کراچی: لانڈھی میں برسوں بعد یومِ مزدور کی پروقار تقریب کا انعقاد

|رپورٹ: صفدر جبار|

یوں تو ہر سال کراچی میں مختلف سیاسی پارٹیوں، لیبر فیڈریشنز، ٹریڈ یونینوں اور این جی اوز وغیرہ کی طرف سے یومِ مزدور پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس دفعہ بھی اس سلسلے میں بہت سی تقریبات کراچی پریس کلب سمیت دیگر مختلف جگہوں پر منعقد کی گئیں۔ مگر ان تقریبات میں مزدوروں کی حقیقی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ فوٹو سیشنز کرنے کے لئے تو بہت سے لوگ مزدوروں کا نام لیتے ہیں مگر حقیقت میں محنت کشوں کی طبقاتی لڑائی کو منظم کرنے کا کوئی سنجیدہ لائحہ عمل پیش نہیں کیا جاتا۔ اس سلسلے میں کئی سالوں کے بعد محنت کشوں کے اس شہر میں دوبارہ ایک بڑی با وقار اور پر مغز سیاسی تقریب کا انعقاد کرنے کا سہرا اس بار جنرل ٹائر ورکرز یونین کے سر بندھا۔

جنرل ٹائر ورکرز یونین نے کئی ماہ قبل ہی ارادہ اور عزم کر لیا تھا کہ اب کی بار یومِ مئی پر پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی علاقے لانڈھی اور کورنگی میں محنت کشوں کی حقیقی سیاسی جدوجہد کی روایت کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ یوں لانڈھی اور کورنگی کی دیگر یونینوں سے رابطہ مہم تیز کی گئی۔ اس مہم کا بہت شاندار رسپانس دیکھنے میں آیا۔ خاص طور پر آدم جی انجینئرنگ اور پکسار کی CBAیونینوں نے یومِ مئی منانے کے لیے انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ اس ضمن میں دس ہزار سے زائد پمفلٹس لانڈھی اور کورنگی انڈسٹریل ایریا میں تقسیم کیے گئے۔ ریڈ ورکرز فرنٹ کی طرف سے شائع کیے جانے والے ایک ہزار سے زائد پوسٹر کراچی بھر میں چسپاں کیے گئے جن میں سے 300 پوسٹر لانڈھی کورنگی انڈسٹریل ایریا میں لگائے گئے تھے۔ پوسٹر اور پمفلٹ دونوں میں موجود سیاسی پروگرام اور لائحہ عمل کو محنت کشوں کی بڑی تعداد نے سراہا۔

یکم مئی کے دن تحریکِ انصاف کی طرف سے بھی لانڈھی میں ایک جلسہ عام منعقد کیا جانا تھا جس سے عمران خان نے خطاب کرنا تھا۔ اس وجہ سے سکیورٹی کے پیشِ نظر بہت سے علاقے اور راستے سیل کر دیئے گئے تھے جس کی وجہ سے محنت کشوں کو کافی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سب مسائل کے باوجود صبح سے ہی لانڈھی اور کورنگی کی مختلف فیکٹریوں کے محنت کشوں نے ریلیوں کی شکل میں جلسہ گاہ کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ سرخ پرچم تھامے ،لڑاکا نعرے لگاتے ہوئے یہ ریلیاں چلچلاتی دھوپ میں بھی نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں۔

کورنگی میں ریلی کا آغاز آدم جی انجینئرنگ سے ہوا جو میرٹ پیکجز، پکسار اور کورنگی لیبر کالونی سے ہوتی ہوئی تعداد اور معیار میں مسلسل بڑھتی چلی گئی۔ ان تمام ریلیوں کی منزل ہسپتال چورنگی کے قریب واقع گوندل لان تھا جہاں جلسہ گاہ کو سرخ جھنڈوں اور بینروں سے سجایا گیا تھا جن پر شکاگو کے محنت کشوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کے مسائل اور مطالبات درج تھے۔

جلسہ کی کاروائی کا آغاز صفدر جبار نے کیا اور رسمی کاروائی کے بعد سٹیج ریڈ ورکرز فرنٹ (RWF) کے رہنما پارس جان کے حوالے کر دیا جنہوں نے باقاعدہ نظامت کے فرائض سرانجام دیئے۔ جلسہ کی صدارت سندھ لیبر فیڈریشن کے صدر شفیق غوری نے کی جبکہ معروف مزدور رہنما بابا غیاث الدین مہمانِ خصوصی تھے۔

جلسہ میں شبیر ٹائلز، جانسن اینڈ جانسن کمپنی، پکسار، آدم جی انجینئرنگ، میرٹ پیکجز ، آئی آئی ایل پائپ،جنرل ٹائرز، پاکستان مشین ٹول فیکٹری، پی آئی اے، پاکستان سٹیل، گندھارا نسان، سلفی ٹیکسٹائل، نووا لیدر کمپنی، پورٹ قاسم اور دیگر کئی مقامی اداروں کے محنت کشوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

شرکا کا جوش وخروش دیدنی تھا۔ سٹیج سیکرٹری نے انقلابی شاعری اور نعروں سے جلسے کو خوب گرمایا۔جلسہ میں محنت کشوں کے واحد سنجیدہ اخبار ’ورکرنامہ‘ کے ایڈیٹر راشد خالد نے خصوصی طور پر لاہور سے شرکت کی۔ان کے علاوہ جلسہ سے جانسن اینڈ جانسن کمپنی کے فرمان، پکسار CBA یونین کے جنرل سیکرٹری فرقان احمد، شبیر ٹائلز یونین کے صدر دلبر خان ، آدم جی انجینئرنگ کے جنرل سیکرٹری عادل،پی آئی اے کے شیخ مجید، NLFکے عبدالاسلام، عوامی لیبر فیڈریشن کے سیف الرحمان کنڈی، پاکستان اسٹیل کے مرزا مقصود،ریڈ ورکرز فرنٹ (RWF) کی کامریڈ انعم پتافی،اے این پی کے لیبر سیکرٹری رعنا گل آفریدی اور جنرل ٹائر ورکرز یونین کے سیکرٹری جنرل ظہور اعوان نے خطاب کیا۔ مقررین نے نہ صرف سرمایہ دارانہ نظام کو آڑے ہاتھوں لیا اور حکمران طبقات کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ خود مزدور قیادتوں کے مزدور دشمن رویے پر بھی کڑی نکتہ چینی کی۔

کامریڈ انعم پتافی نے خاص طور پر جلسہ کی سب سے بڑی کمزور ی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر خواتین محنت کشوں کا نہ ہونا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ نظام ان کا دوہرا اور تہرا استحصال کرتا ہے اور ان کے اندر اس نظام کے خلاف نفرت بھی مرد محنت کشوں سے تین چار گنا زیادہ ہی ہوتی ہے۔ ان کو جدوجہد میں شامل کیے بغیر کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی ۔انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ کے تمام بڑے انقلابات میں خواتین محنت کشوں نے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب ہماری خواتین بھی تاریخ کے میدان میں اتریں گی۔ یہ نیا عہد ہے جو محنت کش طبقے کو تحریکوں اور انقلابات کی طرف لے کر جا رہا ہے۔

ایڈیٹر ورکرنامہ کامریڈ راشد خالد نے کہا کہ ہم محنت کشوں کو مذہب ، نسل ، زبان ، فرقے ، علاقے اور قوم کے نام پر تقسیم کرنے کی ہر کوشش کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ ، امریکہ سمیت دنیا کے تمام خطے تحریکوں کی لپیٹ میں ہیں۔ برازیل میں آج بھی عام ہڑتال چل رہی ہے ۔انڈیا میں 18کروڑ محنت کشوں کی عام ہڑتال پاکستان کے محنت کشوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔ ہمیں ایک عام ہڑتال کی طرف بڑھنا ہو گا۔ بدعنوان ٹریڈ یونین قیادتیں اب بے نقاب ہو رہی ہیں۔ تازہ دم مزدور قیادت ابھرے گی جو سرمایہ داری کا خاتمہ کرتے ہوئے یہاں پر سوشلسٹ انقلاب برپا کرے گی۔بزرگ مزدور کامریڈ راجہ فتح نے اس موقع پر انقلابی شاعری پیش کی ۔ظہور اعوان صاحب نے شرکا کا شکریہ ادا کیا اور خاص طور پر شبیر ٹائلز کے محنت کشوں کو اپنی انتظامیہ کے خلاف جدوجہد میں ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر شبیر ٹائلز کی انتظامیہ نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو ہم شبیر ٹائلز کے گیٹ پر تاریخی دھرنا دیں گے۔ یہ مزدور یکجہتی کی درخشندہ روایت ہے اور ساتھ ہی نئی طبقاتی جنگ کا طبل بھی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ میدان سجنے والا ہے اور انقلابی حالات پک کر تیار ہو رہے ہیں۔

جنرل ٹائر کے انقلابی کارکن اسرار احمد نے کچھ قراردادیں حاضرین کے سامنے پیش کیں جن کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔اس کے بعد مہمانِ خصوصی بابا غیاث نے کامیاب جلسے کے انعقاد پر جنرل ٹائر ورکر یونین کو خراجِ تحسین پیش کیا اور آگے بڑھتے رہنے کی تلقین کی۔ جنابِ صدر نے آخر میں کہا کہ مزدوروں کو سیاست سے دور رکھا جاتا ہے۔ نظام کی تبدیلی کے لیے مزدوروں کا سیاست میں حصہ لینا بے حد ضروری ہے۔

اس تقریب میں ورکرنامہ کی طرف سے ایک سٹال بھی لگایا گیا تھا جہاں انقلابی لٹریچر، سہ ماہی لال سلام، پاکستان و عالمی تناظر کی دستاویزات موجود تھیں جن میں مزدوروں کی گہری دلچسپی نے ثابت کر دیا کہ محنت کشوں میں نظام کے خلاف نفرت اور نئے انقلابی نظریات سیکھنے کی خواہش بڑھتی جا رہی ہے جو کسی بہت بڑے انقلابی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

 

حیدرآباد: یومِ مئی پر ریڈ ورکرز فرنٹ کی ریلی اور مظاہرہ

 

|رپورٹ: صدام کھوسو|

مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر کی طرح حیدرآباد میں بھی مختلف پروگرام اور تقریبات منعقد کی گئیں۔ اس حوالے سے ریڈ ورکرز فرنٹ (RWF) حیدرآباد کے کارکنان بھی کامریڈ صدام اور ڈاکٹر ہریش کمار کی قیادت میں ایک ریلی کی شکل میں حیدرآباد پریس کلب پر پہنچے جہاں شکاگو کے شہدا سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مظاہرہ کیا گیا۔ ریلی میں محنت کشوں کے علاوہ سندھ یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے طلبا بھی شریک تھے۔

ریلی کے شرکا نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اور مزدوروں کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ یومِ مئی دنیا بھر کے سرمایہ داروں اور تیسری دنیا کے جاگیرداروں کے دلوں میں خوف جبکہ مزدوروں اور کسانوں کے دلوں میں امید اور یقین کی شمع فروزاں کرتا ہے۔ انقلاب کا وقت قریب آ رہا ہے۔ ہم دنیا بھر کے محنت کش انقلاب کے ذریعے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جہاں کوئی کسی کا استحصال نہیں کر سکے گا اور معاشی نا برابری ختم کر دی جائے گی اور یہ سب صرف اور صرف سوشلزم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہی یومِ مئی کا حقیقی پیغام ہے۔ آخر میں صدام کھوسو کا کہنا تھا کہ ملک میں جبری برطرفی کے آرڈیننس 2000ء ،2002 ء اور بینکنگ کمپنیز آرڈیننس B27 جیسے مزدور دشمن قوانین رائج ہیں جن کے ذریعے محنت کشوں کے بنیادی معاشی و سیاسی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں ۔ ریڈ ورکرز فرنٹ یومِ مئی کے موقع پر اپنی جدوجہد کو آخری فتح تک جاری رکھنے کا عزم کرتا ہے۔

 

خضدار: محنت کشوں کے عالمی دن پر ریلیاں اور جلسہ

|رپورٹ: نوروز زہری|

ملک کے دیگر شہروں کی طرح خضدار میں بھی یوم مئی انقلابی جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ مختلف اداروں کے محنت کش ریلیوں کی شکل میں آزادی چوک جلسہ گاہ میں پہنچے۔ یوم مئی کے اس مرکزی جلسے سےمختلف ٹریڈ یونینز کے عہدیداران نے تقریر کی اور شہدا ئے شکاگو کو سرخ سلام پیش کیا۔

مقررین نے محنت کشوں کی جڑت اور اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہدا ئےشکاگو ہمارے لیے زندہ مثال ہیں۔ ان کی راہ پر چل کر ہم اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں۔ بلوچستان کی تمام یونینز  مل کر ہی معاشرے کے محنت کش عوام کے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ مقررین نے  جہاں محنت کشوں کے اتحاد پر زور دیا وہیں حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا  کہ اگر خضدار کے مزدوروں کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہم کمشنری کو آگ لگا دینگے۔

مزدور رہنما جاوید احمد نے کہا کہ انقلاب کے تین نشان طلبہ، مزدور اور کسان؛ ہمیں اس نعرے کو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت ہے اور مل کر معاشرے کو مسائل سے پاک کرنا ہے۔ جاوید احمد نے  پیرامیڈیکل اسٹاف  پر حکومتی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ محنت کشوں اور بالخصوص خواتین کو تشدد کا نشانہ بنا کر مزدور دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ مزید اپنی بات جاری رکھتے ہوئے جاوید احمد نے  حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے  ہمیں صرف اور صرف مفت اور معیاری تعلیم اور صحت کے سہولیات دی جائے۔

تقریب کے اختتام پر محنت کشوں کے مسائل کے حل کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کی جس کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

جلسے کے اختتام پر ریڈ ورکرز فرنٹ کے طرف سے شائع کیا گیا لیف لیٹ تقسیم کیا گیا جسے مزدوروں نے بہت سراہا اس کے علاوہ ریڈ ورکرز فرنٹ کے طرف سے مزدور نمائندوں سے بھی ملاقات ہوئی جس میں محنت کشوں کے مسائل زیر بحث آئے۔

 

کوئٹہ: یوم مئی کے موقع پر ریلی اور شاندار جلسے کا انعقاد!

|رپورٹ: کریم پرہر|

یومِ مئی کے موقع پر کوئٹہ میں پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے زیر اہتمام محنت کشوں کا جلسہ منعقد ہوا جس میں پاکستان لیبر فیڈریشن، بلوچستان لیبر فیڈریشن، بی ڈی اے ایمپلائز یونین، ایریگیشن ایمپلائز یونین، پاور اینڈ ورکس ڈویلپمنٹ ایمپلائز یونین، سی اینڈ ڈبلیو ایمپلائز یونین، بی اینڈ آر ایمپلائز یونین، پوسٹ آفس یونین، ریڈ ورکرز فرنٹ، نادرا ایمپلائز یونین، حبیب اللہ کوسٹل ایمپلائز یونین اور دیگر مزدور یونینز کے محنت کشوں نے شرکت کی۔

جلسے میں آنے کیلئے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں نے اپنے اپنے اداروں سے ریلیاں نکالیں۔ ریڈ ورکرز فرنٹ کے کارکنان نے پی ڈبلیو ڈی کے محنت کشوں کی ریلی میں اپنے بینر تلے شرکت کی۔ ریلی وائٹ روڈ پر آتےہوئے جی پی او آفس اور پھر لیاقت پارک میں آ کر جلسے میں شامل ہو گئی۔  جلسے میں مختلف یونینز کے محنت کشوں کے ساتھ مل کر شدید نعرے بازی کی گئی۔  

جلسے کا باقاعدہ آغازشکاگو کے شہداء کی جدوجہد کی یاد میں ایک منٹ خاموشی سے ہوا۔  جلسےمیں آئے ہوئے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن، ایک روایت کی طرح ہم یاد نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم 1886 کے محنت کشوں کی قُربانی اور جدوجہد کی کھوئی ہوئی کڑیاں ملانے کیلئے جدوجہد کر رہے  ہیں۔ مقررین نے مزید کہا کہ آج کا حکمران طبقہ، 1886 کے حکمرانوں سے زیادہ ظالم اور جابر ہے اور محنت کش کے اوقات روز بروز سخت سے سخت ہوتے جا رہے ہیں ،جس کی وجہ سے آئے دن ہم محنت کشوں کے احتجاج اور ہڑتال دیکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود حکمران طبقہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا ہے۔ آج کے دن کی مناسبت سے ہم تجدیدِ عہد کرتے ہیں کہ ہم حکمرانوں کیلئے موت بن کر اُبھریں گے اور اپنی حاکمیت تک جد وجہد جاری رکھیں گے۔

جلسے میں ریڈورکرز فرنٹ کی نمائندگی کریم پرہر نے کی جبکہ  فرنٹ کے کارکنان نے ورکرنامہ  اور لال سلام  بیچنے کے ساتھ ساتھ لیف لٹ بھی تقسیم کیا  جسے بہت زیادہ پذیرائی ملی۔

 

راولاکوٹ: عالمی یوم مزدور پر ریڈ ورکرز فرنٹ کی ریلی

|رپورٹ: یاسر ارشاد|

عالمی یوم مزدور کے موقع پر ریڈ ورکرز فرنٹ( RWF)کے زیر اہتمام راولاکوٹ میں ایک ریلی نکالی گئی جس میں محنت کشوں کے ساتھ پروگریسو یوتھ الائنس(PYA )کے نوجوانوں نے بھی شرکت کی۔

ریلی کا آغاز ضلع کچہری سے ہوا اور شرکاء پرجوش نعرے بازی کرتے ہوئے پائلٹ ہائی سکول کے گیٹ تک گئے۔ ریلی میں شہدائے شکاگو کو خراج تحسین پیش کرنے والے نعروں کے ساتھ موجودہ حکمرانوں کی مزدوراور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف بھرپور نعرے بازی کی گئی۔ پائلٹ ہائی سکول کے گیٹ پر ریلی کا اختتام کر کے تمام شرکاء نے پائلٹ ہائی سکول ہال میں ایپکا کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام میں شرکت کی۔

 

بونیر: یومِ مئی پر تقریب اور نجکاری مخالف ریلی

|رپورٹ: کامریڈ اشفاق|

نجکاری، ٹھیکیداری کے خلاف اعلان جنگ۔ کم ازکم اجرت ایک تولہ سونے کے برابر۔ محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر بونیرمیں ریڈورکرز فرنٹ کی جانب سے ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں ہاتھ ریڑھی، کلاس فور،نجی اسکولز کے اساتذہ، ماربل فیکٹریوں کے مزدورں اور طلبہ نے شرکت کی۔ یوم مئی کی اس تقریب سے وقار عالم، آصف وردگ، شہاب، صدیق اور سلیمان،طالیمند اور دیگر نے خطاب کیا جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض محمد کریم نے سرانجام دیے۔

مقررین نے کہا کہ یوم مئی دنیا بھر کے مزدور اور محنت کش شکاگو کے شہید مزدوروں کی یاد میں مناتے ہیں جب نے مزدوروں کو اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کی پاداش میں پر امریکہ کے جابر حکمرانوں اور سرمایہ داروں نے گولیاں برسائیں اور متعدد کو شہید کر دیا۔ آج اگر مزدوروں کو کچھ حاصلات میسر ہیں تو یہ مزدوروں نے جدوجہد کر کے سرمایہ داروں سے چھین کر لی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ آج پاکستان کے حکمرانوں نےIMF کے کے ایما پر عوامی ٹیکس کے پیسوں سے بنے اداروں کو فروخت کرنا شروع کیا ہے اور مزدوروں سے رہا سہا روزگار بھی چھینا جا رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف نجی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو کسی قسم کے کوئی حقوق حاصل نہیں۔ مزدوروں سے آٹھ گھنٹے کے بجائے بارہ گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ کام لیا جا رہا ہے۔ کئی کئی ماہ تنخواہ ادا نہیں کی جاتی۔ یونین سازی تو نجی صنعتوں میں شجر ممنوعہ قرار پاچکی ہے۔

مقررین نے کہا کہ بے روزگاری دن بدن بڑھ رہی ہے جبکہ روزگار کے کوئی مواقع موجود نہیں ہیں۔ مقررین نے کہا کہ آج پورے پاکستان میں مزدور تحریکیں ابھر رہی ہیں۔ مزدور نجکاری کے خلاف اور اپنے حقوق کیلے لڑ رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محنت کش اپنی لڑائی علیحدہ علیحدہ لڑنے کے بجائے متحد ہوکر ان مسائل کی جڑ سرمایہ داری کی خلاف لڑنے کے لئے صف بندی کریں اور ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ایک مزدور ریاست کا قیام کریں۔

پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے بونیر بازار میں نجکاری اور ٹھیکیداری نظام کے خلاف ریلی نکالی اور سرمایہ داروں، حکمرانوں اور نجکاری کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس دوران دیگر مزدور بھی ریلی میں شامل ہوگئے اور اس عزم کے ساتھ ریلی ختم کی گئی کہ ہم سوشلسٹ انقلاب تک اپنی اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔

 

ملتان: محنت کشوں کے عالمی دن پر تقریب کا انعقاد

|رپورٹ: ریڈ ورکرز فرنٹ، ملتان|

ریڈ ورکرز فرنٹ اور پروگریسو یوتھ الائنس کے زیر اہتمام 30اپریل کو ملتان شہر میں گلگشت کالونی میں عالمی یومِ مزدور کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں چالیس سے زائد طلبہ و محنت کشوں نے شرکت کی۔تقریب میں واپڈا ہائڈرو یونین، پاکستان ریلوے، پی ٹی سی ایل، پیرامیڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن، ملتان یونین آف جرنلسٹس اور دیگر اداروں کے محنت کش موجود تھے۔ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی سے بلوچ ، پشتون، فاٹا اورپشتون بلوچستان کونسل سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے شرکت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایمرسن کالج سے بھی طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کو چیئر کامریڈ راول اسد نے کیا۔

تقریب کا آغاز فضیل اصغر نے ریڈ روکرز فرنٹ کے تعارف سے کیا۔ اس کے بعد کامریڈ یونس نے ایک انقلابی نظم پیش کی۔ محنت کشوں کے عالمی دن کی مناسبت سے اسد پتافی نے پاکستان میں مزدور تحریک کی تاریخ پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور ساتھ ہی یوم مئی کی تاریخ اور عالمی محنت کش تحریک پر بھی بات کی۔ اسد پتافی کے بعد آئی ایس پی سے وابستہ استاد، یاسر فری نے اپنی انقلابی شاعری پیش کی۔ اس کے بعد پروگریسو یوتھ الائنس ملتان کے صدر جیند بلوچ نے طلبہ مسائل پر بات کی اور طلبہ تحریک کو مزدور تحریک سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔

پی ٹی سی ایل سے اسد حبیب خطاب کرتے ہوئے پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے بعد ادارے کے مزدورں کے حالات پر بات کی اور کہا کہ جہاں ایک طرف نجکاری کے بعد ایک بڑی تعداد میں ملازمین کو روزگار سے فارغ کردیا گیا مگر جو ملازمین بچ گئے ان کے حالات بھی انتہائی پتلے ہیں۔ نہ روزگار کی گارنٹی نہ ہی وقت پر تنخواہ ملنے کی۔ کام کے اوقات کار کا بھی کوئی حساب نہیں۔ اس پر بڑی تعداد میں نئے بھرتی ہونے والے کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین سے یونین سازی کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ اسد نے نجکاری کی پالیسی کی شدید مذمت کی اور اس کے خلاف جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔ بلوچ سٹوڈنٹ کونسل کے چیرمین شعیب بلوچ نے بلوچستان کے حالات پر بات کرتے ہوئے بلوچستان کے محنت کشوں کے مسائل کو اجاگر کیا۔ انقلابی شاعری سناتے ہوئے اسد حبیب نے پروگرام کو آگے بڑھایا۔

صدر پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن، چلڈرن ہسپتال ملتان بشیر جوئیہ نے پیرامیڈیکل سٹاف کے مسائل کے حوالے سے بات کی۔ وائس چیئر مین ریلوے شیڈ سٹاف یونین انجم سعید نے ریلوے کے مزدورں کے حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ دن ہمیں محنت کش طبقے کے مسائل کے حل کے لئے ایک متحد جدوجہد کا سبق دیتا ہے۔ پیرامیڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن کے سینئر صوبائی وائس چیئر مین اور صوبائی جنرل سیکرٹری پاکستان میڈیکل لیبارٹری ایسوسی ایشن، اے۔ ڈی کنول نے ملک بھر میں پی ایم اے کی حالیہ تحریک پر ہونے والے ریاستی جبر سے حاضرین کو آگاہ کیا۔

پشتون سٹوڈنٹ کونسل بلوچستان سے رفیع اللہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ محنت کشوں کی لڑائی اس نظام کے خلاف ہے جس کا نام سرمایہ داری ہے جو ایک عالمی معاشی و سیاسی نظام ہے۔ اسی لیے محنت کشوں کو بھی عالمی سطح پر ایک ہو کر اس نظام کے خلاف لڑنا ہوگا اور اس جنگ میں رنگ، نسل، قوم، لسانیت اور تفرقے بازی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسکا فائدہ صرف حکمرانوں کو ہی ہوتا ہے۔

ملتان یونین آف جرنلسٹ کی طرف سے نعیم مہرنے اپنے خطاب میں کارپوریٹ میڈیا کے مزدور دشمن کردار واضح کیا اور یہ کہا کہ ورکرنامہ محنت کشوں کا حقیقی اخبار ہے اور اس کی آج کے دور میں شدید ضرورت ہے۔ پروگرام کی اختتامی کلمات سے پہلے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے طالب علم اور پروگریسو یوتھ الائنس کے ممبر یحییٰ نے انقلابی نظم پیش کی۔ تقریب کے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے واپڈا ہائڈرو یونین سے آغا حسین نے نوجوانوں اور محنت کشوں کو اپنے تجربات سے روشناس کرایا اور یہ کہا کہ محنت کشوں کا اکٹھ حکمران طبقے کی موت ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس سرمایہ دارانہ نظام کی بھی۔ آج دنیا بھر کے محنت کشوں کو ایک ہونا ہوگا۔
آخر میں محنت کشوں کا عالمی ترانہ گا کر پروگرام کا اختتام کیا گیا۔

 

بہاولپور: عالمی یوم مزدور پر جلسہ اور احتجاجی ریلی

|رپورٹ: ریڈ ورکرز فرنٹ، بہاولپور|

مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر گذشتہ روز ریڈ ورکرز فرنٹ اور پروگریسو یوتھ الائنس کے زیر اہتمام گلستان ٹیکسٹائل ملز بہاولپور میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔ جلسے کے اختتام پر پریس کلب بہاولپور تک احتجاجی ریلی نکا لی گئی۔ جلسے اور ریلی میں بڑی تعداد میں محنت کشوں، کسانوں اور نوجوانوں نے شرکت کی۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یاسر ارشاد، عادل راؤ، جلیل منگلا، رفیق چنڑ، ملک ساجد، آصف جاہ اور اخرم اسدی نے کہا کہ آج سے 131سال قبل امریکہ میں ایک عام ہڑتال ہو ئی جس کا مطالبہ اوقات کار میں کمی اور اجرتوں میں اضافہ تھا۔ جب شکاگو کے لاکھوں مزدوروں نے سڑکوں پر مارچ شروع کیا تو ان نہتے مزدوروں پرگولیاں چلا دی گئیں۔ اس تحریک میں کئی مزدور شہید ہوئے۔ انہیں مزدوروں کی جدوجہد کے نتائج میں آج اوقات کار کم ہے۔ مگر یہ جدوجہد رکی نہیں آج بھی پوری دنیا میں محنت کشوں کی اپنے حقوق کیلئے تحریکیں نظر آتیں۔ پا کستان میں بھی محنت کشوں کے حالات بہت زیادہ ابتر ہیں۔ دنیا کی آبادی کاننانوے فیصد حصہ محنت کش طبقہ ہے جو اپنی محنت سے ساری دولت پیدا کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف چند سر مایہ دار دنیا کی آدھی دولت سے زیادہ پر قابض ہیں۔ عالم یہ ہے ایک سال قبل دنیا کی آدھی آبادی سے زائد دولت پر 62افراد قابض تھے جبکہ حالیہ رپورٹ کے مطا بق اب صرف 8 امیر ترین انسانوں کے پاس دنیا کی آدھی آبادی سے زائد دولت ہے۔ دوسری طرف محنت کش اپنے خاندان کو دو وقت کی روٹی کھلا نے کیلئے ہر قسم کے خطرے کو بھی نظر انداز کردیتا ہے جس میں گڈانی جیسے بڑے حادثات نظر آتے ہیں جس میں کئی مزدور زندہ جل گئے تھے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ مزدوروں کے حقوق کیلئے نام نہاد قوانین ہو نے کے باوجود سرمایہ دار ان کو ماننے سے انکاری ہیں اور لیبر آفیسر اور لیبر ڈیپارٹمنٹ بھی مزدوروں کے بجائے سرمایہ داروں کی دلالی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ حکمران سرکاری طور اجرتوں کا اعلان کر کے مزدوروں کے زخموں نمک چھڑکنے والا کام کرتے ہیں۔ مزدوروں کی اجرت 14000 ایک بھونڈا مذاق ہے مگر یہ بھی نہیں دی جاتی۔ جبکہ جتنی اجرت کا یہ اعلان کرتے ہیں اس سے زیادہ تو یہ لوگ خود ایک ٹائم کا ناشتہ کرتے ہیں۔ حکمران ملک کو قرضوں پر چلا رہے ہیں جبکہ میڈیا پر جھوٹے دعوے کرتے نظر آتے ہیں کہ معیشت ترقی کررہی ہے جبکہ اندرونی اور بیرونی قرضہ چھبیس ہزار ارب سے تجاوز کر چکا ہے تجارتی خسارہ تیس ارب سے تجاوز کرگیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں آنے والے وقت اپنی عیاشی کو جاری رکھنے کیلئے محنت کش طبقے پر مزید حملے کرینگے۔ نجکاری کے نام پر رہی سہی سہولیات بھی چھینی جا رہی ہیں۔ قرضوں کی واپسی اور اپنی عیاشی جاری رکھنے کے لئے مزید ٹیکسز لگائے جائینگے۔ آ ج حالات یہ ہیں پورے پنجاب میں سیاستدانوں، نام نہاد جہادیوں، ملاؤں اور این جی اوز کو ہر قسم کے جلسے کرنے کی اجازت ہے جبکہ محنت کشوں کیلئے اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر آنے پر پابندی ہے۔ آنے والے وقت میں اٹھنے والی محنت کشوں اور نوجوانوں کی تحریکوں سے خوفزدہ ہو کر دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی آڑ میں محنت کشوں اور نوجوانوں کی اپنے حقوق اور اس نظام کے خلاف اٹھنے والی آوازوں دبانے کے لئے ہر حربہ استعمال کررہے ہیں۔ مشال خان کے قتل کے واقعہ سے اٹھنے والی تحریک سے یہ حکمران اتنے خوفزدہ ہو ئے کہ عجلت میں انہیں پانامہ کا فیصلہ لا نا پڑا تاکہ لوگوں کی توجہ ہٹ سکے مگر اسطرح کی تحریکیں رکا نہیں کرتی وہ اپنی منزل پا کررہتی ہیں۔ مشال خان نے نوجوانوں کے حقوق کیلئے جو آواز اٹھائی تھی اب وہ دب نہیں سکتی۔

گلستان ٹیکسٹائل ملز کے مسائل پر بات کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ گلستان کے مسئلہ کو دیکھا جائے تو مقامی حکمران گلستان ملز کے مالک کے آگے چپڑاسی نظر آتے ہیں۔ نام نہاد محکمہ لیبر کے کسی بھی افسر کی جرات نہیں کہ مزدوروں کے حقوق کی بات بھی کرسکے۔ مزدوروں کے بیس کروڑ سے زیادہ کی رقم ڈوبی ہو ئی ہے مگر حکمرانوں کو پرواہ ہی نہیں۔ بیوروکریسی سے لیکر سیاستدانوں تک سب انہیں کی دلا لی کرتے نظر آتے ہیں۔ گلستان کے ورکر ایک وقت کے کھا نے سے بھی تنگ ہیں۔ اب وہ وقت دور نہیں جب یہاں مزدوروں کا راج ہو گا کیو نکہ محنت کش جب بھی نکلے گا وہ رکے گا نہیں۔ اس کی منزل پھر انقلا ب ہو گی ایک سوشلسٹ انقلاب۔ جس طرح آج بہاولپور سوشلسٹ انقلاب کے نعروں سے گو نج رہا ہے ایسے ہی سارا عالم گونجے گا۔

 

لاہور: یوم مئی پر شیر بنگال لیبر کالونی میں تقریب کا انعقاد

|رپورٹ: ریڈ ورکرز فرنٹ، لاہور|

محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر ریڈ ورکرز فرنٹ، لاہور کے زیر اہتمام مورخہ 30 اپریل 2017ء کو شیرِ بنگال لیبر کالونی، کالا شاہ کاکو میں یومِ مئی کا پروگرام منعقد کیا گیا۔ پروگرام میں لاہور سے ریڈ ورکرز فرنٹ کے ممبران، لیبر کالونی کے رہائشی محنت کشوں، گورنمٹ کالج یونیورسٹی لاہور، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، پنجاب یونیورسٹی لاہور، یونیورسٹی آف لاہور، رائل کالج اور لاہور کے دیگر تعلیمی اداروں سے طلبہ نے شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز میں آزاد تھیٹر کی طرف سے آدم پال کے لکھے ہوئے سٹیج ڈرامہ’’وہ صبح ہم ہی سے آئے گی‘‘ پیش کیا گیا۔  ڈارمے کا موضوع سرمایہ دارانہ نظام میں مزدوروں کے استحصال اور اس کے خلاف جدوجہد کی ضرورت تھا۔ سٹیج پلے میں اداکاروں نے شاندار طریقے سے مزدوروں پر ہونے والے جبر و ظلم کی داستان اور جدوجہد کے طریقہ کار کو بیان کیا۔

تھیٹر کے بعد مقررین کی تقاریر کا آغاز ہو ا اور سٹیج سکریٹری کے فرائض ریڈ ورکرز فرنٹ سے ولید خان نے انجام دیئے۔ تقریب کے پہلے مقرر واپڈا ہائیڈرو یونین سے مقصود ہمدانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوم مئی 1886ء میں شکاگو میں مزدوروں کی جدوجہد کی یاد تازہ کرنے کے لئے منایا جاتا ہے، جس سے پہلے محنت کشوں کے اوقاتِ کار کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا تھا اور مزدور سولہا سولہا، اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کیا کرتے تھے اور اس کے بدلے میں انہیں کچھ نہیں ملتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزدوروں کی اس تحریک کے مطالبات میں اوقاتِ کار کا آٹھ گھنٹے تک محدود ہونا اور یونین سازی کا حق شامل تھے۔ لیکن سرمایہ دار طبقہ انہیں کسی قسم کا حق دینے کو تیار نہیں تھا اور پولیس کے ذریعے مزدوروں پر گولیاں چلاکر لاتعداد مزدوروں کا خون بہایا گیا۔ مزدور اپنے ساتھ سفید جھنڈے لے کر آئے تھے جو کہ ان کے خون سے سرخ ہوگئے، جس کے بعد سے مزدوروں کے جھنڈوں کا رنگ سرخ ہے۔ لیکن مزدوروں نے آخر کار اپنی تحریکوں سے کامیابی حاصل کی۔

اس کے بعد ریڈ ورکرز فرنٹ لاہور کے عدیل زیدی نے کہا کہ یومِ مئی منانا ہمیں یہ یاد کراتا ہے کہ مزدوروں کو اپنے مسائل حل کرنے کیلئے خود جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور سرمایہ دار طبقہ کسی قسم کی مراعت بھیک میں نہیں دیتا۔ مزدوروں کو منظم ہو کر اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانی ہو گی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مزدور طبقہ اپنی قیادتوں سے لا تعداد بار دھوکا کھا چکا ہے اور آج وہ کسی پر بھروسہ کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ لیکن اس سچائی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتاکہ مزدوروں کو اپنے مسائل ، جن میں تعلیم، صحت، روزگار، رہائش، بجلی، پانی اور دیگر مسائل شامل ہیں ،کو حل کرنے کیلئے اکٹھے ہو کر جدوجہد کرنی ہوگی۔ آج سے سو سال پہلے کے روس کے مزدورں نے ظلم و جبر کو ماننے سے انکار کر تے ہوئے حکمران طبقے سے اقتدار چھین کر پہلی مزدور ریاست کی بنیاد رکھی تھی جس کے نتیجے میں نہ صرف روس، بلکہ پوری دنیا کے مزدوروں کو لاتعداد مراعات حاصل ہوئی تھیں۔ یہی مزدور طبقہ دوبارہ اٹھے گا کیونکہ اس کے پاس وہ طاقت ہے جس کے ذریعے ان حکمرانوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جا سکتا ہے اور ایک سوشلسٹ انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔

 

اس یومِ مئی کی تقریب کو کامریڈ اعجاز شاہ کی یاد کے لئے بھی وقف کیا گیا تھا۔ کامریڈ اعجاز شاہ ایک عظیم انقلابی تھے، اس موضوع پر ریڈ ورکرز فرنٹ کے نیشنل آرگنائزر آفتاب اشرف نے بات کرتے ہوئے کہا کہ کامریڈ اعجاز شاہ کی جدوجہد ہم سب کیلئے مشعلِ راہ ہے۔ کامریڈ اعجاز شاہ 1980ء کی دہائی میں مزدور تحریک کی قیادت میں آئے ۔ 1990ء کی دہائی میں مزدور تحریک زوال پذیر تھی اور نام نہادمزدور لیڈارن کی اکثریت مختلف NGOs، حکومت اور دوسری ردِ انقلابی قوتوں کی آلہ کار بن کر محنت کشوں سے غداریاں کر رہے تھے اور ان سے لاتعداد مرعات حاصل کر رہے تھے۔ ان حالات میں کامریڈ اعجاز شاہ ثابت قدمی سے اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور مزدوروں سے کبھی غداری نہیں کی بلکہ مسلسل ان غدار لیڈروں کو بے نقاب کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامریڈ اعجاز شاہ نے اس جدوجہد کے نتیجے میں اپنی زندگی غربت میں گزار دی جس وجہ سے بیمار ہونے پر ان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ اپنا علاج کرا سکیں اور ان کو بھی اصل میں اس نظام نے ہی قتل کیا ہے۔ آج ہمارے لیے کامریڈ اعجاز شاہ کی جدوجہد مشعلِ راہ ہے۔

اس کے بعد پروگریسو یوتھ الائنس کے زین العابدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج نوجوان نسل کے جو مسائل ہیں وہ صرف اور صرف مزدور طبقے کے ساتھ جڑت کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں یونیورسٹی کے طلبہ فیکٹریوں، کھیتوں اور ورکشاپوں میں جا کر محنت کش طبقے کے ساتھ جڑت بناتے رہے ہیں۔ آج بھی یہی ضرورت ہے کہ طلبہ مزدوروں کے ساتھ اپنی جڑت بنائیں اور مل کر اپنے مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کریں۔

یونی لیور کی تھرڈ پارٹی فیکٹری، یونائٹڈ ڈیٹرجنٹ فیکٹری سے خالد ڈوگر نے فیکٹری کے مزدوروں کی جدوجہد پر بات کی۔ یونائیٹڈ ڈیٹرجنٹ میں 2015ء میں مزدوروں نے تنخواہیں بڑھانے کیلئے ایک بے مثال تحریک چلائی تھی۔ لیکن اس تحریک میں بھی قیادت میں سے کچھ لوگوں کو سرمایہ دار نے خرید لیا جس کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ان کے بعد ایمکو ٹائلز اور لیبر کالونی کے چودھری رشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیبر کالونی میں بننے والے سکول پر سترہ کروڑ روپیہ لگا لیکن لیبر کالونی کے اپنے بچوں کو داخلہ نہیں مل رہا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ لیبر کالونی میں پانچ پانچ دن بجلی نہیں ہوتی۔

پروگرام کے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے کامریڈ آدم پال نے کہا کہ یومِ مئی محنت کشوں کی تحریکوں کی یاد ہے اور اس سے اسباق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس سال روس کے انقلاب کے سو سال پورے ہو رہے ہیں جو کہ محنت کشوں کی شاندار جدوجہد کی مثال ہے۔ مزید یہ کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام محنت کش طبقے کے مسائل کو آج حل نہیں کر سکتااور محنت کش طبقے کو سوشلسٹ انقلاب ہی کے زریعے اپنے مسائل حل کرنے ہیں۔ سوشلزم کا مطلب معیشت اور ریاست پر محنت کش طبقے کا جمہوری کنٹرول ہے جس میں تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔جب محنت کش طبقہ فیصلہ کرے گا کہ کس چیز کی ضرورت ہے اور اسی نظام کے ذریعے مفت تعلیم، صحت اور روزگار تمام انسانوں کو مل سکتا ہے۔

تقاریر کے بعد استاد ناصر خان نے انقلابی نغمے پیش کیے اور اپنی مشہور نظم ’میں بھی تو مشعل ہوں‘ بھی پیش کی، جس پر تقریب میں آئے شرکا نے بے شمار داد دی۔ تقریب ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوئی۔

 

دادو: یوم مئی پر ریڈ ورکرز فرنٹ کی احتجاجی ریلی

|رپورٹ: مشتاق آسی|

عالمی یوم مزدور کے موقع پر ریڈ ورکرز فرنٹ(RWF) کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں نوجوانوں اور محنت کشوں نے شرکت کی۔ ریلی کا آغاز پرانی سبزی منڈی سے ہوا جو بھرپور نعروں سے گونجتی ہوئی سبزی منڈی اور بیچ شہر سے ہو کر پریس کلب تک پہنچی۔ ریلی میں مہنگائی، بیروزگاری، نجکاری، ٹھیکیداری نظام، لا علاجی کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ شہدائے شکاگو کی جدوجہد کو سرخ سلام اور کم از کم اجرت ایک تولہ سونے کے برابر، مفت اور معیاری تعلیم، علاج کی مفت سہولت، کام کے اوقات کار 6 گھنٹے کے نعرے بھی گونجتے رہے۔

دادو پریس کلب پر ریڈ ورکرز فرنٹ کی یہ ریلی یوم مئی کی مرکزی ریلی میں شامل ہوگئی۔ ریلی میں مزدور ایکتا کے اور دنیا کے مزدور ایک ہو جاؤ کے نعرے لگائے گئے۔ ریلی شہر سے ہو کر واپڈا لیبر ہال میں جلسے کے لئے جمع ہوئی۔ مزدوروں کے اس جلسے سے ہائے ویز لیبر یونین کے محمد موریل، واپڈا کے وریل میرانی، عبدالحمید جمالی اور الطاف پل، میونسپل کے بشیر سولنگی، پیرامیڈیکل کے راجہ رفیق، ادبی سنگت کے ضمیر کوریجو نے خطاب کیا اور ژہدائے شکاگو کی جدوجہد اور قربانیوں کی خراج عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے آج محنت کشوں کو درپیش مسائل کواجاگر کیا اور ان کے حل کے لئے جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔ جلسے میں عاشق دادی نے مزدوروں کے حالات پر لکھی گئی انقلابی شاعری پڑھ کر سنائی۔ 

جلسے میں ریڈ ورکرز فرنٹ کی جانب سے شائع کیا گیا نجکاری اور ٹھیکیداری مخالف لیف لیٹ بھی تقسیم کیا گیا۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh