تحریر: لیون ٹراٹسکی، ترجمہ: اسد پتافی|

1917ء کے پہلے دوماہ میں روس پر ابھی رومانوف خاندان کی ہی بادشاہت تھی۔ صرف آٹھ ماہ بعد بالشویک اقتدار میں آ چکے تھے۔ سال کے آغاز پر بہت ہی کم لوگ ان کو جانتے تھے، اور جب وہ برسرِ اقتدار آئے تو ان کی قیادت پر ابھی بھی ریاست سے غداری کی فردِ جرم عائد تھی۔ آپ کوتاریخ میں ایسی تیز ترین تبدیلی اور کہیں نظر نہیں آئے گی، خصوصاً جب پندرہ کروڑعوام پر مشتمل قوم اس عمل میں شریک ہو۔ اس حوالے سے 1917ء کے واقعات مطالعے کا تقاضا کرتے ہیں، خواہ آپ کا ان کے متعلق نقطہ نظر کچھ بھی ہو۔ 

دوسری ہر تاریخ کی طرح، انقلاب کی تاریخ کابھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ سب سے پہلے ہمیں آگاہ کرے کہ کیا ہواتھا اور کیسے ہوا تھا؟ تاہم صرف اتنا ہی بیان کرنا ناکافی ہو گا۔ انقلاب کی تاریخ سے یہ واضح ہونا چاہئے کہ واقعات ایسے کیوں وقوع پذیر ہوئے اور کسی اور طرح کیوں نہیں؟ تاریخی واقعات نہ تو مہم جوئیوں کا ایک سلسلہ ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ لگی بندھی اخلاقیات کی پرواہ کیا کرتے ہیں! ان کے اپنے قاعدے قانون ہوتے ہیں! ان قوانین کی دریافت ہی مصنف کا فریضہ ہے۔

ہر انقلاب کی مسلمہ خصوصیت تاریخی واقعات میں عوام کی براہِ راست مداخلت ہوتی ہے۔ عمومی حالات میں ریاست، خواہ وہ بادشاہت ہو یا جمہوریہ، اپنے آپ کو قوم سے بالا تررکھتی ہے، اور تاریخ کی باگ ڈور ماہرین، جیسا کہ بادشاہوں، وزیروں، افسروں، ارکان پارلیمنٹ اور صحافیوں وغیرہ، کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ لیکن ان مخصوص حالات میں جب پرانا نظام عوام کیلئے ناقابل برداشت ہو جاتا ہے، تو وہ تمام حدودوقیود توڑکر سیاست کے اکھاڑے میں داخل ہو جاتے ہیں، اور اپنے روایتی نمائندوں کو ایک طرف دھکیل دیتے ہیں اور اپنی مداخلت سے ایک نئے نظام کے لئے ابتدائی بنیادیں تخلیق کرتے ہیں۔ اب یہ عمل اچھا ہے یا برا، اس کا فیصلہ ہم ماہرین اخلاقیات پر چھوڑتے ہیں۔ ہم حقائق کو ویسے ہی دیکھیں اور پرکھیں گے جیسا کہ معروضی ارتقا انہیں پیش کرتا ہے۔ ہمارے لئے انقلاب کی تاریخ، سب سے پہلے عوام کی اپنی تقدیرپر اپنی حکمرانی قائم کرنے کیلئے زورآور مداخلت کی تاریخ ہے۔

انقلابی کیفیت میں ایک سماج کے طبقات باہم برسر پیکار ہوتے ہیں۔ تاہم یہ بات مکمل طور پر واضح ہے کہ انقلاب کے آغاز اوراختتام کے در میان سماج کی معاشی بنیادوں اور طبقات کی سماجی بنیادوں میں ہونے والی تبدیلیاں، اپنے اندر انقلاب کے عمل کی وضاحت کرنے کیلئے ناکافی ہوتی ہیں، جو ایک مختصر وقت میں قدیم اداروں کو اکھاڑسکتاہے، ان کی جگہ نئے تخلیق کرتا ہے اور پھر ان کو بھی اکھاڑپھینکتاہے۔ انقلابی واقعات کی حرکیات کابراہ راست تعین طبقات کی نفسیات میں ہونے والی تیز، ہیجان انگیز اور گہری تبدیلیوں سے ہوتا ہے، جو انقلاب سے قبل تشکیل پا چکے ہوتے ہیں۔ 

اصل نقطہ یہ ہے کہ سماج ضرورت پڑنے پر اپنے ادارے اس طرح نہیں بدلا کرتاجس طرح ایک مکینک اپنے اوزار بدلتاہے۔ اس کے برعکس سماج درحقیقت اپنے اوپر مسلط اداروں کو ابدی سمجھتا ہے۔ دہائیوں تک اپوزیشن کی تنقیدعوامی بے چینی کو زائل کرنے کے لئے حفاظتی والو (Saftey Valve) کا کام دیتی ہے، ایسا کرنا سماجی ڈھانچے کے استحکام کے لئے لازمی ہوتا ہے۔ سوشل ڈیموکریسی کی تنقید کی اہمیت بھی بنیادی طور پر یہی تھی۔ عوام کی بے چینی پر پڑی قدامت پسندی کی بیڑیاں توڑنے اور انہیں سرکشی پر مجبور کرنے کے لئے انتہائی غیرمعمولی حالات درکار ہوتے ہیں جو افراد اور پارٹیوں کی خواہشات سے ماورا ہوتے ہیں۔ 

انقلابی عہد میں عوام کے خیالات اور رجحانات میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں، انسانی شعور کے تحرک اور لچک سے نہیں بلکہ اس کے برعکس، اس کی گہری قدامت پسندی سے جنم لیتی ہیں۔ انسانی شعور کا نئے معروضی حالات سے کہیں پیچھے رہ جانا، اس وقت تک جب تک وہ (معروضی حالات) ایک دھماکے کی صورت میں پھٹ کر عوام پر عیاں نہیں ہو جاتے، وہ عمل ہے جو انقلابی عہد میں خیالات اور جذبات کی وہ لمبی جستیں تخلیق کرتا ہے جو کہ ایک پولیس والے کو محض ’’جذباتی تقریریں کرنے والوں‘‘ کی سرگرمیوں کا نتیجہ نظر آتی ہیں۔ 

عوام ایک انقلاب میں، سماج کی تعمیرِ نو کے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت داخل نہیں ہوتے بلکہ اس شدید احساس کے ساتھ میدان عمل میں اترتے ہیں کہ پرانا نظام ان کیلئے ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ صرف طبقے کی رہنما پرتوں کے پاس ہی ایک سیاسی پروگرام ہوتا ہے اور اسے بھی واقعات کے امتحان اور عوام کی قبولیت کی آ زما ئش سے گزرنا پڑتا ہے۔ انقلاب کا بنیادی سیاسی عمل طبقے کے سماجی بحران سے جنم لینے والے مسائل کے بتدریج ادراک اور عوام کے واقعات کو یکے بعد دیگرے ایک دوسرے سے جوڑنے کے رجحان پر مشتمل ہوتا ہے۔ انقلابی عمل کے مختلف مراحل جن کا اظہار پارٹیوں کی تبدیلی کی صورت میں ہوتا ہے، جس میں زیادہ ریڈیکل ہمیشہ کم ریڈیکل پر غالب آ جاتی ہے، عوام کے بائیں کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے تاوقتیکہ تحریک کا بہاؤ معروضی مشکلات کا شکار نہ ہو جائے۔ تحریک کا ٹھہراؤ رجعت کو جنم دیتاہے، انقلابی طبقے کی مختلف پرتوں میں مایوسی پھیل جاتی ہے، بے حسی میں اضافہ ہوتا ہے، اور اسی دوران ردانقلابی قوتوں کی پوزیشن مضبوط ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ کم از کم پچھلے انقلابات کے عمومی خطوط ایسے ہی تھے۔

خود عوام کی اپنی سیاسی سرگرمیوں کے مطالعے کی بنیاد پر ہی ہم قیادت اور پارٹیوں کے کردار کو سمجھ سکتے ہیں جنہیں ہم ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہتے۔ جو اس عمل میں آزادانہ تو نہیں لیکن بہرحال ایک اہم کردار ضرور ادا کرتے ہیں۔ ایک ہراول تنظیم کے بغیر عوام کی توانائی اسی طرح ضائع ہو جاتی ہے، جس طرح بھاپ پسٹن بکس کے بغیر۔ تاہم اس کے باوجود تحرک کی وجہ پسٹن بکس نہیں بلکہ بھاپ ہی ہوتی ہے۔

ایک انقلابی عہد میں عوام کے شعور کا مطالعہ کرنا یقینی طور پر ایک مشکل کام ہوتاہے۔ استحصال زدہ طبقات کارخانوں، کھلیانوں، بیرکوں، دیہاتوں اور گلی محلوں میں تاریخ مرتب کرتے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان کو معاملات کو تحریری شکل میں لانے کی عادت نہیں ہوتی۔ سماجی جذبات کے شدید تناؤ کے ادوار غور و فکر اور اظہار کے لئے بہت کم گنجائش چھوڑتے ہیں۔ فنکارانہ تخلیق کی تمام دیویاں حتیٰ کہ صحافت جیسی عوامی دیوی کو بھی انقلابی عہد میں اپنے مضبوط کولہوں کے باوجود قدم جمانے میں شدید مشکل پیش آتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود مورخ کو ناامید ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تمام ریکارڈ نامکمل، منتشر اور اتفاقی ہوتا ہے۔ لیکن واقعات کی اپنی روشنی میں یہی ٹکڑے اکثر پوشیدہ عمل کی سمت اور آہنگ کی نشاندہی کر ہی جاتے ہیں۔ برے یا بھلے طور پر ایک انقلابی پارٹی اپنی حکمت عملی کی بنیاد عوامی شعور میں ہونیوالی تبدیلیوں کے اندازے پر رکھتی ہے۔ بالشوازم کی تاریخ اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ چاہے خام ہی سہی لیکن ایسا اندازہ لگانا ممکن ہے۔ اگر انقلاب کے گرداب میں گھرا ایک انقلابی لیڈریہ سب کر سکتا ہے توپھر بعد میں آنے والا ایک مورخ کیوں نہیں؟

تاہم عوام کے شعور میں پنپنے والے عوامل نہ تو غیر متعلقہ ہوتے ہیں اورنہ ہی آزاد۔ عینیت پرست اوراصطفائی (Eclectics) اس پر چاہے کتنے ہی غم وغصے کا اظہار کریں لیکن شعور کا تعین بہر حال حالات سے ہی ہوتا ہے۔ روس، اس کی معیشت، اس کے طبقات، اس کی ریاست کو جنم دینے والے تاریخی حالات اور اس پر دوسری ریاستوں کے اقدامات کے اثرات میں ہی ہمیں فروری انقلاب اور اس کی جگہ لینے والے اکتوبر انقلاب کی وجوہات کو تلاش کرنا ہو گا۔ چونکہ سب سے بڑا معمہ یہ ہے کہ ایک پسماندہ ملک میں پرولتاریہ سب سے پہلے اقتدار میں آیا۔ اس لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم اس معمے کو سمجھنے کے لئے اس پسماندہ ملک کی خصوصیات کو مد نظر رکھیں یعنی کہ دوسرے ممالک سے اس کے حالات کا مختلف ہونا۔ 
روس کی تاریخی خصوصیات اور ان کی اہمیت کا ذکر ہم اس کتاب کے ابتدائی ابواب میں کریں گے، جن میں روسی سماج اور اس کی داخلی قوتوں کے ارتقا کا احوال ہے۔ ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ ان ابواب پر مشتمل یہ ناگزیر حصہ ہمارے قاری پر گراں نہیں گزرے گا۔ آگے چل کے قاری کو انہی قوتوں کے تحرک سے واسطہ پڑے گا۔

یہ تصنیف ذاتی یادداشتوں کو ہرگز بنیاد نہیں بنائے گی۔ یہ حقیقت کہ مصنف ذاتی طور پر ان واقعات میں شریک رہا ہے، اسے تاریخی طور پر مصدقہ دستاویزات کو اپنی تحریرکی بنیاد بنانے کی پابندی سے آزاد نہیں کرتی۔ اگر کہیں واقعات کی ضرورت کے تحت مصنف کو اپنے متعلق بات کرنی پڑے، تو وہ ایسا صیغۂ غائب میں کرتا ہے۔ اور ایسا کرنا محض ایک ادبی اسلوب نہیں ہے: خودنوشتوں اور یادداشتوں کی موضوعی طرز کی ایک تاریخ سے متعلق تصنیف میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ 

تاہم یہ حقیقت، کہ مصنف جدوجہد میں شریک رہا ہے، فطری طور پر ناصرف مصروف عمل قوتوں کی نفسیات بلکہ واقعات کے داخلی تعلق کے بارے میں اس کی سمجھ بوجھ کو سہل بنا دیتی ہے۔ یہ برتری تب ہی مثبت نتائج دے سکتی ہے اگر ایک شرط ملحوظِ خاطر رکھی جائے: کہ مصنف اپنی یادداشت کی شہادت پر تکیہ نہ کرے، خواہ وہ کوئی خفیف سی تفصیل ہو یا کوئی اہم معاملہ، چاہے بات حقائق کی ہو یا کسی محرک اور رجحان کی۔ مصنف کو یقین ہے کہ اس نے اپنی بساط کے مطابق اس شرط کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے۔ 

لیکن یہاں مصنف کی سیاسی پوزیشن کا سوال آتا ہے جو مورخ کے طور پر بھی وہی نقطہ نظر رکھتا ہے جو وہ واقعات میں بطور شریک کار رکھتا تھا۔ البتہ قاری مصنف کے سیاسی خیالات سے متفق ہونے کا پابند نہیں ہے اور ایسے ہی مصنف کو بھی اپنے خیالات پوشیدہ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن قاری کو یہ مطالبہ کرنے کا حق ہے کہ ایک تاریخی کام کو کسی سیاسی پوزیشن کے دفاع کی بجائے انقلاب کے حقیقی عوامل کی درست تصویر کشی کی بنیادوں پر استوار ہونا چاہئے۔ ایک تاریخی کام تبھی اپنا مقصد پورا کر پاتا ہے اگر واقعات اس کے صفحات پر اپنی مکمل فطری لازمیت کے ساتھ جلوہ افروز ہوں۔

کیا اس کیلئے مورخ کی نام نہاد ’’غیرجانبداری‘‘ ضروری ہے؟ آج تک کوئی بھی یہ بات واضح طور پرنہیں سمجھا سکا کہ آخر یہ غیرجانبداری کیا ہے۔ اس سلسلے میں اکثر کلیمنسو کے ان الفاظ کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ انقلاب کو ’’مجموعی طور پر‘‘ (تضادات کے بغیر) دیکھنا ضروری ہے، یہ محض لفظوں کا پر مغز ہیرپھیرہے۔ آپ کس طرح ایک مظہر کو ’’مجموعی طور پر‘‘ لے سکتے ہیں جس کا جوہر ہی تضاد پر مبنی ہو؟ کلیمنسوکا یہ مقولہ کسی حد تک اس کی اپنے بہادر آباؤاجداد پر شرمندگی اور کسی حد تک ان کی پرچھائیوں کے سامنے اس کی خجالت کا اظہار کرتا ہے۔

عصرِ حاضر کے رجعتی اور مقبول مورخوں میں سے ایک فرانس کا ایل۔میڈیلین ہے جو ڈرائنگ روم فیشن میں اپنی قوم کو جنم دینے والے عظیم انقلاب پر کیچڑ اچھالتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’مورخ کے لئے لازمی ہے کہ وہ خطرے میں گھرے شہر کی فصیل پر کھڑے ہوکر بیک وقت محاصرہ کرنے والوں اور محصور ہونے والوں کا مشاہدہ کرے‘‘: صرف اسی طریقے سے وہ ایک ’’قابل قبول انصاف‘‘ کر سکتا ہے۔ تاہم میڈیلین کے الفاظ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اگر وہ دونوں فریقین کے بیچ کھڑی فصیل پر چڑھ جاتا ہے تو وہ ایسا صرف رجعت کے لئے خدمات سرانجام دینے والے جاسوس کے طور پر کرتا ہے۔ اچھا ہے کہ وہ صرف ماضی کے جنگی محاذوں پر بات کرتا ہے: کیونکہ ایک انقلاب کے دوران فصیل پر کھڑا ہونا کافی خطرناک کام ہوتا ہے۔ اور خطرے کے وقت ’’قابل قبول انصاف‘‘ کے یہ مبلغ اکثر چاردیواریوں میں بیٹھے ہوئے یہ انتظار کرتے پائے جاتے ہیں کہ کونسا فریق جیتے گا۔

سنجیدہ اور تنقیدی نظررکھنے والے قاری کو اس قسم کی مکارانہ غیرجانبداری سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، جواسے’’مصالحت‘‘ کا ایک ایسا پیالہ پیش کرتی ہے جس کی تہہ میں رجعتی نفرت کا زہر موجود ہوتا ہے۔ بلکہ اس کو ایک سائنسی راست بازی سے مطلب ہوتا ہے جو اپنی دوٹوک ہمدردیوں اور نفرتوں کے ساتھ حقائق کے ایماندارانہ مطالعے، ان کے حقیقی تعلقات کے تعین اور ان کے قوانینِ علت کی وضاحت پر مبنی ہو۔ صرف یہی تاریخی معروضیت ممکن ہے جس کی تائید وتصدیق مورخ کے ارادے اور نیت سے نہیں بلکہ ان فطری قوانین سے ہوتی ہے جن کو مورخ بذات خود تاریخی عمل میں سے آشکار کرتا ہے۔ 

اس کتاب کے لئے بے شمار کتابوں، جرائد، رپورٹوں، یادداشتوں اور دیگر مواد سے استفادہ کیا گیا ہے جو کسی حد تک قلمی نسخوں کی صورت میں ہے لیکن اس کا زیادہ تر حصہ ماسکو اور لینن گراڈ کے انسٹیٹیوٹ آف دی ہسٹری آف دی ریوولوشن سے شائع ہو چکا ہے۔ ہم نے قاری پر بوجھ نہ ڈالنے کے لئے تحریر کے دوران متعلقہ اشاعتوں کے حوالے دینا غیر ضروری سمجھا ہے۔ مجموعی تاریخی کام کا کردار رکھنے والی کتب میں سے ہم نے خاص طور پر 1927ء میں ماسکو، لینن گراڈ سے شائع ہونے والی دو جلدوں پر مشتمل ’’اکتوبر انقلاب کی تاریخ پر مضامین‘‘ کا استعمال کیا ہے۔ اسے کئی مصنفین نے تحریر کیا اور اگرچہ اس کے سارے حصے برابر کی اہمیت کے حامل نہیں تاہم یہ کافی حد تک درست مواد سے لبریز ہے۔ 

ہماری کتاب میں موجود تاریخیں قدیم کیلنڈر کے حساب سے درج ہیں۔ یہ موجودہ عالمی اور سوویت کیلنڈر سے 13 دن پیچھے ہیں۔ مصنف نے انقلاب کے وقت رائج کیلنڈر کا استعمال کرنا ہی مناسب سمجھا۔ اسے بدلنا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن ایک مشکل کو ختم کرنے سے اور کئی پیچیدہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ جاتا۔ مغربی کیلنڈر کے مطابق مارچ میں ہونے والے بادشاہت کے خاتمے کو تاریخ میں فروری انقلاب کے طور پر جانا جاتا ہے۔ عبوری حکومت کی سامراجی پالیسیوں کے خلاف ہونے والے مسلح مظاہرے تاریخ میں ’’April Days‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، جبکہ یہ مغربی کیلنڈر کے مطابق مئی میں ہوئے تھے۔ مزید واقعات اور تاریخوں کا حوالہ دینے کی بجائے ہم صر ف اکتوبر انقلاب کا حوالہ دیں گے جو مغربی کیلنڈر کے مطابق نومبر میں ہوا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بذات خود کیلنڈر میں بھی واقعات کی جھلک نظر آتی ہے اور مورخ انقلابی تقویم کو محض علم الحساب سے نہیں سنبھال سکتا۔ قاری کو یہ بات ذہن نشین رکھنی ہو گی کہ بازنطینی کیلنڈرکو اکھاڑ پھینکنے سے قبل انقلاب نے ان اداروں کو اکھاڑ پھینکا تھا جو اس سے چمٹے ہوئے تھے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh