تحریر :رزاق غورزنگ|

ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنی پالیسی کافی غوروخوض کے بعد جاری کی۔ اپنے خطاب میں اس نے افغانستان کے بارے میں انتہائی اہم اور بنیادی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا کام ملک کو تعمیر کرنا نہیں بلکہ دہشت گردوں کو مارنا ہے۔ ہم اب امریکی فوج کو دور افتادہ ملکوں میں جمہوریت قائم کرنے کے لیے استعمال نہیں کرینگے۔ وہ دن گزر چکے اب ہم اپنے اتحادیوں سے مل کر اپنے مشترکہ مفادات کی حفاظت کریں گے۔‘‘ امریکی صدر کا یہ بیان نیو لبرلزم کی موت ہے۔ جس نے اپنی پوری تاریخ میں انسانی حقوق، جمہوریت اور تعمیر کے نام پر پسماندہ اور مظلوم خطوں میں ظلم اور جبر کی داستانیں رقم کی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ان لبرل، پوسٹ ماڈرن پیٹی بورژوا ڈیموکریٹ اورنام نہاد قوم پرست دانشوروں کے منہ پر طمانچہ ہے جو اپنے لمبی لمبی تحریروں میں یہ تناظر دیتے تھے کہ امریکہ افغانستان میں ریاستی اداروں کو مضبوط کرے گا اور افغانستان کو ایک مضبوط اور جاپان کی طرز پر جدید ریاست بنائے گا۔ ان حضرات کا المیہ یہ ہے کہ وہ واقعات اور سیاسی عمل کو اس کے ماخذ، تضادات اور حرکت سے کاٹ کر اپنی موضوعی خواہشات کے تحت تجزیہ کرتے ہیں۔ عا لمی اور علاقائی سیاست کی حرکیات سے وہ اپنے پہلے سے فرض کئے ہوئے جذباتی رومانس کو تسکین دینے کیلئے اپنی مرضی کے نتائج نکالتے ہیں۔ ان کے تناظر اور سیاسی تجزئیے اتنے غیر سائنسی ہو چکے ہیں کہ جس میں اگلے ایک دن تک کی پیش گوئی نہیں ہوتی۔ ان کا ایک دن قبل کا تجزیہ آج ایک مذاق دکھائی دیتا ہے۔ وہ معیشت، سیاست اور زندہ قوتوں کے درمیان تضادات اور ٹکراؤ کو جمود اورٹھہراؤ میں دیکھتے ہیں۔ ان نام نہاد دانشوروں اور ان کے سیاسی لیڈروں کا یہ عقیدہ ہے کہ تبدیلیاں اور استحکام جبر اور ظلم پر مبنی حکمران طبقات کے بالائی ڈھانچوں کے ذریعے آتے ہیں۔ ان کے نقطہ نظر کے مطابق عوام انتہائی بیوقوف ہیں۔ ان کو اپنے حقوق تک کا ادراک نہیں۔ ان کو منظم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے ان لوگوں نے افغانستان کے حوالے سے مختلف استعماری قوتوں کو صرف اپنے قیمتی مشورے دیئے ہیں۔ لیکن جس سیاست، فلسفے، اقتصادی اور معاشی ڈھانچے کے اندر یہ استعماری طاقتیں اور ان کے مشورے دینے والے حل چاہتے ہیں وہ تاریخ کے محاذ پر اپنی معروضی ضرورت کی بنیاد کھو چکا ہے۔ اس لیے ان کی ہر تدبیر اور حکمت عملی نے افغانستان کے مظلوم اور مفلوک الحال عوام کے زخموں اور تکلیفوں میں اضافہ کیا ہے۔  

لینن سے ایک بار کسی نے کہا کہ ’’جنگ ہولناک ہوتی ہے‘‘ تو لینن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہاں، جنگ ہولناک ہوتی لیکن جنگ ہولناک حد تک منافع بخش بھی ہوتی ہے۔‘‘ جدید تاریخ میں سامراجی ممالک نے ساری جنگیں اپنے سامراجی مفادات اور ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے بھاری منافعوں کیلئے لڑی ہیں۔ ایک طرف بیرونی دشمن کا خوف ابھار کر اپنے ملکوں میں جنگی قوانین نافذ کیے اور عوام کے بنیادی حقوق معطل کر کے داخلی طور پر ان کا شدید استحصال کیا گیا ہے۔ تو دوسری طرف اپنی خارجہ پالیسی میں پسماندہ ممالک پر جنگیں مسلط کر کے اسلحے کی ملٹی نیشنل اجارہ داریوں کیلئے بڑی بڑی مارکیٹیں پیدا کی ہیں۔ غریب اور مظلوم عوام کی خونریزی، ان کی ہجرتوں اور بربادیوں کی قیمت پر ان اجارہ داریوں نے اپنے بھاری منافع کمائے ہیں۔ یہ اجارہ داریاں اتنی طاقتور ہوچکی ہیں کہ سامراجی ریاستوں کی خارجہ پالیسیاں ان کے مفادات کے مطابق تشکیل پاتی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے آغاز پر ٹراٹسکی نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’عالمی جنگ کے اختتام پر امریکہ ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرے گا لیکن یہ ایسی عالمی طاقت ہوگا جس کی بنیادیں بارود سے بھری ہوں گی۔‘‘ ٹراٹسکی کی یہ پیش گوئی آج بالکل سچ ثابت ہورہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں آج جو خونریز مناظر ہیں وہاں پر جو انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، جو ہجرتیں اور دکھ والم سے بھری کہانی ہے ان کی ذمہ دار امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی استعماری اور جنگی پالیسیاں ہیں۔ افغانستان میں گزشتہ چالیس سال سے امریکہ نے اپنے اتحادیوں سے مل کر جنگی پالیسیاں نافذ کی ہیں۔ پہلے پیٹرو ڈالر جہاد کے نام پر اور اب دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے نام پر افغانستان کے اندر اتنا اسلحہ اور بارود استعمال کیا گیا ہے جس کی شاید جدید تاریخ میں مثال نہ ملے اور اس کا نتیجے ہجرتیں، بر بادیاں اور زخم ہیں۔ جو کہ مظلوم اور محکوم افغان عوام دہائیوں سے برداشت کرتے آرہے ہیں۔

افغانستان میں استعماری مداخلت کے حوالے سے سب سے مجرمانہ کردار پاکستانی ریاست کا رہا ہے۔ پاکستانی ریاست نے افغانستان اور پاکستان کے اندر ہر اس آواز کو اپنے عالمی آقاؤں کی حمایت کے ساتھ دبایا جس نے افغانستان میں اس کی استعماری مداخلت کی مخالفت کی۔ پچھلے چالیس سال سے پاکستان نے امریکہ اور سعودی عرب کی حمایت کے ساتھ مذہبی بنیاد پرستی کو ترقی پسند اور آزادی کی تحریکوں کے خلاف استعمال کیا ہے لیکن وہ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ تاریخ اگرعمل سے واقف ہے تو مکافات عمل سے بھی واقف ہے، آج وہ مکافاتِ عمل شروع ہو چکا ہے۔ پاکستان اور ان کے آقا کے درمیان تضادات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے حوالے سے اپنے خطاب میں بیان دیتے ہوئے کہا ’’ہم اب مزید پاکستان کی جانب سے طالبان اور دوسرے گروہوں، جو پورے خطے کیلئے خطرہ ہیں، کو محفوظ پناگاہیں فراہم کرنے کے بارے میں خاموش نہیں رہ سکتے۔ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر امداد دیتے ہیں جبکہ وہ انہی دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے جن کے خلاف ہم لڑ رہے ہیں۔‘‘ امریکی صدر نے اپنے خطاب میں افغانستان کے اندر انڈیا کے کردار کو نہ صرف سراہا بلکہ ان سے مزید کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی۔

امریکہ کی اس نئی پالیسی اور خطے کے اندر تبدیل ہوتی صورتحال جہاں امریکہ کی سامراجی پالیسی کی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے وہاں یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان کی افغانستان کے اندر سامراجی پالیسی کو بھی شکست ہوئی ہے۔ افغانستان ان کیلئے دلدل ثابت ہوا اس لئے اب پاکستان نے انتہائی دفاعی پوزیشن اختیار کی ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بہت جلد چین، روس، ترکی اور ایران کا دورہ کیا تاکہ وہ اپنے استعماری پالیسی کیلئے حمایت حاصل کرے لیکن اب پاکستان نہ تو مکمل طور پر امریکہ کی سامراجی غلامی سے چھٹکارا پاسکتا ہے اور نہ روس، چین، ترکی اور ایران اس کی افغان پالیسی کی مکمل حمایت کر سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں اپنے استعماری عزائم کو پورا کرنے کیلئے پاکستان کبھی بھی ایک آزاد ریاست نہیں رہا اور اس کو ہر وقت ایک عالمی سامراجی طاقت کی حمایت کی ضرورت رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے افغانستان، بلوچستان اور فاٹا میں استعماری مفادات اور عزائم بعض اوقات عالمی طاقتوں سے ٹکراؤ میں آتے ہیں لیکن فیصلہ کن کردار پھر عالمی طاقتوں کے مفادات کا ہی ہوتا ہے کیونکہ پاکستان کی ساری معیشت کا دارومدار سامراجی مالیاتی اداروں پر ہے جو کہ ان عالمی طاقتوں کے قبضے میں ہیں۔ خطے میں پاکستان کی استعماری سیاست اور اس کو نافذ کرنے کا کردار ایسا ہے جس طرح کوئی ایجنٹ کسی آجر یا کارخانہ دار کیلئے کمیشن کے لیے کام کرتا ہے۔ جب تک آجر یا کارخانہ دار کے مفادات اور منافع محفوظ ہوں گے تب تک ایجنٹ کی نوکری رہے گی اور ان کو اپنا حصہ فیصد کی بنیاد پر ملتا رہے گا لیکن جب آجر کے مفادات اور منافع خطرے میں پڑیں گے تو ایجنٹ کی فیصدی اور نوکر ی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔

افغانستان کے اندر مذہبی بنیاد پرستی کی کالی رجعت کو مغربی میڈیا، پاکستان اور افغانستان کے اندر بحثوں میں بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ باور کرایا جاتا ہے کہ مذہبی بنیاد پرستی اور طالبان بہت طاقتور ہیں۔ ان بحثوں سے لبرلزم اور ان کے حواری دانشور دو مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ افغانستان اور خطے میں حقیقی لڑائی صرف لبرلزم اور مذہبی بنیاد پرستی کے درمیان ہے اور آپ کو لازمی طور پر یا تو لبرلزم کا ساتھ دینا ہوگا یا مذہبی بنیاد پرستی اور طالبان کا اور وہ بڑی شدت سے چلاتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ جبکہ یہ نام نہاد دانشور ان شدید بحثوں میں انتہائی مجرمانہ طور پر اس چیز کو چھپاتے ہیں کہ تاریخی طور پر یہ لبرلزم ہی تھا جس نے مذہبی بنیاد پرستی کو تخلیق کر کے افغانستان اور خطے میں محنت کشوں، کسانوں اور طلبا کی تحریکوں کے خلاف استعمال کیا۔ دوسری طرف یہ ان انقلابی نوجوانوں کو ڈراتے ہیں جو لبرلزم اور بنیاد پرستی دونوں کے خلاف سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ وہ انہیں کہتے ہیں کہ دیکھو طالبان بہت مضبوط ہیں۔ یہ بیوقوف عوام ان کی حمایت کر رہی ہے اور ہمیں لازمی طور پر عالمی سامراجی طاقتوں کی حمایت حاصل کرنی چاہیے۔ ان کے خیال میں افغانستان میں امن اور استحکام ان ظالمانہ اور جابرانہ قوتوں کی حمایت کر کے آسکتا ہے۔ 
لبرلزم اور بنیاد پرستی کی اس جنگ کے پس پردہ افغانستان کے مظلوم عوام پر جبر ہو رہا ہے، انہیں ہجرتوں پر مجبور کیا جا رہا ہے، ان کے گھر اجڑ رہے ہیں اور ان کے روزگار، تعلیم، صحت اور دیگر حقوق پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں۔ یہ حضرات تلقین کرتے ہیں کہ نہیں نہیں، یہ اتنے بنیادی مسائل نہیں ہیں، ہمیں اپنی جابر حکومتوں کا ساتھ دے کر سب سے پہلے امن قائم کرنا چا ہئے۔ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ان قوتوں سے مل کر امن کیلئے جدو جہد کی جائے جو اس تمام تر بربادی اور بد امنی کے ذمہ دار ہیں۔ 
ان نام نہاد دانشوروں کے تناظر کے برعکس ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مذہبی بنیاد پرستی اور طالبان کی افغانستان اور خطے میں کوئی عوامی اور سماجی بنیادیں نہیں ہیں۔ طالبان کوئی متحدہ سیاسی و تنظیمی اکائی نہیں ہیں بلکہ یہ مختلف ٹکڑوں میں بٹے خونخوار مسلح جتھے ہیں جو محنت کشوں، کسانوں، انقلابی نوجوانوں اور عورتوں کے سخت دشمن ہیں۔ یہ خونخوار جتھے محنت کشوں اور نوجوانوں کے ہر سیاسی اور ثقافتی تشخص کو مٹانا چاہتے ہیں۔ یہ درندے اپنے سیاسی کردار میں کبھی بھی آزاد نہیں رہے ہیں ان کی حرکیات اور ڈوریں خطے کی رجعتی اور استعماری ریاستوں سے ہلائی جاتی ہیں اور کنٹرول بھی یہیں سے ہوتی ہے۔ پشتونوں اور افغانوں کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ ان کے سماج کے بطن سے کبھی بھی مذہبی بنیاد پرستی کو حمایت نہیں ملی۔ پشتونوں اور افغانوں کی سرزمین سے جب بھی سامراج اور ظلم جبر کیخلاف تحریکیں اٹھی ہیں تو مختلف استعماری قوتوں نے باہر سے مذہبی بنیاد پر ستی کو ان تحریکوں کے خلاف استعمال کیا ہے۔ بایزید روشان سے لے کر امیر امان اللہ تک اور کا کا جی صنوبر حسین، خدائی خدمتگار اور خلق انقلاب تک جتنی آزادی کی تحریکیں اٹھی ہیں ان کو شکست دینے کیلئے سامراجی قوتوں نے باہر سے سرمائے کے زور پر مذہب کا استعمال کیا ہے۔ افغانستان میں امریکہ اور مغرب کی حمایت یافتہ نام نہاد قومی وحدت حکومت افغان عوام کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ دہشت گردی دن بدن بڑھ رہی ہے۔ عوام کے اندر عدم تحفظ بڑھتا جا رہا ہے۔ اکثریتی افغان عوام کو یہ نااہل حکومت روزگار سمیت تمام بنیادی ضروریات دینے میں ناکام رہی ہے۔ پوری دنیا میں شام کے بعد افغانستان دوسرا ملک ہے جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ دہشت گردی سے بچنے اور روزگار ڈھونڈنے کیلئے ایران، پاکستان اور یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔  
عالمی طور پر آج ہم ایک ایسے عہد کے اندرداخل ہو چکے ہیں جہاں پر بہت بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جس کی تاریخ میں شاید مثال نہ ہو۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی استعماری نظام نے جس آرڈر کو بنایا تھا وہ ٹوٹ کر بکھر رہا ہے۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد امریکہ واحد سپر طاقت کے طور پر ابھرا تھا پوری دنیا پر اس کی اجارہ داری قائم ہو چکی تھی لیکن پچھلے عرصے میں شدید اقتصادی بحران اور فوجی مہم جوئیوں نے اس کی عالمی طاقت کو کمزور کر دیا۔ دنیا پر پہلے کی طرح اپنی اجارہ داری قائم رکھنے میں وہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہاہے۔ اس کے نسبتی زوال کے نتیجے میں ایک خلا جنم لے رہا ہے جس کو چین اور روس جیسی نئی ابھرتی ہوئی سامراجی طاقتیں پُر کر نے کی کوشش کررہی ہیں۔ شام میں امریکہ روس اور ایران کے سامنے بے بس ہے۔ شام کے سارے فیصلے امریکی مرضی کے خلاف اب روس کر رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے تاریخی اتحادیوں کے ساتھ امریکہ کے تضادات ابھر رہے ہیں۔ اس کے یہ اتحادی اب دوسری ابھرتی ہوئی سامراجی قوتوں کے ساتھ اتحاد بنا رہے ہیں۔ شمالی کوریا ہر امریکی دھمکی کا جواب میزائل داغ کے دے رہا ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات شدید خراب ہیں بلکہ یورپی یونین خود شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ عالمی تعلقات کے اس بدلاؤ اور طاقتوں کے بدلتے ہوئے توازن میں جنوبی ایشیا کے اندر بھی نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں۔ ایک طرف روس، چین اور ایران ہیں تو دوسری طرف امریکہ اور انڈیا ہیں۔ یہ طاقتیں اپنی استعماری رقابتوں کیلئے افغانستان، پاکستان اور بلوچستان کو میدانِ جنگ بنائیں گی۔ ایسے میں یہ خطہ مستقبل میں شدید عدم استحکام اور خونریزی سے دوچار ہوگا۔ اس صورت حال میں انقلابیوں پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ پاکستان، افغانستان، ایران اور انڈیا میں ترقی پسند نوجوانوں اور محنت کشوں پر مشتمل ایک ایسی مارکسی قوت تعمیر کریں جو اس تمام تر خونریزی اور بر بریت کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ایسا متبادل فراہم کر سکے جو حقیقی امن، خوشحالی اور سماجی ترقی کی بنیادیں فراہم کرے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh