں تنظیموں کے ذریعے سعودی عرب کے بگڑے ہوئے مکروہ نظریات پھیلاتے ہیں: پاکستان میں مدرسوں سے لے کر جنوبی افریقہ میں موجود ’’فلاحی تنظیموں‘‘ اور عراق، شام اور لیبیا میں جہادی تحریکوں تک۔

شام اور عراق میں ایران کی کامیابیوں نے واشنگٹن، یروشلم اور سب سے زیادہ ریاض میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ ایرانی/شیعہ اثرورسوخ کو روکنے کیلئے سعودی عرب کے حقیقی حاکم، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن میں ایک نئی مہم جوئی کرنے کی ٹھانی جہاں تہران، حوثی باغیوں کی حمایت کرتا ہے۔

سعودی سربراہی میں عسکری اتحاد ایک خونی جنگ کر رہا ہے، عام شہریوں، سکولوں، ہسپتالوں، اشیائے خوردونوش کے ذخیروں، پانی کے ذخائر، سڑکوں اور بندرگاہوں پر شدید بمباری؛تاکہ یمنی عوام کو فاقہ کشی میں مبتلا کر کے انہیں محکوم بنا لیا جائے۔ فطری طور پر مغرب ان تمام مظالم کے حوالے سے خاموش ہے، جس طرح سے وہ ان مظالم پر خاموش ہے جو سعودی آمریت پچھلی کئی دہائیوں سے اپنی عوام پر ڈھا رہی ہے۔

’’جمہوری‘‘ مغرب جو شام میں ہونے والے حقیقی یا خیالی جنگی جرائم پر اتنا شوروغوغا مچاتا ہے، نہ صرف انسانیت کے خلاف سعودی جرائم پر خاموش ہے بلکہ ان کی سرگرم معاونت بھی کر رہا ہے۔ حال ہی میں برطانوی حکومت نے ایک رپورٹ کو شائع ہونے سے روک دیا ہے کہ برطانیہ میں رجعتی جہادی تنظیموں کی کون پشت پناہی کر رہا ہے۔ ہمیں پتا ہے کہ اس کا جواب سعودی عرب ہے، لیکن انہوں نے جان بوجھ کر اس حقیقت کو دبا دیا۔

سعودی بادشاہت سوچ سے بھی زیادہ خونخوار، کرپٹ، ظالم اور مکروہ آمریت ہے۔ اس وہابی جنت میں موجود رسم و رواج میں کوڑے برسانا، اعضا کا کاٹنا، سنگ بازی کے ذریعے موت، سر قلم کرنا اور صلیب پر چڑھا دینا شامل ہیں۔ لیکن نرم دل مسٹر ٹرمپ یہ امید نہیں رکھتے کہ ان کے سعودی دوست ’’اسی (امریکی) ثقافت، روایات یہاں تک کہ طرز حکومت کی تقلید کریں گے‘‘، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ :سعودی عرب میں جمہوریت کی کوئی ضرورت نہیں، سر قلم کرتے رہو، ہاتھ اور پیر کاٹتے رہو اور جتنے مرضی لوگوں کو صلیب پر چڑھا دو۔ ۔ بس میرے حلقہ اثر میں گھسنے کی کوشش نہ کرنا۔

لیکن ان عسکری مہم جوئیوں کی سعودی عرب بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ ان کی انگلیاں شام میں جل گئیں، جہاں اپنے حامیوں کے ساتھ ان کو منہ ی کھانی پڑی۔ اب یمن میں بھی انہیں شکست کا سامنا ہے۔

وینزویلا

ہال میں کسی گدھ کی طرح اپنی موٹی آنکھیں گھماتے ہوئے ٹرمپ نے وینزویلا پر اپنی نظریں مرکوز کر لیں، جو اس کے مطابق ایک واضح مثال ہے کہ ’’سوشلزم‘‘ میں کیا کیا برائیاں ہیں، جس پر اس نے تنقید کی کہ یہ ایک ’’ناکام نظریہ‘‘ ہے۔ یہ واضح تھا کہ یہ اقوام متحدہ میں اس کی ڈرامائی تقریر کا نقطہ عروج تھا۔ اس نے کہا:

’’امریکہ ہر اس شخص کے ساتھ کھڑا ہے جو ایک جابر آمریت تلے زندگی گزار رہا ہے۔ ہمارا کسی بھی ملک کی سالمیت کے لیے احترام ہمیں اس کے بچاؤ کے لیے متحرک ہونے کا عزم بھی دیتاہے۔ تمام لوگوں کا حق ہے کہ ان کی حکومت ایسی ہو جس میں ان کی حفاظت، ان کے مفادات اور ان کی فلاح و بہبود، بشمول خوشحالی، اولین ترجیح ہو‘‘۔ یہ بات اس کی اپنی ہی سابقہ بات، کہ ’’اسی (امریکی) ثقافت، روایات یہاں تک کہ طرز حکومت کی تقلید کریں گے‘‘ سے کیسے تال میل کھاتی ہے، ٹرمپ ہی بتا سکتا ہے۔

کئی سالوں پہلے ہنری فورڈ نے اپنے گاہکوں کو بتایا کہ وہ کسی بھی رنگ کی گاڑی خرید سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ کالی ہو۔ اب مسٹر ٹرمپ یہ فرما رہے ہیں کہ ساری دنیا کوئی بھی نظام اپنے طور پروضع کر سکتی ہے، بشرطیکہ وہ سرمایہ داری ہو۔ اپنے اس نکتے کو مزید واضح کرنے کیلئے اس نے سوشلزم اور اس کے خلاف ڈھیر ساری بہتان تراشی کر ڈالی:

’’سوویت یونین سے لے کر کیوبااو رینزویلا تک، ، جہاں بھی سوشلزم یا کمیونزم کو اپنایا گیا ہے، اس کا نتیجہ صرف غم، بربادی اور ناکامی رہا ہے۔ جو لوگ ان رد کئے ہوئے نظریات کا پرچار کرتے ہیں، صرف ان لوگوں کی مصیبتوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں جو ان ظالم نظاموں میں رہ رہے ہیں۔ امریکہ ہر اس شخص کے ساتھ کھڑا ہے جو ایک جابر آمریت تلے زندگی گزار رہا ہے‘‘۔

ٹرمپ چنگھاڑا:’’وینزویلا میں مسئلہ یہ نہیں کہ وہاں سوشلزم کا پوری طرح اطلاق نہیں ہوا بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ سوشلزم کا پوری طرح اطلاق ہوا ہے‘‘۔ یہ وہ جملہ تھا جس نے پورے ہال کو اپنے پیروں پر پرجوش تالیوں کے ساتھ کھڑے ہونے پر مجبور کر دینا تھا: اس کے تقریر ساز کا سب سے شاہکار جملہ۔ ایک لمحے کے توقف کے ساتھ، صدر اپنے جبڑے کو کئی انچ باہر نکالتے ہوئے دور کسی مقام پر اپنی آنکھیں جمائے ان پر جوش تالیوں کا انتظار کرتا رہا جو اس شاندار تقریر کا پر جوش خیر مقدم کرتیں۔

اور وہ انتظار کرتا رہا، کرتا رہا۔ ایک سیکنڈ ایسے گزرا جیسے قیامت، پھر ایک اور سیکنڈ، پھر ایک اور سیکنڈ۔ لیکن تالیاں کہیں نہ بجیں۔ نیو یارک میں موجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پر ایک کرب انگیز بھدی خاموشی چھا گئی۔ ۔ صرف چند ایک قہقہوں کی آواز سنائی دی جب کچھ سامعین کو اندازہ ہوا کہ صدر کا مسئلہ کیا چل رہا ہے۔ بالآخر۔ ۔ جب ٹرمپ کئی لمحے مایوس کن پریشانی میں کھڑا رہا۔ ۔ کچھ نرم دل سامعین نے ہال میں ہلکی پھلکی تالیاں بجا ہی دیں۔ لیکن تالیوں کی دھیمی آواز میں ہی اس کی ناکامی کی داستان چھپی ہوئی تھی۔

جو تالیاں بجیں بھی وہ ضرور اسرائیل، سعودی عرب، مصر اور فلپائن کے ڈیسکوں سے آئی ہوں گی۔ ساتھ ہی اس میں تھیریسا مے اور بورس جانسن نے بھی پورا زور لگا کر تالیاں بجائی ہوں گی، اس امید پر کہ سمندر پار، ان کے مالک نے ان کی تالیاں سن کر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہو گا کہ برطانیہ کے ساتھ خاص رشتہ۔ ۔ وہی رشتہ جو ایک پالتو کتے اور مالک کا ہوتا ہے۔ ۔ زندہ اور جاوداں ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ جس نظام نے انسانیت کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے وہ سوشلزم نہیں بلکہ سرمایہ داری ہے۔ جس نام نہاد آزاد منڈی کی معیشت سے اسے عشق ہے، اس نے دنیا کو سوائے غم، ذلت و رسوائی، تباہی اور ناکامی کے اور کچھ نہیں دیا، خاص طور پر جب سے منڈی کی معیشت دس سال پہلے ہوشربا گراوٹ کا شکار ہوئی ہے۔ اور وینزویلا کے مسائل مکمل سوشلزم کے اطلاق کی وجہ سے نہیں بلکہ تھوڑے بہت سوشلزم کے اطلاق کی وجہ سے ہیں۔  

بولیورین انقلاب نے صحت، تعلیم اور رہائش کے حوالے سے بے پناہ اصلاحات کیں (یہ شعبے امریکہ میں تباہ و برباد ہو چکے ہیں جو کسی بھی ترقی یافتہ اور دولت سے مالا مال ملک کو زیب نہیں دیتا اور ٹرمپ کی قیادت میں ان کی بربادی میں مزید اضافہ ہوتا چلا جانا ہے)۔ لیکن بدقسمتی سے یہ کام منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جا سکا: زمین، بینکوں اور بڑی صنعتوں کی نجی ملکیت کا خاتمہ۔

اس کا نتیجہ موجودہ گھمبیر صورتحال ہے جس میں سرمایہ دارانہ انتشار، رد انقلابی بورژوازی کی دانستہ تخریب کاری، جس کی امریکہ کھل کر معاونت کر رہا ہے، انقلاب کو تباہ برباد کرنے کے درپے ہے اور وینزویلا کو قرون وسطیٰ کے زمانے میں دھکیلنے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس عظیم کارنامے کو سر انجام دینے کیلئے مسٹر ٹرمپ نے اپنی مستعدی دکھاتے ہوئے وینزویلا کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ باور کرایا جا سکے کہ ’’سوشلزم‘‘ ناگزیر طور پر ’’لوگوں کی مصیبتوں میں اضافہ‘‘ کرتے ہوئے، ’’غم، تباہی اور ناکامی‘‘ کا موجب ہے۔ اور اگر یہ تیزی سے ناکام نہیں ہو رہا تو واشنگٹن اس کو ناکام کرانے کیلئے سر توڑ کوششیں جاری رکھے گا۔

’’سب سے پہلے امریکہ‘‘

دی اکانومسٹ کا تجزیہ تھا کہ یہ ’’ کسی بھی امریکی صدرکے منہ سے ایک گھمبیر، ہوشربا تقریر تھی‘‘۔ لیکن کیوں؟ یہ ایک ایسی تقریر تھی کہ جس نے امریکی سامراج کی اصلیت کھول کر سب کے سامنے رکھ دی۔ اس نے اس کا مکروہ، لالچی، خود غرض اور کرخت چہرہ ننگا کر دیا ہے۔ اپنی تمام تر کالک کے ساتھ اس کی روح عیاں ہو گئی ہے۔ اس کی اخلاقیات ایک ڈاکو کی اخلاقیات ہیں جس کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے، ہر جرم چاہے کتنا ہی مکروہ کیوں نہ ہو، ہر جان کی قیمت، چاہے کتنی ہی قیمتی جانوں کا نقصان کیوں نہ ہو، بس اپنی دولت میں اضافہ ہوتا رہے۔ یہی ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘ کا اصل مطلب ہے۔

ٹرمپ کے اعلان شدہ آئیڈیل وہ سخت جان اور خود پر انحصار کرنے والے پہلے امریکی ہیں جنہوں نے لکڑیاں کاٹ کر اپنے گھربنائے اور ریاست سیکسی بھی قسم کی مدد یا پیسہ نہیں لیا۔ وہ ایک چھوٹی سی تفصیل بتانا بھول جاتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف جنگلوں اور بیابانوں کو جڑی بوٹیوں اور جانوروں سے صاف کیا بلکہ یہاں کے ان بدقسمت لوگوں کا بھی صفایا کر دیا جو یہاں ہزاروں سالوں سے رہ رہے تھے اور انہوں نے کبھی بھی کولمبس کا نام تک نہیں سنا تھا۔

حقیقت میں خود انحصاری کے ان خوبصورت جملوں کا اس زندگی کی یاد بیقرار سے کوئی تعلق نہیں جو تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکی ہے اور اس کی یاد صرف جذباتیت کے پرفریب بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہے۔ یہ اس جدید خود پسندی، لالچ اور خود غرضی کی روح ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لوگوں کو قوت محرکہ فراہم کرتی ہے۔ قوم پرستی کی تنگ نظری، حب الوطنی کا لبادہ اوڑھے ڈھونگ رچاتی ہے، جس کے متعلق ہمیں بخوبی علم ہے کہ یہ کسی بھی بدذات شخص کی پناہ کا آخری مسکن ہوتی ہے۔

انسانی مصیبت کی طرف سرد مہری، اپنا مکروہ چہرہ اس مطالبے کی پیچھے چھپاتی ہے کہ غریب، بیمار اور عمر رسیدہ اپنے آپ کو سنبھالیں اور اپنے ذرائع پر انحصار کریں، جبکہ ان کے پاس کوئی ذرائع سرے سی ہی موجود نہیں ہوتے۔ یہ آزاد منڈی کا فلسفہ ہے جو بیماروں کو طبی امداد دینے کے بجائے گٹر میں اذیت ناک موت مرنے دیتا ہے۔ ہیپو کریٹک حلف اعلان کرتا ہے کہ ہر انسانی جان مقدم ہے لیکن اس کو پیسے کے بدلے بیچ دیاجاتا ہے۔

اوباما کا صحت عامہ کا قانونی بل اس خوفناک حقیقت کو تبدیل کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا۔ لیکن یہ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ضرورت سے زیادہ ہے جو ایک لنگڑے کی بیساکھی کو گدھے کی طرح لات مار کر پرے کرتا ہے اور پھر مطالبہ کرتا ہے کہ اب اپنے دونوں پیروں پر کھڑے ہو جاؤ۔ لبرل بورژوازی کیلئے یہ سب کچھ، ’’گھمبیر اور ہوشربا ‘‘ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں پسند نہیں کہ جس مکروہ نظام کے وہ محافظ ہیں اس کا اصلی چہرہ عوام کے سامنے ننگا ہو جائے۔ ان کی خواہش ہے کہ یہ مکروہ چہرہ ہمیشہ کیلئے اعتدال، مٹھاس اور روشنی کے لبادوں میں لپٹا رہے۔ یہی ہیلری کلنٹن اور باراک اوباما کی اصل حقیقت ہے، جو وہی دوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو ٹرمپ کی ہے لیکن ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس میں سکرین (ایک کیمیکل جو اتنا میٹھا ہے کہ جان لیوا ہے) کی بھاری مقدار بھی شامل کر لی جائے۔

سرمایہ داری کے اصل مقاصد، فطرت اور طریقہ کار سے متعلق اتنا بے جھجک ہو کر مسٹر ٹرمپ نے دنیا کی بہت بڑی خدمت کی ہے، حالانکہ یہ سب کچھ اس نے انجانے میں کیا ہے۔ جہاں تک ٹرمپ کی الف لیلیٰ کا تعلق ہے، شاید کوئی کہے کہ اس کے آخر میں سب لوگ ہنسی خوشی رہیں گے۔ لیکن ہمیں اس پر شدید تحفظات ہیں۔ ۔ ۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh