پاکستان میں طلبہ سیاست کی طویل تاریخ سات دہائیوں پر مشتمل ہے۔ اپنے جنم سے لے کر اب تک یہ مد و جزر کا شکار رہی ہے۔ عالمی سطح پر ابھرنے والی تبدیلیاں ہو ں یا ملک میں ابھرنے والی مختلف تحریکیں یہاں کی طلبہ سیاست ان تمام اثرات کو اپنے اندر سمیٹتے ہوئے آگے بڑھتی رہی ہے۔ عالمی سطح پر جاری سرد جنگ کے عرصے کے دوران یہاں کی طلبہ سیاست پر بائیں بازو کے نظریات حاوی رہے اور دائیں بازو کی قوتیں مقدار ی حوالے سے محدود ہونے کے ساتھ ساتھ معیاری اعتبار سے سماج پر حاوی نہیں ہو سکیں۔ 69-1968ء کی انقلابی تحریک کا آغاز بائیں بازو کے طلبہ نے کیا اور مزدور تحریک کے ساتھ جڑت بناتے ہوئے اس وقت کے بد ترین ڈکٹیٹر ایوب خان کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا۔ پیپلز پارٹی کے سوشلزم کے نعرے نے لاکھوں بائیں بازو کے طلبہ کو اپنی جانب متوجہ کیا لیکن قیادت کی غداریوں اور تحریک کی زوال پذیری کے زیر اثر طلبہ سیاست میں دائیں بازو کے رجحانات نے وسیع بنیادیں بنانے کا آغاز کر دیا۔ضیاالباطل کی خونی آمریت کے دوران دائیں بازو کی بنیاد پرست اور نیو فاشسٹ طلبہ تنظیموں کی ریاستی پشت پناہی کی گئی جبکہ بائیں بازوکی طلبہ تنظیموں کو غداریوں، مہم جوئی، موقع پرستی اور بد ترین ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران افغانستان میں جاری ڈالر جہاد کے لیے بھی طلبہ کو ایندھن بنایا گیا اور انہیں منشیات اور جرائم کی دلدل میں دھکیل دیا گیا۔ اسی طلبہ سیاست کو جرائم اور مفاد پرستی کی گہری کھائی میں دھکیلنے کے بعد ریاست نے طلبہ سیاست پر پابندی لگا دی۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد طلبہ سیاست کی زوال پذیری کے عمل میں شدت آ گئی اور وہی طلبہ سیاست جو نظریاتی بحثوں کی آماجگاہ تھی جرائم کا گڑھ بن گئی۔ طلبہ تنظیمیں بھتہ خور، قبضہ مافیا، منشیات فروش اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے گروہوں میں تبدیل ہوگئیں۔ اس دوران عمومی سیاست بھی نظریاتی زوال پذیری کا شکار تھی اور بائیں بازو کی قوتیں عالمی سطح پر پسپائی کا سامنا کر رہی تھیں۔ بنیاد پرستوں سمیت طلبہ سیاست پرحاوی تمام تنظیموں نے طلبہ پر اپنا خوف اور جبر مسلط کرنے کی انتہا کر دی۔ قوم پرست طلبہ تنظیموں میں بھی جہاں آغاز میں بائیں بازو کے رجحانات حاوی تھے وہ بھی جرائم اور نظریاتی دیوالیہ پن کی اندھی کھائی میں گرتی چلی گئیں۔ بلوچستان میں مسلح جدوجہد کے غلط طریقہ کار نے بھی ہزاروں قربانیوں کے باوجود ان کی منزل کو قریب لانے کی بجائے مزید دور کر دیا۔ باقی ماندہ پاکستان میں بھی وہ طلبہ تنظیمیں جو ایک وقت میں ریاست اور حکمران طبقات کے خلاف شدید مزاحمت کی علامت تھیں ریاستی اداروں کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرنے لگیں۔آج ہر طرف جرائم پر مبنی اور نظریات سے عاری طلبہ سیاست آخری سانسیں لے رہی ہے۔ دائیں بازو سے لے کر بائیں بازو تک کی تمام پرانی طلبہ تنظیموں کا تعلیمی اداروں میں عملی وجود ختم ہو چکا ہے۔ طلبہ کی ایک بہت بڑی اکثریت ان تمام طلبہ تنظیموں اور ان کی خوف اور جبر کی سیاست کو مسترد کر چکی ہے۔ لیکن اس دوران طلبہ کے مسائل میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔

طلبہ کی منظم مزاحمت کی عدم موجودگی کے باعث حکمران طبقے نے طلبہ پر بد ترین حملے کیے ہیں اور تعلیم کی بنیادی سہولت آبادی کے وسیع حصے سے چھین لی ہے۔ طلبہ تحریک کے عروج پر محنت کشوں کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم باآسانی حاصل کر سکتے تھے لیکن آج ان کے لیے ابتدائی تعلیم حاصل کرنا ہی ناممکن ہو گیا ہے۔ آئے روز فیسوں میں اضافہ کیا جاتا ہے جبکہ بڑے پیمانے پر تعلیمی اداروں کی نجکاری کر دی گئی ہے۔ تعلیم کے بجٹ میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کی گئی ہے جبکہ اعلیٰ تعلیم کا بجٹ عملاً ختم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ معیار تعلیم میں بھی بڑے پیمانے پر گراوٹ آئی ہے۔ تعلیم کے بیوپاری طلبہ سے ڈگری کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں لیکن اس کے بدلے دی جانے والی تعلیم سرمایہ دارانہ معیار کے مطابق بھی انتہائی ناقص اور غیر معیاری ہوتی ہے۔ اتنی مہنگی ڈگری کے حصول کے بعد طلبہ کے لیے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس وقت پاکستان میں بیروزگار گریجوایٹس کی تعداد تاریخ میں سب سے زیادہ ہے اور اس میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی غیر ہنر مند مزدور کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

یہ تمام سلگتے ہوئے مسائل ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں طلبہ سیاست کے ایک نئے آغاز کی بنیادیں فراہم کر رہے ہیں۔ اس وقت یہاں کوئی ایسا کالج یا یونیورسٹی نہیں جہاں کے طلبہ فیسوں میں اضافے سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے کسی نہ کسی انداز میں کوشش نہ کر رہے ہوں۔ یہ کوششیں مختلف جگہوں پر احتجاجوں اور مظاہروں کی شکل میں سامنے آتی ہیں اور کئی جگہوں پر طلبہ اپنے غم و غصے کے اظہار کے لیے تنظیمی ڈھانچہ بنانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ان تمام کوششوں میں ہر جگہ بد عنوان طلبہ تنظیموں کو سختی سے رد کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی طالب علم کی ان سے کوئی امید وابستہ رہ گئی ہے۔ یہ طلبہ تنظیمیں بھی اپنی بھتہ خوری اور جرائم میں اتنی مصروف ہیں کہ انہیں ان مسائل اور طلبہ کی اس جدوجہد سے کوئی سروکار نہیں۔ بلکہ اکثر اوقات تعلیمی اداروں کی انتظامیہ طلبہ تحریک کو کچلنے کے لیے ان تنظیموں کو استعمال کرتی ہے۔

آنے والے عرصے میں طلبہ کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھیں گے اور ان مسائل کے خلاف جدو جہد میں بھی شدت آئے گی۔ انتظامیہ اور ریاستی ادارے بھی طلبہ کو منظم ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کریں گے۔ تعلیمی اداروں میں جہاں سکیورٹی کے نام پر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے مزید بھرتیاں کی جائیں گی اور رینجرز وغیرہ کو تعینات کیا جائے گا وہاں طلبہ تحریک کو خوفزدہ کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً دہشت گردی کے حملے بھی کروائے جاتے رہیں گے۔ اسی خوف اور دہشت کی آڑ میں فیسوں میں ہوشربااضافہ جاری رہے گا۔ دوسری جانب روزگار کی منڈی بھی سکڑتی جائے گی جبکہ بیرون ملک روزگار کے مواقع میں بھی تیزی سے کمی آئے گی۔

ایسے میں طلبہ کے پاس واحد حل اپنے حقوق کے لیے منظم ہو کر انقلابی جدو جہد کرنے کا رہ جاتا ہے۔ لیکن لینن نے کہا تھا کہ انقلابی نظریے کے بغیر کوئی انقلابی تحریک ممکن نہیں۔ پاکستان میں طلبہ سیاست کے زوال کی بنیاد درحقیقت نظریاتی زوال پذیری میں ہی ہے۔ آج طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ درپیش مسائل کیخلاف جدوجہد کرنے کے ساتھ ساتھ ان مسائل کی بنیاد کو بھی تلاش کریں جو اس استحصالی سرمایہ دارانہ نظام میں ہے۔ اس وقت یہ نظام پوری دنیا میں زوال پذیر ہے اور کرہ ارض پر لاکھوں طلبہ اور محنت کش مختلف ممالک میں اس نظام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انقلابی مارکسزم کے نظریات پوری دنیا کے طلبہ میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں اور انہی نظریات کو بنیاد بناتے ہوئے بہت سی نئی تنظیمیں ابھر رہی ہیں۔ یہی نظریات یہاں بھی طلبہ کو اپنے مسائل کے حل کی جدوجہد کے لیے ٹھوس بنیادیں فراہم کر سکتے ہیں۔ مارکسزم کے انہی سائنسی نظریات کو بنیاد بناتے ہوئے ماضی کی طلبہ سیاست پر درست تنقید کی جا سکتی ہے اور ان غلطیوں سے سیکھتے ہوئے مستقبل کی کامیابیوں کا رستہ ہموار کیا جا سکتا ہے۔ یہی نظریات طلبہ کو محنت کش طبقے سے جڑت بنانے کا درس دیتے ہیں جن کے ساتھ مل کر اس سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔

اس وقت طلبہ سیاست ایک نئی انگڑائی لے رہی ہے اور ماضی کی تمام تر غلاظتوں کو جھٹکتے ہوئے ایک نئی لڑائی کی تیاری کر رہی ہے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ اسے سوشلسٹ نظریات سے لیس کرتے ہوئے وہ بنیادیں فراہم کی جائیں جن کے ذریعے وہ یہاں صرف کسی حکومت کی تبدیلی کی بجائے سماجی معاشی نظام کی تبدیلی کا باعث بنے اور یہاں پر موجود ہر قسم کے ظلم و جبر کا خاتمہ کرنے کے لیے سوشلسٹ انقلاب برپا کرے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh