تحریر: ایلن وڈز، ترجمہ: ولید خان، پارس جان|

25 جون 2017ء کو پاکستان کے سب سے بڑے اور بااثر انگریزی اخبار نے ’’ نئے روس کے پرانے بالشویک‘‘ کے عنوان سے کسی بورس سٹریملن کا ایک لمبا چوڑا مضمون شائع کیا ۔ اس مضمون کا مقصد حال ہی میں شائع ہونے والی ٹراٹسکی کی کتاب ’’سٹالن‘‘ کے نئے ایڈیشن کا تنقیدی جائزہ لینا تھا جسے ’’WellRed Books‘‘ نے شائع کیا ہے اور راقم نے اس کی ادارت کی ہے۔

 

 

ہمیں بتایا گیا ہے کہ سٹریملن، جس کے بارے میں، میں اعتراف کرتا ہوں کہ اس کا پہلے کبھی نام نہیں سنا تھا، ایک دانشور ہے جو امریکہ، ترکی اور قزاقستان میں تاریخ اور عمرانیات پڑھاتا رہا ہے اور ہم عصر روسی نظریات اور دوسرے موضوعات پر مضامین بھی شائع کرتا رہا ہے۔اس سے متعلق خبردار ہونے کے بعد تبصرے کے حتمی نتیجے پر ہمیں کوئی حیرانی نہیں ہوئی اور یہ بھی کہ کس طرح کے خیالات ا اظہار کیا جائے گا ۔

Originally published in bolshevik.info

معمول کی زندگی میں جب دو لوگوں کے درمیان بحث چھڑ جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے پر چلاتے ہیں اور مکے لہرا لہرا کر ایک دوسرے کو دھمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن دانشوری کی سر سبز و شاداب دنیا، جو حقیقی زندگی کے شوروغل سے بہت دور ہوتی ہے، میں مختلف ہتھکنڈے آزمائے جاتے ہیں۔ انصاف کے ایوانوں میں بورژوا وکیل انتہائی شگفتہ اور شائستہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنی بات کا آغاز ’’میرے قابل دوست‘‘ کے الفاظ سے شروع کرتے ہوئے سب سے گھٹیا اور خوفناک حملے کرتے ہیں جس کا نشانہ نہ صرف دوسرے شخص کی گفتگو ہوتی ہے بلکہ اس کے محرکات کی ایمانداری اور گواہی کی سچائی کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

سٹریملن کا بھی اسی قبیل سے تعلق ہے اور اسی لئے اس کے حملے کا طریقہ کار پہلے سے واضح تھا۔ وہ اپنے مضمون کا آغاز ٹراٹسکی کی کتاب سٹالن کے نئے ایڈیشن کے بارے میں اچھے الفاظ سے کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ ٹراٹسکی کی دانش سے بہت متاثر ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے شریان کاٹنے سے پہلے استرا تیز کیا جائے:

’’ربع صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد کتاب کو دوبارہ پڑھ کے میں اب بھی ٹراٹسکی کی شاندار دانش کا معترف ہوں۔ سوویت حکام کی جانب سے بہت ساری دستاویزات قبضے میں لئے جانے کے باوجود، ٹراٹسکی آسانی سے سرکاری سٹالنسٹ تاریخ کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے جس کے مطابق سٹالن کا 1917ء کی بالشویک سرکشی میں کلیدی کردار تھا جبکہ ٹراٹسکی کے کلیدی کردار کو مکمل طور پر حذف کر دیا گیا۔

اسی طرح ٹراٹسکی 1936-1938ء میں ہونے والے ماسکو ٹرائلز میں لگائے گئے ان جھوٹے الزامات کی بھی دھجیاں اڑا دیتا ہے جن میں اس پر بالشویک مخالفین، سرخ فوج کے کمانڈروں ، قابل ذکر دانشوروں اور فنکاروں سمیت نازی جرمنی اور سامراجی جاپان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے سوویت حکومت کو گرانے کا الزام تھا۔ ٹراٹسکی ان پہلے لوگوں میں سے تھا جنہوں نے ایک ایسے وقت پر عظیم تطہیروں پر سرکاری سوویت مؤقف کو چیلنج کیا جب بہت سارے بائیں بازو کے سرگرم کارکنوں نے اس مؤقف کو من وعن قبول کر لیا اور تاریخ کو درست کرنے میں اس (ٹراٹسکی) کی دلیرانہ کاوشوں کے آج بھی ہم تمام لوگ مقروض ہیں‘‘۔

سب سوچ رہے ہوں گے کہ ابھی تک تو معاملہ ٹھیک جا رہا ہے۔ لیکن جیسا کہ ایک روسی کہاوت ہے، تارکول کا ایک چمچ شہد کا پورا گڑھا برباد کر دیتا ہے۔ سٹریملن اپنے مکار حملے کا آغاز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بالشویک پارٹی کے نظریاتی بحث مباحثے ’’مبہم اور فرقہ ورانہ سرگرمی‘‘ تھے یا کم از کم ان لوگوں کو ایسا لگتا ہو گا جو ’’جدوجہد کا باہر سے مشاہدہ کر رہے ہیں‘‘۔ بہرحال سٹریملن اعتراف کرتا ہے کہ:

’’اس حقیقت سے انکار کرنا مشکل ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں سوشلسٹ رجحانوں اور پارٹیوں کے درمیان ہونے والے اختلافات نے سوویت یونین اور بعد میں بننے والی سوشلسٹ حکومتوں کی سمتوں کا تعین کرنے اور دونوں عالمی جنگوں کے درمیانی عرصے اور سرد جنگ کے ادوار میں عالمی نظام پر فیصلہ کن اثرات مرتب کیے‘‘۔

ان شفیق الفاظ سے قطع نظر، پورے مضمون کا مواد واضح کرتا ہے کہ ہمارا دوست بورس نہ صرف ’’جدوجہد کو باہر سے دیکھ رہا ہے‘‘، بلکہ اس کا ٹراٹسکی، لینن، بالشویزم اور انقلاب کی جانب رویہ انتہائی جارحانہ ہے۔ اس حوالے سے وہ بورژوازی کے دیگر عالم فاضل حضرات کی بھاری اکثریت کے ساتھ مکمل رضامندی میں ہے جو نام نہاد ’’معروضیت‘‘ کے پردے کے پیچھے چھپ کر دراصل اس طبقے کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہوتے ہیں جو ان کی تنخواہیں ادا کرتا ہے اور ان کی خدمات کو کھلے دل سے نوازتا ہے۔

اکتوبر کے خلاف جارحیت

گزشتہ سو سال کی تاریخ کو سمجھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہم روسی انقلاب کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کریں۔ یہ کیسے ہو گیا کہ دنیا وی تاریخ کی سب سے زیادہ جمہوری ریاست ایک خوفناک افسر شاہانہ آمریت بن گئی؟ جب تک ہم اس سوال کا جواب تلاش نہیں کر لیتے اس وقت تک ہم اپنے عہد کے اہم ترین واقعات کو واضح طور پر سمجھ ہی نہیں سکتے ۔

لیکن’’ عالم فاضل‘‘ حضرات کے مضامین اور کتابوں کو کھنگالنا بے سود ہے۔ اکتوبر انقلاب کی سوویں سالگرہ پر اشاعتوں کا ایک سمندر امڈ آیا ہے جن کا مقصد قطعی طور پر یہ نہیں کہ دنیا کو تبدیل کر دینے والے اس عظیم واقعے کا درست تجزیہ، تشریح یا معلومات فراہم کی جائیں۔ ان رد انقلابی کتابوں کا ایک ہی مقصد ہے: روسی انقلاب کے بارے میں جھوٹ بولا جائے، اس کی تضحیک کی جائے، اس کے بارے میں معلومات کو مسخ کر دیا جائے اور اس کے قائدین کا تمسخر اڑاتے ہوئے انہیں رسوا کیا جائے جنہیں خونخوار بھیڑئیے بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ کوئی نئی صورتحال نہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حکمران طبقے کیلئے کسی انقلاب کو شکست دینا کافی نہیں۔ یہ ضروری ہے کہ اسے جھوٹ میں ڈبو دیا جائے ، اس کے قائدین کا نام برباد کر دیا جائے اور اس کو کینہ، بغض اور شکوک کے بادلوں میں چھپا دیا جائے۔ انیسویں صدی میں جب تھامس کارلائل ، اولیور کرامویل کے بارے میں کتاب لکھ رہا تھا تو اس کا کہنا تھا کہ اسے کرامویل کی لاش کو جھوٹ کے پہاڑ کے نیچے سے کھود کر نکالناپڑا۔

یہی وہ بغض اور کینہ پروری ہے جس کی وجہ سے آج روسی انقلاب کی حاصلات کو رد کیا جا رہا ہے اور اس کے قائدین کی یادوں کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ بورژوازی اس وقت جس منظم طریقے سے تاریخ کو مسخ کر رہی ہے ، اگرچہ یہ انگریز شاہ پسندوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کاوشوں سے زیادہ مکار تو ہے لیکن کسی طرح بھی اخلاقی طور پر ان سے برتر نہیں۔ حتمی تجزئیے میں یہ کوشش بھی ناکام ہو جائے گی۔ انسانی ترقی کا محرک سچائی ہے، جھوٹ نہیں۔ اور سچائی کو ہمیشہ کیلئے دفنایا نہیں جا سکتا۔ 

سائنس اور موضوعیت 

یہ کیسے ممکن ہوا کہ تاریخ کا سب سے جمہوری انقلاب اتنی بھیانک مطلق العنان آمریت پر منتج ہوا؟ یہ ایک اہم سوال ہے اور سنجیدہ جواب کا مستحق ہے۔ سطحی ذہنوں کیلئے اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے: سٹالن ٹراٹسکی سے بہت زیادہ چالاک تھا اسی لئے اس نے ٹراٹسکی کو نکال باہر کیا۔لیکن ایسی سادہ وضاحت حقیقت میں کچھ بھی واضح نہیں کرتی۔ بورژوا مؤرخین کا تاریخ کی طرف رویہ بہت ہی عامیانہ ہوتا ہے۔ وہ تاریخی ڈرامی میں انفرادی اداکاروں کے کردار پر بہت زور دیتے ہیں۔ تاریخ کی کتابیں بادشاہوں، ملکاؤں، سیاستدانوں اور ایسے عظیم افراد کے ناموں سے بھری پڑی ہیں جن کے کارنامے مبینہ طور پر تاریخی عمل کے دھارے کو متعین کرتے ہیں۔

مارکسزم مختلف ہے۔ اس کی بنیاد جدلیاتی اور تاریخی مادیت پر ہے۔ یہ تاریخ کو چند عظیم افراد کے کارناموں سے نہیں، چاہے وہ ہیرو ہو یا ولن، بلکہ ان ٹھوس عوامل کی بنا پر بیان کرتا ہے جو ان عظیم اداکاروں کے پس منظر میں کار فرما ہوتے ہیں اور یہ انہیں دیکھ بھی نہیں سکتے۔ آخری تجزئیے میں کسی بھی سماج کا مقدر اس کی ذرائع پیداوار کو ترقی دینے کی اہلیت سے متعین ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ تاریخ میں افراد کے کردار سے انکار کر دیا جائے کیونکہ یہ مرد اور عورت ہی ہیں جن کے ذریعے تاریخ اپنا اظہار کرتی ہے۔ درحقیقت مخصوص حالات کے زیر اثر کسی عظیم تاریخی ڈرامے کا نتیجہ افراد کے ایک چھوٹے گروہ یا حتی کہ کسی ایک ایک فرد کی مداخلت کے مرہون منت ہوتا ہے۔ تاریخی مادیت ، جو کہ فرد کے کردار کو نظر انداز نہیں کرتی، ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم انفرادی افعال سے بڑھ کر تاریخ کے سٹیج کے پس پردہ گہرے محرکات کا جائزہ لیں۔

کسی بھی دئیے گئے لمحے میں کسی مرد یا عورت کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ لینن اور ٹراٹسکی (خاص طور پر اول الذکر) کے بغیر 1917ء میں اکتوبر انقلاب کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا تھا۔ تاہم افراد یہ کردار صرف اسی وقت ادا کر سکتے ہیں جب باقی تمام حالات تیار ہوں۔ حالات کے امتزاج نے 1917ء میں لینن اور ٹراٹسکی کو اس قابل کیا کہ وہ فیصلہ کن کردار ادا کر سکیں۔ لیکن یہی افراد گزشتہ دو دہائیوں سے سرگرم عمل تھے لیکن یہ کردار ادا کرنے کے قابل نہ تھے۔ اسی طرح جب انقلاب ختم ہوا، اپنی دیوہیکل شخصی صلاحیتوں کے باوجود لینن اور ٹراٹسکی انقلاب کی افسر شاہانہ زوال پذیری کو نہیں روک سکے۔ یہ زوال پذیری طاقت ور معروضی قوتوں کا شاخسانہ تھی جن کے سامنے عظیم قائدین بھی بے بس تھے۔

بورس سٹریملن کا سطحی اور موضوعی طریقہ کار فوری طور پر واضح ہو جاتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ سٹالن نے پہلی سوشلسٹ ریاست کا لیڈر بننے کیلئے ٹراٹسکی کو ’’دیوار‘‘ سے لگا دیا۔ تاریخی سوال کو محض دو افراد کے مابین طاقت کی کشمکش تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اگر ہم اس طریقہ کار کو تسلیم کر لیں تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ ٹراٹسکی نے ذاتیات پر اتر کر سٹالن کی سوانح عمری لکھی تاکہ اس شخص سے انتقام لے سکے جس نے اس کو دیوار سے لگایا تھا۔

سٹریملن کے طریقہ کار میں کچھ بھی نیا نہیں ۔ اس سے پہلے بھی ایسی بہت سی کوششیں کی گئی ہیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ’’سٹالن‘‘ کتاب درحقیقت ٹراٹسکی کی کریملن میں موجود اپنے دشمن کے خلاف ایک کاری ضرب ہے یا کم از کم ایک ایسی کاوش ہے جس میں ایک ذاتی یا نفسیاتی نوعیت کے حاوی ہونے کی وجہ سے معروضی مطالعہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہ عامیانہ رائے مصنف کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ ٹراٹسکی نے پہلے ہی اس قسم کی تنقید کی پیش بندی کر دی تھی جب اس نے لکھا کہ،

’’میرا جو ابھی نقطہ نظر ہے، بہت منفرد ہے۔ میں اسی لئے سمجھتا ہوں کہ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ میں نے کبھی بھی سٹالن کی طرف متنفر رویہ نہیں اپنایا۔ کچھ حلقوں میں سٹالن کی طرف میری نام نہاد نفرت کے بہت چرچے ہیں جو بظاہر مجھے مایوس کن اور مشکل نتائج برآمد کرنے پر اکساتی ہے۔ میں جواباً صرف اپنے کندھے ہی اچکا سکتا ہوں۔ ہمارے راستے اتنا عرصہ پہلے الگ ہو گئے تھے کہ ہمارے بیچ جو بھی ذاتی تعلق رہا تھا وہ مکمل طور پر ناپید ہو چکا ہے۔میری طرف سے ، اور اس حد تک کہ میں تاریخی قوتوں کا صرف ایک اوزار ہوں جو کہ میرے سے الگ اور حتی کہ میری مخالف ہیں، سٹالن کی طرف میرے ذاتی محسوسات بالکل ہٹلر اور جاپانی میکاڈو کی طرح کے ہیں۔‘‘(سٹالن، موجودہ اڈیشن، باب 14، تھرمیڈورین رد عمل: تاریخ کا انتقام)۔

سٹالن کے خلاف انتقام کے جذبے سے سرشار ہونا تو درکنار، ٹراٹسکی کی یہ کتاب لکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ اس نے ایک امریکی چھاپہ خانے کے کہنے پر اپنی انتہائی مالی مشکلات کے پیش نظر یہ پیش کش قبول کی۔ اس وقت اس کا مطمع نظر لینن کی سوانح عمری لکھنے کا تھا۔ سٹالن کی سوانح عمری کے کام کو اس وقت ٹراٹسکی نے دیگر زیادہ اہم کاموں اور اہداف سے انحراف کے طور پر بے دلی سے قبول کیا۔ تاہم، جب اس نے یہ کام شروع کر دیا تو پھر اس کی طرف اس کا رویہ باقی دیگر تمام اہداف کی طرح مارکسزم کے سائنسی طریقہ کار پر مبنی تھا۔ ذاتی تحفظات کا اس سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ٹراٹسکی سٹالن کے رد عمل کو ایک مارکس وادی اور انقلابی نقطہ نظر سے دیکھتا تھا اور اسے کوئی ضرورت نہیں تھی کہ ہمارے عہد حاضر کے پیشہ ور مورخین کی طرح اپنے عزائم کو غلط اور منافقانہ معروضیت کے پردے کے پیچھے چھپائے۔ ہر سال چھپنے والی ان گنت ’’مستند‘‘ کتابوں کا سرسری جائزہ لینا ہی کافی ہے جو ہمیں ’’سائنسی شواہد‘‘ فراہم کرتی ہیں کہ لینن اور ٹراٹسکی خون کے پیاسے درندے تھے ۔اس سے نام نہاد پیشہ ورانہ معروضیت بے نقاب ہوتی ہے جس کے پیچھے بورژوازی کا کمیونسٹ مخالف بدنما اور داغدار چہرہ چھپا ہوا ہے۔

کیا سماج کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھنے اور بیک وقت تاریخی عمل میں افراد کے کردار کی معروضی تشریح کرنے میں کوئی حقیقی تضاد ہے؟ ٹراٹسکی کو خود جواب دینے دیں:

’’ایک ذہنی نابالغ کی نظر میں انقلابی نقطہ نظر مکمل طور پر سائنسی معروضیت سے عاری ہوتا ہے۔ ہم اس کے بالکل برعکس یہ کہتے ہیں کہ صرف ایک انقلابی، بشرطیکہ وہ سائنسی طریقہ کار سے مسلح ہو، ہی انقلاب کی معروضی حرکیات پر رائے دینے کا اہل ہوتا ہے۔ سمجھ بوجھ رکھنے والی سوچ عموماً مستغرق نہیں بلکہ فعال ہوتی ہے۔ جذبے کا عنصر فطرت اور سماج کی مخفی دنیا میں اترنے کیلئے ناگزیر ہے۔ ایک جراح کی طرح، جس کے نشتر پر ایک انسانی زندگی کا انحصار ہوتا ہے،جو بہت احتیاط کے ساتھ ایک زندہ جسم کی مختلف بافتوں کے مابین فرق کرتا ہے، ایک انقلابی بھی ،اگر وہ اپنے ہدف کی طرف سنجیدہ رویہ رکھتا ہو تو سماج کی ساخت، اس کے افعال اوررد عمل کو سخت انہماک سے بھانپنے کا پابند ہوتا ہے‘‘(ٹراٹسکی، چینی انقلاب 1938ء)۔

سٹالن قائد کیسے بن گیا؟

پہلی نظر میں سٹالن ’’لینن کا وارث‘‘ بننے کا بالکل بھی اہل دکھائی نہیں دیتا۔ بروس لوخارت جو کہ ایک اہم عینی شاہد ہے، اپنی یاداشتوں میں لکھتا ہے کہ 1918ء میں ایسی کوئی بھی تجویز بالشویکوں کی طرف سے قہقہوں اور طنز سے سراہی جاتی ۔ لیکن بورس سٹریملن یہ تسلیم نہیں کرتاکیونکہ وہ تاریخ کو افراد ، ان کی صلاحیتوں اور خصوصیات یا ان کی عدم موجودگی کی عینک سے دیکھتا ہے۔ یہ بیوقوفانہ طریقہ کار ہے۔ اگر سٹالن نے ٹراٹسکی کو شکست دی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ٹراٹسکی سے بہتر تھا۔ آخرکار کامیابی ہی سب سے بڑی دلیل ہے۔ 

بورس بے یقینی میں سر دھنتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ، ’’اس نئی مرتب کردہ سوانح عمری کے مصنف کے مطابق سٹالن کے پاس نظرئیے اور طویل بحثوں (جن کو وہ چائے کی پیالی میں طوفان سے تشبیح دیتا تھا)کیلئے وقت نہیں تھا کیونکہ وہ ایک درمیانے درجے کی ذہنیت والا، پسماندہ پینڈو، خود پسند، خبطی اور نفسیاتی محرومیوں کا ازالہ کرنے والا انسان تھا۔لیکن کیونکہ وہ پرانے بالشویک کی شہرت رکھتا تھا، ٹراٹسکی یہ دلیل دیتا ہے کہ اس شہرت نے سٹالن کو روسی انقلاب کو دفن کر دینے والی افسر شاہانہ مشینری کا بہترین اظہار بنا دیا‘‘۔

سٹالن کی مذکورہ بالا تعریف بالکل درست ہے۔ سٹالن کا اقتدار حاصل کرنے اور اس کو برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی نظریہ نہیں تھا۔ وہ تجسس اور اشتعال کی طرف مائل تھا۔ وہ ان لوگوں کی طرح جن کی وہ نمائندگی کرتا تھا، جہالت اور تنگ نظری کا عملی نمونہ تھا۔ باقی بالشویک قائدین نے مغربی یورپ میں کئی سال گزارے تھے اور وہ بیرونی زبانیں فرفر بولتے تھے اور بین الاقوامی مزدور تحریک میں عملاً حصہ لے چکے تھے۔ سٹالن کوئی بیرونی زبان نہیں بولتا تھا حتی کہ وہ روسی زبان بھی جارجیا کے لہجے میں بمشکل ہی بول پاتا تھا۔ سوال اٹھتا ہے کہ پھر وہ اقتدار تک کیسے پہنچ گیا؟

یہ واضح ستم ظریفی ٹراٹسکی کے الفاظ میں ذاتی خصوصیات کی نہیں بلکہ سماجی تعلقات کی مرہون منت تھی۔ ایک انقلابی عہد کو دلیرانہ قیادت، عظیم لکھاریوں، مقررین اور بہادر مفکرین کی ضرورت ہوتی ہے جو عوام کی سماج کو تبدیل کر دینے کی شعوری اور لاشعوری خواہشات کو الفاظ کا روپ دے کر بروقت نعروں میں ڈھال سکیں۔ یہ ’’دیوتاؤں‘‘ کا وقت ہوتا ہے۔ لیکن ایک رد انقلابی دور پسپائی، مایوسی اور شکست و ریخت کا وقت ہوتا ہے۔ ایسے عہد کو ’’دیوتاؤں‘‘ کی نہیں بلکہ بہت چھوٹے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ موقع پرستوں، سہل پسندوں اور بھگوڑوں کا وقت ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں دلیر مفکرین اور عظیم انسان درکار نہیں ہوتے۔ درمیانے درجے کی ذہنیت کی حکمرانی ہوتی ہے اور سٹالن درمیانے درجے کی ذہنیت کا ہی آدمی تھا۔ یقیناً یہ تعریف اس کی خوبیوں کا پورا نقشہ نہیں کھینچتی ورنہ وہ کبھی بھی اس قابل نہ ہوتا کہ اپنے سے زیادہ قابل لوگوں کو پچھاڑ دیتا۔ وہ آہنی قوت ارادی، اول العزمی، ہٹ دھرمی، اقتدار کیلئے غیر متزلزل جستجو اور ذاتی ترقی کی خواہش رکھنے والا شخص تھا جو لوگوں کو شیشے میں اتارنے ، ان کی کمزوریوں کو استعمال کرنے اورسازشی مقاصد کیلئے ان کو بروئے کار لانے کی مہارت رکھتا تھا۔

ایسی خوبیاں آگے بڑھتے ہوئے انقلاب کیلئے پرلے درجے کی غیر اہم ہوتی ہیں۔ لیکن ایک محبوس انقلاب کے دور میں ان کو بہت مؤثر انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم ہر انقلاب میں یہی ہوتا دیکھتے ہیں۔ 1794-1789ء کے عرصے میں انقلاب فرانس کے ابھار کے دور میں اس کے قائدین جن تھے: میرابو، دانتے، مارات، روبسپئیر، سینٹ جسٹ۔ لیکن انقلاب کی مسدودیت کے بعد، جو جیکوبینز کی شکست کے بعد وقوع پذیر ہوئی، موقع پرستوں، مفاد پرستوں، اہلکاروں، بھگوڑوں اور دھوکے بازوں کیلئے راہ ہموار ہو گئی۔جوزف فوخے اس عہد کا مجسم اظہار بن کر سامنے آیا۔

مارکس نے پہلے ہی نشاندہی کی تھی کہ ایک رد انقلاب کے دور میں ایک درمیانے درجے کا آدمی بہت زیادہ قابل اور دور اندیش لوگوں پر سبقت لے جا سکتا ہے۔ تاریخی مادیت کے اپنے شاہکار، لوئی بوناپارٹ کی اٹھارویں برومیئر میں وہ وضاحت کرتا ہے کہ نپولین کا بھتیجا ، جس کو وکٹر ہیوگو نے’’بونا نپولین ‘‘ کا نام دیا ہے، ایک درمیانے درجے کا نظریات اور اصولوں سے عاری شخص تھا جو ایسی وقت میں اقتدار پر مسلط ہوا جب ایسے ہی کرداروں کی ضرورت تھی۔ سٹالن کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔

بہتان تراشی کی نئی درسگاہ

آج کل ولادیمیر پیوٹن کی مطلق العنان سلطنت کے دفاع میں سٹالن کے تشخص کو بحال کرنے اور اس کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی سر توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عالمانی معروضیت کے پردے کے پیچھے مادی مفادات اور کریملن کے موجودہ آقا کی خوشنودی حاصل کرنے کے مقاصد کارفرما ہیں۔ اس ضمن میں آئے روز بے زار کن بے قاعدگی سے جاری کئے جانے والے ’’انکشافات‘‘ پر حکومت وقت کی طرف سے یہ تنبیہ چسپاں کی جانی چاہیئے کہ،’’اس مواد کا استعمال دماغ کیلئے مضر ہے‘‘۔

یہ از سر نو تاریخ نویسی ہمیں سٹالنسٹ بیوروکریسی کے پرانے طریقہ کار کی یاد دلاتی ہے جس کے ذریعے وہ تاریخ کو سر کے بل کھڑا کر دیتے تھے، قائدانہ کردار ادا کرنے والوں کو معدوم اور بے وقت کر دیتے تھے جیسا کہ ٹراٹسکی کے ساتھ کیا گیا تھا اور عموماً کالے کو سفید بنانے پر مصر رہتے تھے۔ سوشلزم کے مخالفین کی حالیہ تحریریں ان سے مختلف نہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ وہ لینن کو بھی اسی اندھی نفرت اور دھتکار سے یاد کرتے ہیں جو سٹالنسٹوں کے ہاں صرف ٹراٹسکی کے حصے میں آتی تھی۔

اس کی بدترین مثالیں روس میں پائی جاتی ہیں۔ یہ دو مختلف وجوہات کی بنیاد پر حیران کن نہیں ہے: اول تو یہ کہ یہ لوگ سٹالن کی بہتان تراشی کی درسگاہ میں پروان چڑھے ہیں جو اپنی بنیاد اس اصول پر استوار کرتے تھے کہ سچ حکمران اشرافیہ کی خدمت کے ایک آلے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ پروفیسر حضرات، معیشت دان اور مؤرخین چند قابل عزت مستثنیات کے ساتھ موجودہ روش سے مطابقت پیدا کر لیتے تھے۔ وہی دانشور جو ٹراٹسکی کی تعریف کا راگ الاپتے تھے کہ ٹراٹسکی سرخ فوج کا بانی ہے اور اکتوبر انقلاب کا قائد ہے، وہی چند سالوں بعد اسے ہٹلر کا ایجنٹ قرار دینے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے تھے۔ وہی مصنفین جو جوزف سٹالن کو عظیم قائد اور استاد مانتے تھے، بہت جلد دوسری انتہا پر جا کر کھڑے ہو گئے جب نکیتا خروشیف نے ’’شخصیت پرستی‘‘ کو دریافت کیا۔عادتیں جان جانے کے ساتھ ہی جاتی ہیں۔ دانشورانہ بھڑوت کے طریقہ کار آج بھی وہی ہیں۔ صرف آقا تبدیل ہوئے ہیں۔

ایک اور بالکل الگ وجہ بھی ہے۔ روس میں موجود کئی سرمایہ دار کچھ عرصہ قبل تک کمیونسٹ پارٹی کے رکنیت کارڈ اپنی جیبوں میں رکھتے تھے اور سوشلزم کی لفاظی کرتے تھے۔ درحقیقت ان کا سوشلزم، کمیونزم اور محنت کش طبقے سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وہ ایک طفیلی حکمران اشرافیہ کا حصہ تھے جو سوویت مزدوروں کی پشت پر پرتعیش زندگی گزارتے تھے۔ اب اسی مکاری کے ساتھ جو اس طرح کے عناصر کا خاصہ ہوتی ہے، وہ کھل کر سرمایہ داری کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن یہ معجزانہ تبدیلی اتنی آسانی سے وقوع پذیر نہیں ہوئی۔ یہ لوگ اپنے انحراف کو جواز فراہم کرنے کیلئے انہی خیالات کو لعن طعن کرنے پر مجبور ہیں جن کو ابھی کل ہی تک یہ کامل یقین رکھتے تھے۔یوں وہ عوام کی نظروں میں دھول جھونکنے اور اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔حتی کہ ایک بدترین غنڈہ بھی اپنی کارستانیوں کا جواز ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ 

1917ء میں سٹالن

رتی برابر شک نہیں ہے کہ نومبر 1917ء میں روسی انقلاب کا مقدر دو انسانوں کے افعال سے متعین ہوا۔ لینن اور ٹراٹسکی اور سب سے بڑھ کر لینن۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں بالشویک پارٹی کو لینن /ٹراٹسکی کی پارٹی سے جانا جاتا تھا۔اس وقت کے روسی یا بین الاقوامی کسی بھی روزنامچے یا جریدے پر سرسری نظر ڈالنے سے اس حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔

1917ء میں سٹالن کا کردار غیر اہم نہیں تو ثانوی نوعیت کا تھا۔ ایک کمزور مصنف اور بدترین مقرر، عوام کی وسیع تر پرتوں کو وہ نظر ہی نہیں آتا تھا۔ 1917ء میں سٹالن کا نام پارٹی کارکنوں ایک چھوٹا گروہ ہی جانتا تھا۔ صرف 1924ء میں لینن کی وفات کے بعد سٹالن کی داستان ’’عظیم قائد اور استاد‘‘ کے طور پر ایجاد ہوئی۔ اس مشہور زمانہ حقیقت کے باوجود سٹریملن یہ لکھنے کی جسارت کرتا ہے کہ، ’’سٹالن نے بالشویکوں کے اخبار پراودا کے مدیر کے طور پر سرکشی کو پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا‘‘۔ یہ ایک حیران کن دعویٰ ہے۔ سٹالن کا پراودا میں کیا کردار تھا۔ اپریل 1917ء میں لینن کی روس واپسی سے پہلے سٹالن اور کامینیف پارٹی کے سرکاری اخبار کے مشترکہ مدیر تھے۔ اس وقت ان کا نقطہنظر لینن کے نقطہ نظر سے یکسر متضاد تھا۔

اقتدار پر محنت کشوں کے قبضے کی وکالت(لینن کے نعرے ’’تمام اقتدار سویتیوں کو‘‘) کرنے کے بجائے پراودا نے وکالت کی کہ بورژوازی کی عبوری حکومت کی حمایت کی جائے۔ لینن کے مضامین شائع نہیں کئے جاتے تھے یا ان کو ترمیم شدہ شکل میں شائع کیا جاتا تھا۔ جب اپریل میں وہ واپس آیا تو لینن کو سٹالن اور کامینیف اور دیگر مصالحت پسندوں کے خلاف زور دار جدوجہد کرنی پڑی۔ اس کے بعد سٹالن پس منظر میں چلا گیا اور اس نے کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا۔

آئیں کچھ عینی شاہدین سے ملتے ہیں۔ مشہور زمانہ امریکی سوشلسٹ جان ریڈ سے ابتدا کرتے ہیں جس کی کتاب

’’دنیا کو جھنجھوڑ دینے والے دس دن‘‘ روسی انقلاب کی کلاسیکی دستاویز کے طور پر دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔ لینن نے اس کتاب کا پیش لفظ لکھا جسے ہم پورا درج کر سکتے ہیں۔ ’’انتہائی دلچسپی اور گہرے انہماک کے ساتھ میں نے جان ریڈ کی کتاب ’’دنیا کو جھنجھوڑ دینے والے دس دن‘‘ پڑھی۔ میں غیر مشروط طور پر دنیا بھر کے محنت کشوں کو یہ کتاب پڑھنے کی صلاح دوں گا۔ یہ وہ کتاب ہے جو میں لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتے اور تمام زبانوں میں ترجمہ ہوتے دیکھنا چاہتا ہوں۔ یہ پرولتاریہ کی آمریت اور انقلاب کی سمجھ بوجھ کیلئے واقعات اور معروضی حالات کی صداقت کا اظہار ہے۔ یہ مسائل بڑے پیمانے پر زیر بحث ہیں لیکن اس سے قبل کہ کوئی ان نظریات کو قبول یا مسترد کرے ، اسے اپنے فیصلے کی مکمل اہمیت کا ادراک ہونا چاہیئے۔ جان ریڈ کی یہ کتاب بلا شک و شبہ اس سوال کی وضاحت میں معاون ہے جو کہ ان دنوں عالمی مزدور تحریک کا بنیادی مسئلہ بنا ہوا ہے‘‘(لینن،1919ء کا اختتام)۔

یہ انقلاب کی بلند ترین اتھارٹی کی طرف سے جان ریڈ کی صداقت کا واضح اعتراف ہے۔ ہم لینن کی اکتوبر انقلاب اور اس میں مختلف بالشویک قائدین کے کردار کو جاننے کے خواہش مند لوگوں کیلئے لینن کی صلاح کی تائید کرتے ہیں۔ یہاں ہم اپنے آپ کو ایک سادہ مشاہدے تک محدود کریں گے۔

کتاب کے اختتام پر ناموں کی فہرست میں لینن کا ذکر 62 اور ٹراٹسکی کا53 دفعہ ہے۔ سٹالن کا نام صرف دو مرتبہ اور وہ بھی انقلابی عمل کے بعد ایک مرتبہ عوامی کمیساروں کی فہرست میں آیا ہے۔ انقلابی عمل میں اس کی سرگرم شمولیت کے حوالے سے ایک لفظ بھی درج نہیں ۔ یہی وجہ سے کہ وہ کتاب جس کو لینن نے اتنے جوش و خروش سے سراہا ہے، سوویت یونین میں کئی دہائیوں تک ممنوع تھی۔ لیکن جان ریڈ کی خاموشی کوئی حادثہ نہیں اور نہ ہی یہ کوئی الگ تھلگ واقع ہے۔

1923ء میں اے وی لوناچارسکی، پرانا بالشویک جو نومولود سوویت ریپبلک کا ثقافت اور تعلیم کا پہلا وزیر تھا، نے ایک کتاب ’’انقلابی خاکے‘‘ لکھی جو اس وقت بہت مشہور ہوئی۔ یہ 1917ء میں بالشویک پارٹی کے سب سے مشہور قائدین کے قلمی خاکوں کے ایک سلسلے پر مشتمل تھی۔ اس میں لینن اور ٹراٹسکی کو سب سے پہلے شامل کیا گیا،ان کے بعد زینوویف، سیوردیلوف، ولودریسکی اور یوریتسکی تھے۔ اس میں پلیخانوف اور مارٹوف کے اوپر بھی مضامین تھے جو کہ ظاہر ہے کہ بالشویک پارٹی کے ممبران نہیں تھے۔ لیکن سٹالن کا نام کہیں موجود نہیں تھا اور نہ ہی کوئی اور اسے اس وقت پارٹی کے اہم قائدین میں شمار کرتا تھا۔ 

1917ء میں سٹالن کی غیر اہم شرکت سب پر عیاں تھی۔ بائیں بازو کے منشویک این این سوخانوف، جو کہ فروری انقلاب کے بعد سوویت ایگزیکٹیو کا ممبر تھا، سٹالن کے بارے میں اپنی پہلی میٹنگ میں قائم ہونے والے تاثر کو یاد کرتا ہے:

’’ بالشویک پارٹی کے پاس افسروں کی کور کے انتہائی کم معیار کے باوجود ’’جرنلز‘‘ میں بڑے ناموں اور عظیم قائدین کی ایک فہرست تھی۔ تاہم صرف میری ہی نہیں بلکہ زیادہ تر لوگوں کی یہی رائے تھی کہ ایگزیکٹیو کمیٹی میں اپنے انتہائی معمولی کردار کے وجہ سے سٹالن ایک ایسی دھندلی شبیہ تھا جو کسی پر کوئی بھی تاثر چھوڑنے کا اہل ہی نہیں تھا۔ اس کے علاوہ اس کے بارے میں اور کچھ کہا ہی نہیں جا سکتا‘‘۔ (این این سوخانوف، انقلاب روس 1917ء ذاتی ریکارڈ، صفحہ نمبر 229,230)۔

آئے ایک اور اہم حوالہ دیتے ہیں۔ بروس لوک ہارٹ (اور بھی بہت سے ہیں) بالشویزم کا پر عزم د شمن تھا اور انقلاب کے وقت روس میں برطانیہ کا ایجنٹ تھا لیکن واقعات پر گہری نظر ہونے کی وجہ سے ایک دور اندیش مشاہدہ کار بھی تھا۔ اپنی آپ بیتی ’’ایک برطانوی ایجنٹ کی یاداشتیں‘‘ میں وہ 1918ء کے اوائل کی ایک تقریب کو یاد کرتا ہے جس میں اس کی ملاقات سوویت حکومت کے ممبران سے ہوئی:

’’میں نے ایک پھیکے چہرے ، کالی مونچھوں، گھنی ابروؤں اور پیچھے کھچے ہوئے سیاہ بالوں والے مضبوط آدمی سے بھی ہاتھ ملایا۔ میں نے زیادہ توجہ نہیں دی۔اس نے خود بھی کچھ نہیں کہا۔ وہ اتنا اہم دکھائی نہیں دیتا تھا کہ میں اسے اپنی بالشویک تصاویر کی گیلری میں شامل کرتا۔ اگر اس وقت اس محفل میں اس کو لینن کے وارث کے طور پر متعارف کروایا جاتا تو مندوبین کی ہنسی نکل جانی تھی۔ یہ شخص جارجین جگاش ویلی تھا جسے آج ساری دنیا سٹالن کے نام سے جانتی ہے۔۔آہنی مرد‘‘(بروس لوک ہارٹ، ایک برطانوی ایجنٹ کی یاداشتیں، صفحہ نمبر 257)۔

کیا کچھ اور کہنے کی ضرورت ہے؟

اخلاق باختگی کی مطابقت

سٹریملن بار بار ان روسی عالموں کی طرف سے کی جانے والی ’’نئی دریافتوں‘‘ کا حوالہ دیتا ہے جو تاریخی ریکارڈ تک دسترس رکھتے ہیں۔ وہ لکھتا ہے،’’نئے عالموں نے اس تصور کو ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ سٹالن کی آمریت کی جڑیں بچپن میں ہونے والی زیادتی کے زیر اثر اس کے کردار کی خامیوں میں پیوست ہیں‘‘ اور دوبارہ ’’جب سے سوویت تاریخی ریکارڈ کو کھولا گیا ہے ، اس وقت سے سٹیفن کوٹکن جیسے نئے علما یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایسی کوئی شہادت نہیں ملی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ سٹالن کی پرورش، خاص طور پر اپنے وقت کے معیارات کے مطابق اشتعال انگیز ماحول میں ہوئی یا سٹالن نے خانہ جنگی کے دنوں میں اخلاق باختگی کامظاہرہ کیا (لینن اور ٹراٹسکی کے مقابلے میں)‘‘۔

لینن اور ٹراٹسکی کے ساتھ موازنے میں جاتے ہوئے بورس سٹریملن یہ گردانتا ہے کہ لینن اور ٹراٹسکی نے خانہ جنگی کے دنوں میں شدید اخلاق باختگی کا مظاہرہ کیا۔ وہ کس اخلاق باختگی کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟ یہ وہ نہیں بتاتا۔ وہ ایک اشارہ تک نہیں کرتا اور ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے تاریک نتائج خود اخذ کریں۔ امن پسند اور اخلاقیات کے علمبردار تمام جنگوں کو انسانی اخلاق باختگی کے اظہار سے زیادہ اور کچھ نہیں سمجھتے کیونکہ جنگوں میں لوگ ایک دوسرے کو قتل کر دیتے ہیں۔ مجرد اخلاقیات کے نقطہ نظر سے ایسی رائے سے متفق ہونا آسان ہے۔ بدقسمتی سے ہم حقیقی دنیا میں رہتے ہیں اور ابھی تک ہم جنت کی نعمتوں سے فیض یاب نہیں ہو پائے ہیں۔ اور حقیقی دنیا میں جنگیں زندگی کی تلخ حقیقت ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم ان حقائق کو مانیں یا نہ مانیں۔

جنگوں میں لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے یہ ہم جانتے ہیں۔ لیکن جنگوں کے بیچ و بیچ کچھ ایسے منفرد وحشیانہ واقعات بھی رونما ہوتے ہیں جن کو بجا طور پر اخلاق باختگی کہا جا سکتا ہے۔ آئیے دو اہم مثالوں پر غور کرتے ہیں۔ 15-13 فروری 1945ء کے دنوں میں برطانوی (اور کچھ امریکی) فوجیوں نے جرمنی کے پرانے شہر ڈریسڈن پر 1500 ٹن اور 2400 ٹن تک کے جلا کر خاکستر کر دینے والے بارود کی بمباری کی۔ چند گھنٹوں میں 25000-35000 عام شہری، مردو عورت اور بچے، جل کر خاکستر ہو گئے۔وکٹر گریگ جو کہ ڈریسڈن میں ایک برطانوی قیدی تھا، اس رات اسے بھی ان قیامت خیز آگ کے شعلوں کو بجھانے کے کام میں معاونت کرنے کے احکامات صادر ہوئے۔ اس کی ٹیم کو السٹیڈ میں ایک ہزار عام لوگوں کا دفاعی تہہ خانہ ملا ۔نہ تو کوئی زندہ بچا تھا اور نہ ہی کوئی لاشیں بچی تھیں۔ صرف ایک بھورا سبز مائع تھا جس میں ہڈیاں ابل رہی تھیں۔ ہراساں لوگ پگھل چکے تھے۔ قصبے سے دور دراز کے علاقوں میں ہزاروں جل بھن کر تین فٹ کے ہو کر رہ گئے تھے۔ تین سال سے چھوٹی عمر کے بچے بخارات بن کر اڑ گئے۔ 

اس سے گزشتہ سال 25 جولائی کو ہیمبرگ کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ شہر کے وسط میں آٹھ مربع میل پر 9000 ٹن دھماکہ خیز بارودی مواد پھینکا گیا۔ نتیجے میں جو جہنم کے شعلے بھڑکے اس نے آکسیجن کے ایسے خلا کو جنم دیا جس نے 150میل فی گھنٹہ رفتار اور 800ڈگری درجہ حرارت پر جلنے والی آندھی کو مہمیز دی۔ 37000 لوگ مارے گئے (موازنہ کیجئے کہ ناگاساکی میں ایٹم بم کے گرنے سے پہلے دن 40000 لوگ مرے تھے)۔

یہ اندوہناک تھا لیکن ہیمبرگ کو کم از کم ایک بندرگاہ ہونے کی وجہ سے فوجی اہمیت حاصل تھی۔ ڈریسڈن تو بالکل غیر اہم تھا۔ اس قدیم شہر نے جنگ کے مہینوں میں قطعاً کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ پھر اس شہر کی عورتوں، مردوں اور بچوں کو زندہ جلا کر کس مقصد کی تکمیل کی گئی تھی؟ بظاہر اس میں کوئی اخلاق باختگی نہیں ہے لیکن یہ صرف جنگ کی ہیبت ناک ضرورت تھی۔اس رات جناب چرچل بستر پر گئے اور گہری نیند سو گئے۔

6 اگست 1945ء کے دن امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا۔ تین دن بعد ناگاساکی شہر پر دوسرا ایٹم بم گرایا گیا۔ اس کے بعد ہیروشیما کی آبادی 350000 اور ناگاساکی کی 210000 تک محدود ہو گئی اور 200000 عام شہری یا تو راکھ کا ڈھیر بن گئے یا بخارات بن کر اڑ گئے۔ اس کے بعد مزید 250000 اگلے سالوں میں زہریلی تابکاری سے ہلاک ہو گئے۔ دھماکے کے بعد ہیروشیما پہنچنے والے سب سے پہلے ڈاکٹروں میں سے ایک کے مطابق ،’’ناقابل شناخت لاشوں کا ایک ان گنت ذخیرہ تھا جسے اکٹھا کر جلا دیا گیا۔ زخمی اور تابکاری کے متاثرین مرتے رہے۔ دن رات شہر کے ہر کونے میں لاشیں جمع کی جاتی رہیں اور جلائی جاتی رہیں‘‘۔ مرنے والوں کی حقیقی تعداد کا کبھی اندازہ نہیں لگایا جا سکے گا۔ان اقدامات کو یہ کہہ کر جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انہوں نے جاپان کو جلد ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر کے جنگ کو مختصر کر دیا اور امریکی فوجیوں کی جان بچائی۔ یہ دلائل تنقید کی ایک رتی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ اس ہیبت کا شکار ہونے والے سپاہی نہیں تھے بلکہ غیر مسلح عام مرد، عورت اور بچے تھے۔ نہ تو ہیروشیما اور نہ ہی ناگاساکی فوجی اہمیت کے حامل شہر تھے۔ ان حملوں کا مقصد خوف کی فضا قائم کرنا تھا۔ یہ خالصتاً ایک سرد مہر اقدام تھا۔ ٹرومین (دوسری جنگ عظیم میں امریکی صدر) کی بنائی گئی ایک سویلین ٹیم نے،جس میں جان گالبریتھ بھی شامل تھا، 400 سے زیادہ امریکی افسروں کا انٹرویو کیا اور تمام متعلقہ جاپانی دستاویزات کا معائنہ بھی کیا۔ جولائی 1946ء میں یہ رپورٹ شائع کی گئی:

’’تمام شواہد کی مفصل چھان بین اور بچ جانے والے جاپانی قائدین کی حلفیہ شہادتوں کے بعد سروے کرنے والی ٹیم کا خیال ہے کہ اگر بم نہ بھی گرائے جاتے اور روس جنگ میں نہ بھی داخل ہوتا اور حتی کہ کسی بھی حملے کا منصوبہ نہ بھی بنایا جاتا تو بھی جاپان ہتھیار ڈال دیتا‘‘۔

صدر ٹرومین کا اصل مقصد یہ تھا کہ سوویت یونین کو یہ باور کرایا جائے کہ امریکہ کے پاس اب اتنا طاقتور ہتھیار موجود ہے۔ یہاں ہم طاقت کی سیاست کی اخلاق باختگی کی شاندار مثال دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے جدید مؤرخین خانہ جنگی کے دنوں میں جب سوویت یونین پر 21 غیر ملکی فوجوں نے چڑھائی کی ہوئی تھی، لینن اور ٹراٹسکی کی مبینہ زیادتیوں پر اکتفا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انقلاب کے پاس اپنا دفاع کرنے والی فوج کی کمی تھی۔ صورتحال اس وقت بہتر ہوئی جب ٹراٹسکی نے از سر نو ایک سرخ فوج تعمیر کی جس نے رد انقلابیوں کو شکست دی اور سامراجی حملہ آوروں کو مار بھگایا۔ 

اس جھوٹی اخلاقی موشگافی کی اصل وجہ کو دیکھنا زیادہ مشکل نہیں۔ دو ہزار سال کے عرصے میں غلاموں کی کئی بغاوتیں ہوئیں۔ ان میں سے ہر ایک کو خون میں نہلا دیا گیا۔ رومن فوج کے ہاتھوں سپارٹیکس کی شکست کے بعد ہزاروں غلاموں کو ایپین وے پر مصلوب کر دیادیا گیا۔1871ء کے پیرس کمیون کی شکست کے بعد 30000 محنت کش مرد و خواتین کو رد انقلابیوں نے ذبح کر دیا۔ اگر یہ اخلاق باختگی نہیں ہے تو پھر حیرت ہے کہ اخلاق باختگی کیا ہے۔ جس وجہ سے ہمارے جدید بورژوا مؤرخین لینن اور ٹراٹسکی کو معاف نہیں کر سکتے وہ یہ ہے کہ روس میں اس بار غلاموں نے اپنی فوج بنائی، وہ لڑے اور جیت گئے۔
سوویت یونین سے ان تمام لوگوں کی نفرت کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں جن کے کیرئیر، تنخواہیں اور منافع رائج الوقت کرائے، سود اور منافع کے نظام سے منسلک ہیں۔ اس کا سٹالن کی مطلق العنان حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی (جمہوریت کے دوست) ان آمرانہ حکومتوں کی تعریف میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے جو ان کے مفادات سے مطابقت رکھتے ہوں۔جمہوری برطانوی حکمران طبقہ اس وقت تک ہٹلر کو اقتدار میں دیکھ کر بہت خوش تھا جب تک وہ جرمن محنت کشوں پر مسلط تھا اور اس کی توجہ مشرق کی طرف تھی۔

ونسٹن چرچل اور برطانوی حکمران طبقے کے دوسرے نمائندوں نے مسولینی اور فرانکو کی 1939ء تک کھل کر تعریف کی۔1945ء کے بعد مغربی جمہوریتوں اور خاص طور پر امریکہ نے سموزا سے پینوشے تک، ارجنٹائن کی فوجی آمریت سے لے کرانڈونیشیا کے قصاب سہارتو تک، ہر جابرانہ آمریت کی حمایت کی جو CIA کی فعال حمایت کے بل بوتے پر لاکھوں انسانوں کی لاشوں کے مینار تعمیر کرتے ہوئے اقتدار تک پہنچے۔ مغربی جمہوریتوں کے قائدین سعودی عرب کی خون آشام آمریت کے آگے ناک رگڑتے ہیں جو اپنے ہی عام شہریوں پر تشدد کرتی ہے، انہیں قتل کرتی ہے، کوڑے مارتی ہے اور سولی پر چڑھا دیتی ہے۔ بربریت کی ان داستانوں کی فہرست نہ ختم ہونے والی ہے۔

سامراجیت کے نقطہ نظر سے یہ حکومتیں مکمل طور پر قابل قبول تھیں اور ہیں کیونکہ ان کی بنیاد زمین، بینکوں اور بڑی اجارہ داریوں کی نجی ملکیت پر ہے۔ ان کی سوویت یونین سے کھلی مخاصمت آزادی کی محبت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ننگے طبقاتی مفادات پر مبنی تھی۔وہ سوویت یونین سے اس کے منفی پہلوؤں کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے مثبت اور ترقی پسند پہلوؤں کی بنا پر نفرت کرتے تھے۔ ان کا سٹالن کی آمریت پر کوئی اعتراض نہیں تھا ( اس کے برعکس سٹالن کے جرائم مغرب میں سوشلزم کا نام بدنام کرنے کیلئے کار آمد تھے) بلکہ اکتوبر انقلاب کی حاصلات کی باقیات ، جو کہ قومیائے گئے ملکیتی رشتوں پر مبنی تھی ، قابل اعتراض تھی۔

سٹالن کی اذیت پسندی

سٹریملن، ٹراٹسکی سے منسوب کرتا ہے کہ، ’’سٹالن کا اشتعال اس کے دانشورانہ اور روحانی بہتری کی خاطر جذباتی عدم تحفظ کے باعث تھا۔ بعد میں سٹالن کی پالیسیاں جن کا خمیازہ لاکھوں انسانوں نے بھگتا، کسی ذہنی خلل یا اعصابی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ غیر اخلاقی تخمینوں کی پیداوار تھیں‘‘۔ سٹالن ایک متشدد اذیت پسند تھا، اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ شہادتوں کے اتنے پہاڑ اس بات کی تصدیق کیلئے موجود ہیں جو ترمیم پسند مؤرخین کبھی جمع نہیں کر سکتے۔ تطہیر کے مقدموں کا اصل مقصد بالشویک پارٹی کو تحلیل کرنا تھا تاکہ نئی نسل کو پرانے بالشویکوں سے دور رکھا جائے اور افسر شاہی کی حکمرانی کو مستحکم کیا جائے۔جو کوئی بھی لینن ازم کی پرانی بین الاقوامی جمہوری روایات کو یاد کر سکتا تھا، اسے خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ کسی بھی عام مجرم کی طرح سٹالن تمام شہادتوں کو مٹا دینے کی ضرورت کو سمجھتا تھا۔

لیکن ایک ذاتی مقصد بھی تھا۔ سٹالن ایک درمیانے درجے کی ذہنیت کا آدمی تھا جو پرانے بالشویک قائدین کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ ٹراٹسکی جیسے عظیم انسانوں کو تو چھوڑئیے، بخارن، کامینیف اور حتی کہ زینوویف کے مقابلے میں بھی سٹالن کچھ بھی نہیں تھا اور وہ یہ حقیقت جانتا تھا۔ اسی لئے وہ پرانے بالشویکوں کی پوری نسل کی طرف انتقامی جذبات رکھتا تھا۔ سٹالن ایک ایسا اذیت پسند تھا جس کو اپنے شکار کو اذیت دینے میں ذاتی دلچسپی ہوتی تھی۔ وہ جارجیا کے خونی دور کے پرانے طریقہ کار ماسکو لے آیا جن میں نہ صرف دشمن بلکہ اس کے پورے خاندان کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے کہا کہ،’’اپنے دشمن سے انتقام کی منصوبہ بندی کرنے، اس پر عمل ہوتا ہوا دیکھنے اور پھر سکون سے بستر پر دراز ہو جانے سے زیادہ پرمسرت دنیا میں کچھ بھی نہیں‘‘۔

سٹالن کا قیدیوں سے تفتیش کرنے کا آسان فارمولہ تھا۔ ’’مارو، مارو اور پھر مارو‘‘۔ پہلے ٹرائلز کے وقت جنریخ یوگوڈا OGPU-NKVD کا چیف تھا۔ وہ سٹالن کے احکامات بجا لاتا تھا لیکن قائد کی مطلوبہ گرمجوشی سے نہیں۔ سٹالن بہت غصے میں تھا کیونکہ یوگوڈا 1936ء کے ٹرائل میں کیروف کے قتل کے مقدمے میں کامینیف اور زینوویف کے اعترافی بیانات حاصل نہیں کر پایا تھا۔ اس نے یوگوڈا کو بلایا اور کہا،

’’جنریخ گریگو ریوچ، تم ٹھیک کام نہیں کر رہے۔ میں پہلے سے ہی جانتا ہوں کہ کیروف کو زینوویف اور کامینیف کی ہدایات پر قتل کیا گیا۔ لیکن تم ابھی تک یہ ثابت نہیں کر پائے ہو۔ تمہیں ان پر تشدد کرنا ہو گا جب تک وہ سچ بتا نہیں دیتے اور اپنے دیگر تمام ساتھیوں کا پتہ نہیں دے دیتے‘‘(آنا لیرینا، میں یہ بھول نہیں سکتا، صفحہ 94)۔

سٹالن کے تشدد کے کیمپوں میں لاکھوں لوگ بھوکے پیٹ مرتے دم تک کام کرتے تھے۔ ان کیمپوں میں 1929-1934ء کے درمیانی سالوں قیدیوں کی اوسط مدت دو سال سے بھی کم تھی۔ پھر بھی آقا کو یہ شکایت رہتی تھی کہ کیمپوں کے حالات بہت زیادہ آرام دہ ہیں۔ وہ ’’صحت افزا مقامات‘‘ کی طرح ہیں۔ سٹالن ذاتی طور پر اپنے قیدیوں کی فہرست چیک کرتا تھا اور فیصلہ کرتا تھا کہ کون زندہ رہے گا اور کس کو مارنا ہے۔ سات لاکھ مقدمات میں سے اس نے ذاتی طور پر 400 فہرستوں پر دستخط کئے جن میں 40000 لوگ شامل تھے۔ ان فہرستوں میں لینن کے تمام اصولی ساتھی اور لڑاکا انقلابی شامل تھے۔

جب اس کا تاریخی ریکارڈ کھولا گیا تب سٹالن کے مظالم بے نقاب ہوئے اور پتہ چلا کہ وہ اپنے مستقبل کے شکاروں پر تشدد کے تصویری خاکے بناتا رہتا تھا۔ بورس ایلیزاروف، روسی اکیڈمی آف سائنس کا ممبر اور مؤرخ ہے،نے وہ خاکے شائع کئے ہیں جو سٹالن پولٹ بیورو کی میٹنگ میں اپنے آپ کو محضوض کرنے کیلئے بناتا رہتا تھا۔ 1930ء کے مکروہ تصویری خاکوں میں سے ایک اس وقت کے وزیر خزانہ نکولائی بریوخانوف کا بھی ہے جو ایک رسی کے ذریعے جنسی عضو سے لٹکا ہوا ہے۔

’’خاکے پر یہ نوٹ درج ہے اور سٹالن کے دستخط بھی ہیں جس میں بنانے والے نے چار سال سے پولٹ بیورو کے ممبر بریوخانوف کے بارے میں اپنے دماغ میں موجود منصوبے کی لذت کو چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔۔خاص فائل کی سرخی کے نیچے یہ لکھا ہے:’پولٹ بیورو کے تمام ممبران کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اپنے موجودہ اور مستقبل کے تمام گناہوں کی پاداش میں بریوخانوف کو اس کے خصیوں سے لٹکا دینا چاہیئے۔ اگر خصیے اس کو سہار پائیں تو اسے قانون کی روشنی میں بے گناہ سمجھا جائے گا۔ اگر وہ سہار نہیں پاتے تو پھر اسے دریا برد کر دیا جائے۔۔ بریوخانوف کو 1938ء میں جھوٹے الزامات کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا۔اس کو 1956ء میں سٹالن کی موت کے تین سال بعد بے گناہ قرار دے دیا گیا‘‘‘(دی سنڈے ٹائمز، 8جولائی 2001ء)۔

کیا سٹالن کی ابتدائی زندگی میں ایسے حالات تھے جن سے منتقم، حاسدانہ، ظالمانہ اور اذیت پسندانہ رجحانات کی عکاسی ہوتی ہو؟ ہاں ، بہت سے تھے۔ اور تمام ریکارڈ کو ٹراٹسکی نے دستاویزی شہادتوں کی دولت کے انبار کی شکل میں انتہائی جانفشانی کے ساتھ کھنگالا۔ یہ مواداس کے ذاتی آرکائیو اور دیگر ذرائع بشمول بالشویکوں، سٹالنسٹوں، منشویکوں اور خاص طور پر جارجیا کے انقلابیوں کی یاداشتوں سے لیا گیا ہے جن کو وہ ذاتی طور پر جانتا تھا۔ تو کیا سٹریملن یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ ٹراٹسکی سٹالن کی دہشت ناک آمریت کو اس کے بچپن کے تجربات کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔ یہ مضحکہ خیز بات ہے۔ یا تو اس نے کتاب پڑھی نہیں یا اس نے جو بھی پڑھا ہے اس کا ایک لفظ بھی سمجھ نہیں پایا۔ ٹراٹسکی کا یہ کہنا نہیں ہے کہ سٹالن کی خونی آمریت اس کے ناخوشگوار بچپن کی پیداوار ہے اور نہ ہی ہٹلر کی حکومت اس کے بچپن کا نتیجہ تھی۔ علیحدہ علیحدہ دیکھنے پر یہ رجحانات فیصلہ کن اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔ 

ہر وہ بچہ جو شرابی باپ سے پٹتا ہے، اذیت پسند آمر نہیں بنتا اور نہ ہی ہر نامراد فنکار جو ویانا کے سماج سے دھتکارے جانے پر نادم ہو، ایڈولف ہٹلر بنتا ہے۔ ایسے شخصی ارتقا کے وقوع پذیر ہونے کیلئے عظیم تاریخی واقعات اور سماجی دھماکے ضروری ہوتے ہیں۔ جہاں تک ہٹلر کی بات ہے ، یہ وال سٹریٹ کے منہدم ہونے کے بعد جرمن معیشت کا دھڑن تختہ تھا جس نے ہٹلر کو خستہ حال پیٹی بورژوازی اور مسخ شدہ لمپن پرولتاریہ کی عوامی تحریک کی قیادت کا موقع فراہم کیا۔

سٹالن کے معاملے میں یہ تحریک کا جمود تھا جو جنگ، انقلاب اور خانہ جنگی اور سب سے بڑھ کر انتہائی پسماندہ اور غریب ملک کے اندر انقلاب کے تنہا رہ جانے کے باعث مراعت یافتہ افسر شاہی کے ابھارکے زیر اثر روسی انقلاب کے ٹھہراؤاور عوام کی تھکاؤٹ کی وجہ سے ممکن ہوا۔ لاکھوں ریاستی اہلکار محنت کشوں کو پرے دھکیلتے ہوئے ایک مراعت یافتہ برادری کی شکل اختیار کر گئے۔ ان لوگوں کو ایک لیڈر کی ضرورت تھی جو ان کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ لیکن اس لیڈر کا مستند انقلابی ہونا اور ایک مضبوط بالشویک پس منظر رکھنا ضروری تھا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ، ’’لمحہ آ گیا تو بندہ حاضر‘‘۔ سوویت افسر شاہی کو اپنا نمائندہ جوزف جوگاشیویلی کی شکل میں مل گیا جسے ہم سٹالن کے نام سے جانتے ہیں۔

سٹالن اور اشتراکی زراعت کو فروغ دینے والے مشہور ڈیمچینکو اور انجلینا ینگ کمیونسٹ لیگ کی دسویں کانگریس کے موقع پر

قومی سوال

سٹریملن نے ٹراٹسکی کے دلائل میں نقائص تلاش کرنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر، اس سوال پر کہ کیا سٹالن قومی سوال پر اس کے نام سے شائع ہونے والی کتاب کا مصنف تھا:

’’ٹراٹسکی کے اس دعوے کو، کہ سٹالن کا واحد نظریاتی کام، مارکسزم اور قومی سوال، درحقیقت لینن کی تحریر ہے، کوئی حمایت نہیں ملی۔ آج زیادہ تر لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ کتاب سٹالن کی تصنیف ہے جس نے شکوک و شبہات کے باوجود اپنے تجزئیے کو سوویت یونین کو ایک کثیر القومی فعال سلطنت کے طور پر تشکیل دینے کیلئے استعمال کیا‘‘۔

سٹریملن اپنی بات کو مستند حوالوں سے ثابت کرنے کے بجائے ایک مبینہ ’’اتفاق رائے‘‘ کا مبہم حوالہ دیتا ہے۔ کس کا اتفاق رائے؟ کہاں؟ کب؟ سٹریملن کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا ۔ اور یہ بھی یقینی نہیں کہ وہ خود جانتا ہے۔ سٹریملن کے پر اعتماد دعوے کے برعکس بالشویک کارکنوں کی اکثریت میں یہ خیال عام پایا جاتا تھا کہ یہ کتاب لینن (اور بخارن) کی تحریر کردہ ہے۔

اس وقت (1913ء) لینن جلا وطنی میں پولینڈ کے شہر کاراکو میں مقیم تھا اور اپنے قومی سوال پر انتہائی نظریاتی کام کی تکمیل میں غرق تھا۔ اس کیلئے یہ خوش آئیند تھا کہ ایک جارجیائی (سٹالن) اس کام میں اس کا ہاتھ بٹائے۔ اس کی وجوہات واضح تھیں اور وہ یہ چاہتا تھا کہ اس سوال پر پرجوش مقالمہ ہو۔ قومی سوال پر تمام نظریات لینن نے تشکیل دئیے۔ لینن نے سٹالن کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس طویل مضمون کیلئے ضروری تاریخی مواد جمع کرنے کیلئے ویانا جائے۔

یہاں پہلے مسئلے سے ہمارا سامنا ہوتا ہے۔ سٹالن جرمن یا کوئی دوسری بیرونی زبان نہیں جانتا تھا لیکن جو بھی مواد اسے درکار تھا وہ جرمن زبان میں تھا جو وہ پڑھ نہیں سکتا تھا۔ اسے بخارن پر انحصار کرنا پڑا جو سٹالن کے برعکس نظریاتی غوروفکر کرنے والا دماغ رکھتا تھا، زبانیں جانتا تھا، موضوع سے متعلقہ ادب سے واقف تھا اور دستاویزات کو استعمال کرنے کا تجربہ رکھتا تھا۔ اسی لئے ان تحریروں میں بخارن کا کام بھی شامل ہے جس کا اظہار ان مضامین کے عالمانہ اور ماہرانہ طرز تحریر سے ہوتا ہے۔ سٹالن مواد لے کر کاراکو واپس پہنچا۔ لینن نے شروع سے آخر تک پوری تحریر کو دوبارہ ترتیب دیا جیسا کہ ٹراٹسکی کہتا ہے:’’اس کے خیالات کی مہر اور اس کے قلم کے نشانات باآسانی ہر صفحے پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ مدیر کی طرف سے لکھے گئے کچھ جملے اور مصنف کی طرف سے میکانکی طور پر کچھ سطور غیر متوقع اور ناقابل فہم معلوم ہوتی ہیں جب تک لینن کے متعلقہ کام سے حوالے تلاش نہ کر لئے جائیں‘‘۔ ایک نہایت اہم بات جو اس تحریر کے مصنف کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مارکسزم اور قومی سوال، سٹالن کی منتخب تصانیف کی کسی بھی جلد میں شامل نہیں ہے جو سب سے پہلے 1926ء میں شائع ہوئیں۔ یہ بہت عجیب بات ہے کیونکہ یہ عملاً اس وقت تک سٹالن کا واحد نظریاتی کام تھا۔ یہ کام بالآخر 1934ء میں مارکسزم اور قومی سوال کے عنوان سے روسی مضامین کے مجموعے میں شائع ہوا اور اس کا انگریزی ترجمہ آئندہ سال منظر عام پر آیا۔ 

سٹریملن واضح طور پر خود اپنی بات کی نفی کرتا ہے جب وہ یہ کہتا ہے کہ، ’’کتاب درحقیقت سٹالن ہی کی تصنیف ہے جو شک و شبہات کے باوجود اپنے تجزئیے کو سوویت یونین کی تعمیر کیلئے استعمال کرتا ہے‘‘۔ اگر سٹالن واقعی اس کتاب کا مصنف ہوتا تو اس کتاب کے حوالے سے شک و شبہات کیوں پائے جاتے ہیں؟ وہ پر اسرار شک و شبہات آخر کیا تھے جن کا سٹالن شکار تھا، خاص طور پر ان نظریات کے بارے میں اس کے اپنے فرض کئے جاتے ہیں؟ ایک دفعہ پھر بورس ہمیں آگاہ نہیں کرتا۔

سچ یہ ہے کہ وہ نظریات جن کا اظہار مارکسزم اور قومی سوال میں کیا گیا ہے، سو فیصد لینن کے نظریات ہیں۔ سٹالن کی بالعموم مارکسی نظریات اور بالخصوص لینن کی سمجھ بوجھ نہ ہونے کے برابر تھی۔اس نے کبھی ان نظریات کو قبول نہیں کیا لیکن بے دلی سے لینن کی سیاسی اتھارٹی کے زیر اثر تائید کرتا تھا۔ یہ لینن کے قومی سوال پر مؤقف کے حوالے سے اس کے شک و شبہات کا حقیقی مطلب ہے۔ 

یہ حقیقت کہ بورس سٹریملن یہ ذکر کرنا گوارا نہیں کرتا کہ لینن نے قومی سوال پر سٹالن کے موقف سے قطع تعلق کر لیا تھا۔ اپنی بیماری کے آخری دنوں میں لینن پارٹی قیادت کے سنجیدہ انحراف سے باخبر تھا۔ حقیقی صورتحال سے لینن کو کاٹ دینے کی سٹالن کی تمام تر کوششوں کے باوجود لینن کو سٹالن اور اس کے اتحادیوں(جارجیا میں زرزنسکی اور اوردزونیکدزے) کی مشکوک سرگرمیوں کی خبر ملتی رہتی تھی۔افسر شاہانہ طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے جارجیائی بالشویکوں کے قومی جذبات کو کچل ڈالا، حتی کہ مقامی پارٹی قیادت کے خلاف تشدد کا بھی استعمال کیا۔

جب لینن کو اس بات کا پتہ چلا، اسے شدید غصہ آیا اور اس نے سٹالن کے غنڈے، اوردزونیکدزے کو پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ کر دیا۔ اس نے جارجیائی کمیونسٹ پارٹی کے قائد مدیوانی کو لکھا کہ وہ سٹالن، زرزنسکی، اوردزونیکدزے کے خلاف جارجیا کے بالشویکوں کے ساتھ ہے۔ بستر مرگ پر لینن سٹالن کے خلاف جدوجہد کی تیاری کر رہا تھا (اس کے سیکرٹری نے کہا ’’ولادیمیر ایلیچ سٹالن کے خلاف دھماکے کی تیاری کر رہا ہے‘‘) اور اس نے ٹراٹسکی کے ساتھ ایک بلاک قائم کیا۔ 

لیکن اس کے فوراً بعد لینن کی صحت اچانک بہت زیادہ بگڑ گئی اور اس کیلئے پارٹی کانگریس میں شرکت کرنا ناممکن ہو گیا۔ اس سے تاریخ کی سمت تبدیل ہو گئی۔

جنرل سیکرٹری

سٹریملن کہتا ہے کہ،

’’لینن نے شدید علالت کے دنوں میں خاص طور پر سٹالن کیلئے جنرل سیکرٹری کا مضبوط عہدہ تخلیق کیاجبکہ اس نے ٹراٹسکی کو معاشی امور کے کلیدی عہدے سے دور رکھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سٹالن کی حیثیت کے حوالے سے ٹراٹسکی کے نقطہ نظر میں ذاتی رنجش کا شائبہ ہے‘‘۔

یہ شروع سے آخر تک غلط ہے۔ لینن کی زندگی کے وقت سے شروع ہونے والا جنرل سیکرٹری کا عہدہ سٹریملن کے خیالات کے برعکس کوئی کلیدی اہمیت کا حامل نہیں تھا۔یہ درحقیقت ایک تنظیمی ذمہ داری تھی جس کی اپنی جگہ ایک خاص اہمیت تھی لیکن یہ مرکزی سیاسی عہدہ نہیں تھا۔ یہ حقیقت کہ لینن خود کبھی اس منصب پر فائز نہیں رہا، اس منصب کی حقیقت کو واضح کرنے کیلئے کافی ہے۔

خاص طور پر سٹالن کیلئے یہ عہدہ تخلیق کرنا تو درکنار، لینن سٹالن کو یہ عہدہ دینے کے خلاف تھا۔ اس نے اظہار خیال کیا کہ،

’’یہ باورچی صرف تیز مرچوں والے کھانے ہی تیار کرے گا‘‘۔ اس نے بالآخر زینوویف کے دباؤ میں یہ فیصلہ کیا جو اس وقت ٹراٹسکی کے خلاف سٹالن کے ساتھ ایک اتحاد بنانے کی کوشش کرر ہا تھا۔ لیکن سٹالن کے بارے میں لینن کے شک وشبہات اس وقت اور مضبوط ہو گئے جب اسے سٹالن کی سازشوں اور جوڑ توڑ کا پتہ چلااوربالآخر 1923ء میں وہ سٹالن کے ساتھ مکمل طور پر قطع تعلق ہو گیا جب اس نے اپنے آخری خطوط (جو بعد میں چھپائی گئی وصیت کے نام سے جانے جاتے ہیں) میں جنرل سیکرٹری کے عہدے سے سٹالن کو اس کی کرختگی اور غداری کے باعث ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

اپنے آخری خط میں لینن نے سٹالن کے ساتھ تمام ذاتی اور نظریاتی تعلقات منقطع کر دئیے۔ میں کسی ایسی دوسری مثال کے بارے میں لاعلم ہوں جس میں لینن نے اس طرح کا انتہائی قدم اٹھایا ہو۔ لینن کی بیوہ کروپسکایا کے فوری مطالبات کے باوجودسٹالن اور اس کے اتحادیوں نے لینن کی وصیت کو پارٹی کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ دہائیوں تک پارٹی کے تاریخی ریکارڈ میں پوشیدہ رہی اور 1956ء میں نکیٹا خروشیف اپنی ’’ڈی سٹالنائزیشن‘‘ کی مہم کے دوران منظرعام پر لے آیا۔

حیران کن طور پر سٹریملن، لینن کی وصیت کی صداقت کے بارے میں شکوک پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مقصد کیلئے وہ اپنے روایتی ذرائع(پیوٹن کے روس کے نام نہاد عالم فاضل جنہیں پرانے بالشویکوں کی کردار کشی کرنے کے پرکشش معاوضے ملتے ہیں) کی طرف دوبارہ رجوع کرتا ہے ۔

’’روسی دانشور ویلنٹن سخاروف کا خیال ہے کہ 1923ء کی لینن کی مشہور وصیت ، جس میں وہ سٹالن کی برطرفی کا مطالبہ کرتا ہے، لینن کی بیوی کروپسکایا کی تحریر کردہ ہے کیونکہ اس وقت لینن پہلے ہی کوئی بھی کام کرنے سے قاصر تھا‘‘۔

یہ بے حد حیران کن ہے کہ سٹریملن اس بے ہودہ بہتان کو دہراتا ہے، جو 1920ء کے عشرے میں سٹالنسٹ حلقوں میں گردش کرتی تھی کہ لینن کی بیوہ اور اس کی وفادار کامریڈ کروپکسکایا نے یہ لکھی ہے۔یہ ایک اور مثال ہے کہ جدید روسی دانشور سٹالن کے تشخص کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے کس حد تک جانے کیلئے تیار ہیں اور اس طرح وہ پیوٹن اور اس کے غنڈہ گرد حکمران ٹولے کی چاپلوسی کرتے ہیں جن کے مفادات کے یہ امین ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ عالم فاضل سخاروف اپنی لاج رکھنے کیلئے چوں چراں سے کام لیتا ہے۔ یہ بزدلانہ پہلو تہی ہی بے ایمانہ اور غیر اخلاقی طریقہ کار کا پردہ فاش کرنے کیلئے کافی ہے۔ کروپسکایا، جس نے اپنی ساری زندگی لینن اور بالشویک پارٹی کی بے لوث خدمت کیلئے وقف کر دی، سخاروف کے دعوے کے مطابق بستر مرگ پر لینن کے ساتھ اتنی بڑی غداری کا کبھی تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن سخاروف اپنے بہیمانہ مقاصد کیلئے تاریخی سچائیوں کو مسخ کرنے میں بالکل بھی نہیں ہچکچاتا۔ اور یہاں کوئی چوں چراں نہیں ہے۔

اپنے ہی ذرائع سے بے زار سٹریملن اگلے ہی جملے میں شرمندہ شکل کے ساتھ نمودار ہوتا ہے،’’حتی کہ اگر سخاروف غلط بھی ہے تو‘‘۔۔لیکن یہ طریقہ کار بمشکل ہی تسلی بخش ہو سکتا ہے۔ پہلے وہ سخاروف کا حوالہ دیتا ہے، اسے روسی عالم فاضل قرار دیتا ہے، گویا کہ وہ سب سے زیادہ قابل اعتماد اور ناقابل مواخذہ شخص ہو۔ حوالہ تاہم مکمل بے وقت قیاس آرائی(چوں چراں) کی شکل اختیار کر لیتا ہے کیونکہ اس کو ثابت کرنے کیلئے کوئی بھی شہادت موجود نہیں اور اسی لئے بورس ہلکا سا اشارہ دیتا ہے کہ اس کا معتبر اور ناقابل مواخذہ روسی عالم غلط بھی ہو سکتا ہے۔

یہاں پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ کھسیانی بلی نوچے کھمبا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک دفعہ سخاروف کی بہتان تراشی بیان کی جاتی ہے (مکمل طور پر ناقابل مواخذہ ذرائع سے) اور قاری کے دماغ میں ایک مستند حقیقت کے طور پر انڈیل دی جاتی ہے (لینن کی وصیت،اس کی بیوہ کی تخلیق کردہ جعلی دستاویز ہے)اور پھر اس بیان سے ایسے کترا کر نکلنے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے یہ کبھی دیا ہی نہ گیا ہو۔ یہ ایک چھوٹے بچے کی طرح ہے جو ایک پتھر پھینکتا ہے اور پھر اپنے ہاتھ اپنی کمر کے پیچھے چھپا لیتا ہے۔

ایک ملک میں سوشلزم

ٹراٹسکی کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی سٹریملن کی ناکامی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ،’’ٹراٹسکی سمیت بالشویک قیادت جرمنی میں انقلاب کو ابھارنے کے سراب کا پیچھا کرنے کی نسبت سٹالن پر نظر رکھنے میں کم دلچسپی لگتی تھی‘‘۔اس سے پورے معاملے کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سوویت ریاست کی افسر شاہانہ زوال پذیری کی اصل وجہ انتہائی پسماندہ حالات میں انقلاب کا تنہا رہ جاناتھا۔ بہت عرصہ قبل، مارکس نے جرمن آئیڈیالوجی میں لکھا تھا کہ جہاں غربت بے پناہ ہو وہاں’’ سارا پرانا کچرادوبارہ ابھر آتا ہے‘‘۔ یہاں اس کی مراد عدم مساوات، بد عنوانی، افسر شاہی اور مراعات کی برائیوں سے ہے۔

’’اسی طرح ٹراٹسکی کے برخلاف جو سٹالن کے ایک ملک میں سوشلزم کو تعمیر کرنے کے خیال کو مارکسزم سے تمسخرانہ انحراف قرار دیتا ہے، سٹالن کے انقلاب اور جنگ میں بنیادی تعلق کے نظرئیے نے سوویت کی سیاسی وسعت پذیری کی بنیادیں استوار کیں‘‘۔

یہ بورس سٹریملن کے الفاظ ہیں لیکن ایک ملک میں سوشلزم کے نظرئیے کا حقیقی مطلب کیا تھا؟

1924ء تک ہر بالشویک یہ سمجھتا تھا کہ روس میں سوشلزم کیلئے مادی حالات موجود نہیں ہیں۔ ایک ملک میں سوشلزم کا نظریہ لینن کی وفات کے بعد 1924ء میں پہلی مرتبہ نمودار ہوا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ یہ تصور مارکسزم سے اس حد تک مغائرانہ تھا کہ سٹالن لینن کی زندگی میں اس کو شائع کرنے کی جرات نہیں کر سکا۔ درحقیقت وہ درجنوں تقاریر اور مضامین میں اس سے اختلاف کرتا تھا۔ لینن اور ٹراٹسکی بہت اچھے طریقے سے جانتے تھے کہ روس میں سوشلزم کیلئے مادی حالات موجود نہیں ہیں۔ 1924ء سے پہلے کوئی بھی شخص اس بنیادی قضئیے پر سوال نہیں اٹھاتا تھا۔ بالشویک اپنے نظریات کی بنیاد یورپ کے ترقی یافتہ ممالک اور خاص طور پر جرمنی تک انقلاب کے پھیلاؤ پر استوار کرتے تھے۔ اگر جرمنی کا انقلاب کامیاب ہو جاتا جو کہ 1923ء میں ممکن تھا تو روس میں ساری صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔

ایک سوشلسٹ فیڈریشن کی بنیاد پر جرمنی کی دیو ہیکل پیداواری قوت کو روس کے بے تحاشہ خام مال اور افرادی قوت کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے عوام کے مادی حالات کو تبدیل کیا جا سکتا تھا۔ ایسی صورتحال میں افسر شاہی کا ابھار ناممکن ہو جاتااور سٹالن کا دھڑا اقتدار پر قبضہ کرنے کے قابل نہ ہوتا۔ سوویت محنت کش طبقے کا مورال بہت بلند ہو جاتا اور عالمی انقلاب میں اس کا یقین بحال ہو جاتا۔ 

ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ 1929-1923ء کے عرصے میں افسر شاہانہ زوال پذیری کا عمل کبھی بھی مستحکم نہیں ہوا تھا۔ اس حقیقت کا اظہار سٹالن اوراس کے دھڑے کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کے اتار چڑھاؤ میں ہوتا ہے۔ 1928-1923ء کے عرصے میں سٹالن نے دائیں بازو کی پالیسی اختیار کی جس کے تحت کولاک (امیر کسان) کو رعایتیں دیں اور نئی معاشی حکمت عملی ( NEC) کے پالیسی سازوں کو روس میں نوازا گیااور خارجہ پالیسی میں اصلاح پسندوں اور نو آبادیاتی بورژوازی کی حوصلہ افزائی کی گئی۔اس سے انقلاب شدید خطرے میں پڑ گیا۔ داخلی طور پر اس سے محنت کشوں کے مقابلے میں امیر کسان اور سرمایہ دار طاقت ور ہوئے۔ بیرون ملک اس نے کمیونسٹ انٹرنیشنل کو ایک کے بعد دوسری شکست سے دوچار کیا۔

ایسا نہیں تھا کہ سٹالن نے 1923ء کے جرمن اور 1927-1923ء کے چینی انقلاب کو شعوری طور پر پسپا کیا تھا۔ اس کے برعکس وہ ان انقلابات کی کامیابی کا خواہش مند تھا۔ لیکن دائیں بازو کی وہ موقعہ پرستانہ پالیسیاں جو اس نے ایک ملک میں سوشلزم کے نام پر کمیونسٹ انٹرنیشنل پر تھونپی تھیں، وہ ان شکستوں کی وجہ بنیں۔ جدلیاتی طور پر علت، معلول بن جاتی ہے اور معلول، علت۔ روسی انقلاب کی تنہائی ، افسر شاہی اور سٹالن کے دھڑے کے ابھار کی اصل وجہ تھی۔ آخر الذکر کی غلط پالیسیوں نے جرمن اور چینی انقلابات (اور ایسٹونیا، بلغاریہ اور برطانیہ) کی شکست و ریخت کے حالات پیدا کئے۔ ان پسپائیوں نے انقلاب کو مزید تنہا کر کے سوویت محنت کشوں کی مایوسی کو کئی گنا بڑھا دیا جو یورپی محنت کشوں کی طرف سے کسی بھی قسم کی مدد سے مکمل طور پر ناامید ہو گئے۔ اس سے افسر شاہی اور سٹالنزم (جو افسر شاہی کے مادی مفادات کا سیاسی اظہار تھا) مستحکم ہوئے۔ نتیجتاً بین الاقوامی انقلاب (جرمنی، اسپین) کو مزید شکستیں ہوئیں جس نے دوسری عالمی جنگ کے حالات پیدا کئے جس کے باعث USSR انتہائی شدید خطرات سے دوچار ہو گیا۔

مستقبل میں سوشلزم

آخر کار ہم معاملے کے جوہر کی طرف آتے ہیں۔ اپنے مضمون کے اختتام پر بورس سٹریملن نہایت اہم سوال پوچھتا ہے: ’’کیا ان پرانے تنازعات کو آج کے عہد میں زیر بحث لانے کی کوئی افادیت ہے‘‘؟ اور وہ جواب دیتا ہے:

’’ہم اب سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے دور میں داخل ہو چکے ہیں جس میں مروجہ سیاسی قوتیں بڑے پیمانے پر کمزور ہو چکی ہیں۔ سماجی و معاشی پولرائزیشن کے بارے میں تشویش اور اضطراب بڑھ رہا ہے جبکہ نوجوانوں میں کسی حد تک سوشلسٹ نظریات کا احیا ہو رہا ہے۔یاد رہے کہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد سوشلسٹ نظریات تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن چکے تھے۔ برطانوی جیرمی کوربن اور فرانس کے میلنشوں سمیت چند سیاست دان جن کی جڑیں ٹراٹسکائیٹ روایات میں موجود ہیں گزشتہ کچھ عرصے میں مقبول ہوئے ہیں اگرچہ یہ کہنا ابھی بہت مشکل ہے کہ ٹراٹسکائزم عالمی سیاست میں ایک قوت کے طور پرموجود ہے۔ اسی اثنا میں یہ سرکش ابھار، عالمی معاملات کی دیکھ بھال میں ترقی یافتہ مغربی ریاستوں کی اجارہ داری کو برقرار رکھنے کی نااہلیت کا اظہار ہے‘‘۔

2008ء کے بحران سے لے کر اب تک سیاسی اور سماجی توازن برباد ہو چکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ 2008ء کا بحران ماضی کے تمام بحرانوں سے یکسر مختلف تھا۔ یہ عروج و زوال کے چکر کے معمول کا بحران نہیں تھا بلکہ سرمایہ داری کے نامیاتی بحران کا عکاس تھا۔ 2008ء سے پہلے سرمایہ داری نہ صرف اپنی حدود کو چھو چکی تھی بلکہ ان سے متجاوز ہو چکی تھی۔ بحران اس حقیقت کا اظہار تھا۔ اب سارا عمل اپنے الٹ میں تبدیل ہو چکا ہے اور لاکھوں لوگ سماج میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت کا شعور حاصل کر رہے ہیں۔ عوام موجودہ حالات، موجودہ سماج اور موجودہ سیاست سے غیر مطمئن ہیں۔ یہ پاکستان سے فرانس اور برازیل سے برطانیہ تک ہر طرف دیکھا جاسکتا ہے۔ برطانیہ میں ہم جیرمی کوربن کا ابھار دیکھتے ہیں اور فرانس میں میلانشوں کی بڑھتی ہوئی حمایت، حتی کہ یہ امریکہ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے اگرچہ وہاں اس کا اظہار ایک مسخ شدہ اور رجعتی شکل میں ہوا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح پرانے سیاسی توازن پر مکمل عدم اعتماد کی غمازی کرتی ہے۔ ٹرمپ نے تبدیلی کا وعدہ کیا تھا، اگرچہ یقیناً کوئی حقیقی تبدیلی نہیں ہو گی۔ لیکن برنی سینڈرز کی حمایت کرہ ارض کے طاقت ور ترین سرمایہ دارانہ ملک میں سوشلسٹ نظریات کی حمایت کے وسیع امکانات کا اظہار ہے۔ 

یہ صورتحال حکمران طبقات اور بورس ٹریملن جیسے ان کے نظریاتی محافظوں کیلئے باعث تشویش ہے۔ وہ پریشان ہونے میں حق بجانب ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام ہر جگہ بحران میں ہے۔ یہ بہت عرصے سے قائم رہنے کا وہ حق کھو چکا ہے جو یہ ایک وقت میں ہر جگہ رکھتا تھا۔ مستقبل سوشلزم اور مارکس، اینگلز، لینن اور محنت کش طبقے کے اس عظیم شہید لیون ٹراٹسکی کے جدید ترین اور سچے نظریات کا ہے۔ 

جسے سٹریملن ’’پرانے تنازعات کو زیر بحث لانا‘‘ کہتا ہے، ہم اسے تاریخ سے سبق سیکھنا کہتے ہیں۔ اور جیسا کہ امریکی فلسفی جارج سنتیانا نے ایک دفعہ کہا تھا:’’وہ جو تاریخ سے نہیں سیکھتے، اسے دہرانے پر مجبور ہوتے ہیں‘‘۔ سرمایہ داری کے نظریاتی محافظوں کو آہ و بکا کرنے دو۔ ہمیں سوشلزم کی حتمی فتح پر مستحکم اعتماد ہے۔ مستقبل ہمارا ہو گا۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh