تحریر: صبغت وائیں|

 

داس کیپیٹل ہے کیا؟

آج جب میں یہ تحریرلکھنے بیٹھا ہوں تو مارکس کی اس کتاب کو چھپے ٹھیک ڈیڑھ سو سال ہو چکے ہیں جس کے بارے میں اقبال کا کہنا ہے گو مارکس پیغمبر نہیں تھا لیکن اس کے بغل میں کتاب ضرور تھی1؂۔ یہ کتاب جو کہ سب سے زیادہ اپنے جرمن نام یعنی ’’داس کیپیٹل‘‘ ہی سے جانی جاتی ہے، دنیا میں ایک عظیم الشان اور پُر ہیبت حوالے کے طور پر اپنی اہمیت منوا چکی ہے۔ مارکس ہی دانتےؔ کی ڈیوائن کامیڈی کے بابِ دوزخ پر کندہ نقش کا ذکر کرتا ہے2؂ کہ

’’لرزتے قدموں کا اس جا گزر نہیں ہوتا
نگاہ و دل کو یہاں کچھ خطر نہیں ہوتا‘‘

اس ایک کتاب کی اہمیت کو کم کرنے اور اس کو غلط ثابت کرنے کیلئے جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، انسانی تاریخ میں کسی اور کتاب کے خلاف ایسا نہیں ہوا۔ انکی تعداد ہزاروں میں ہے۔ جب بھی کسی نے اس کا ’’رد‘‘ پیش کیا، بڑے بڑے ایوارڈ اور دولت کے انبار اس کے قدموں پر نچھاور کئے جاتے رہے۔ لیکن یہ ایک ایسا طلسم ثابت ہوئی جس کی لوح صرف دل والوں اور عاشقوں ہی کو نصیب ہوئی۔ باقی کسی نے اس کی کلید تک رسائی نہیں پائی۔ آج ان تمام کتابوں اور مصنفوں کا کوئی نام بھی نہیں جانتا جن پر داس کیپیٹل کا ’’رد‘‘ لکھنے کی وجہ سے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے تھے۔ وہ سب کے سب گمنامی کے گڑھوں میں گر گئے اور ہر دور میں پھر یہ سوال آن موجود ہوا کہ کس طرح سے اس کے سر چڑھ کر بولتے جادو کا توڑ کیا جا سکے۔ یہاں تک کہ آج بھی اس کا متعلقہ ہونا اپنی نوعیت کا سب سے بڑا سوال سمجھا جا رہا ہے۔ پچھلے سال بھی معیشت کے سب سے بڑے جریدے کے سرِورق پر یہی سوال تھا کہ ’’کیا مارکس واقعی درست تو نہیں تھا؟‘‘۔

آخر ایسا کیا ہے اس کتاب میں کہ جس کا نام سن کر مخالفین منہ سے کف اڑانا شروع کر دیتے ہیں؟ حوالہ مانگ لیں تو شریف اور عزت دار لوگ بغلیں جھانکنا شروع کر دیتے ہیں اور طُرم خان اور شوہدے قسم کے توتکار اور مخول مذاق۔ یہ ایک ایسی اقلیم ہے جس کو سر کرنا تو دور، اس کے اندر داخلے کی بھی اس کے کسی مخالف کو ہمت نہیں ہوئی۔ جس بدترین مخالف نے بھی اس کے کچھ حصے کو پڑھا۔ ۔ ۔ اس کو جانا۔ ۔ ۔ مستی میں آ گیا۔ پرانا منافقت کا لباس اتار پھینکا۔ ۔ ۔ ایک نعرۂ مستانہ بلند کیا اور ہو گیا اسی کا دیوانہ۔ اور یہ ایک بار نہیں، بار بار ہوا۔ جو اس کی سپاری لے کر آتا ہے اسی کا فریفتہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس اقلیم میں داخلے کا ذریعہ یہی ہے کہ اس کو ایک انسان بن کر پڑھا جائے۔ منافقت، انسان دشمنی اور کسی لالچ کے تحت اس کو سر کرنے جو آیا پتھر کا ہو کر رہ گیا۔ داس کیپیٹل کی پُرپیچ زلفوں کے اسیروں میں سے ایک نام لیننؔ کا بھی ہے۔

لینن کوؔ بلاشبہ دنیا کا ایک ایسا انسان کہا جا سکتا ہے جس کا کوئی ثانی پیدا نہیں ہوا۔ اس نے خاندان کی بربادی اور بھائی کی پھانسی دیکھی۔ جیلیں اور جلاوطنیاں کاٹیں۔ تنظیم سازی کی۔ لوگوں سے بحثیں اور مناظرے کئے۔ تنظیم کو چلایا، انقلاب کی راہ ہموار کی اور بیرونی کے علاوہ اندرونی دشمنوں کو بے نقاب کیا اور ان کا مقابلہ کیا۔ دنیا کا فلسفہ پڑھا، عالمی ادب پڑھا اور ہر وہ علم پڑھا جو اس وقت میسر اور ضروری تھا۔ لینن نے یہ سب سختیاں جھیلتے ہوئے آرٹ، ریاست، فلسفہ، ادب، سیاست اور ہر اس علم پر لکھا جس پر لکھنا اس وقت ضروری تھا، یہاں تک کہ ماخؔ کے پیروکاروں کے شور مچانے پر کہ مادے کا خاتمہ ہو چکا ہے، لینن نے ’’مادیت اور تجربی تنقید‘‘ لکھ کر فطرتی سائنس میں اور ادب میں ایک ساتھ ایسا کام کیا کہ پوسٹ ماڈرنزم کے اور کوانٹم مکینکس کی کوپن ہیگنی تشریح کے بیج کو رحمِ مادر ہی میں مسل کے رکھ دیا۔ لیننؔ کے ان کاموں کی چوالیس جلدیں ہیں۔

ٹراٹسکیؔ لکھتا ہے کہ’’ لینن وہ پہلا انسان تھا جس نے مارکس کے داس کیپیٹل کو پوری طرح سے اپنے مغزِ استخوان میں اتار لیا‘‘ 3؂۔ مارکسؔ یقیناًاس لحاظ سے خوش قسمت ہی تھا کہ اس کو لینن جیسا قاری اتنی جلدی مل گیا۔ لیکن لینن داس کیپیٹل کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کو چھپے ہوئے آج پچاس سال ہو گئے ہیں لیکن آج دنیا کا ایک بھی شخص نہیں جو اس کو پوری طرح سے سمجھتا ہو۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہیگل کی منطق کو چھپے ہوئے بھی ڈیڑھ سو سال ہو گئے اور اس کو سمجھنے والا ایک انسان بھی موجود نہیں4؂۔ یہ بات لینن نے مذاق میں نہیں کہی ہو گی۔ کیونکہ لینن کو احساس ہو گیا تھا کہ انقلاب کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس کتاب کو پڑھے۔ اور یہ وہ کتاب تھی جس کو پڑھنے کے لئے لینن نے جرمن زبان خاص طور پر سیکھی۔ لیکن لینن نے جب پہلی عالمی جنگ کے دوران ہیگل کی منطق کا مطالعہ کیا ہو گا تو اسے احساس ہوا کہ یہ دونوں کتابیں کس طرح سے اک دوجے کی تکمیل کرتی ہیں۔ لینن کی یہ بات بظاہر مبالغہ ہی لگتی ہے۔ لیکن مسئلہ ہے ضرور۔ اس مسئلے کا داس کیپیٹل پڑھ کے بھی پتا چلتا ہے اور کچھ مارکس، اینگلزؔ کی خط و کتابت سے۔

اینگلز بتاتا ہے کہ مارکس اور اس کی بحثیں چلتی رہیں کہ کس کے میتھڈ کی تقلید کی جائے، فنامینالوجی (خیال کی مظہریات) کی یا منطق کی سائنس کی؟ بعد میں طے ہوا کہ ’’منطق کی سائنس‘‘ کے میتھڈ کی تقلید کی جائے اور شئے کو لے کر اس کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جائے۔ ویسے یہ جائزہ لینا اپنے آپ میں بڑا مزے دار کام ہے۔ اور یہ جائزہ لینے یا تجزیہ کرنے کا طریق کار ہزار ہا سال سے چلے آ رہے جدلیاتی طریق ہی کا ترقی یافتہ روپ ہے۔

جدلیاتی طریق کار اور اس کے ابتدائی آثار

جدلیاتی انداز کی باتیں ہمیں پرانے فلسفیوں میں ملتی ہیں۔ لاؤ تزےؔ کی ’’تاؤ تے چنگ‘‘ اور کنفیوشسؔ کی ’’انالیکٹس‘‘ میں بھی اس کے خدوخال دیکھے جا سکتے ہیں اور افلاطون کے مکالمات میں بھی یہ اپنے اس وقت کے لحاظ سے پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ دوہزار سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود دنیا میں ہر جگہ، اور گزرے وقتوں سے لے کر آج تک شاہکار ہی مانے گئے ہیں، ان کی ادبی حیثیت بھی دنیا کے کسی ادب سے کم نہیں۔ بلکہ میرے خیال میں اگر یونان کا باقی ادب اگوراؔ کے ساتھ ہی برباد بھی ہو جاتا اور یہ اکیلے بھی بچ جاتے تو بھی یونان کا ادب عظیم ترین ہی ٹھہرتا۔ لیکن افلاطون ہی کے مکالمات میں ’’پارمینیڈس‘‘ اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں خاص طور پر نظر آتا ہے کہ افلاطون اس بات سے آگاہ ہے کہ قاری کو اس بات سے آگے لے کر جانا ہو گا کہ ’’جو کہا جا رہا ہے‘‘ وہ اپنی جگہ، لیکن اسے یہ سوچنا ہو گا کہ ’’کس طرح سے کہا جا رہا ہے‘‘۔ کیسے پارمینیڈسؔ اپنے مفروضے کو لے کر چلتا ہے اور کیسے جو بات کرتا ہے اس کے الٹ، پھر اس سے الٹ اور پھر اس کو ہر طرف سے دیکھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد بار بار وہ پلٹ کر آتا ہے اور نئے سرے سے اپنا تجزیہ شروع کرتا ہے جو کہ پہلے سے مختلف ہوتے ہوئے پہلے جیسا بھی ہے۔ قاری کو بار بار یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ یہ کہاں سے مختلف ہے، یا پھر یہ کہ یہ کیسے پہلے جیسا ہے۔ جگہ جگہ وہ سانس دلانے کے لئے جہاں تک پہنچا ہے خلاصہ کرتا جاتا ہے۔

افلاطون کے اس مکالمے کے ذکر کا خاص مقصد یہ ہے کہ اس میں جس چیز کا جائزہ لیا جا رہا ہے وہ صرف ’خیال‘ ہے۔ اور خیال کو’’ایک‘‘ فرض کر لیا گیا ہے۔ ’’ایک‘‘ کی ’’ایکتا‘‘ پر سوال ہیں کہ ’’ایک‘‘ آیا کہ ممکن ہے یا نہیں؟ پورے کا پورا مکالمہ اسی ’’ایک‘‘ پر بات ہے۔ جس جس زاویے سے سوال ہو سکتا ہے مکالمے میں پارمینیڈسؔ کرتا ہے، اور سقراطؔ کو بتاتا ہے کہ جدلیات کیا ہے۔ کیسے فلسفیانہ انداز میں سوچا جا سکتا ہے اور کیسے بات کی جا سکتی ہے۔ کیسے کسی بات کا، مفروضے کا یا خیال کا جائزہ لیا جاسکتا ہے کہ اس کی تفہیم ہو۔ وہ اسے پہلے ہی بتا دیتا ہے کہ اگر وہ چاہتا ہے کہ وہ فلسفیانہ تجزیے کرے تو اسے وہ کام کرنا ہو گا جو عام آدمی کو ’’بکواس‘‘ لگے۔ رہی اس مفروضے کی بات کہ جس پر وہ بات کر رہے تھے، میرے خیال میں انہوں نے جان بوجھ کریہ مفروضہ ایسا لیا ہے جس کو لے کر بہت زیادہ سوچ اس طرف نہ جائے کہ وہ ’’کیا‘‘ کہہ رہے ہیں، بلکہ اسی طرف رہے کہ ’’کیسے‘‘ کہا جا رہا ہے۔ حالا نکہ پارمینیڈسؔ کا یہ فلسفہ ’’کہ حرکت کا وجود ممکن نہیں ہے‘‘، ہیراکلیتسؔ کے فلسفے سے الٹ میں تھا، جو کہتا ہے کہ دنیا میں صرف ایک چیز مستقل ہے اور وہ حرکت ہے۔ لیکن پارمینیڈسؔ ہر شئے کو ایک کُلیت یا ’’ایک‘‘ وحدت کی صورت، ایسے دکھاتا ہے کہ ساری کی ساری کائناتیں، یا جو کچھ بھی ہے، یہ کسی میں نہیں ہے، خود اپنے آپ میں بھی نہیں، بس یہ ’’ایک‘‘ ہی ہے۔ اس طرح بعد ازاں وحدت کے ہر فلسفے کو اسی ایک مکالمے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جس میں یقیناًافلاطون کو بعد ازاں کچھ اور جہتیں نظر آئی ہوں گی، جس پر اس نے ’’سوفسطائی‘‘ یا ’’دی سوفسٹ‘‘ میں بیان کیا۔ سوفسٹ نام کے آدھے مکالمے کے بعد جب اس کا کردار سوفسطائی (جو کہ سوفسطائیوں کا یونیورسل ہونے کی بنا پر شاید بے نام رہا، تاکہ اس میں ہر سوفسطائی کو دیکھا جا سکے) اپنے (روحانی) باپ پارمینیڈس کا ذکر شروع کرتا ہے تو اس کی جھٹلائی چیزوں کو ثابت اور ثابت شدہ کو اسی طور سے جھٹلانا شروع کر دیتا ہے ’’جس طرح‘‘ پارمینیڈس نے خود کیا تھا اور اس طرح ’’سوفسطائی‘‘ جو اپنے عجیب و غریب میتھڈ سے پہلے پہل ایک شاندار ’بکواس‘ کا نمونہ معلوم ہوتا ہے لیکن ہیگل جیسے شخص کو بھی یہ دنیا کی عظیم چیزوں میں نظر آتا ہے۔

مکالمے ’’پارمینیڈس‘‘ میں پارمینیڈس اور زینو، ؔ سقراط سے یہ طے کر کے چلتے ہیں کہ ’’بات صرف ان چیزوں پر ممکن ہے، جو کہ ’’ہیں‘‘، یعنی جو کہ وجود رکھتی ہیں۔ جن کا وجود ہی نہیں ان پر بات بھی نہیں ہو سکتی‘‘4؂۔ اس طرح اس بات میں ان تینوں کے عینیت پرست ہونے کے باوجود زبردست قسم کے مادیت پسند فلسفے کے ایک اصول کے جراثیم کا سراغ بھی ملتا ہے۔ گو کہ مادیت پسند فلسفے ان سے پہلے بھی موجود رہے۔ لیکن انہوں نے ایک اوراصول تشکیلکر لیا کہ مٹی، پتھر، پانی اور ادھر ادھر کی باتوں پر فلسفیانہ گفتگو کرنا فضول ہے، بات تصورات پر کی جانی چاہیئے۔ تو اس طرح سے انسان کی تاریخ میں ایک ایسے باب کا آغاز ہوا جس میں شاید پہلی بار ایک ایسے تصور پر پچاس ساٹھ صفحات پر مشتمل بحث ہوئی جو کہ نری تجرید ہے۔ یعنی ’’ایک‘‘۔

جدلیاتی طریق کار کا ارتقاء

بعد کے فلسفوں اور فلسفیوں میں ہمیں افلاطون کے طریق کار کی اور جدلیاتی طریق کار کی جھلک نظر آتی ہے: کہ ایک بات شروع کی اور اس کے الٹ بات کو دیکھا، پھر اس کے بعد اس پر تنقید کرتے چلے گئے اور اس مفروضے کو ہر ہر پہلو سے اس وقت تک تنقید کا نشانہ بناتے رہنا جب تک کچھ سامنے نہ آ جائے۔ اکثر صورتوں میں کچھ بھی سامنے آنے کے قابل نہ رہتا اور یہ کام فلسفہ کبھی نہایت شان سے اور کبھی منکسر المزاجی سے بعد میں آنے والوں کیلئے چھوڑ جاتا رہا، جیسا کہ افلاطون کے سلسلے میں ہوا کہ اس کے اکثر مکالمے ادھورے ہیں جن کے جواب دوہزار سال بعد ہیگل کو دینا پڑے کیوں کہ ہیگلؔ نے ’’فلسفے کے خاتمے‘‘ کا بیڑا اٹھایا تھا۔ روسوؔ کا ’’ایمل‘‘ اسی طرح سے تعلیم پر ایک ناول ہے جو کہ ناول میں فلسفہ ہے اور اس میں خود اپنے خیال پر ایک مسلسل تنقید ہے۔ اسی طرح جدلیاتی طریق کار چلتا رہا اور ارتقا کرتا رہا۔ کہ وہ تنقید جو کہ آپ کے دیے ہوئے خیال پر لوگ کریں آپ خود کرتے چلے جائیں اور اس وقت تک کرتے چلے جائیں جب تک کہ اس کا کوئی نتیجہ نہ نکل آئے، یا جیسا کہ زیادہ تر صورتوں میں ہوا، کہ کوئی نتیجہ مزید نکالنا وقتی طور پر ممکن ہی نہ رہے۔

ہیگلؔ چونکہ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے فلسفے کے اس سارے معاملے کا خاتمہ چاہتا تھا، شاید اس لئے اس نے ’’ایبسولیوٹ‘‘ یا مطلق کی بات کی، جس کے متعلق اینگلز طنزاً کہتا ہے کہ’’ وہ ایسا مطلق ہے جس کے بارے میں شاید ہیگل کو مطلقاً کچھ نہیں کہنا تھا‘‘ ، ورنہ اس کی منطق کو دیکھیں اور اسی کے طریق کار کی پیروی کرتے چلے جائیں تو اس کے ڈیڑھ صفحے کے مطلق کی بجائے اصل اہمیت اس کے اس طریق کارکی ہے جو کہ نرے وجود(Pure Being) کو مطلق تک لے کر آتا ہے۔ یہاں اس بات کو تھوڑا سا غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ہیگل نے اپنے زبردست سنسر کے دور میں بھی ایسا فلسفہ دیا جو کہ اپنے منہاج میں انقلابی نوعیت کا تھا۔ لیکن اس کے رجعت پرست فلسفے کے ظاہر میں چھپی منہاج کی یہ والی انقلابی نوعیت مارکس اور اس کے دوست نے بھانپ لی۔ جب فیورباخ نے ہیگل کو رد کیا تو مارکس اور اینگلز نے اعتراض کیا تھا کہ’’ اس نے پانی کے ساتھ بچہ بھی بہا دیا ہے‘‘6؂ یعنی ہیگل کو رد کرتے ہوئے اس کا طریق کار بھی رد کر دیا، جو کہ ایک غلطی تھی۔ انہوں نے ہیگل کے فلسفے کا ’’تعقلی مغز‘‘ علیحدہ کرنا اپنی ذمہ داری جانا۔ لیکن اس طریق کار کے علاوہ کانٹ اور ہیگل کے اٹھائے ہوئے سوال اور جواب بھی مارکس اور اینگلز کے سامنے تھے۔ کام بڑا تھا اور وقت وہی جو کہ ایک عام انسان کو اپنی زندگی میں حاصل ہے۔ لہٰذا مارکس نے ان باتوں پر بالکل وقت ضائع نہیں کیا جو کہ ہیگل اور اس سے پہلے کے فلسفی حل کر چکے تھے۔ اس نے وہ لکھا جن باتوں کو ہیگل اپنی مجبوریوں کی وجہ سے بیان نہ کر پایا تھا، خواہ یہ مجبوریاں واقعتا فکری نوعیت کی تھیں یا پھر اس کے سماجی اور معاشی حالات سے جڑی۔ یعنی جن باتوں کو ہیگل نے غلط سمجھا، یا ان کو الٹ بتایا، یا نہیں بتایا، مارکس نے ان کا تفصیل سے جائزہ لیا، اور جن باتوں کا ہیگل بتا گیا، یا اس سے پہلے فلسفی بتا گئے ان کی دوہرائی کرنا مارکس نے ضروری نہیں سمجھا۔ اس لئے اس نے ان پر صرف بات کی ہے، ان کی وضاحت نہیں کی۔ اس نے فرض کر لیا ہے کہ جو کوئی اس بارگاہ میں باریاب ہوگا، جملہ شرائط کا پورا کرنا اور آداب کے بجا لانے کا فریضہ اسی کے ذمہ ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ اس سے پہلے کے فلسفوں کو جانے۔ ورنہ مارکس، شیکسپیئر کے ہمنوا ہو کر یہ بتاتا ہے کہ ’’سچے پیار کی راہیں آسان نہیں ہوتیں‘‘ 7؂۔ اس طرح سے مارکس کی کیپیٹل نہ صرف ہیگل کی لاجک سے اپنی تفہیم کرواتی ہے، بلکہ یہ خود ہیگل کی لاجک کو سمجھنے کے لئے بھی شاید دنیا کی اہم ترین کتاب ہے، جس نے ہیگل کے طریقِ کار کو اس سرمایہ دارانہ سماج پر منطبق کر کے دکھایا۔ ۔ ۔ گو کہ پہلے اپنی اسی منطق کی سائنس کو خود ہیگل اپنی ’’فلاسفی آف رائٹ‘‘ میں اسی طرح سماج پر لاگو کر کے دکھا چکا ہے۔ لیکن ہیگل نے اس کو قانون اور سیاست پر لاگو کیا اور ریاست کو بطور ایک یونیورسل کے لیتے ہوئے، ’’سول سوسائٹی‘‘ کو مخصوص اور خاندان کو انفرادی کے طورلیا۔ جب کہ مارکس نے اس پر پچیس سال کی عمر میں تنقید لکھتے ہوئے خاندان اور سول سوسائٹی کو ریاست کی بنت بننے کا سزاوار قرار دیا۔ اسی ’’فلسفہ حق‘‘ (یا فلسفہ قانون) کا مطالعہ کرتے ہوئے مارکس کو پہلی بار ہیگل میں گڑبڑ کا احساس ہوا جب اس نے اخبار8؂میں کام کرنے کے دوران ریاست کو ان لوگوں کی حمایت میں قانون بناتے دیکھا جو کہ’’ پراپرٹی‘‘ رکھتے تھے۔ تو اس کو سمجھ آئی کہ ریاست، سیاست اور قوانین کی بنت تو وہی بنتے ہیں جن کے پاس یہ ’’پراپرٹی‘‘ ہے۔ تو اس نے ہیگل کے ’’فلسفہ حق پر تنقید‘‘ لکھی جس میں خاص طور پر ان باتوں کا ذکر کیا اور ہیگل کے اس خیال کا خوب مذاق بھی بنایا کہ جن کے پاس جاگیریں یا پراپرٹیاں ہوں ان کو حکومت میں عہدے دیے جائیں۔ مارکس نے کہا کہ ’’ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسان پراپرٹی (ملکیت) کو کوئی پراپرٹی (وصف) بخشے یہاں الٹ میں پراپرٹی(ملکیت) انسان کو پراپرٹی(وصف) بخش رہی ہے۔ ‘‘ یہیں اس نے پہلی بار سرمائے کو بطور ’’پرائم موور‘‘ یا علتِ اولیٰ کے طور پر دیکھا اور اس کو محسوس کیا کہ یہ ایک ایسی بلا ہے جو کہ اپنے تخلیق کرنے والوں کو کھا جاتی ہے اور بطور ’علتِ اولیٰ‘ کے اس سرمائے کی دنیا یعنی سرمایہ داری میں ہر ایکشن کا مقصد صرف یہی سرمایہ ہی رہ جاتا ہے۔ ویسے غور سے دیکھیں تو روپیہ پیسہ بذاتِ خود مقصد ہو نہیں سکتا، کیوں کہ اس سے کوئی نہ کوئی شئے خریدی جا سکتی ہے۔ لیکن سرمایہ جو کہ شئے دے کر روپیہ حاصل کر کے پھر اس سے شئے (خام مال) خرید کر اور اسے (تیار کموڈیٹی یا شئے) کو دے کر پھر روپیہ لے کر اس سے شئے لینے کے گھن چکر میں اس روپے میں اضافے سمیت باقی ماندہ روپے کا نام ہے، جو اتنی ہی دیر تک سرمایہ ہے جتنی دیر تک اس گھن چکر میں ہے۔ جیسے ہی سرمایہ میں موجود شئے استعمال ہوئی، یا اس میں لگا روپیہ خرچ ہوا، یا رُک گیا (کاروبار سے نکال کر جمع کر لیا) وہ سرمایہ نہیں رہا۔ اس سرمائے کے کھیل میں سب سے مسرت آمیز تصور سرمائے میں مسلسل ہوتی بڑھوتری محسوس کرنے کا ہے اور یہ لذت ایسی عمیق ہے کہ تپسیا کرتے ہوئے برہمچاری رِشی منی یا تارک الدنیا صوفی کی طرح جو مجاہدے اور تزکیہ نفس کی منازل سے گزر رہا ہو، سرمائے سے حاصل ہو سکنے والی دیگر تمام ممکنہ لذات کو تیاگ کر صرف خود سرمائے ہی کو بڑھتا دیکھتے ہی اس دنیا سے سدھار جانا دھرم مانتا ہے۔

مارکس کا طریق کار

لیکن یہ سارا معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا۔ ہیگل نے صرف ’’وجود خیال ہے‘‘ 9؂کا مفروضہ پکڑا اور ساری منطق کی سائنس اس پر استوار کی۔ ساری منطق میں وہ خیال کو یا وجود کو، ہر طرف سے اور ہر طرح سے دیکھتا ہے۔ اس نے ’’فلسفہء حق‘‘ پر منطق کے میتھڈ کا اطلاق کر کے یہ دکھا دیا کہ جدلیاتی طریق کار سے سماج کو پرکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں اینگلز اس طریق کے متعلق کہتا ہے 10؂کہ جدلیاتی طریق انسانی سوچ پر، فطرت پر اور سماج پر لاگو کیا جا سکتا ہے کیو نکہ انسان نے یہ اخذ بھی انہی تینوں سے کیا ہے۔ لہٰذا مارکس نے یہی کیا۔ اپنی تحقیق کو اس نے جدلیاتی طریق کار سے پرکھا۔ البتہ یہ طریقہ کس خاص بنتر کی پیروی کرے، کا فیصلہ یہ کیا گیا کہ منطق کی سائنس کو پیش نظر رکھا جائے۔ اور ساری نہیں داس کیپیٹل کا صرف پہلا باب۔ ۔ ۔ جو کہ مارکس کے نوٹس ’’گرُنڈرس‘‘ جو بیسویں صدی کے درمیان میں اشاعت پذیر ہوئے، میں آخری باب تھا۔ اور اس باب کی پیشانی پر مارکس نے لکھا ہوا تھا کہ یہ باب ہیگل کے میتھڈ پر ہے اور اس کو کتاب میں سب سے پہلے لانا ہے11۔

اس طرح عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اس نے داس کیپیٹل میں ہیگل کے طریق کار کی من و عن پیروی کی۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ دوسری طرف یہ گمان بھی موجود ہے کہ اس نے محض ایک تجزیہ کیا ہے اور یہ تجزیہ اپنی نوعیت میں فلسفیانہ تھا جو کہ اس نے سیاسی معیشت کو جاننے کیلئے کر دیا۔ جب کہ بات صرف اتنی نہیں تھی۔ بات اگر نرے فلسفیانہ تجزیے کی ہوتی تو مارکس ایسا1843ء سے 1846ء تک کر چکا تھا۔ پھر اکیس سال اس نے کس چیز کا انتظار کیا؟ کیا کرتارہا وہ اپنے ان نوٹس کے ساتھ، جو کہ ابھی تک سارے نہیں چھپے، بلکہ محفوظ کر دیئے گئے ہیں، جن میں خود’’داس کیپیٹل‘‘ ہی کے کئی ایسے نسخے بھی ہیں جن کو خود مصنف کی جانب سے رد کر دیا گیا ہے؟ ہم ٹالسٹائی کے متعلق یہ سُن کر حیران ہو جاتے ہیں کہ وہ آدمی تھا یا جن، جس نے اپنے ہزار صفحے سے زائد ناول کو ستائیس مرتبہ ہاتھ سے باربار لکھا۔ فرانسس وہینؔ لکھتا ہے کہ مارکس بھی اذیت زدہ ذہنیت والے اکملیت پسند جنات ہی میں سے ایک تھا جیسے ٹالسٹائیؔ، فرانسسکو گویاؔ، بیتھوونؔ اورلیونارڈو ڈاونچیؔ۔ ۔ ۔ ان لوگوں کے کام دیکھ کر تو حیرت گُم ہوتی ہی ہے، لیکن مارکس کا یہ ’’نامکمل‘‘ شاہکار دیکھ کر انسان واقعتا گنگ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسے یہ سمجھنے کے لئے کہ یہ کیا ہے اسے بار بار پڑھنا پڑتا ہے۔ 12؂

داس کیپیٹل مشکل کیوں ہے؟

ہیگل اپنے کام کو سمجھانے کے لئے کہتا ہے کہ جس نے میرے ایک کام کو سمجھنا ہے وہ میرے سارے کام سے گزر کر آئے پھر اسے سمجھ آئے گی۔ ہیگل ایساکہہ سکتا ہے کیونکہ اس نے ایک ایک چیز کو کئی کئی بار لکھا اور اس کے کاموں کا آپس میں ربط ہے، اسی طرح مارکس بھی اس طرح کی بات کہہ سکتا ہے کہ جس نے داس کیپیٹل کو سمجھنا ہے اس کو بار بار پڑھے اور وہ اپنے گرد کی دنیا اور اس کی تاریخ و دیگر سماجی علوم، فلسفے اور عالمی ادب سے کماحقہ واقف ہو۔ لیکن ان سب کے باوجود داس کیپیٹل ایک ایسا کام ہے جو ربط میں رہتے ہوئے بے ربطی کی عظیم ترین مثال ہے۔ اس کے میتھڈ کو سمجھنا بذاتِ خود ایک مسرت آمیز کار ہے۔ مارکس کے دو سادے سے پمفلٹ جو کہ انیسویں صدی ہی کی چوتھی دہائی میں آئے، نہایت آسان الفاظ اور سیدھے طریقے سے لکھے گئے ہیں۔ ’’اجرت، قیمت اور منافع‘‘ اور ’’اجرتی محن اور سرمایہ‘‘، جس میں ان میں سے بعض چیزوں کے بارے میں بالکل واضح اور صاف بیان ہے جن کو ’’داس کیپیٹل‘‘ میں جا کر بھول بھلیوں میں سے گزرتے ہوئے پڑھنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ بھول بھلیاں صرف الجھانے کیلئے نہیں ہیں بلکہ یہ خود اس گنجلک ’’غیر حقیقی حقیقت‘‘ کے جوہر کو دکھانے کیلئے ہیں جو کہ سیدھے طریقے سے دیکھو تو ظاہر کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ سیدھی باتیں بتا دیتا، شاید ایک نصیحت بھرے وعظ یا ایک ’یک طرفہ بیان‘، ایک دعویٰ یامحض بازگشت کی صورت میں سُنی جاتیں۔ شاید ایک عام انداز میں لکھی گئی کتاب، جس کو کسی محنت کے بغیر آرام کُرسی پر یا بستر میں لیٹ کر پڑھ لیا جاتا اور کتاب کو پھینک کرایک پُرسکون اور مزے کی نیند سو لیا جانا ہی کافی سمجھا جاتا۔ ۔ ۔ شاید اس کتاب کو پڑھ کر دوسری کتاب اور اسی طرح کی تیسری پڑھ کے اسی طرح کی تشکیکیت کی ابتلاء در آتی جیسا کہ آج کل ٹی وی مباحثوں کو دیکھ کے ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ’’ یہ تو درست ہے۔ لیکن ’یہ‘ بھی درست لگ رہا ہے، یہ بھی ہے اور یہ بھی‘‘۔ ۔ ۔ اس طرح کی باتیں! بہت سی باتیں اور بہت سی کتابیں۔ پھر حقیقت کو کہاں کھوجیں؟ لیکن مارکس کو علم تھا کہ جو دریافتیں اس نے کی ہیں، ان کیلئے اندازِ بیان بھی خاص ہی درکار ہے۔ جو یہاں آئے سخت دشوار گزار رستوں سے گزرتا ہوا آئے۔ جو اس صحرائے اعظم سے گزرے، یہ نعمتوں کے دسترخوان، جو کہ لہلہاتے نخلستانوں میں اپنے تک پہنچنے والوں کے واسطے ہر دم تازہ ہیں، اسی کے نصیب میں ہوں، اور ان میں کچھ ایسا بھی ہو جو کہ رہتی دنیا تک انہیں تازہ رکھے۔ لیکن یہ کیسے ہو گا؟

ہم دیکھتے ہیں کہ مارکس نے ’’گرنڈرس‘‘ کے نوٹس سیدھے انداز میں لکھے اور اسی انداز میں اس نے کیپیٹل کو بھی لکھ لیا لیکن ہر بار ناشر کے پوچھنے پر اس کا یہی جواب ہوتا کہ معاملات کچھ اور رُخ سے بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ ایک تو اوپر بیان کیا گیا فلسفیانہ جدلیاتی اور تاریخی طریق کار اس کے سامنے ہیگل کی منطق اور فنامینالوجی کی شکل میں اپنی معراج میں موجود تھا۔ دوسرے اس نے فلسفے کے ذریعے دنیا کی محض ’’تشریح کرنے کی بجائے اس کو تبدیل کرنے‘‘13؂ کے اصلی کام کا محض ذکر ہی نہیں کیا تھا بلکہ اس کو عملی طور پر بھی کر رہا تھا۔ اس کے سامنے معاشیات کے برطانوی ماہرین کی کتابوں کی الماریاں بھری پڑی ہیں اور میفسٹو فیلیزؔ کی طرح جو’’ اس کے استعمال میں ہے وہ اسی کی ذات کا حصہ ہے‘‘ 14؂قرار دے سکتا ہے۔ ورنہ کتابیں تو گونگی بہری ہیں کون ان کو کیسے استعمال کرتا ہے، اسی پر منحصر ہے۔ اس طرح ان کتابوں کے نوٹس وہ اٹھارہ سو چوالیس کے ’’فلسفیانہ اور معیشتی مسودات‘‘ سے پہلے لے چکا تھا۔ اب ان پر کام باقی ہے۔ یہ کہ ان کی نوک پلک کو درست کرنا اور ان کو کسی ایسے طریق کار میں لکھناہے جو کہ ان کو غیرفانی بنا دیتا۔

ایک جدلیاتی اصول

مارکس کا یہ کہنا کہ معاملات نئے رخ سے ظاہر ہو جاتے ہیں، اس کے تفلسف اور گہرے تدبر کا نتیجہ ہے جو کہ اوپر دیے گئے کاموں کے مطالعے سے انسان میں عادت کے طور پر پروان چڑھتا ہے کہ کسی معاملے کو بیان کرنا کافی سمجھنے کی بجائے اس کو اس سے پہلے خود تنقید کا نشانہ بنا دینا، بجائے اس کے کہ یہی کام دوسرے کریں۔ پھر اس تنقید کے نتیجے میں جو نتیجہ سامنے آئے اس پر مزید تنقید، اوراس طرح تنقید در تنقید کا یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ جو کہ اپنی نوعیت میں جدلیات کے اصول ’’نفی کی نفی‘‘ کا اظہار ہے۔ یہ تنقید کرنے کا تھکا دینے والا کام جس کسی میں جتنا ظرف ہے، اس نے کیا۔ افلاطون میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’جمہوریہ‘‘ میں پہلی کتاب لکھی جو کہ اپنے آپ میں مکمل نظر آتی ہے۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ افلاطون کی بے چین طبیعت نے محسوس کر لیا تھا کہ یہ کافی نہیں ہو گا کہ عدل کو ’’بیان کر دیا گیا ‘‘ مان لیا جائے۔ اس نے اس کے بعد، اگر اس کے انداز، اسلوب، طریق کار اور گہرائی کو مد نظر رکھا جائے تو پہلے اور دوسرے باب میں پندرہ سے بیس سال کی پختگی کا نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ پہلی میں چھوٹے سوال جواب ہیں، اور بعد والی نو کتابوں میں لمبی اور پُر اثر باتیں۔ اب یہ دس کتابیں لکھ کر بھی افلاطون کی یہ کتاب مکمل نہیں سمجھی جا سکتی۔ اس کا اخیر اس کے بہت سے مکالموں کی طرح کُھلا اور نامکمل ہی لگتا ہے۔ تو افلاطون کی اسی بتائی گئی بے چین طبیعت کے نشان ہمیں اس کی جمہوریہ سے اگلے مکالمے ’’قوانین‘‘ کی شکل میں ملتے ہیں، بلکہ اس کے بعد اس نے ’’سٹیٹس مین‘‘ بھی لکھا15؂۔

اتہاسی طرز

پہلی باتوں کی نفی کرتے چلے جانا ظاہر ہے پہلی باتوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا نہیں ہے۔ ان کی اہمیت اسی طرح رہتی ہے جیسی کہ وہ اگر رد نہ ہوتیں تو رہتی۔ یہی جدلیاتی طریق کار کی شان ہے۔ اس میں جو رد ہوا، ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو گیا۔ لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ تم لوگ جو باتیں کرتے ہو وہ پرانی ہو گئی ہیں۔ پانی پلوں کے نیچے سے گزر گیا ہے۔ دنیا تبدیل ہو گئی ہے۔ اب زمانہ تبدیل ہو گیا ہے۔ دنیا ’’گلوبل ولیج‘‘ بن چکی ہے۔ اس زمانے کی، جو موجود ہے بات کرو۔ ۔ ۔ تو ان سے سوال ہے، کہ کیا ہم ایسا نہیں کرتے؟ اور کیا ہم ایسا کرتے نہیں رہے؟

ان سے کہہ دیں کہ یہ ہم ہی ہیں جو کہتے ہیں کہ مستقبل کی پیش گوئیاں سائنسی انداز میں کی جا سکتی ہیں۔ ہم ہی ہیں جو اپنے اتہاس کو دیکھتے ہوئے مستقبل کا تناظر مسلسل دیکھتے بھی ہیں اور دیتے بھی ہیں۔ ہم آج داس کیپیٹل کو دیکھ رہے ہیں تو اسی نظریے سے دیکھ رہے ہیں کہ آج اس کی کیا اہمیت ہے اور کیسے ہے؟ دنیا تبدیل ہو گئی ہے۔ بالکل درست ہے۔ جب میں غور کرتا ہوں کہ دنیا آج ’’گلوبل ولیج‘‘ ہے یا مارکس کے دور میں تھی تو مجھے یہی لگتا ہے کہ دنیا تب گلوبل ولیج تھی۔ گو ہمیں آج کی طرح دنیا کی خبریں پل پل نہیں ملتی تھیں۔ لیکن گاؤں میں ایسے ہی ہوتا ہے۔ خبریں کسی ذریعے سے ہی ملتی ہیں۔ لیکن گلوبل ولیج ایسے کہ جو رخت سفر باندھے چل نکلے۔ آپ نے کہیں بھی جانا ہے چلے جائیں۔ امریکہ، ہالینڈ، جرمنی، فرانس، یا اطالیہ۔ ۔ ۔ آج کی طرح نہیں۔ ۔ ۔ ایک ہی گھر والے دیواریں مارے بیٹھے ہیں۔ چین اور تائیوان جتنے آج دور ہیں پہلے کبھی نہ تھے۔ لاہور سے امرتسر پہلے کبھی گوجرانوالہ کی نسبت زیادہ نزدیک تھا۔ گوجرانوالہ بیالیس میل اور امرتسر بتیس میل۔ لیکن آج سرحدوں پر تاریں لگ چکی ہیں۔ افغانستان اور پختونخوا کبھی دو نہیں تھے۔ ہمارے لوگوں کی اُدھر اور ان کی ادھر رشتے داریاں بھی ہیں اور قبریں بھی۔ اسی طرح کشمیر کے ساتھ ہے۔ امریکہ، میکسیکو سے دور ہو رہا ہے۔ کیوبا، فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی سے کہیں زیادہ نزدیک ہونے کے باوجود بہت دور ہے۔ کہاں تک دیکھیں؟ خاک ’’گلوبل ولیج‘‘ ہے؟

لیکن یہ دنیا تب بھی مسلسل تبدیلی کی زد میں تھی جب مارکس داس کیپیٹل کو چھپنے کے قابل بنا رہا تھا۔ مارکس برطانیہ میں بیٹھ کر ہندوستان پر مضامین لکھ رہا تھا اور اس دنیا کو تبدیل ہوتے دیکھ کر مستقبل کے تناظر دے رہا تھا ’’کہ انگریز نے ہندوستان کو پہلی بار ایک منظم فو ج دے ڈالی ہے۔ آج کے بعد دنیا کی کوئی طاقت ہندوستان کو فتح نہیں کر سکے گی۔ ‘‘ 16؂کیا یہ اس نے غلط تناظر دیا؟ اگر وہ کہتا ہے کہ انگریز کی بچھائی ہوئی ریل کی پٹری کا ایک ایک فٹ انگریز کے اقتدار کا ایک ایک سال ختم کر رہا ہے، 17؂تو کیا یہ غلط تھا؟ مارکس کے یہ مضامین ہزارہا میل دور نیویارک ٹریبیون میں چھپ رہے تھے۔ یعنی ہندوستان کی باتیں وہ انگلستان میں بیٹھ کر امریکہ میں چھپوا رہا تھا۔ ۔ ۔ کیا دنیا میں کارل مارکس ہی تھا جو یہ نہیں جانتا تھا کہ دنیا تبدیل ہو رہی ہے؟

شاید دنیا میں اس بات کو سب سے زیادہ جاننے والا شخص بھی مارکس ہی تھا کہ یہ دنیا اور اس کی ہر شئے مبدل پذیر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ کیا ہے جس کو زمانے کی شکست و ریخت برباد نہیں کرتی۔ وہ اچھی طرح سے واقف تھا کہ کون سی چیزیں ہزاروں سال سے نہ صرف قائم دائم ہیں بلکہ ان کی افادیت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ان کی شان و شوکت اب پہلے سے زیادہ ہے۔ جی ہاں میں آرٹ اور ادب ہی کی بات کر رہا ہوں۔ مارکس اور اینگلز کا خصوصی طور پر آرٹ پہ کیا گیا تو ایک کام بھی نہ ملے گا۔ لیکن ان کی کتابوں میں کہیں کہیں آرٹ پر باتیں ہیں اور خطوط میں جگہ جگہ ایسی بحثیں موجود ہیں جن سے آرٹ کو ویسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے کہ اس کا اصل ہے۔ جو کہ ہزارہا سال سے زمان و مکان سے بے نیاز اس تیزی سے بدلتے سمے میں اوراس سنسار کے ہر گوشے میں گوں ناگوں صورتیں رکھتے ہوئے بھی اپنی ایکتا اور حیثیت کو ساکت و جامد بھی رکھتے ہوئے ہر جگہ ایک جیسا ہے۔

داس کیپیٹل کیسے جاوداں ہے؟

جان کیٹسؔ جب مئی 1819ء میں مر تے ہوئے اپنی ’’اوڈ ٹو اے گریشئن ارن‘‘ لکھ رہا تھا اس وقت یقیناًمارکس کی پہلی سالگرہ منائی جا رہی ہو گی۔ 1821ء میں جب مارکس تین سال کا ہو گا تو اگر کیٹسؔ کہتا ہے کہ ’’ایسی کسی حقیقت کا وجود نہیں ہو سکتا جو کہ تجربے میں نہ آئے‘‘ تو یہ اس کے گہرے تفکر اور تدبر کا نتیجہ لگتا ہے۔ اس کا مارکس وادی ہونا تو ناممکن ہی تھا۔ البتہ مارکس نے کیٹسؔ کو ضرور پڑھا ہو گا۔ اس کو معلوم تھا کہ: یہ بارات چاہے اپنی منزل تک کبھی نہ پہنچے، لیکن اس میں بجنے والے شادیانے تاابد بجتے رہیں گے اور باراتیوں کی خوشی کبھی ختم نہ ہو گی؛ اور یہ نوجوان جو اپنی محبوبہ کا ہاتھ چومنے لگا ہے، کبھی نہ چوم سکے گا لیکن اس کی محبوبہ کی جوانی کو بڑھاپا کبھی نہ پا سکے گا اور اس کی محبت میں کبھی کمی نہ آئے گی۔ یہ دونوں اسی طرح تا ابد ہاتھ پکڑے رہیں گے۔ کیٹس ؔ اسے بتا گیا ہے کہ ’’خوبصورت شئے ہی تاابد مسرت دے سکتی ہے‘‘ اب یہ بات ایسی نہیں کہ جس کو تجربہ نہ کیا جا سکے۔ لیکن اس حقیقت کو تجربے میں لانا ضروری تھا۔ ورنہ یہ کہ ’’کوئی ضرب المثل بھی تب تک سچی نہیں جب تک خود آپ کی زندگی اسے محسوس نہ کروائے‘‘18؂

یہاں دو چیزیں سامنے آتی ہیں کہ مارکس کو یہ معلوم تھا کہ دنیا تبدیل ہو رہی ہے اور ہوتی جا رہی ہے۔ اسے ہیراکلیتسؔ جیسی مشکل کا سامنا تو تھا۔ کہ وہ چیزوں کو دیکھتا ہے۔ ان پر غور شروع کرتا اور انہیں تفکر میں لے کر آتا ہے اور چیزیں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ تو کیا کرے؟ اخبار کا کالم لوگ لکھتے ہیں۔ لیکن اخبار کے کالم کی زندگی ایک دن ہوتی ہے۔ جب ایک دن گزر جاتا ہے تو وہ پکوڑے لپیٹنے کے کام آتا ہے۔ لیکن کیا یہ لکھتے لکھتے ہی پرانا نہیں ہو گیا ہوتا؟ کیا جس پر لکھا جا رہا ہے وہ گزر نہیں چکا؟ تو کیا لوگ لکھتے نہیں؟ ہمیں زندہ رہنے کیلئے خود کو بے جا قسم کے تعقل سے آزاد کروا کر محدود ہونا پڑتا ہے۔ ہمیں وقت کے ایک حصے کو ’’حال‘‘ فرض کرنا ہی پڑتا ہے۔ ورنہ ہم ایک لمحے کو پکڑنے سے بھی قاصر ہو جائیں گے۔ مارکس صرف اس وجہ سے بائیس تئیس سال کیپیٹل کو تبدیل نہیں کرتا رہا کہ دنیا ذرا رُک جائے۔ ۔ ۔ کچھ جمود کا دور آجائے تو وہ کیپیٹل چھپوائے۔ اس کو معلوم تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ لیکن وہ ایسی تخلیق چاہتا تھا کہ تا ابد رہے۔ اس نے جو کچھ موجود تھا، اس کو دیکھا، پڑھا اور پرکھا تھا۔ اس کو اپنے کام کی اہمیت کا بھی علم تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ فلسفے کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ خاتمے سے صرف یہی مراد لی جائے کہ فلسفے کے جو جو سوال تھے ان کے حل پیش کئے جا چکے ہیں۔ اب فلسفے کا کام یہی ہے کہ اس دنیا کو جس میں ہم رہتے ہیں، ایسی بنا دیا جائے جس کو فلسفہ انسان کے رہنے کے قابل مانتا ہے۔ اور یہی فلسفے کا اور انسان کا سب سے بڑا کام ہے۔

مارکس کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اپنی کمزوری اور جہالت کا علم ہونا انسان کی دانشمندی ہے، لیکن اسے یقیناً ھسن تزوؔ کی اس بات کا بھی علم تھا کہ اپنی کمزوری کے ساتھ ساتھ اپنی طاقت کا علم ہونا بھی ضروری ہے19؂۔ اور اسے یہ معلوم تھا کہ’’ پچھلے دوہزار سال سے انسان نے ٹکریں ماری ہیں لیکن قدر اور روپے کی بنتر کوجڑ سے پکڑنے اور واضح کرنے کی ہر کوشش بے سود گئی ہے۔ ۔ ۔ اس سے پیچیدہ معاملات حل ہو چکے تھے لیکن یہ سادہ معاملہ تھا اسی لئے مشکل اور پیچیدہ ثابت ہوا۔ ۔ ۔ وہ خود لکھتا ہے کہ اگر انسان کے جسم کا مطالعہ کرنا ہو تو یہ کافی سادہ ہے، لیکن اس کی اکائی یعنی خلیے کا مطالعہ کرنا ایک دم سے پیچیدہ ہو جاتا ہے‘‘20؂۔ مارکس نے سرمایہ دار ی کی اکائی کو جڑ سے پکڑا اور ’’شئے‘‘ سے اپنا تجزیہ مقرونی اور قدر کا تجریدی لحاظ سے خالصتاً جدلیاتی انداز میں، دونوں کا ایک ہی وقت میں ایک ساتھ تجزیہ کر کے اس کے جوہر کونکال کر باہر رکھا اور ہر خاص و عام کے لئے عام کر دیا۔

ایک اور میتھڈ

مارکس نے جب معیشت پر بات کرنا شروع کی تھی تو اسے جلد ہی علم ہو گیا تھا کہ وہ اس میدان میں کافی کمزور ہے۔ لیکن حالات اور سماج اسے گھیر گھار کر وہاں لے کر آئے تھے جہاں اسے کام کرنا تھا۔ جرمنی میں مارکس پیدا ہوا جہاں دنیا کے عظیم ترین فلسفی؛ فیوئر باخ، ہیگل، شیلنگ، کانٹ، فخطے اور لائبنتز وغیرہ گزرے تھے۔ وہاں سے مارکس نے اپنی پی ایچ ڈی فلسفے میں کی۔ وہاں سے اسے جلد ہی ملک بدر ہونا پڑا تو اسے فرانس میں پناہ ملی۔ ۔ ۔ جہاں1789 ء کا انقلاب آ چکا تھا اور اس کے بعد نپولین بھی گزر چکا تھا۔ اب سوشلزم کی جدوجہد شروع ہو چکی تھی۔ لیکن اس کے بعد، جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مارکس کو فرانس سے بھی دھکے دے کر سرمایہ داری نے اس مقام پر پہنچایا جہاں سرمایہ داری کی موت لکھی جانی تھی، تو اس کی زندگی کسی رزمیے (ایپک) کے ہیرو کی لگتی ہے۔ فرانس سے اسے برطانیہ میں پناہ ملی جو کہ اس وقت ساری دنیا کی تجارت کو اپنے قبضے میں کر چکا تھا اور اس کی سلطنت کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ وہاں کلاسیکی اکنامکس کا بانی ایڈم سمتھ اپنی ’’دولتِ اقوام‘‘ لکھ چکا تھا۔ وہاں ڈینیئل ڈیفو’’رابنسن کروسو‘‘ لکھ چکا تھا جس کی اکانومسٹ مثالیں دیتے تھے۔ مالتھُس نے اپنا ’’نظریہ آبادی‘‘ بھی وہیں بیٹھ کر سوچا اور لکھا۔ جوناتھن سوِفٹ نے وہیں بیٹھ کر ساری انسانی ترقی اور تاریخ کا ایسا عظیم ترین طنز یہ لکھا جس کی مثال دنیا میں اور کوئی نہیں ملتی، یہ ’’گلیورز ٹریولز‘‘ تھا۔ جوناتھن سوفٹ کے آگے آ کرطنز کا بادشاہ والتیئر بھی زانوئے تلمذ تہہ کر کے گیا تھا۔ یہیں سے بیکنؔ نے مضامین لکھ کر روشن خیالی کے دور کا آغاز کیا تھا، جس کی ابتدا انگریزی ادب کا باوا آدم جیوفری چوسرؔ پہلے ہی اپنی طنزیہ سی کہانیاں لکھ کے کر چکا تھا اور یہیں بادشاہ کے اندھے حقوق کو لگام دینے کی ابتد ہوئی تھی۔ یہیں کرسٹوفر مارلو نے ڈاکٹر فاسٹس لکھا اور یہیں شیکسپیئر اور اس کے ساتھ بہت سے دیگر شاعر ادیب پیدا ہو چکے تھے۔ فلسفے کے میدان میں ہابس، پھر لبرلزم کا بانی لاک، پھر بارکلے اور پھر ڈیوڈ ہیوم یہاں ہو چکے تھے۔ لیکن اصل کام کی بات یہ تھی کہ ساری دنیا کی اکنامکس کی باگ ڈور یہیں سے سنبھالی جا رہی تھی اور اکنامکس کے رکارڈوؔ اور جیمز مِل جیسے معیشت دان بھی یہیں پیدا ہو چکے تھے، جو کہ اس وقت تک کی دنیا کے سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے معیشت دان کہے جا سکتے ہیں۔ تو اس جگہ مارکس کو سرمایہ داری گھسیٹ کر لے کر آئی جہاں مارکس نے اس کا تابوت ’’سرمایہ‘‘ لکھ کر تیار کیا۔

مارکس کے میتھڈ کو دیکھنے میں ایک مزا یہ بھی ہے کہ آج تک اس کی کسی بات کو غلط ثابت کرنا تو درکنار شاید غلط کہنے کی بھی ہمت نہیں ہوئی۔ کیونکہ مارکس نے ساری اکنامکس کو سکریچ سے شروع کرنے کے بجائے بورژوا ماہرین کے نکالے گئے تمام نتیجوں کو اپنے کام کے اندر اسی طرح سمو لیا تھا جس طرح سے ہیگل کی جدلیات اپنے سے پہلے کے فلسفوں کو اپنے اندر سموتے ہوئے اسے ’’رد و نمو‘‘( sublation )کا نام دیتی ہے۔ اب کوئی مارکس کے کام کو پڑھنا شروع کرے تو وہ تقریباً تمام کا تمام وہی ہے جو کہ بورژوا ماہرین خود بتاتے ہیں۔ اس کے اعداد و شمار نرے اندازے اور تخمینے نہیں ہیں بلکہ یہ برطانیہ کے شائع ہونے والے حکومتی گزٹ اور رپورٹیں ہیں۔ پارلیمان کی کاروائیاں، بورژوا جریدے اور مجلے وغیرہ ہیں اور انہی کے اخبارات کی رپورٹیں ہیں۔ یہ نہیں کہ مارکس خود نکل کر اپنا من مانا ڈیٹا اکٹھا کرتا رہا جس پر اس کے مخالفین کہیں کہ یہ کیا اکٹھا کر لایا ہے۔ مارکس کے تمام مخالف سب سے زیادہ انہی باتوں پر دانت پیستے ہیں کہ اس نے کہیں پر بھی انگلی تک رکھنے کی گنجائش نہیں چھوڑی اور جو کہنا تھا خود انہی کے اپنے منہ سے اگلوایا ہے۔ جو رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات مارکس داس کیپیٹل میں لکھتا ہے یہ سب برطانیہ کے مشہور اخبارات میں چھپنے والی خبروں سے مع حوالہ درج ہیں۔ اس نے کہیں خود سے اس طرح کے جملے نہیں لکھ مارے جیسے ہمارے ہاں کے دانشور قسم کے لوگ کہے دیتے ہیں کہ ’’ہمارے ہاں چونتیس فی صد لوگ حماقت کی تیسری صف میں آتے ہیں‘‘۔ اس جیسے جملے کہیں نہیں ہیں جن کا مستند جگہوں پر ریکارڈ یا حوالہ نہیں ہے۔ اور بے شک داس کیپیٹل میں حوالے بہت ہی کم ہیں۔ لیکن جو بھی ہیں، انہی کی کتابوں سے ہیں جن کو بورژوا ماہرین حرفِ آخر مانتے ہیں۔ لیکن حوالے دینے کے بجائے مارکس بھی ہیگل ہی کی طرح اکثر نام لئے بغیر کسی کی ذات کو زیرِ بحث لائے بغیر ایک خیال کو پکڑ کر پہلے خوب اچھی طرح سے اس کا جائزہ لیتا ہے۔ پھر اس کی غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ پھر ایک ایسا طنزیہ فقرہ دیتا ہے جس سے اس خیال کے ماننے والے ساری زندگی جان نہیں چھڑوا سکتے۔ جیسے کسی نے کہا تھا کہ ’’سرمایہ وہ وسیلہ ہے جس سے دولت کا حصول ہوتا ہے‘‘ تو مارکس اس بات کو اچھی طرح سے جائزہ لے کر لکھتا ہے کہ بعض بندر چھڑی سے یا پتھروں (کے وسیلے) سے پھل وغیرہ اتارتے دیکھے گئے ہیں۔ تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے پہلا سرمایہ دار بندر تھا(داس کیپیٹل)۔

مارکس کے متعلق ہم نے بات کی ہے کہ وہ ادب کا اور کہانیوں کا بہت شوقین تھا اور صرف شوقین ہی نہیں بلکہ اس نے زیادہ تر ادب اسی زبان میں پڑھا تھا جس میں کہ وہ لکھا گیا تھا۔ مارکس جرمنی میں پیدا ہوا تو اس طرح جرمن زبان ہی اس کی مادری زبان تھی۔ اس کا سسر جسے وہ انکل کہا کرتا تھا اس کوبچپن ہی سے لے کر لمبی پیدل سیروں پر جایا کرتا اور کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ مارکس کو دانتے کی ڈیوائن کامیڈی کے اکثر حصے اطالوی زبان میں زبانی یاد تھے۔ فرانس میں جا کر اس نے فرانسیسی سیکھ لی تھی اور اخبار نکالتا رہا۔ وہ خود کہتا ہے کہ اس نے فرانس کے حالات سے واقفیت بالزاکؔ کے ناولوں سے حاصل کی۔ بالزاک نے ’’ہیومن کامیڈی‘‘ کے عنوان کے تحت نوے پچانوے ناول لکھے تھے۔ کہتے ہیں کہ سروانتسؔ کا ڈان کیخوٹے جناب کو اتنا پسند آیا کہ اس کا اصل مزا لینے کیلئے اس نے ہسپانوی زبان سیکھنی شروع کر دی۔ ایک بار بیمار پڑا تو روسی زبان سیکھنا شروع کی، جب تندرست ہوا تو روسی زبان آ چکی تھی۔ روس کی تاریخ مارکس نے روسی زبان ہی میں پڑھی۔ انگلستان میں آ کر انگریزی سیکھی یا پہلے ہی سے آتی تھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن مارکس کی تحریروں میں شیکسپیئر، ملٹن ؔ اور ورڈزورتھؔ کے علاوہ بھی بہت سے انگریزی شاعروں ادیبوں کے حوالے موجود ہیں۔ ارسطو کے اور دیگر کئی حوالے مارکس یونانی زبان ہی میں دیتا ہے۔ ولندیزی اور عبرانی بھی شاید آتی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مارکس کو الف لیلہ ولیل اتنی پسند تھی کہ وہ اسے عربی میں پڑھنے کیلئے آخری عمر میں عربی سیکھنے کا سوچ رہا تھا۔

ہو سکتا ہے کہ مارکس کو اور زبانیں بھی آتی ہوں لیکن جو میں بتانا چاہتا ہوں اس کی تمہید کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔ مارکس کی داس کیپیٹل کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے تو نہ صرف یہ کہ انسان کے اندر ویسے جذبات پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں جیسے کہ اعلیٰ درجے کی شاعری پڑھ کر یا کوئی انتہائی شاندار موسیقی سُن کر پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ کیوں کر ہوتا ہے؟ کیا اس لئے کہ ہمیں مارکس سے کسی قسم کی عقیدت ہے، اس لئے؟ یقیناًنہیں۔ کیونکہ جب میں نے پہلی بار اسے پڑھا، جو کہ ایک گروپ کی صورت میں پڑھا تھا، تو میری نصف بہتر کے یہ پوچھنے پر کہ ’’کیا پڑھا؟‘‘ میں کچھ زیادہ نہیں بتا سکا تھا، لیکن میرا جواب یہی تھا کہ کچھ خاص سمجھ تو نہیں آئی لیکن کچھ ایسا احساس ہی تھا جیسے شاعری پڑھ رہے ہیں۔ اور یہ بات وہ لوگ اچھی طرح سے جان لیں گے جو یہ جانتے ہیں کہ شاعری صرف موزوں کلام کا یا آہنگ میں الفاظ کو رکھنے کا نام نہیں بلکہ اس کے خیالات بھی شاعرانہ ہی ہوتے ہیں۔ ویسے مارکس خود بھی اینگلز کے نام ایک خط میں یہی لکھتا ہے کہ ’’پڑھنے والے کو چاہیئے کہ اسے ایک ناول کی طرح پڑھے‘‘ اب ناول کی طرح کیسے؟ یہ بات بھی آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے اگر پڑھنے والے نے روسوؔ کا ایملؔ پڑھا ہے جسے ناول ہی ’’کہا جاتا‘‘ ہے۔

اس کی بے ربطی ایسی ہے جو کہ اپنے میتھڈ میں مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ’’جوں جوں اوپرجاتے جائیں گے، ٹھنڈ بھی بڑھتی ہی جائے گی‘‘۔ جتنی بڑی جھولی اتنی زیادہ نیاز ملے گی۔ جتنا زیادہ ادب پڑھا ہے، فلسفہ پڑھا ہے اور جتنے زیادہ ادیبوں کے میتھڈ سے کوئی واقف ہے، اس کے حیران کرنے کیلئے اس کتاب میں اتنے ہی زیادہ مواقع آتے جاتے ہیں۔ قدم قدم پر بندہ چونک جاتا ہے۔ ہومرؔ سے لے کر ہنرخ ہائینے تک اور شاید کیٹس تک ہر ایک کی جھلک اس کام میں ملے گی۔ باوجود اپنے جدلیاتی طریق کار کے، جو کہ صرف مقرونی لحاظ سے کموڈیٹی اور تجریدی لحاظ سے قدر کی بات کرتا چلا جا رہا ہے، اس کو مقداری اور معیاری اور دیگر زمروں میں دیکھتا ہی چلا جاتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ادبی طریقہ کار، جس میں کہیں الف لیلہ، کہیں جادو گروں کی کہانیوں، کہیں بھوت پریت کی، کہیں ویمپائرز کی دنیا کی باتیں، کہیں کلاسیکی داستانیں، فوک گیت، ڈرامے، المیے، رزمیے اور طربیے، کہیں کسی فلسفی کا گھمبیر انداز اور کہیں ایک کھلنڈرے اور شوخ بچے کا، کہیں دنیا کے کسی بھی شاعر کی شاعری، کہیں یونانی دیومالا کا ذکر، جیسے سیسی فس کا یا پرسی اسؔ کا اور کہیں ہندی دیو مالا سے جگن ناتھ کے رتھ کا ذکر۔ ۔ ۔ مارکسؔ ان شاعروں اور قصہ گو کے کرداروں کو اپنے سرمائے کی دنیا کے کرداروں میں دیکھ کر عجیب و غریب استعارے بنا کر ان سے اپنی مرضی کا کام لیتا ہے۔ اس کی بے ربطی میں اگر پڑھنے والے کو قدیم عرب کے سبعہ معلقات یا الہامی عبارات یاد آ جائیں تو بھی کچھ عجب نہیں۔ ابھی تک اس کے سارے حوالوں کی تحقیق نہیں ہو سکی کہ اس نے کس کس جگہ سے حوالے دے کر بات کی ہے۔

اس طرح اس کا میتھڈ جدلیاتی ضرور ہے لیکن باقی جدلیاتی کاموں سے یکسر مختلف بھی۔ ان سب چیزوں کو دیکھ کر اس کا ایک ہیولا سا، ایک خاکہ سا ذہن میں بنتا ہے۔ جو کہ صرف مارکس ہی کا میتھڈ ہے۔ اینگلز نے بھی کتب لکھی ہیں۔ جو کہ ان کتب جیسی ہی ہیں جیسی مارکس نے لکھیں۔

کیا داس کیپیٹل کی ناگزیریت کو کبھی کوئی خطرہ ہو گا؟

دوسرے جدلیاتی میتھڈ کا وہ خاصہ، کہ سابقہ کو اپنے اندر سمو لینا بھی داس کیپیٹل میں موجود ہے۔ اس نے اپنے سے پیشتر ساری اکنامکس کو اپنے اندر سمویا ہے۔ اس کے بعد جس نے آگے پڑھنا ہے، وہ مارکس کوپڑھے بغیر آگے نہیں جا سکتا۔ اصل میں اس کا تعلق ہماری اس بات سے جا جڑتا ہے جو ہم نے اوپر کہی تھی کہ مارکس کو جلد ہی معلوم ہو گیا تھا کہ وہ معیشت کے میدان کا کھلاڑی نہیں ہے۔ تب ہی وہ برٹش میوزیم کی لائبریری میں جاتا ہے اور چند سال بعد جب باہر آتا ہے تو اس کے پاس معیشتی اور فلسفیانہ مسودات اور سیاسی معیشت پر تنقید مع داس کیپیٹل کے موجود ہوتی ہے۔ اس کی عادت تھی کہ وہ جو پڑھتا ساتھ ساتھ نوٹس لیتا جاتا۔ اس کے نوٹس کے انبار میں سے کچھ چھپے ہیں لیکن ابھی سارے چھپے نہیں بلکہ آرکائیو میں رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن وہ ضرور چھپے ہیں جن کو اس نے چھاپنے کی رضامندی دی تھی۔ گرنڈرس تو بیسویں صدی کے نصف کے بھی بعد میں شائع کی گئی۔ خیر مارکس نے اپنی اس کمزوری کو جو کہ معیشت کے میدان میں تھی، اپنی طاقت بنا لیا۔ اب اس نے ایسا کام کرنا تھا جو کہ رہتی دنیا تک رہتا۔

اگر مارکس اس کو آگے سے بند کر دیتا یا مکمل کر دیتا، کوئی حتمی بات کر دیتا تو کوئی بھی کہہ سکتا تھا کہ سرمایہ داری کی آگے شکلیں تبدیل ہو گئی ہیں اور یقیناً داس کیپیٹل اپنی اہمیت کھو چکی ہو گی۔ لیکن یہ اسی طرح سے آگے کو کھلی ہے جیسے خود سرمایہ داری نظام۔ جس نے سرمایہ داری کو سمجھنا ہے، جاننا ہے، پیچھے سے پڑھے یا نہ پڑھے اسے یہ ضرور پڑھنا ہو گی۔ کیوں کہ اس میں جائزہ لینے کا اور تجزیہ کرنے کا ایک طریقہ کار بھی موجود ہے۔ اس نے اس کام کو ایک ایسا پُل صراط بنا دیا ہے کہ جس پر سے گزرے بنا کوئی چارہ نہیں۔ جس نے آگے جانا ہے اسی سے گزر کر جائے۔ اگر یہ اتنی سادی چیز ہوتی تو شاید اس سے گزر کر آگے بہت کچھ ایسا لکھ ڈالا گیا ہوتا کہ اس کی ضرورت نہ رہ جاتی۔ لیکن یہ انسانی تاریخ کی ایک لازمی کڑی تھی جو مارکس کے سادہ تر کرنے کی کوشش کے باوجود اتنی ہی ’’سادہ‘‘ ہو سکی جتنی کہ سرمایہ داری خود ہے۔

یہی ایک انتقام ہے جو مارکس نے اپنے مخالفین سے لیا ہے۔ وہ درد سر جو وہ اکیلا ساری زندگی مزے سے اپنے اوپر طاری کر کے لکھتا رہا، وہ اس کے ان قاریوں پر پوری ہیبت سے طاری ہو جاتا ہے جو اس کو محض اس لئے پڑھ کر گزرنا چاہتے ہیں کہ انسان دشمنوں سے چند سکے بٹور سکیں۔ اس کو پڑھنے کیلئے ادب اور فلسفے کے گہرے مطالعے کی ضرورت ہے، جسے عام معیشت دان شاید وقت کا ضیاع سمجھتے ہوں گے۔ اور ادب اور فلسفہ دونوں ہی ایسی چیزیں ہیں جو کہ صرف شوق سے پڑھی جاسکتی ہیں؛ حوالے دینے کیلئے، یا علمیت بگھارنے کے لئے یا پھر ڈگریاں لینے کیلئے نہ پڑھی جا سکتی ہیں اور نہ سمجھ میں آتی ہیں۔ گائیڈ بکس کی بات الگ ہے۔ اب جس نے اس کو عبور کرنا ہے اس کے سامنے یہ سنگلاخ فلک بوس پہاڑ کھڑے ہیں۔ یہاں سے تشنہ لب گزرے اورگزرتا چلا جائے جب اس کے سامنے وہ مقام آئیں جہاں اس کی پیاس بجھانے کا سامان میسر ہے اور وہ اچھی طرح سیراب ہوتا ہے تو فلسفہ اور ادب اسے انسان دوست بنا چکا ہوتا ہے۔ اب وہ چاہے یا نہ چاہے۔ اسے معلوم ہو یا نہ ہو۔ ۔ ۔ اسے پڑھنے کے بعد اسے آرام سے سمجھ تو آجائے گی لیکن وہ مارکسسٹ ہو چکا ہو گا۔ اور وہ اب بلاشبہ اس قابل ہے کہ وہ اپنے گرد کی دنیا کو دوبارہ سے دیکھے، محسوس کرے اور اس کا نئے طریقے سے جائزہ لے۔ اور لکھے۔ وہ لکھے جو اس وقت لکھنے کی ضرورت ہے۔ اور لوگ لکھتے بھی ہیں۔ سادے تجزیے کرتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ مارکس کے اس جناتی میتھڈ کی ہی تقلید کی جائے۔ لیکن اس کے جائزہ لینے والے طریقے کی بات ہی کچھ الگ ہے۔

البتہ اگر کوئی مارکس کو چھوڑ کر معیشت پر لکھنا چاہے یا اسے جاننا چاہے تو وہ ولگر (بیہودہ)سطح سے اوپر نہیں اٹھ سکتا۔ کیونکہ مارکس کا کام ایسی درمیانی کڑی کے بطور رہ جائے گا جس کے بغیر زنجیر مکمل نہیں ہوتی۔ مارکس کے آگے کے نظام معیشت پر لکھنے کیلئے مارکس کو ذہن میں رکھنا ناگزیریت اور لازمیت لئے ہے۔ ورنہ معیشت پر لکھا سطحی اور کھوکھلا ہے جس کی محض گونج ہی گونج ہے جو کہ یاد کی جاسکتی ہے اور دوبارہ کاغذ پر اتاری تو جا سکتی ہے لیکن اس سے پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی کہ آگے کیا ہو گا۔ اور ان پیش گوئیوں کا یا تناظر بنانے کا انسان کی زندگی اور بقا سے کیا تعلق ہے، اس کے بارے میں بہت کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh