تحریر: مارکسسٹ سٹوڈنٹس فیڈریشن، ترجمہ: مشعل وائیں|

گزشتہ دو دہائیوں میں مارکسزم اور اس انقلابی ورثے کیخلاف کیا جانے والا غلیظ پروپیگنڈہ بالکل عیاں ہے۔ سوشلزم کے بجائے سٹالنزم (جو کہ مارکسزم نہیں بلکہ اس کی ایک مسخ شدہ اور ہولناک شکل تھی) کے انہدام کے بعد ایک کے بعد دوسرے محاذ پر میڈیا، یونیورسٹیاں، پروفیسر اور تاریخ دان کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس سے مارکسزم پر حملہ کر کے اس کو بدنام کیا جا سکے۔ یہاں ہم مارکسزم کے متعلق پھیلائے گئے کچھ عام مغالطوں کا مطالعہ کریں گے۔  

کیا سوشلزم اور جمہوریت متضاد ہیں؟

سٹالنسٹ طرزحکومت سوویت یونین، مشرقی یورپ، چین اور الغرض دنیا کے کسی بھی حصہ میں مارکسزم پر حملہ کرنے کے لیے سب سے عام بہانہ ہے۔ مارکسزم کے بار ے میں غلط تصورات کو واضح انقلابی نظریات کے ساتھ بننے والی دنیا میں محنت کشوں کی پہلی حکومت کے ساتھ جوڑدیا جاتا ہے، جس کی بنیاد روسی بالشویکوں نے رکھی تھی۔ 1917ء کے اکتوبر انقلاب کو محض ایک ’’کُو‘‘ (Coup) کے طورپر لیا جاتا ہے اور مارکسزم کو سٹالن کے جرائم کے ساتھ جوڑنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس سٹالنسٹ طرز حکومت میں سماج کی سب سے اوپر والی پرت افسر شاہی پر مبنی تھی اور وہاں بنیادی جمہوری حقوق کا فقدان تھا۔ اس طرح کی تاریخی مثالوں سے یہ بات ’’ثابت ‘‘ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سوشلزم اور جمہوریت میں کسی قسم کا تال میل نہیں پایا جاتا۔

تاہم انقلاب روس کے مطالعے سے ایک ایسے سماج کے بارے میں حقیقت اشکارا ہوتی ہے جوکہ انقلاب کے بعد ایک خوشحال سماج تھا، جہاں ہم جنسیت اور اسقاط حمل کا بطور جرم خاتمہ، مفت اور یکساں طبی اور تعلیمی سہولتیں، ایک پروان چڑھتی معیشت اور سائنس و ثقافت کے میدان میں ترقی کے بڑے بڑے اقدامات نظر آتے ہیں۔

سٹالن کے زیر اثر آنے کے بعد سماج کو انقلاب کی کئی حاصلات سے ہاتھ دھونا پڑا۔ لیکن اس جابرانہ نظام میں تنزل کا یہ عمل مارکسزم کا ناگزیر نتیجہ نہیں تھا، جیسا کہ سرمایہ دار طبقہ اور اس کے چمچے ہمیں یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلکہ ایک معاشی طور پر پسماندہ اور تنہا ملک میں سوشلسٹ سماج کو تعمیر کرنے کی کوشش کا نتیجہ تھا، جیسا کہ ’’سٹالنزم ‘‘ کے متعلق اس شمارے میں کسی اور مضمون میں بھی لکھا ہوا ہے۔

ہمیں یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں موجود جمہوریت کس حال میں ہے۔ اگر ہم آج کی دنیا پر نظر ڈالیں جہاں، معیشت کے بحرانوں اور دنیا کی بدحالی کے باوجود، امیر، امیر تر ہوتے چلے جا رہے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ساری معیشت اور سارا سماج ایک مٹھی بھر اقلیت کے لئے کام کر رہا ہے: بینکار، صنعت کار اور سرمایہ کار، یعنی سرمایہ دار طبقے کے لئے جو کہ محض ایک فی صد ہے۔ یہ ایک فیصد لوگ جو کہ معیشت کے اہم ستونوں کے مالک ہیں یا پھر ان کو کنٹرول کرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو باقی کے ننانوے فیصد لوگوں کے بارے میں تمام اہم فیصلے کرتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ سماج کیسے چل رہا ہے۔

ان معنوں میں، سرمایہ داری کو سرمائے کی آمریت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ جمہوری حکومت جو منتخب پارلیمان اور آزادئ رائے سے تشکیل پاتی ہے اس کو رد نہیں کرتی، بلکہ ان ممالک میں پائی جانے والی ریاست اپنے ہاں کے مخصوص ملکیتی اور طاقت کے تعلقات کا اظہار کرتی ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ریاست سرمایہ داری اور مراعت یافتہ سرمایہ دار طبقہ کی حفاظت کیلئے قائم کی جاتی ہے۔

اس کو ہم یورپ میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں جہاں منتخب حکومتوں کو برطرف کرکے ان کی جگہ غیرمنتخب ٹیکنوکریٹس کو یورپی کمیشن اور یورپی سنٹرل بینک کی طرف سے’’ قومی مفاد‘‘ کے نام پرتھوپ دیا گیاہے، جو درحقیقت مالیاتی منڈیوں اور بڑے بڑے سرمایہ کاروں کا مفادہے۔ یونان اور سپین جیسے ممالک میں لاگو کی گئی کٹوتیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کا موازنہ تاریخ کی بد ترین آمریتوں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ کروڑوں ڈالر بڑی بڑی کمپنیوں کے اکاؤنٹ میں بے کار پڑے رہتے ہیں۔ لیکن وہ سرمایہ کاری کیلئے رضامند نہیں ہوتیں کیونکہ ان کو اس سے کوئی منافع حاصل نہیں ہو گا۔

سرمائے کی اس آمریت کی مخالفت میں مارکس اور لینن نے ’’پرولتاریوں کی آمریت‘‘ کے بارے میں بات کی: یعنی ایک ایسے سماج کے بارے میں بتایا جہاں محنت کش طبقہ حکمران ہو گا، ایسا طبقہ جس کو سرمایہ داری میں زندہ رہنے کیلئے اجرت پرانحصار کرنا پڑتا ہے۔ سوشلسٹ سماج میں معیشت کا پہیہ مٹھی بھر لوگوں کے منافعے کے لئے نہیں چلتا بلکہ تمام پیداوارایک بڑی اکثریت کی ضرورتوں کی تسکین لئے تعقلی اور جمہوری منصوبوں کے تحت کی جاتی ہے۔ بجائے اس کے کہ چنے ہوئے سیاستدانوں کو ہر چند سال بعد ووٹ دے دیا جائے (سوشلسٹ سماج میں) روزمرہ زندگی میں اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہوتا ہے۔

روس میں ہونے والا تجربہ بہت سے لوگوں کو مارکسزم، کمیونزم اور سوشلزم کو آمریت کے بطور دیکھنے کی طرف لے گیا۔ جو ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ مارکسسٹ جمہوری حقوق کے سب سے بڑے علمبردار ہیں، جو کہ بہتر معیارِ زندگی کے حصول کی جدوجہد کے اہم ہتھیار ہیں۔ آزاد انجمنیں بنانے اور اجتماع کرنے کا حق محنت کشوں کو طاقتور مزدور یونینیں اور سیاسی جماعتیں بنانے کی طرف لے جاتا ہے تاکہ وہ اپنی عام جدوجہد کو منظم کر سکیں۔ آزادئ اظہار کا حق انقلابیوں کو اپنے انقلابی خیالات او ر سماج کی تبدیلی کے پروگرام کے ساتھ احتجاج کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ تمام حقوق ’’روشن خیال‘‘ حکمران طبقے نے بطور رعایت عطا نہیں کئے بلکہ محنت کش طبقہ ایک کڑی جدوجہد کے بعد یہ جیتنے میں کامیاب ہوا ہے۔

تاہم جمہوری حقوق سرمایہ داری میں صرف عارضی یا رسمی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ کسی بھی بحرانی کیفیت میں محنت کشوں کی جیتی ہوئی حاصلات کو سر مایہ داروں کے منافعوں کے تحفظ کے لئے قربان کر دیا جاتا ہے، تاہم سرمایہ دار کسی بھی قربانی سے انکار کر دیتے ہیں۔ تاہم حال ہی میں یورپ میں غیر منتخب ٹیکنو کریٹس کو کٹوتیاں کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اگرچہ آبادی کی اکثریت نے ان کی مخالفت کی ہے۔

اس کے برعکس، سوشلسٹ محنت کشوں کے ہر جمہوری حق کیلئے لڑتے ہیں۔ مارکسسٹ جس طریقہ کار کی پیشکش کرتے ہیں وہ ان حقوق کا استحکام اور اصلی اور حقیقی جمہوریت ہے۔ آخری تجزیہ میں، حقیقی جمہوریت وقت کی اہم ضرروت ہے، یعنی عام لوگوں کو سیاسی سرگرمیوں اور سماج کو آگے بڑھانے میں شریک کیا جائے، بجائے اس کے وہ زندہ رہنے کیلئے ہفتہ میں پچاس سے ساٹھ گھنٹے کام کریں۔

معیشت کو ایک تعقلی منصوبے کے تحت چلاتے ہوئے، ہم بے روز گاری کو ختم کردیں گے اور مل جل کر کام کریں گے۔ کام کے اوقات کار میں کمی ہو گی اور فارغ وقت میسر آئے گا۔ ٹیکنالوجی کو کام کے اوقات کار کم کرنے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ اور ایسے حقیقی مادی حالات پیدا کیے جائیں گے تاکہ محنت کش جمہوریت کے فیصلوں اور سماج کی معاشی منصوبہ بندی میں شرکت کرسکیں۔

کیامارکسسٹ تشدد کے حق میں ہیں؟

اگر مارکسسٹ جمہوری حقوق کا دفاع کرتے ہیں تو پھرپُر تشدد انقلاب کیوں؟’’سرخ دہشت‘‘، سرخ فوج اور روس میں خانہ جنگی کیوں؟

ہم اس کاآغاز اس بات پر زور دیتے ہوئے کریں گے کہ مارکسسٹ مکمل طور پر پُر امن انقلاب کے حمایتی ہیں۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ مارکسسٹ ’’گاندھی گیر‘‘ نہیں ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں سماج کو تبدیل کرکے دولت کو عام لوگوں کے جمہوری کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کے دوران انقلابیوں کو پرانے حکمران طبقے کی طرف سے پرتشدد مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو اپنی مراعات کے تحفظ کی کوشش کریں گے۔  

ہم اس بات پر بھی زور دیں گے کہ مارکسسٹوں کے خلاف تشدد کے حامی ہونے کا جو الزام لگایا جاتا ہے، وہ محض سرمایہ داروں کی منافقت ہے۔ جب بھی انقلابی تشدد کا سوال مارکسسٹوں سے کیا جاتا ہے، ہم سرمایہ داری کے اپنے کشت وخون اور قتل عام کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں۔ پاکستان میں ڈرون حملوں اور عراق اور افغانستان میں جنگوں کے تشدد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اور 1970ء اور 80ء کی دہائیوں میں امریکی پشت پناہی میں قائم کی جانے والی لاطینی امریکہ، چلی، ارجنٹائن اور برازیل وغیرہ، میں جابرانہ آمریتوں کے بارے میں۔

سامراجی طاقتوں کے مابین منڈیوں کی تقسیم کے لئے پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے بڑھ کر انسانیت کا قتل عام اور صنعت کی تباہی اور کیا ہو سکتی ہے؟ 
کرام ویل، جیکوبنز اور امریکی انقلابی جنگ کا کیا؟ سرمایہ دارحکمران طبقہ جاگیرداری کے پنجوں سے جان چھڑانے اور اپنا اقتدار قائم کرنے کے لئے اختیار کئے جانے والے ہر انقلابی اور پرتشدد طریقہ کار کو آج یا تو مسخ کرتا ہے یا چھپاتا ہے یا اس کے ماننے سے انکاری ہے۔ امریکی آزادی کی جنگ لڑنے والوں نے برطانوی سامراج کے وفاداروں کے ساتھ کوئی رحمدلی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔  

اور آخر کار1871ء میں پیرس کمیون کو برباد کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا گیا اور مزید ہزاروں کو تاریخ میں پہلی مرتبہ محنت کشوں کی ریاست بنانے کے جرم کی پاداش میں جلا وطن کر دیا گیا۔

یہ تمام تر قدیم و جدید تشدد سرمایہ داری کے نام پر کیا گیا اور اس کے باوجود یہ سرمایہ دار انقلاب روس اور بالشویکوں کے خلاف شدید زہر افشانی کرتے ہیں کیونکہ سرمایہ دارانہ تاریخ میں پہلی دفعہ غلاموں نے جوابی حملہ کیا اور فتح حاصل کی۔

اس سب کے باوجود اکتوبر انقلاب شاید تاریخ میں سب سے کم خونی انقلاب تھا! اس سے کئی گنا زیادہ لوگ فروری کے ’پرامن‘ انقلاب میں مارے گئے، جس نے زار کی حکومت کا تختہ الٹا کرکے سرمایہ دارانہ جمہوریت قائم کی۔ درحقیقت سر جی آئزنسٹائن کی فلم ’اکتوبر‘، جس میں اکتوبر انقلاب کو فلمایا گیا ہے، کی تکمیل کے عمل میں حادثات کے باعث انقلاب سے بھی زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں۔

یہ بالشویک انقلاب نہیں تھا جو پر تشدد تھا بلکہ اس کی مخالفت میں ایک اقلیت کا رد انقلاب تھا جس نے تشدد کا آغاز کیا۔ ’کو‘ نہیں بلکہ محنت کشوں، سپاہیوں اور کسانوں کی عوامی تحریک کے ذریعے برپا ہونے والے انقلاب کے فوری بعد روسی سماج کے دولتمند حصوں نے نومولود مزدور ریاست کو تباہ کرنے کے لئے معاشی سبوتاژ اور فوجی مہمات کا آغاز کر دیا۔ ان خونریز مہمات کی امداد 21سامراجی ممالک کے حملوں کے ذریعے کی گئی، جس میں برطانیہ، فرانس، امریکہ اور تقریباً تمام بڑی سرمایہ دار طاقتوں کے فوجی دستے شامل تھے۔ رد انقلابی افواج کی دہشت اچانک اور بے رحمانہ تھی۔ جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ مارے گئے۔

حکمران طبقہ کہتا ہے کہ سوویت یونین کا ’’سوشلسٹ تجربہ‘‘ ناکام ہو گیا۔ لیکن صرف یہ خیال کیا جائے کہ ایک شخص کسی تجربے کے دوران تجربہ گاہ میں داخل ہوتا ہے اور تجربہ کرنے والوں کے سامان کو توڑنے کی کوشش کرتاہے، تو کیا وہ یہ کہنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ تجربہ ناکام ہو گیا! آج سرمایہ داروں کی بھی یہی منطق ہے جو اس حقیقت کو بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ انھوں نے تاریخ میں ہمیشہ سوشلسٹ سماج کی تعمیر کو روکنے کیلئے بھر پور فوجی مداخلت کی۔

اس بات پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ آج عالمی محنت کش طبقے کا حجم اتنا بڑا ہے کہ سماج کی پرامن تبدیلی قابل عمل ہے۔ اس وقت سرمایہ داری کو قائم رکھنے میں محنت کش تنظیموں کی اصلاح پسند قیادت کا سب سے بڑا کردار ہے جو سرمایہ داری سے ناتا توڑ کر ایک سوشلسٹ متبادل پیش کرنے کی طرف نہیں بڑھنا چاہتی۔ تاہم ایک منظم باشعور انقلابی قیادت(انقلابی پارٹی) کا فقدان موجود ہے جو عالمی سطح پر مختلف ایشوز پر ابھرنے والی انفرادی تحریکوں کو جوڑتے ہوئے عمومیت عطا کرے، اور تاریخ کی دایہ کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک نئے سماج کو باآسانی جنم دینے میں مدد فراہم کر سکے۔ یہ آج کا ہمارا فریضہ ہے۔

کیا سرمایہ دارانہ نظام موثر ہے؟

تاہم، اخلاقی بنیادوں سے قطع نظر سرمایہ دارانہ نظام سے سوشلزم کا موازنہ کرتے ہوئے سوشلزم کو غیر موثر ثابت کرنے کیلئے بھرپور کوششیں کی جاتی ہیں۔ ’’سوشلسٹ ممالک‘‘ کی غربت، ماؤ کے چین سے لے کر کاسترو کے کیوبا تک، سوویت یونین سے لیکر شمالی کوریا تک، کو بطور عفریت استعمال کیا جاتا ہے تاکہ لوگ سرمایہ داری میں رہنے کے علاوہ کسی اور زندگی کے بارے میں نہ سوچیں۔

اس دلیل کے ساتھ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ان ممالک کو سوشلسٹ تاویل کیا جاتا ہے۔ یقینی طور پر سوویت روس میں سوشلزم کے اہم پہلو موجود تھے اور کچھ پہلو کیوبا میں بھی ہیں۔ البتہ یہ صحتمند سوشلسٹ ممالک ہرگز نہیں ہیں۔ ایک حقیقی سوشلسٹ سماج میں معیشت کی منصوبہ بندی نوکرشاہی ٹولے کے واہموں کی بنیاد پر اوپر سے نیچے (ترتیب نزولی) والی طرز پر نہیں کی جائے گی، بلکہ کام کی جگہوں پر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول کے نظام کے تحت نیچے سے اوپر کی طرف ہو گی، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نمائندوں کے انتخاب کے ذریعے جمہوری طور پر سماجی وسائل کے استعمال کا فیصلہ کیا جائے گا۔  

کسی بھی صورتِ حال میں کیوباکا موازنہ کسی بھی تر قی یافتہ سرمایہ دار ملک سے کرنا درست نہیں ہے۔ ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک نے دہائیوں تک نوآبادیاتی ممالک (جیسے کیوبا!) کا استحصال کرکے جو فوائد حاصل کئے ان سے قطع نظر، کیوبا جیسے ممالک نے معاشی ترقی کی بہت نچلی سطح سے آغاز کیا۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس کا موازنہ کیریبین کے دیگر جزائر کے ساتھ کیا جائے جہاں سرمایہ داری کے پاس لوگوں کے لئے کچھ کر دکھانا کا موقع تھا، ہیٹی اس کی سب سے موزوں مثال ہے۔ ایک ایسا جزیرہ جو غربت کا دوسرا نام ہے اورجہاں نائیکی کے کارخانوں میں امریکی مارکیٹوں کیلئے بچوں سے بیگار لیا جاتا ہے۔  

اپنی مخصوص صورتحال کے بے پناہ دباؤ کی بنا پر روسی انقلاب1920 ء کی دہائی میں زوال پذیر ہوگیاتھا۔ جوکہ اصل میں ایک محنت کشوں کی جمہوریت تھی جس کی بنیاد تازہ اور صحت مند سوویتیں( محنت کش، سپاہی اور کسانوں کی مقامی کونسلیں ) تھیں، جس پر بالآخر سٹالن کی سربراہی میں کمیونسٹ پارٹی کی نوکرشاہی غالب آگئی۔

سٹالنزم کے باوجود سوشلزم کے دوران ممکنہ ترقی کی ایک جھلک بیسویں صدی کی ’’کمیونسٹ‘‘ دنیا میں دیکھی جا سکتی ہے۔ دم گھونٹ دینے والی بیوروکریسی، مخالفین کے ساتھ درندگی، اور سیاسی رُخ کی توڑ مروڑ کے باوجود سوویت یونین نے قومیائی گئی منصو بہ بند معیشت کی برتری کو ثابت کیا، اشیائے ضرورت کی منصوبہ بند پیداوار کرتے ہوئے۔  

1917ء میں ابھی روس نے جاگیر دارانہ نظام سے مناسب انداز میں باہر نکلنا تھا۔ آنے والے سالوں میں مذکورہ بالا بیان کئے گئے واقعات کی بدولت اسے مزید پسماندگی میں دھکیل دیا گیا۔ اور پھر بھی دوسری عالمی جنگ کے وقت منصوبہ بند معیشت کی بدولت وہ ہٹلر کی افواج کو ہرانے کے قابل ہو چکا تھا۔ حتیٰ کہ جنگ کے بعد، کسی مارشل امداد کے بغیر، مشرقی یورپ کی پوری صنعت کی محض چند سالوں میں تعمیر نو کی گئی۔ اور1950ء کی دہائی میں سٹالنسٹ ریاستوں نے صنعت میں ترقی کی، سائنس اور ثقافت کے میدان میں قابل قدر پھلانگیں بھریں۔ اور سوویت یونین مرد و زن کو خلا میں بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا۔

منصوبہ بند معیشت، حتیٰ کہ سٹالن کے روس اور کاسترو کے کیوبا، کے پاس ہی ایسی طاقت تھی جو تمام افراد کو مکمل روزگار کی ضمانت، ہر سطح پر مفت تعلیم اورٹیکنیکی ترقی کیلئے تمام فنڈز مہیا کر سکتی۔ جب سرمایہ دارانہ طاقتیں کساد بازاری کی وجہ سے ہچکولے کھا رہی تھیں، ایسے میں سوویت یونین کی منصوبہ بند معیشت نے سالانہ 20فیصد کی شرح نمو دی اور اسی دورانیے میں بھاری صنعت کو 400فیصد پھیلاؤ دیا۔

یقیناً سٹالنزم کے جرائم کی وجہ سے اس ترقی کی جو قیمت ادا کرنی پڑی اور جو سائنسی وثقافتی بگاڑ پیدا ہوااس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مکمل سائنسی اور سماجی آزادی کے ساتھ محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں ایک منصوبہ بند معیشت کے ذریعے بے تحاشہ فو ائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ سوشلزم کی ایک مسخ شدہ شکل اور تباہ کن خامیوں کے باوجود سوویت یونین نے ناقابل یقین کامیابیاں حاصل کیں۔ اگر محنت کشوں کی ایک صحتمند جمہوریت قائم کی جائے توان حقائق کے پیش نظر ترقی کے امکانات دیکھنے کیلئے تخیل کی محض تھوڑی سی ورزش کی ضرورت ہے۔ 
اس کا موازنہ آج کے سرمایہ دارانہ عہدکے بدترین ضیاع کے ساتھ کریں۔ جہاں غلاظت کے ڈھیروں کو تیسری دنیا میں پھینکا گیا ہے۔ جہاں کرۂ ارض کے ماحول کو حیاتیاتی ایندھن (بالخصوص فریکنک) سے تباہ کیا جارہا ہے اور فوجی سازوسامان پر رُلا دینے والے اخراجات کئے جا رہے ہیں۔

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ منڈی کا’’ غیر مرئی ہاتھ‘‘ وسائل کو مقرر کرنے کا موثر طریقہ ہے۔ اور اس کے باوجود ہم تاریخ کے بد ترین بحران سے گزر رہے ہیں، ایسا بحران جس میں UK اور USA کی بڑی کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس میں بالترتیب 800بلین پونڈ اور 2 ٹر یلین ڈالر نقد موجود ہیں اور یہ وہ رقم ہے جس کی سرمایہ کاری نہ وہ کر یں گے اور نہ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ منافع نہیں کما سکتے۔

یہ کس طرح موثر ہے؟ یہ کیسے موثر ہے کہ بے مکانی کے ساتھ ساتھ خالی مکان موجود ہیں۔ جہاں فیکٹریاں اورآفس بیکا ر پڑے ہیں جبکہ بہت سی چیزیں ہیں جن کی سماج میں ضرورت ہے۔ جہاں لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں اورلاکھوں ہیں جو زندہ رہنے کے لئے دو دو نوکریاں کرتے ہیں۔ ابھی تک یہی تضادات سرما یہ داری کی منطق ہیں۔

پھر مفت اور یکساں رہائش، سب کے لئے روزگار، اور مفت تعلیم اور علاج کے راستے میں رکاوٹوں کے خاتمے کی مانگیں انتہائی معقول ہیں۔ ان مانگوں کے راستے اور معاشرے کی ترقی کی بنیادی رکاوٹ سرمایہ دارانہ نظام ہے، وہ نظام جوکہ خود کو یقیناًغیر موثر ثابت کر رہا ہے۔

کیا ہم فطری طور پر لالچی نہیں ہیں؟

سوشلزم کے خلاف دیئے جانے والے عمومی دلائل میں سے ایک نام نہاد ’’انسانی فطرت‘‘کا ہے، لیکن اس پہیلی کو حل کرنا بھی بہت آسان ہے۔

لوگوں کی اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ لوگوں کے سوچنے کا اندازہمیشہ سے ایک جیسا ہی رہا ہے۔ اور ہم ہمیشہ اسی طرح سوچیں گے جس طرح ہم آج سوچتے ہیں۔ لیکن مثالیں یہ دکھاتی ہیں کہ یہ بات حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت میں باقی چیزوں کی طرح انسانی شعور اور سماج بھی ہمیشہ تبدیلی کے عمل میں ہوتے ہیں۔ مارکس نے وضاحت کی تھی کہ ’’ حالات شعور کا تعین کرتے ہیں‘‘۔ دوسرے الفاظ میں، ہمارا سماجی ماحول ہمارے سوچنے کے ڈھنگ کا تعین کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم ہزاروں سال قبل چین میں کسانوں کے روپ میں جنم لیتے تو ہمارا زندگی کے متعلق تصور مختلف ہونا تھا! اگر ہم ہزاروں سال پہلے چین میں بادشاہ کے گھر جنم لیتے تو ہم نے کسانو ں کی نسبت بہت مختلف ہونا تھا۔

انسان فوڈ چین میں سب سے برتر مقام پر ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے اور ’’آگے جانے‘‘ کی جدوجہد میں ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے باہمی تعاون کے ساتھ پہنچا۔ صرف تعاون سے انسان اس قابل ہوئے کہ شکار کرے، پناہ گاہ بنائے اور بالاآخر کھیت اگائے اور جانور پال سکے۔

انسانی بچے کی مثال لیں، اور اس کا ہرن کے بچے کے ساتھ موازنہ کریں جو کہ پیدائش کے چند منٹوں بعد اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور دوڑنا شروع کر دیتا ہے جبکہ ا نسانی بچہ کئی سال تک بے بسی کی حالت میں ر ہتا ہے۔ انسانی بچہ کسی کی مدد کے بغیر چند روز بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسی لحاظ سے ابتدائی انسان کو جنگلی جانوروں سے بچاؤ، خوراک کی تلاش وغیرہ جیسے عناصر میں زندہ رہنے کے لئے باہمی تعاون کرنا پڑتا تھا۔ انسانی تاریخ کے زیادہ تر حصے میں طبقاتی سماج موجود نہیں تھااورہم چھوٹے چھوٹے قبائل میں اجتماعی طرز زندگی میں رہتے تھے، کام اور دولت کی تقسیم ہر فرد کے مفاد میں ہوتی تھی۔

اگرچہ، سطحی لحاظ سے ایسا نظر آتا ہے کہ ہم سب ’’ انفرادی انسان‘‘ ہیں مگر سچ یہ ہے کہ ہم واقعتا دنیا کے مختلف کونوں میں بسنے والے ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں پر انحصار کرتے ہیں۔ کیا کوئی تنہا شخص ایک گاڑی کا نمونہ بنا سکتا ہے، دھات کو کان سے نکال کر استعمال کے قابل بنا سکتا ہے اور دوسرا ضروری سامان جس کی ضرورت ہوتی ہے، تیار کرسکتاہے؟ کیا کوئی اکیلا شخص کوئی کارخانہ بنا سکتا ہے؟ یہ سوال پوچھنا ہی بیہودہ پن ہے۔ اور پٹرول کو ایندھن کے طور پر کس نے نکالنا ہے؟ یا شاہراہیں جن پر گاڑی کو چلایا جانا ہے؟ اور اس کھانے کے بارے میں کیا خیال ہے جو ہم کھاتے ہیں؟ یہ لسٹ آگے بڑھتی چلی جاتی ہے، حالانکہ ہم نے ابھی صرف سطح کو کریدا ہے۔ یہ واضح ہے کہ سرمایہ داری کے تحت اشیا کے تبادلے کی عالمی منڈی کے ذریعے تقریباً ہر کوئی بالواسطہ طور پر دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔

ہم مل جل کر کام کرتے ہیں اوراکٹھے رہتے ہیں۔ لیکن کیا ہمارے ارد گرد 24گھنٹے پولیس موجود رہتی ہے کہ کہیں ہم ایک دوسرے کو قتل نہ کر دیں؟ کیا ہم آگے بڑھنے کیلئے ایک دوسرے کی جان لینے کے در پہ ہیں؟اگر یہ معاملہ ہوتا، تو پھر کبھی بھی کچھ نہ ہوتا اور ہم سب بھوکوں مرجاتے۔

تو پھر کیوں لوگ یہ عجیب خیال رکھتے ہیں کہ ہم سب ’’انفرادی انسان‘‘ ہیں؟ پھر سے، یہ حالات ہیں جو کہ ہمارے شعور کا تعین کرتے ہیں۔ مارکس اور اینگلز نے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ کسی بھی سماج میں غالب نظریہ حکمران طبقے کا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سرمایہ داروں کا نظریہ ہے جو کہ لالچ اور مقابلہ بازی کا نظریہ ہے۔

سرمایہ دارانہ طبقہ ہماری سوچ پر اثر انداز ہونے کیلئے ہر ممکن طریقہ کار اپناتا ہے۔ ہماری تعلیم کے ذریعے، میڈیا کے ذریعے اور مذہب وغیرہ کے ذریعے ہمیں سرمایہ دارانہ نظام کی اقدار سکھائی جاتی ہیں، ’’کتا کتے کا بیری ہوتا ہے‘‘ طرح کا طرزِ عمل، جو کہ یہ بیان کرتا ہے کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اپنے مخالفین کو پاؤں تلے کچل دو۔ ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ ہم بے گھروں، بھوکوں اور جنگ میں مارے جانے والوں کے بارے میں مت سوچیں، یا زیادہ سے زیادہ اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے ان کے لئے دعا کریں اور چھوٹی سی رقم میں ’’ خیرات ‘‘ کریں۔

یہ ’’ اقدار‘‘ صرف چند لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں، وہ جو انتہائی امیر سرمایہ دار ہیں! باقی ہم لوگ اپنی روز مرہ زندگی میں لالچ کے اس نظرئیے سے کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتے۔ عوام کی اکثریت امن، استحکام، مناسب روزگار، موزوں علاج اور تعلیم، خاندان اور عزیزوں کے لئے فارغ وقت کی طلبگار ہے۔ یہ صرف سرمایہ دارطبقہ ہی ہے جو ایک کمپنی سے دوسری کمپنی کے مابین مقابلہ بازی سے انفرادیت کو فروغ دیتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کے اہم تضادات میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے پاس پیداوار سماجی ہے، یعنی ہم اپنے استعمال کی چیزوں کو سماجی طور پر پیدا کرتے ہیں، جیسا کہ اوپر گاڑی کی مثال دی گئی تھی، لیکن اسی سے زائد پیدا شدہ دولت کی نجی ملکیت جنم لیتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ہم سماجی طو ر پر پیدا وارکرتے ہیں لیکن منافع ایک اقلیت کے پاس جاتا ہے! ہزاروں محنت کش جو درحقیقت جانتے ہیں کہ ایک فیکٹری میں گاڑیاں کیسے بنانی ہیں وہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتے کہ کیا اور کیسے بنایا جائے یا زائد مال کے ساتھ کیا کرنا ہے، یہ حق سرمایہ داروں کے پاس ہے۔

سوشلسٹ اس تضاد کو سماجی طور پر پیدا کئے گئے مال پر سماجی کنٹرول قائم کرتے ہوئے ختم کر نا چاہتے ہیں۔ اس دولت کو، جسے محنت کش پیدا کرتے ہیں، بہتر اجرتوں، بہبود، علاج، تعلیم، محفوظ حالات اور کام کے اوقات کار کو کم کرنے والی جدید ٹیکنالوجی کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ کوئی یوٹوپین خیال نہیں ہے۔ اس کے لئے مادی حالات موجود ہیں۔ اس میں تنہا رکاوٹ سرمایہ دارانہ نظام کی سیاسی اور معاشی طاقت پر گرفت ہے۔ محنت کشوں کا عالمی سطح پر اتحاد اس صورت حال کو ختم کرسکتا ہے، سرمایہ دارانہ نظام کی وحشت، ذلت، غربت اور عدم استحکام کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ۔ اور پھر ایک نئی دنیا کا آغاز ہو گا۔

اس بچے کا تصور کریں جو ایک ایسی دنیا میں جنم لے گا جس میں بھوک نہ ہو، ضرورت نہ ہو، غربت نہ ہو، روزگار کی قلت وغیرہ نہ ہو۔ ایسے یکسر مختلف حالات میں اس نسل کا شعور بھی یکسر مختلف ہو گا اور وہ دنیا کو ہم سے مختلف انداز میں دیکھیں گے۔ سوشلزم میں انسان ایک دوسرے کو بطور انسان ملیں گے نہ کہ خرید و فروخت کی اشیا کے بطور۔  

آج ہم سرمایہ دارانہ نظام میں جن بڑے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ان کی وجہ قلت ہے، کیونکہ سرمایہ دار کا اپنا حصہ لینے کے بعد باقی زیادہ کچھ نہیں بچتا۔ ہم فطرت سے ایک مثال لیتے ہیں۔ اگر سوچوہے خرید کر ایک پنجرے میں بند کر دیئے جائیں اور اس میں اتنا کھانا ڈال دیا جائے جو سب کے لئے کافی ہو یا ضرورت سے تھوڑا زیادہ تو آپ کو پر امن، دوستانہ اور ملنسار جانور نظر آئیں گے۔ لیکن اگر سو چوہوں کو ایک پنجرے میں ڈال کر اتنا کھانا ڈال دیں جو صرف پچاس چوہوں کیلئے کافی تھا تو آپ جلد ہی ایسی صورت حال دیکھیں گے جو بہت ابتر ہو گی اور ایک خونریز، لالچی، خود غرض تباہی اور خون خرابے کی فضا قائم ہو جائے گی۔ یقیناًانسان اور ان کا سماج لیبارٹری اور سو چوہوں کے مقابلے میں بہت پیچیدہ ہے اور ایک مختلف مقام پر ہے، لیکن یہ مثال ایک اہم نکتہ کی وضاحت کرتی ہے۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جو قلت ہمیں نظر آتی ہے وہ مصنوعی طور پر بنائی گئی ہے۔ سرمایہ داری کے تحت یہ مسئلہ نہیں ہے کہ ہم بہت کم مقدار میں پیدا کرتے ہیں، بلکہ سماج کی پیدا کرنے کی قابلیت ہماری قوت خرید سے بڑھ جاتی ہے، پیداواری قوتیں منڈی سے سبقت لے جاتی ہیں، اشیا گوداموں میں پڑی ہوتی ہیں اور فیکٹریاں بیکار پڑی رہتی ہیں، یہ سب صرف اس وجہ سے کہ ہم خریداری کے قابل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ مارکس نے کہا تھا کہ سرمایہ داری کے تحت مسئلہ بہتات میں غربت کا ہوتا ہے۔

’’انسانی فطرت‘‘ تمام چیزوں کی طرح مسلسل تبدیل ہونے کی حالت میں ہے۔ یہ ماننا کہ یہ ہمیشہ کے لیے پتھر پر لکھی تحریر ہے سادہ ترین تجزیے سے بھی غلط ثابت ہوتا ہے۔ انسانوں نے حیران کن المیے (ڈرامے)، طربیے، گیت، نظمیں، پینٹنگز، مجسمے اور فنکارانہ تخلیق کے انگنت اظہارات دیے ہیں، جو کہ کسی بھی وقت میں ہمارے دنیا کے متعلق تبدیل ہوتے نقطہ نظر کے پرتو ہیں۔ بس ایک فن، سائنس یا تاریخی عجائب گھر میں چکر لگائیں تو آپ بدلتے انسانی شعور کو تصویری جھلکیوں کے ساتھ دیکھ سکیں گے۔ جیسا کہ مارکس نے وضاحت کی تھی، ’’فلسفیوں نے دنیا کی مختلف انداز میں تشریح کی ہے، البتہ مسئلہ اس کو تبدیل کرنے کا ہے۔ ‘‘ اور اس بدلی ہوئی دنیا میں ہمارے سوچنے کا انداز بھی بدل جائے گا۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh