دسمبر میں بشار الاسد کی حامی قوتوں کے حلب پر دوبارہ قبضے نے، نہ صرف شام کی خانہ جنگی کو بلکہ خطے میں موجود بحران کو فیصلہ کن موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ لیکن آنے والے دنوں میں عالمی تعلقا ت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو

گزشتہ سال دسمبر کے اختتام پر استانہ میں ہونے والے مذاکرات میں شام میں جنگ بندی کا فیصلہ کیا گیاتھا، یہ مشرق وسطیٰ کی جدید تاریخ میں ہونے والی سب سے اہم کانفرنس تھی جس میں امریکہ کی عدم موجود گی واضح طور دیکھی جا سکتی ہے۔ بشارالاسد کے مخالف دھڑے میں سے صرف ایک ہی ملک ترکی موجود تھا ۔جس نے گزشتہ گرمیوں میں اس وقت اپنی حکمت عملی بدلناشروع کی جب شام کی حزب مخالف کے کمزور ہونے کے عمل کا آغاز ہو چکا تھا۔

کانفرنس میں موجود دیگر طاقتوں میں ایران ،روس اور شام جیسے ممالک شامل تھے جنہیں مغربی میڈیا میں سخت بدنام کیا جا تا تھا۔ اس کے باوجود بھی جب کانفرنس میں معاہدے کو پیش کیا گیا تو جان کیری کو اس کی حمایت کرنا پڑی۔ عالمی معاملات میں امریکی پالیسیوں کو نافذ کروانے والے ادارے ،اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے بھی معاہدے کو متفقہ طور پر قبول کر لیا جبکہ کچھ ہفتے پہلے ہی اس ادارے میں موجود امریکی سفیر سمنتھا پاورز نے روس کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا ۔

حلب

 حلب پر دوبارہ قابض ہوتے ہی اسد حکومت نے شام میں موجودسٹریٹجک اور اہم معاشی مقامات پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ جن میں بحیرہ روم کا ساحل، لبنان کی سرحد، جنوب میں واقع درعا نامی قصبہ اور اس کے علاوہ دمشق،حلب ، حمص اور حماہ جیسے چار اہم شہر شامل ہیں ۔ نام نہاد'' فائدے مند شام‘‘ پر منحصر علاقے، جو تما م اہم معاشی اداروں اور ستر فیصد آبادی کے گڑھ پر مشتمل ہیں، اب مکمل طور پر شکست خوردہ اور تھکے ہارے باغیوں کی دسترس سے دور ہو چکے ہیں۔ اسد حکومت کو گرانے کا خیال، اب ناقابل حصول خواب بن چکا ہے۔ 

اسلامی باغیوں کے لیے حلب کی شکست تباہی کے مترادف ہے۔ آخری اہم شہری علاقے سے ہاتھ دھوبیٹھنے اور گزشتہ سال سے کوئی کامیابی نہ مل سکنے کی وجہ سے زیادہ تر جہادی گروہوں کے حوصلے پست ہورہے ہیں۔گزشتہ ڈیڑھ سالوں میں مصالحت اور جنگ بندی کے گیارہ سو معاہدے ہوئے ہیں۔ہزاروں جہادیوں اور ان کے خاندانوں نے اسد کے حامیوں کے آگے ہتھیار پھینک دئیے ہیں جس سے اہم علاقوں پر حکومت کی رٹ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ 

مزید پچیس ہزار حامی دستوں کی تعیناتی کی صورت میں جنہیں حلب شہر کے معاملات سے آزاد کر دیا جائے گا،ان کی موجودگی میں جہادیوں کو آنے والے وقتوں میں حکومت کے خلاف کوئی عسکری کامیابی ملنے کے امکانات مخدوش ہوتے جا رہے ہیں۔پسماندہ دیہی علاقوں کے کناروں تک محدود ہو جانے کی وجہ سے اب ان جہادیوں کے مغربی ، ترکی اورخلیجی آقاؤں کی ان میں دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے جو داعش کو اسد حکومت کے خلاف مالی اور عسکری امداد فراہم کیا کرتے تھے۔ 

اس وجہ سے پہلے ہی کئی بحرانات پیدا ہو چکے ہیں، جن میں سب سے اہم احرار الشام) (اے اے ایس میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ ہے، جس نے اپنی قریبی اتحادی اور القاعدہ سے منسلک جبہت فتح الشام  کے ساتھ مل جہادیوں کے دو بڑے گروہ تشکیل دیئے تھے۔دسمبر میں یہ گروہ اس وقت ٹوٹ کر تقریباًٹوٹ گیا جب ترکی نے احرارالشام کے جبہت فتح الشام کے ساتھ اتحاد کی اپنی سابقہ حمایت واپس کھینچ لی اور اس پر شمالی شام میں ترکی کی جانب سے شروع کئے جانے والےآپریشن کا حصہ بننے کے لئے دباؤ ڈالا۔ درحقیقت، ترکی کی اسی طرح کی ایک چال نے موسمِ خزاں میں حلب میں موجود باغیوں کو اسد کی حامی افواج کے ہاتھوں محصور ہونے اور شکست کھانے سے قبل شدید کمزور کیا تھا۔ جہادیوں کو بنیادی عسکری اور معاشی تعاون فراہم کرنے والا مرکز ترکی ،اب منظرنامے پر اپنی شکست محسوس کرتے ہوئے عسکریت پسندی سے ہاتھ کھینچ رہا ہے۔اس وجہ سے جہادی اور ان کے دیگر حامی ممالک، امریکہ ،سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں ، شدید ہیجان کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ 

امریکی سامراج

سب سے بڑھ کر حلب کا دوبارہ بشار کے قبضے میں چلے جانا، ان ممالک اور شام میں ان کے سامراجی مفادات کے لیے شدید تضحیک کا باعث ہے۔ چھ سال اور سینکڑوں بلین ڈالر جھونکے کے بعد بھی امریکہ، کرۂ ارض پر موجود سب سے بڑی عسکری قوت اور خطے کی دو بڑی امیر ترین اورسب سے طاقتورقوتوں کی جانب سے شروع کی ہوئی عسکریت پسندی اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ 

اسد کے حامی فوجی دستے اُس وقت حلب میں پیش قدمی کر رہے تھے جس وقت امریکی فوجی دستے واقعتااُس سڑک سے محض چند میل کے ہی فاصلے پر موجود تھے اور لڑاکا طیارے اس علاقے پر حملہ کرنے کے لئے فضا میں موجود تھے۔ روس کی فضائی قوت اور میزائل شیلڈ کے سامنے یہ 'سپر پاور ‘کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی۔

مہم کے آخر میں روس کے خلاف ہونے والا سارا شور شرابا اچانک خاموشی میں بدل گیا اور ولادیمیر پیوٹن سے ملنے کے لیے خلیجی شہزادوں اور مغربی سفارتکاروں کی لمبی قطار لگ گئی۔ 

امریکہ کی ایسی عوامی تضحیک ایک نایاب چیز ہے جو عالمی تعلقات میں ایک اہم موڑ کی غمازی کرتی ہے۔ جب سے

 تحریر: حمید علی زادے ۔ ترجمہ: انعم پتافی

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh