|تحریر: راشد خالد|

بالآخر 28جولائی کو پاکستان کی اعلیٰ عدالت نے پانامہ لیکس کے حوالے سے کیس کا فیصلہ دیتے ہوئے نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے لئے نا اہل قرار دے دیا۔ اس نااہلی کے ساتھ ہی اسی عدالت نے نیب کو ان کے خلاف 6ہفتے کے اند ریفرنس دائر کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کے دو صاحبزادوں حسن اور حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن صفدر اور قریبی رشتے دار اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف بھی نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم صادر فرمایا گیا ہے۔ فیصلے کے فوری بعد وزیراعظم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور وفاقی کابینہ توڑ دی گئی ہے۔ 

اس فیصلے کے حوالے سے میڈیا کے ذریعے مختلف آرا منظر عام پر لائی جا رہی ہیں۔ کچھ پارٹیوں کے مطابق یہ فیصلہ کرپشن کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس فیصلے کے بعد ملک اور ملک کے بیس کروڑ عوام کی کایا ہی پلٹ جائے گی اور کچھ کے مطابق ایک منتخب وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کا حق عدالت کے پاس نہیں ہونا چاہئے۔ اور اس کے ساتھ ہی آرٹیکل 62,63پر بھی ضیا کی باقیات کے بطور تنقید کی جا رہی ہے۔ ایک طوفان بدتمیزی ہے جو ہر طرف سے جاری ہے۔ تحریک انصاف اس عدالتی فیصلے کو اپنی کامیابی گردان رہی ہے۔ لیکن ابھی 31جولائی کو ایک پیشی ان کے سالار اعظم اور ’’ذہنی وزیر اعظم‘‘ کی بھی ہے۔ لیکن دوسری طرف اس فیصلے کے بعد نون لیگ کے اعتماد میں بظاہر کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ اس فیصلے کے بعد نون لیگ نے شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیر اعظم نامزد کیا ہے اور اگلے دو ماہ کے دوران نواز شریف کے قومی حلقے کی نشست پر ضمنی انتخابات کروا کر وہاں سے شہباز شریف کو انتخابات لڑوا کر باقی مدت کے لئے وزیراعظم بنانے کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی جو پانامہ کیس کے سارے عمل سے عملی طور پر دور رہی ہے اب نئے وزیر اعظم کے خلاف اپنا امیدوار لانے کا بھی اعلان کر چکی ہے۔ 

میڈیا پر تمام تر ابھار کو دیکھا جائے یا اخبارات کی سرخیوں پر نظر دوڑائی جائے تو اس فیصلے کو تاریخ ساز فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے اور وزیر اعظم کی نااہلی کو کرپشن کے خلاف ایک فیصلہ کن اقدام کے طور پر لیا جا رہا ہے لیکن بنیادی سوال ابھی تک وہیں موجود ہے۔ کیا نواز شریف کو عوامی دولت کی لوٹ مار میں کی جانے والی کرپشن کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے یا نہیں؟ بنیادی طور پر اس عدالتی فیصلے کے ذریعے سماج میں ان کرپٹ اور نااہل حکمرانوں کے خلاف ابلنے والی نفرت اور ان کی لوٹ مار اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف عوام کے غم و غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کا قطعاً ان کرپٹ حکمرانوں کی کرپشن سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی کرپشن کو روکنا یا ان کے لوٹے ہوئے پیسے کو واپس کروانا یا ان کے اثاثوں کو ضبط کرنا ہی ہے۔ اس لئے کہ یہ کرپشن صرف نواز شریف نے نہیں کی بلکہ سارا حکمران طبقہ اور ریاست کے اعلیٰ عہدیداران اس کرپشن کے عمل میں برابر کے شریک ہیں اور اگر اس کرپشن کیخلاف کوئی کاروائی کی گئی تو پھر ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کا آغاز ہونا ہے جس کو کنٹرول کرنا اس ریاست کے بس میں نہیں ہو گا۔ یہ حقیقت اسی کیس کے دوران دونوں فریقین کی طرف سے کی جانے والی پریس کانفرنسوں اور بیانات سے کھل کر منظر عام پر آگئی ہے۔ اسی لئے وزیراعظم کے خلاف فیصلے میں جس بات کو بنیاد بنایا گیا وہ انتہائی غیر ضروری اور اضافی نوعیت کی ہے۔ فیصلے کی بنیاد ایک کمپنی کی ملازمت سے نہ لی جانے والی تنخواہ کو بنایا گیا ہے، الیکشن کمیشن کو فراہم کئے جانے والے اثاثوں میں اس کی غیر موجودگی کے باعث وزیراعظم کو ’’صادق اور امین‘‘ نہیں کہا جا سکتا۔ اس فیصلے کا کرپشن کے ساتھ دور دور تک کوئی لینا دینا ہی نہیں۔ سو جس فیصلے کو تاریخی اور نہ جانے کیا کیا گردانا جا رہا ہے وہ موجودہ سیاسی بحران سے باہر نکلنے اور متحارب گروہوں کے مابین مفاہمت کروانے کی ایک سعی ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس ایک فیصلے کے ذریعے مختلف مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کی تیزی سے ختم ہوتی ساکھ کو مصنوعی سانس فراہم کرنا، نون لیگ کو قابو میں رکھنا اور فوج کے کسی بھی دھڑے کو کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے دور رکھنا۔ 

یہ فیصلہ اور حکمران پارٹیوں کے مابین تضادات بنیادی طور پر حکمران طبقات کے اپنے ہی دھڑوں کے مابین مالی مفادات پر جنم لے رہے ہیں۔ ان تمام تر متحارب دھڑوں کا واحد مقصد حکمرانی میں اپنا حصہ بقدر جثہ حاصل کرنا ہے۔ اس فیصلے سے ناموں کی تبدیلی تو ہو جائے گی لیکن اس فیصلے سے کیا کوئی حقیقی تبدیلی جنم لے گی؟؟؟ کرپشن اس سماج کا بنیادی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی اس ریاست کے بحران کی وجہ ہے بلکہ اس نظام کے بحران کا اظہار ہے۔ اس لئے پہلی بات تو یہ ہے کہ کرپشن کو ختم کرنے سے بحران کا خاتمہ ممکن نہیں اور نہ ہی کسی عدالتی فیصلے سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے، بلکہ کرپشن کے خاتمے کے لئے اس نظام زر کا خاتمہ ضروری ہے اور اس نظام زر کا خاتمہ یہ ریاست اور اس کے رکھوالے ادارے نہیں کر سکتے۔ اس فیصلے نے ایک اور بات ثابت کر دی ہے کہ یہ حکمران طبقہ اس نظام کو بچانے کے لئے غیر معمولی حالات میں اپنے دھڑوں میں سے ایک دھڑے کو زک پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ایسی ہی ایک قربانی نون لیگ سے بھی لی گئی ہے۔ لیکن اس فیصلے سے حکمران طبقے کے مسائل اور تضادات کم ہونے کی بجائے مزید بڑھیں گے۔ کیونکہ یہ تضادات شخصیات کے نہیں ہیں بلکہ مالیاتی ہیں اور ان تضادات کی مالیاتی بنیادیں جوں کی توں رہیں گی۔ اور عدالتی فیصلے ان مالیاتی جڑوں کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ سیاسی منظر نامے میں یہ تبدیلی بہت سے دبے ہوئے تضادات کو مزید عیاں کرے گی۔ 

ریاست کے حد سے بڑھتے ہوئے بحران میں جہاں ریاست کے تمام تر ادارے اپنی ساکھ کھوتے جا رہے ہیں وہیں پر اس فیصلے کے ذریعے عدالت کی ساکھ کو ایک بار پھر بحال کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ اس سے قبل اسی عدالت کے ایک چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی نام نہاد تحریک کو ’انقلاب‘ گردانا جا رہا تھا۔ تب بھی اس ریاست کے نام نہاد دانشور اور یہ میڈیا اس فیصلے کو ملکی تاریخ کو بدل دینے والا فیصلہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہر طرف چیف جسٹس، چیف جسٹس اور سوموٹو، سوموٹو ہو رہی تھی۔ لیکن پھر اسی حکمران طبقے کے تضادات نے پس پردہ حقائق کو فاش کیا اور اس ملک کے ایک سرمایہ دار نے اس چیف جسٹس کو سرعام ننگا کر کے ذلیل کیا۔ جس کے بعد عوام کی نظروں میں عدالتوں کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو گئی تھی۔ یہ فیصلہ اسی عدالت کی ساکھ کو ایک بار پھر بحال کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ 

نون لیگ گزشتہ انتخابات میں سادہ اکثریت لے کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی اور اس کے بعد سے آج تک بار بار یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ عوام کی بڑی اکثریت نون لیگ کی حمایت کرتی ہے لیکن ن لیگ کی حمایت عوام میں کس حد تک ہے وہ اس فیصلے کے بعد نون لیگی حمایتیوں کے احتجاجوں کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس فیصلے سے قبل اپنے مقابل کو بڑی بڑی دھمکیاں دینے والی نون لیگ اس فیصلے پر ’’تحفظات‘‘ ہونے کے باوجود بیس بیس افراد کے احتجاج بھی منظم نہیں کر سکی۔ اگر نون لیگ اتنی بڑی عوامی حمایت رکھتی تھی تو وہ عوامی حمایت اس فیصلے کے خلاف باہر کیوں نہیں آئی؟ اس سارے عمل میں مختلف قوم پرست پارٹیاں، لبرل اور نام نہاد لیفٹ کے دھڑے اس کیس کو جمہوریت کے خلاف حملہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور نام نہاد این جی او زدہ لیفٹ تو جمہوریت اور پروگریسیو سرمایہ داری کی حمایت میں زیادہ مگن نظر آیا ہے۔ جو ان عناصر کی تاریخی نااہلی اور نظریاتی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ 

حکمران طبقات کی ان لڑائیوں اور ان لڑائیوں کے باعث ایکسپوز ہونے والے حقائق نے سیاسی عمل میں عوام کی دلچسپی کو بالکل ہی ختم کر دیا ہے۔ حکمران طبقات کی ان لڑائیوں میں عوام کے مسائل سے متعلق کوئی ایک بات بھی موجود نہیں ہے۔ ان ہی لڑائیوں کے پس پردہ عوام پر مزید مہنگائی، مزید غربت، مزید محرومی اور مزید اذیتیں مسلط کی جا رہی ہیں۔ اس طرح کے فیصلے اور عمل عوام کے مسائل میں کسی کمی کا باعث نہیں بن سکتے اور مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ ایک حقیقی تبدیلی اس نظام کے اندر کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے، اگر کسی قسم کی تبدیلی ممکن ہے تو اس نظام زر کو اکھاڑ پھینکنا ہی واحد حل ہے۔ سوشلزم یا بربریت!

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh